بلوچ سرزمین پر قابض طاقتوں کی رسائی بڑھانے اور بلوچ قوم کو تاریخ کے صفحات سے مٹانے کے ضمائم کے تحت پسنی (سب تحصیل، ضلع گوادر) میں سپر پاور امریکہ کو بحری پناہ گاہ/فوجی اڈہ فراہم کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جو بلوچ عوام کی رائے اور مفاد کے خلاف ہے۔ کامریڈ وسیم سفر بلوچ
ریاست پہلے ہی سرمایہ کاری کے نام پر چین کے ساتھ معاملات طے کیے جا چکے تھے۔ اب صورتِ حال تشویش ناک حد تک سنگین ہو چکی ہے: بلوچ سرزمین پر قابض طاقتوں کی رسائی بڑھانے اور بلوچ قوم کو تاریخ کے صفحات سے مٹانے کے ضمائم کے تحت پسنی (سب تحصیل، ضلع گوادر) میں سپر پاور امریکہ کو بحری پناہ گاہ/فوجی اڈہ فراہم کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جو بلوچ عوام کی رائے اور مفاد کے خلاف ہے۔
پاکستان کے عسکری حکام کی مذکورہ پیشکش عین اسی وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور علاقے میں فوجی مداخلت و جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ پسنی کے جغرافیائی محل وقوع کی حیثیت سے یہ علاقہ ایران کے زیرِ انتظام سیستان و بلوچستان کے ساحلی حصّے، چابھار کے قریب واقع ہے؛ پسنی سے ایرانی ساحل تک فاصلہ چند کلومیٹر یا جتنا مختصر وقت میں پہنچا جا سکے، اس لیے پسنی میں کسی بیرونی فوجی اڈے کی موجودگی نہ صرف مقامی بلکہ علاقائی سطح پر فوری اور گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اگر پسنی میں کسی سپر پاور امریکی بحری فوجی اڈّہ سرکاری طور پر قائم ہو جاتا ہے تو ممکنہ نتائج انتہائی خطرناک سنگین ہوں گے جس کی ازالہ کرنا ممکن نہیں
بلوچستان ایک طویل المدتی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے مرکز میں بدل سکتا ہے اور یہ علاقہ کسی بڑے بین الاقوامی یا علاقائی تصادم کی صورت میں محاذ بن سکتا ہے۔
مغربی مشرقی بلوچستان کے دونوں اطراف مقیم بلوچ آبادی کو براہِ راست انسانی، معاشی اور سلامتی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی جان و مال کا نقصان، بے دخلی اور نقلِ مکانی ممکن ہیں۔
بیرونی فوجی موجودگی مقامی معیشت، ثقافت اور ماحولیاتی نظام کی خودمختاری کو صرف کمزور نہیں تباہ کر سکتی ہے، اور علاقائی وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال بلوچوں کی نسل کشی کو فروغ دے سکتی ہے۔
مختلف سپر پاورز کے مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں یہ علاقہ پروکسی جنگوں یا عسکری کشیدگی کا میدان بن سکتا ہے، جس سے علاقے میں غیر یقینی، عدم استحکام اور انسانی بحران جنم لے سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ملکی بااثر قوتیں ڈالر کی حصول کیلئے مستقبل کو کے خطرات خاطر خواہ نہیں لا رہے ہیں جو کہ آنے والے وقتوں میں تباہی کا باعث بن سکتا ہے
یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ گوادر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر شہر میں چائنا اکنامک کوریڈور سی پیک ڈیپ سی پورٹ چائنا کی مدد پہلے ہی موجود ہے پورے بلوچستان بلخصوص گوادر پہلے سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نام پر متنازع منصوبوں کا میدان رہے ہیں، جن میں چین کی شمولیت رہا نہیں برقرار ہے، اور ان دونوں ممالک پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری کے معاملات میں بڑے مالی لین دین اور معاہدے ہو چکے ہیں۔
اگر اب پسنی میں مزید بیرونی فوجی رسائی دی گئی تو یہ پیچیدگیوں کو اور بڑھا دے گا اور بلوچ قوم کی تاریخی محرومی، ریاستی جبر نسل کشی اور قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ بلوچ قوم کی استحصالی رجحان کو تقویت مل سکتی ہے۔
لہٰذا اس صورتِ حال میں ناگزیر ہے کہ پسنی میں کسی بھی فوجی اڈے یا بحری پناہ گاہ کی منظوری سے قبل اس کے ممکنہ انسانی، اقتصادی، ماحولیاتی اور علاقائی نتائج کا مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ کیا جائے۔
شفاف تحقیقی جائزہ بین الاقوامی، غیر جانبدار ماہرین انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی نمائندوں پر مشتمل ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ پسنی میں فوجی موجودگی کے تمام پہلوؤں کا جامع اثر تجزیہ کیا جا سکے۔مقامی مشاورت اور رضامندی مقامی بلوچ برادری، ضلعی نمائندوں اور روایتی قیادت کی شمولیت کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے؛ آزاد عوامی مشاورت اور رضامندی کا عمل لازمی ہو۔
انسانی حقوق اور بین الاقوامی اداروں کی آگاہی اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق اداروں کو ان تمام خطرات موجودہ صورتحال سے باخبر کیا جائے تاکہ مقامی حقوق اور امن کو تحفظ مل سکے۔ ماحولیاتی اور اقتصادی حفاظتی ضوابط کسی بھی ممکنہ منصوبے کے لیے سخت ماحولیاتی، سماجی اور اقتصادی اثرات کے انتظامی قوائد ضوابط طے کیے جائیں، اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ استحصال نسل کش پالیسیوں کو روکنے کیلئے شفاف تحقیقات اور مالیاتی نگرانی لازم کی جائے۔علاقائی امن کو مقدم رکھنا پاکستان کی خارجہ و داخلی پالیسیوں میں علاقائی استحکام، مقامی خودمختاری اور انسانی حقوق کو مقدم رکھا جائے اور کسی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جو خطّے میں تناؤ یا پروکسی مداخلت کا باعث بنے
بلوچستان کی زمین کسی بیرونی طاقت کے پروکسی یا جنگی اڈے کے طور پر استعمال نہیں کی جا سکتی۔ بلوچ قوم کے حقِ خود ارادیت، امن اور وسائل کے تحفظ کو اولین ترجیح دیے بغیر کوئی فیصلہ مستقبل میں ناقابلِ واپسی اور تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ شفافیت، جمہوری طریقِ کار اور مقامی صلاحیتوں کے احترام کے ساتھ ایسے فیصلے لیے جائیں۔















