بلوچ جدوجہد آزادی کے طویل تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک امر کی واضح طور پر نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ اس تحریک کی تاریخ میر ، سردار ، نواب و خانوں کے مثبت و منفی کرداروں سے اٹی ہوء ہے۔ خان محراب خان نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی لیکن سرداروں کے دھوکوں کی وجہ سے باآسانی شکست کھاکر شہید ہوئے اور تحریک ناکام ہوء ، سردار خان محمد زہری نے انگریزوں کے خلاف ایک بڑی لشکر جمع کرکے جنگ شروع کی تو پھر اسکے اپنے بھائی نواب نوروز خان زہری نے اسے انگریزوں کے کہنے پر دھوکے سے گولی مار کر شہید کردیا اور اس تحریک نے صحیح معنوں میں شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیا اور اسی تحریک کا ایک کردار نورا مینگل خاران میں نواب نوشیروانی کے دھوکہ دہی کا شکار ہوکر گرفتار ہوکر تختہ دار پر چڑھے۔ پاکستانی قبضے کے بعد مزاحمت کا آغاز شہزادہ عبدالکریم خان نے شروع کی لیکن وہ احمد یار خان کے دباو کی وجہ سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستانی ایوبی مارشل لاء کے دوران ماضی کے منفی کردار نواب نوروز خان نے جنگ آزادی کا آغاز کیا تو پھر جس طرح نواب نوروز نے اپنے بھائی کو دھوکہ دیکر قتل کرکے نوابی حاصل کی تھی اسی طرح نواب نوروز خان کو اسکے چیچیرے بھائی سردار دودا خان زرکزئی نے دھوکہ دیکر گرفتاری دلواکے سرداری حاصل کی اور تحریک کے پسپائی کی وجہ بنے۔ اسکے بعد کی تاریخ مری مینگل اور بگٹی نواب و سرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ جب نواب خیر بخش مری اور عطاء اللہ مینگل نے تحریکِ آزادی شروع کی تو پھر نواب اکبر خان بگٹی گورنر بن کر ان کے سامنے ڈٹ گئے۔ نوے کی دہائی مختلف نہیں تھی بلکہ ان نواب و سرداروں کے بھوڑے ہونے کے بعد ان کے اولادوں نے نشستیں سنبھالیں ، اختر مینگل اور سلیم بگٹی پارلیمنٹ میں وزرائے اعلیٰ کے لیئے دو دو سالہ فارمولوں اور ان فارمولوں میں دھوکوں پر گذارا کررہے تھے تو پھر اسی وقت حیربیار مری ایک بار پھر سے ایک پسپائی ہوئے تحریک کو منظم کررہے تھے جس میں آنے والے وقت میں نواب اکبر خان بگٹی اور اسکے پوتے نوابزادہ براہمدغ خان بگٹی بھی شامل ہوئے اور جب اس تحریک نے زور و وسعت اختیار کی تو پھر اب کے بار اس تحریک کے خلاف بھی ایک دو نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ بلکہ تمام کے تمام بلوچ سردار استعمال ہونے لگے ، یعنی یہ تحریک بار بار جس طبقے کی طرف سے شروع ہوتا رہا اسی طبقے کی طرف سے پسپاء کیا گیا، یہی طبقہ ہیرو اور ولن دونوں کی حیثیت سے بلوچ سیاسی تاریخ میں انمٹ نقوش کے ساتھ کندہ ہے۔ بائیں بازو کی لٹریچر اپنے اندر ٹھونس ٹھونس کر جگالی کرنیوالی ہمارے موجودہ نسل کو یہ بات شاید ہضم نا ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچ سیاست خاص طور پر بلوچ تحریک آزادی کی تاریخ ان قبائلی میر ، سردار، نواب و خانوں کی تاریخ ہے۔ ایسا کیوں ہے اس بات کو اگر ہم اپنے سماجی ڈھانچے اور سیاسی حالت زار کے تناظر میں جانچیں تو زیادہ آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ کس طرح بلوچ خانہ بدوشانہ زندگی اور بہتر چراگاہوں کے حصول سے لیکر دوسرے جنگی حالات نے بلوچ قبائلی نظام پھر خانی اقتدار کی بنیاد ڈالنے میں کردار ادا کیا اس طویل تاریخ میں پڑے بغیر اس سے ہم صرف یہ اخذ کرتے ہیں کہ بلوچوں کے پاس کسی جارحیت یا دفاع کیلئے اپنے اجتماعی قوت کے اظہار یا استعمال کیلئے یہی قبائلی نظام ہی رہا ہے۔ بلوچ تاریخی طور پر اپنے اجتماعی قوت کے اظہار کیلئے ایک مضبوط ریاست یا مضبوط سیاسی پارٹی سے محروم رہا ہے۔ اسی لئے جب بھی بلوچستان بیرونی جارحیت کا شکار ہوا، تو بلوچ کبھی کلی قومی طور پر اسکا مقابلہ نہیں کرسکے اور نا ہی ایسا کوئی بھی سیاسی و سماجی ادارہ بلوچوں میں وجود رکھتا تھا کہ وہ بلوچ کو قومی بنیادوں پر متحرک و منظم کرتا۔ کیونکہ ہمارا اعلیٰ ترین اجتماعی قوت یہی قبیلے تھے تو پھر مزاحمت بھی قبائلی بنیادوں پر ہوتا رہا، اور کسی قبیلے کا سربراہ ظاہر ہے کوئی سیاسی چیئرمین نہیں کوئی نواب و سردار ہی ہوتا ہے اس لیئے لیڈر بھی وہی بن کر ابھرتا ، قبیلہ کوء جمہوری یاسیاسی ادارہ ہوتا نہیں اس لیئے مزاحمت کا فیصلہ بھی جمہوری و سیاسی بنیادوں کے بجائے سردار کے صوابدید پر ہوتے اور سردار کے صوابدید پر اسکے ، انفرادی و قبائلی مفادات اور انفرادی مزاج فیصلہ کن حد تک غالب رہتا۔ اسی لیئے ہمیں انکے کردار میں مستقل مزاجی خال ہی ملتی ہے جیسے کے اوپر بیان کیا گیا ہے کہ خان محمد زرکزئی کو شہید کرکے تحریک آزادی کو کچلنے والا نوروز خان بعد ازاں خود اس تحریک کیلئے اٹھتا ہے ، اکبر خان اور عطاء اللہ کی بدلتے ڈھنگ بھی مثال ہیں۔ ادارے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتے ہیں اور انکے فیصلے و اعمال بھی اسی اجتماعی شعور کا حاصل ہوتے ہیں ، اجتماعی شعور عارضی کیفیات سے مبرا ہوتا ہے اسی لیئے اسکے فیصلے مستقل مزاجی کے ساتھ طویل عرصے تک محیط ہوتے ہیں لیکن جب فیصلے انفرادی و گروہی سطح پر ہوں تو پھر یہ گمان بعید از قیاس نہیں کہ عارضی کیفیات جو ایک فرد پر حاوی ہوتے ہیں وہ پورے تحریک پر بھی حاوی ہوں لہٰذا وہی غیر مستقل مزاجی اپنے گہرے نقوش ہمارے تحریک پر بھی چھوڑتا ہے۔ اب ہم سرداروں کی تعریفوں کے پْل باندھیں یا پھر اپنا سر پِیٹ کر انہیں لعن طعن کریں ، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچ سماجی ڈھانچے اور سیاسی حالت زار کی ابتری کی وجہ سے بلوچ قومی حیثیت سے کوئی تحریک مزاحمت شروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ، اس قوت کے اظہار ، تشکیل اور مزاحمت کیلئے یہ قبائلی نظام ناگزیر تھا سو یہ استعمال ہوا۔ جب قبائلیت استعمال ہوا تو فطری طور پر لیڈر و ہیرو بھی ایک قبائلی نواب و سردار بن کر ابھرا۔ اسی امر کو دیکھتے ہوئے بلوچ سیاست کے بہت سے اہل علم خیر بخش مری ، اکبر خان بگٹی بعد ازاں براہمدغ بگٹی کے قبائلیت کو اسی ناگزیر پن کی وجہ سے کڑوے گھونٹ کی طرح حلق سے اتارتے رہے اور امید کرتے رہے کہ وہ خود کو اور اپنے قبیلے کو قبائلیت میں ہی جامد رکھنے کے بجائے اسے ایک قومی شکل دینگے لیکن یہ امید لاحاصل رہا۔ ایک طرف بلوچ سیاست و مزاحمت پرقبائلی نظام حاوی رہی تو دوسری طرف بلوچ مڈل کلاس سیاست کہیں یا قومی سیاست کا کردار بھی مایوس کن رہا اور اس قبائلی کلچر کا نعم البدل تیار نہیں ہوسکا جو اجتماعی بلوچ قوت کے اظہار ، تشکیل اور تنظیم کا ذریعہ بنتا۔ بے ادبی معاف اگر حقیقت کو ننگا کرکے بیان کیا جائے تو بلوچ مڈل کلاس سیاست بلند بانگ نعروں کے باوجود کبھی سردار اور کبھی سرکار کی داشتہ ہی بنی رہی۔ بذاتِ خود مجھے ” ڈاکٹروں ” کی طرف سے متعارف کردہ مڈل کلاس کا اصطلاح قابلِ قبول محسوس نہیں ہوتا کیونکہ بلوچ مزاحمت خالص طور پر قوم پر بیرونی قبضے کے خلاف ایک قوم پرستانہ جنگ ہے ، جب قوم پر قبضہ ہوتا ہے تو وہ صرف ایک طبقے پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں اپر کلاس ، مڈل کلاس یا لوئرکلاس یا پھر مارکسیوں کے زبان میں لمپن پرولتاری سب شامل ہوتے ہیں اور آزادی کی مانگ سب کیلئے ہوتی ہے تو آسان زبان میں یہ ” کلاس لیس ” قوم پرستی کی تحریک ہی ہوتی ہے اور اگر اس کیلئے مڈل کلاس سیاست کے بجائے قومی سیاست کا اصطلاح استعمال ہو تو زیادہ موزوں لگتا ہے۔ اگر یہ تحریک طبقاتی جدوجہد ہوتی اور مطمع نظر سرداروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے اقتدار کو ہٹانا ہوتا تو پھر شاید یہ مڈل کلاس کا نعرہ یا سیاست کی دعویں کچھ معنی رکھتے وگرنہ یہ محض تحریک کا رخ موڑنے کے سوا کچھ نہیں اورمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ مڈل کلاس کا نعرہ محض موقع پرستی ، چاپلوسی اگر سیاسی زبان میں بیان کریں تو میکاولیت کے سوا کچھ نہیں۔ اس ” مڈل کلاس ” سیاست کو سردار و سرکار کا داشتہ قرار دینے کی وجہ اسکی تاریخ ہے۔ جسے آج اینٹی سردار مڈل کلاس سیاست کہتے ہیں اسکی بنیادی ایک نواب یوسف عزیز مگسی نے رکھا اور اسی دوران یہ پھلا اور پھولا یوسف عزیز مگسی کے ناگہانی وفات کے بعد خان قلات احمد یار خان کا دستِ شفقت اس مڈل کلاس سیاست کے سر پر رہا جس کی وجہ سے یہ بلوچستان میں کوئی سرگرمی نا کرسکے حتیٰ کے یوسف عزیز مگسی بھی خان قلات کے نمائندے کی حیثیت سے کچھ وقت لندن گئے، لیکن جیسے ہی انگریزوں کے دباؤ پر خان نے سختی شروع کی تو یہ تتر بتر ہوگئے لیکن پھر بھی خان کے خفیہ اعانت کی وجہ سے یہ زندہ رہے۔ پاکستانی قبضے کے بعد جب قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی پر پابندی لگی تو بلوچ سیاست میں کوئی موثر کردار ادا کیئے بغیر یہ مڈل کلاس سیاست فی الوقت ختم ہوگئی اور سیاست پر مکمل طور پر نواب و سردار حاوی رہے ، بعد میں جب بی ایس او بنی تو اس پر غور کریں کہ اپنے بننے کے کچھ وقت ہی بعد زندہ رہنے کیلئے آدھے سردار( نیپ) کے پاس گئے اور باقی آدھے سرکار ( پیپلز پارٹی) کے پاس۔اسکے بعد بی ایس او کے پورے تاریخ کو دیکھیں وہ کس طرح زندہ رہا اور اسکے کتنے دھڑے سرکار نواز پارٹیوں کے بَل پر زندہ رہے اور کتنے سرداروں کے آشیر باد سے زندہ رہے۔ پارٹیوں کے سطح پر دیکھیں تو ایک طرف سرداروں کی نیپ تھی تو جب دوسری طرف غوث بخش بزنجو نے پرانے قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کو پی این پی بنا کر زندہ رہنے کیلئے سرکار کی آشیرباد حاصل کی۔ یہ مالک ، حئی ، خیرجان وغیرہ جیسے کردار ” کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے” کے مصداق جب سرداروں کے نگر سے نکلے تو سیدھے سرکار کے گود میں جاگرے۔ یعنی مڈل کلاسیوں کی تاریخ دیکھیں تو یہ ایک ایسی موقع پرست ذہنیت ہے جو محض چند مخصوص مفادات کیلئے ہچکولیاں کھاتے اور نعرے لگاتے بڑھ رہی ہے اور جہاں سے وہ مفادات پورے ہوتے ہیں اسی انجن کے ساتھ اپنے ریل کے ڈبے جوڑ دیتی ہے۔ ان قلابازیوں کے بیچ میں جن کی ذمہ داری بلوچ سیاست کو قبائلیت سے نکال کر قومی سیاست کی تشکیل تھی ، انکی کاوشوں کا حاصل بھی جاکر قومی سیاست نہیں بلکہ ” مڈل کلاس ” کا نعرہ جاکر ٹہرا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ بلوچ سیاست میں جب قبائلی پس منظر نا رکھنے والے ایک طبقے نے وجود پالیا اور مضبوط ہوتا گیا تو ان کا مطمع نظر بلوچ قومی سیاست کو قبائلیت سے نکال کر قومی قالب میں ڈھالنا نہیں رہا بلکہ وہ بھی ان قبائلی سرداروں کی طرح ایک قسم کے سیاسی سردار بننا چاہتے تھے۔ وہ نظام کا نعم البدل تیار کرنے کے بجائے سرداروں کا نعم البدل بننے کی کوششوں میں لگ گئے، انکے اسی خواہش نے بلوچ آزادی پسند قوم پرست سیاست میں ” مڈل کلاس ” کے اصطلاح کو جنم دیا۔ کیونکہ اس نعرے سے وہ بلوچ سیاست سے آسانی سے سرداروں کو مائنس کرکے انکی جگہ لے سکتے تھے، حالانکہ مسئلہ کبھی سردار نہیں رہا بلکہ بلوچ سیاست پر قبائلیت کی چھاپ رہی ہے۔ قوم پرست تحریک کا مطلب پوری قوم کو ، قوم کے ہر طبقے کو ساتھ لیکر جدوجہد کرنا ہے ، اگر کوئی سردار ہو یا بزگر و شوان وہ قومی آزادی پر یقین کرکے قومیت کے بنیاد پر جدوجہد کرنا چاہے وہ شامل رہ سکتا ہے، یہاں قابض کو نکالنا ہے ایک طبقے سے جان نہیں چھڑانا۔ ایسے میں مڈل کلاس کا نعرہ چے معنی دارد؟۔ جہاں تک سرداری قبائلی نظام کی بات ہے تو اسکو مضبوط رکھنے والا سب سے بڑا “پِلر” قابض ریاست ہے جو بلوچ سماجی ارتقاء کے سامنے ایک رکاوٹ کی طرح کھڑا ہے اور ان سرداروں کو مضبوط کررہا ہے قابض کے نکلنے کے ساتھ ہی یہ سرداری نظام خود ہی دم توڑ دیگی۔ آپ مڈل کلاس میکاولیت کے عزائم ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بلوچ قوم پرست سیاست میں جب بھی سرداروں کے خلاف نعرہ لگایا گیا ہے وہ ان سرداروں کے خلاف رہی ہے جو تحریک کا حصہ ہیں۔ کبھی ان مڈل کلا سیئے نعروں نے تحریک سے باہر کسی سردار کو نا چیلینج کیا نا انکا بال بھی بیکا کرسکا۔ یہ نعرہ محض قبائلی سرداروں کو ہٹا کر سیاسی سردار مسلط کرنا تھا یعنی اشخاص بدلنے تھے نظام نہیں۔ اسی لیئے جب بھی یہ نعرہ لگانے والوں کو اپنے مطلوبہ پوزیشن پر پہنچنے کیلئے سرداروں کی ضرورت پڑی یا انہیں سردار اپنے لیئے مسئلہ نا لگے تو وہ اپنے مڈل کلاس کے نعرے کو منہ میں دبائے انکے ساتھ گٹھ جوڑ بھی کرتے رہے ہیں۔ جس سے انکے حقیقی عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کیلئے پارلیمانی مڈل کلاسیئے ڈاکٹر مالک و حئی کے نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی اور آزادی پسند مڈل کلاسیئے ڈاکٹر اللہ نظر اور بغل بچہ جماعتوں کے جنیوا اتحاد پر ایک نظر دواڑئیں۔ موجودہ تحریک پر ایک مختصر نظر دوڑائیں تو اس کو ہماری بدقسمتی کہیں یا خوش قسمتی کہ یہ تحریک ماضی کے طویل سردار اینٹی سردار و مڈل کلاس کے کھینچا تانی کے بعد ایک بار پھر مڈل کلاس نہیں بلکہ ایک نوابزادے” سنگت حیربیار” اور ایک قبائلی اثر سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن ماضی کے برعکس اس بار رجحان مختلف ہوتا ہے، سنگت حیربیار کے گرد محض ایک قبائلی حلقہ نہیں رہتا بلکہ وہ قومی تحریک کو قومیت کے بنیاد پر وسعت دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ، اور پہلی بار عملی طور پر قومی تحریک کو قبائلیت کے بجائے قومیت کے سطح پر لیجاکر جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں پہلے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے جس پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت نہیں کہ کس طرح سنگت حیربیار خود پیچھے رہ کر جدوجہد کیلئے تیار ہر کسی کی بھرپور مدد کرتے رہے اور اسے تحریک لیڈ کرنے کیلئے مکمل موقع دیتے رہے چاہے وہ ایک نوابزادہ براہمدغ تھا یا مڈل کلاسیئے ڈاکٹر اللہ نظر۔ جس طرح یہ تحریک شروع ہوئے اور جس طرح یہ چل رہا تھا یہ ہمارے لیئے بہترین موقع تھا کہ ہم حقیقی معنوں میں قومی سوچ کو پھیلائیں اور اتنا مضبوط کریں کے وہ ہر قسم کے قبائلی، گروہی اور انفرادی سوچ سے بالا ہوکر انکے سامنے رکاوٹ بن کر انہیں قومی قالب میں ڈھالیں، لیکن اس بار بھی قومی تشکیل کے اس مرحلے کے سامنے اندر سے ہی رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔ براہمدغ بگٹی کو گوکہ اسکے قبائلی ذہنیت اور رجحانات کے ساتھ قبول کیا گیا تھا لیکن یہ امید تھی کہ وہ خود کو اور اپنے اثر کی وجہ سے قبائلی بنیاد پر خود سے وابستہ دوستوں کو قومیت کے سانچے میں ڈھالیں گے ، ظاہر سی بات ہے کہ قبائلی حیثیت ختم ہوتی تو براہمدغ کے پاس کونسی اہلیت و قابلیت تھی کہ وہ ایک لیڈر بنے رہتا تو اس لیئے وہ نا صرف خود کو بدلنے میں ناکام رہا بلکہ وہ اپنے کردار و رجحانات کے سبب قومی سوچ کے سامنے ایک رکاوٹ کی طرح کھڑا ہوگیا ، یہی حالت جاوید مینگل کی بھی تھی کہ اتنے موقعے دینے کے باوجود وہ خود کو بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ ایک طرف یہ قبائلی ذہنیت و رجحانات تھے دوسری طرف اسی قبائلیت کے ہم پلہ منفی فکر اختیار پسندی و گروہیت کی صورت میں نمودار ہوا، جس کا اَلم ڈاکٹر اللہ نظر کے ہاتھوں میں تھا۔ جس نے قبائلیوں کی طرح قومی فکر کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنا مطمع نظر گروہیت اور مضبوط گروہوں کی طرف مرکوز کیا اور آجکل انکی طرف سے ایک مشہور نعرہ کہ ” قومی آزادی کیلئے مضبوط گروہ(پارٹی) لازم ہے” بھی سامنے آگئی۔ ڈاکٹر اللہ نظر نے مڈل کلاس کے روایتی نعرے و چاپلوسی کو اسی طرح استعمال کیا جس طرح انکے پیشرو ڈاکٹران حئی و مالک نے کی تھی بس فرق آزادی کی چاشنی تھی۔ یعنی اپنے وجود کا بنیاد سرداروں کے مدد سے قائم کی ، اسکے وجود کے سامنے قومیت کو مدنظر رکھ کر اسکے لیڈر بننے کی خواہش کے سامنے بھی کوئی رکاوٹ نہیں بنا کیونکہ روایتوں کو بدلنا تھا لیکن جب ڈاکٹر صاحب ایک مضبوط پوزیشن میں آگئے تو اپنے اختیار پسند عزائم کے تکمیل کیلئے اسے وہی سردار اپنے بلاشرکتِ غیرے سربراہ بننے کے سامنے رکاوٹ محسوس ہوئے تو اس نے بھی پرانے دھول جمے مڈل کلاس کے نعرے کو پالش کرکے قوم کے سامنے رکھدیا۔ آج دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ سنگت حیربیار کی صورت میں جس شخص نے قبائلیت اور گروہیت دونوں منفی افکار کے خلاف عملی جہد کیا اور اپنے کردار سے واضح کیا کہ وہ ایک مضبوط قومی فکر کے داعی ہیں اور قومی سوچ کو وسعت دینا چاہتے ہیں ، آج اسی کے خلاف وہ لوگ جنہوں نے قبائلیت اور گروہیت کو ترجیح دی اور قومی فکرسے روگردانی کرتے ہوئے اسکے سامنے رکاوٹ بنے یہ الزام لگاتے ہیں کہ سنگت حیربیار ایک نواب و سردار ہیں۔ کسی نواب و سردار کے گھر میں پیدا ہونے پر اسکے حیثیت اور سوچ کو صرف پیدائش سے وابستہ کرکے اسے سرداری کے طعنے لگانے یا پھر ہمارے سماجی ڈھانچے کے روایتی نچلی درجات میں پیدا ہونے والے کسی شخص کو اسکے نچلے خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے طعنہ مارنے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں رویوں میں انسان کو جانچنے کا پیمانہ اسکے قابو سے باہر اسکی پیدائش ہے نا کہ فکر۔ اسی لیئے اگر ہم فکر کو جانچنے کا معیار پیدائش کے بجائے،کردار و عمل سے جوڑ کر دیکھیں تو زیادہ آسانی سے ہمیں سمجھ آسکتا ہے اور یہ بھی سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ ایک طرف قبائلیوں اور دوسری طرف مڈل کلاس میکاولیوں کو ایک ہی وقت میں سنگت حیربیار کیوں قبول نہیں ، آخر وہ کون سے فکر سے جڑے ہیں کہ نا اسے قبائلی اپنا سمجھتے ہیں اور نا ہی یہ مڈل کلاس چاپلوس؟۔ براہمدغ بگٹی ، جاوید مینگل ، مہران مری اور بختیار ڈومکی کے کردار پر لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں انکا کردار مکمل طور پر واضح ہے کہ ان سب کے پاس چھوٹے بڑے قبائلی فورس ہیں جن کو وہ قبائلی بنیاد پر چلا رہے ہیں ، جن کے دم پر ایک طرف وہ اپنا قبائلی حیثیت مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وہ قومی تحریک سے ایک احسان کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اب دوسری طرف مڈل کلاس کا نعرہ لگانے والے ڈاکٹر اللہ نظر اور بغل بچہ جماعتیں ہیں۔ کیا انکے مڈل کلاس کے نعرے مخلصی پر ہیں یا یہ بھی اختیار پسند ذہنیت کی اختراع چاپلوسی ( میکاولیت) ہے۔ یعنی حیربیار مری ایک سردار کے بیٹے ہونے کی وجہ سے غلط ہیں لیکن جس سردار کا وہ بیٹا ہے اور جس نے عملی قبائلی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مضبوط تنظیم بی ایل اے کو قبائلی بنیاد پر دولخت کیا وہ نا صرف قابلِ قبول ہے بلکہ بابا ہے ، درسگاہ آزادی ہے۔ براہمدغ تحریک کا حصہ بنتے ہی تنظیم کو عسکری ، جماعتی اور تنظیمی سطح پر اپنے شخصی اور قبائلی حیثیت سے توڑنے والے بنے، اسکے تنظیم کو چلانے یا ذمہ داریاں دینے کا معیار آج تک مکمل طور پر ایک قبیلے کو چلانے اور اختیارات وڈیروں میں بانٹنے والے طرز پر ہیں لیکن وہ قابلِ قبول اور دو ماہ پہلے تک اتحاد کی باتیں چل رہی تھیں، حتیٰ کے جب براہمدغ کے موقف سے پسپائی کے بعد سوشل میڈیا پر جب براہمدغ اور اللہ نظر کے ہمنواوں میں ٹھَن گئی تو واحد قمبر کا فوری طور پر اپنے ان کارکنوں کیلئے چپ رہنے کا دست بندی پیغام پہنچا جو عرصہ دراز سے حیربیار کو غلیظ گالیاں دے رہے تھے۔ مہران مری کی حیثیت ایک قبائلی سردار کے ایک بگڑے ہوئے عیاش بچے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ، جس طرح انوکھا لاڈلا ” کھیلن کو چاند ” مانگتا ہے اسی طرح اسے کھیلن کو تنظیم چاہیے تھی ، سو نخرے پورے کرکے اس دے دیا گیا، لیکن سیاسی جاہل مہران مری کو ناصرف یہ ڈاکٹر اللہ نظر و بغل بچہ جماعیتں بی این ایم و بی ایس او آزاد سر آنکھوں پر رکھتے رہے بلکہ یو بی اے بنانے اور اسکے وجود کو جواز فراہم کرنے کیلئے یہ “اینٹی سردار مڈل کلاس گروپ” ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ، یہ محبت کا رشتہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ خیربخش مری کے انتقال کے بعد جب مہران مری کے دل میں نواب بننے کا خواہش انگڑائی لینے لگی تو اس میں بھی یہ ” اینٹی سردار مڈل کلاس چاپلوس ” پیچھے نہیں رہے ، نا صرف نوابی حاصل کرنے میں اسکی خاص مدد کی گئی بلکہ بی ایل ایف کے سینٹرل کمانڈ کے رکن رحمد ل مری خاص طور پر مہران کے نوابی کے تائید کنندہ افراد میں اپنا نام بھی شامل کرواتا ہے، یقیناً سینٹرل کمانڈ کا کوئی رکن تنظیمی پالیسی کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا اور ان سب پر مستزادیہ گذشتہ سال جنیوا میں ان سرداروں کا یکجہتی جرگہ سب کو یاد ہوگا۔ جس میں سنگت حیربیار کے علاوہ باقی تمام نام نہاد آزادی پسند نواب و سردار موجود تھے وہاں ان اینٹی سردار مڈل کلاسی میکاولیوں کا بیرونی ملک نمائندہ حمل حیدر یکجہتی کرتے ہوئے خاص طور پر انکے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ملا کر تصویریں کھنچواتا رہا۔ اب ایک سادہ سی بات ہے کہ ان مڈل کلاسیوں کیلئے اینٹی سرداری کے اتنے نعرے لگانے کے باوجود سنگت حیربیار کے علاوہ باقی تمام سردار و نواب کیوں قابلِ قبول ہیں ؟ کیا انکا کردار مثالی ہے؟ کیا انہوں نے اپنے کردار و عمل سے قبائلیت کی نفی کی ہے؟ کیا انہوں نے قبائلیت کو قومی سوچ کے قالب میں ڈھالنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟ کیا انہوں نے سرداری مسترد کی ہے؟ کیا انکے کردار و فکر سے کہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے سرداریت سے دستبردار ہوکر قبالیت کو قومیت میں ڈھالیں گے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر اپنے گروہی مفادات کے سامنے انہیں رکاوٹ نہیں سمجھتا اس لیئے یہاں مڈل کلاس کارڈ کے استعمال کی ضرورت نہیں لیکن حیربیار انہیں ایک رکاوٹ محسوس ہوتا ہے اس لیئے جب بھی مناسب موقع ملتی ہے ، یا انکے کسی منفی کردار کے سامنے سنگت حیربیار کوئی رکاوٹ بن جاتا ہے تو فوراً مڈل کلاس کا کارڈ نکال کر دِکھایا جاتا ہے۔ اب دوسری طرف دیکھیں کہ کیا واقعی ایک سردار کے گھر میں پیدا ہونے کے بعد سنگت حیربیار ایک سردار ہیں یا انکا کردار ایک سردار جیسا ہے؟۔ مختصراً غور کرنے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ ایک سردار ہونے کے باوجود قوم کو قبائلیت سے نکالنے اور قومیت میں داخل ہونے ، قومی سوچ کو مضبوط کرنے کیلئے جتنا سنگت حیربیار کا کردار ہے اتنا مڈل کلاس کے نام نہاد علمبرداروں کا بھی نہیں۔ اگر حیربیار سرداری سوچ رکھتا یا سردار ہوتا تو وہ براہمدغ کی طرح چار تنظیموں کا سربراہ بن جاتا یا پھر آج تک کسی بھی تنظیم کی رسمی سربراہی کا اعلان کیئے بغیر ڈاکٹر اللہ نظر سے لیکر براہمدغ تک سب کو موقع دیتا؟۔ کیا ایک سردار اپنے آپ کو تنظیمی سطح پر معاشی طور پر تنگدست رکھ کر دوسروں کی مدد کرتا ؟۔ کیا بی ایل اے کے ہونے کے بعد وہ موقع دیتا کہ بی ایل ایف مکران میں کسی اور کے سربراہی میں بنے یا پھر براہمدغ کی طرح پہلے دن ہی اسلحہ اور پیسے کا سہارا لیکر مکران میں تنظیم سازی شروع کردیتا؟۔ آج حیربیار پر ایک نظر دوڑائیں تو اسکے پاس قبائلی طور پر کیا ہے؟ کیا وہ بھائی اور والد سے اصولی اختلاف رکھ کر وہ اصولوں کی خاطر تمام تر قبائلی ترکے سے دستبردار نہیں ہوئے؟ نواب مہران بن گیا ، جو لوگ قبائلی بنیاد پر بی ایل اے سے جڑے تھے ان سب کو خیربخش مری نے الگ کرکے یوبی اے کے نا م سے اپنے قبائلی جانشین مہران کے حوالے کردیا۔ آج جس حیربیار کو سردارزادہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے یہ وہی شخص ہے جب اینٹی سردار مڈل کلاس تنظیم بی ایل ایف مہران مری کو ایک قبیلے کا نواب بنانے کے جتن میں اپنے سینٹرل کمانڈ سے اسکی تائیدیں کروارہا تھا ، براہمدغ اور جاوید مینگل کے مبارکوں کے پیغامات آرہے تھے اس وقت اسی حیربیار نے عمل طور پر قبائلیت کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ “آج کے بعد مری قبیلے میں کوئی سردار نہیں ہوگا خیربخش مری قبیلے کے آخری سردار تھے”۔ اگر وہ سردار ہوتے تو پھر مہران کی طرح سردار بننے کیلئے ہاتھ پاوں نہیں مارتے ؟ میرے خیال اگر وہ ایسا کرتے تو وہ کم از کم مہران سے زیادہ لوگوں کو جمع کرکے بیان دلواسکتے تھے۔ اگر وہ قبائلی سردار ہوتے تو بی ایل ایف ، اسکے دم چھلہ سیاسی جماعتوں کے درجنوں ہتک آمیز بیانات کے جواب میں محض انہیں غیر ذمہ دار کہتے یا پھر انہیں براہمدغ کی طرح اوقات یاد دلا دیتے؟۔ یا پھر اللہ نظر کی طرح بے بنیاد پدر سپاہ گردی کا نعرہ بلند کرکے اپنا دفاع کرتے؟۔ میں نے سمجھتا کہ اب سردار محض ایک پیدائشی خاندانی حیثیت یا وراثت ہے بلکہ بلوچ سیاست میں سرداریت ایک ذہنی کیفیت بن چکی ہے ، جو اسکا شکار ہے وہ فقیر کے گھر میں پیدا ہوکر بھی سردار ہے اور جو خود کو اس ذہنی کیفیت سے بچائے وہ سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہونے کے باوجود بھی سردار نہیں ، اور اس پیمانے پر پرکھ کر میں بھی کہتا ہوں کہ ہر سردار کو کچلنا چاہیے۔ سردار وہ ہے جو بلاشرکت غیرے اقتدار اعلیٰ چاہتا ہے ، جو اختلاف برداشت نہیں کرتا ، جو تنقید برداشت نہیں کرتا ، جو اپنے ہوتے ہوئے کسی اور کو اختیار میں ہوتا دیکھنا نہیں چاہتا ، جو اپنے اقتدار اور مفاد کیلئے کسی سے بھی سمجھوتہ کرسکتا ہے۔ جن کیلئے اصول گھر کا باندی ہو۔ حیربیار کے سیاسی زندگی سے کیا ثابت کیا جاسکتا ہے کہ وہ اقتدار کا متلاشی ہو ایسا ہوتا تو میرے خیال میں آج براہمدغ و اللہ نظر اتنے آسانی سے لیڈر نہیں کہلاتے ، جتنی تنقید اور اختلاف سنگت حیربیار نے برداشت کی کیا اسکی مثال ملتی ہے ؟ جب اللہ نظر پر چند باتیں ہوئیں یا براہمداغ پر سوال تو انکے ہمنواوں نے کیسے آسمان سر پر اٹھایا ان کے بغل بچہ جماعتوں کے کتنے درجن بیانات سامنے آئے لیکن کیا ان سب بیانات کے باوجود سنگت حیربیار نے کبھی انکو غدار کہا یا اتنے ہی گٹھیا الزامات لگا کر مسترد کیا؟ کیا 2009 میں ہی اس نے ذاتی اختلافات کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے اور اتفاق سے رہنے کا کہہ کر دوسروں کو برداشت کرنے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کیا انہوں نے اصولوں کی خاطر تنہائی کا چناو نہیں کیا۔ جبکہ دوسری طرف ان سارے کرداروں کو مڈل کلاس کے دعویدار میکاولیت کے پیروکار لیڈروں میں دیکھیں تو کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ سردار اور سرداری قبائلی نظام اپنے کسی بھی صورت میں قابلِ برداشت اور قابلِ دفاع نہیں۔ کہتے ہیں کہ پہلے بلوچ قبائلی نظام ایک جمہوری شفاف نظام ہوتی تھی میں ایسے باتوں کو بھی حد درجہ مبالغہ ہی سمجھتا ہوں ، اگر واقعی بلوچ کبھی ایسا جمہوری قبائلی نظام رکھتے بھی ہونگے تو پھر بھی واپس اسکی طرف لوٹنے کو رجعت پسندی کہلائے گا۔ ارتقاء کا پہیہ ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے اور فطری طور پر بلوچوں کو جلد یا بدیر اس قبائلی نظام سے نکلنا ہی ہے۔ ان سب کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قبیلوں اور سرداروں نے بلوچ تحریک آزادی میں ایک کردار ادا کی ہے وہ کردار جو ناگزیر طور پر انہیں ہی ادا کرنا تھا، ماتم زاری اور قوم کو مڈل کلاس کے جھوٹے نعروں میں مگن رکھ کر اپنے اپنے گروہی و انفرادی مفادات کے بجا آوری کے بجائے ہم سردارو ں کو لعن طعن کرنے کے بجائے حقیقی معنوں میں اپنے گروہی و انفرادای مفادات و خواہشات سے دستبردار ہوتے ہوئے مکمل حقیقی قومی سوچ کو وسعت دینے و مضبوط کرنے کی کوشش کریں اور اپنے قبائلی قوتوں کو بتدریج قومی قالب میں ڈھالنے کی کوشش کریں تو یہ مڈل کلاس کے 70 سال سے چلنے والے بے سود خشک نعروں سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا ، اس مڈل کلاس میکاولیت کو ترک کرنے سے ہی بلوچ ایک ” انکلیوزو” جمعی قوت تشکیل دینے کا قابل بن سکے گا۔ آج ڈاکٹر اللہ نظر کے پیروکاروں کے مڈل کلاس کے نعروں اور میکاولیت کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف سنگت حیربیار کے عملی کردار کو تو مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے ” ایک بار چیئر مین ماؤزے نے اسٹالن سے ملاقات میں کہا کہ ’’ہم دونوں اپنے طبقوں کے غدار ہیں ‘میں اپر کلاس چھوڑ کر عام جہد کار بن گیا جبکہ اسٹالن تم مڈل کلا س سے اپرکلاس میں چلے گئے گویا ہم دونوں نے اپنے طبقوں سے غدار ی کی ہے ” مجھے لگتا ہے کہ سنگت حیربیار اور ڈاکٹر اللہ نظر دونوں اپنے طبقات کے غدار ہیں سنگت حیربیار سردار کو مسترد کرکے عام جہدکار بن گیا اور ڈاکٹر اللہ نظر عام جہدکاری ترک کرکے سیاسی سردار بن گیا۔