پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ گوادر کے موقعے پر بلوچستان میں سی پیک سے منسلک ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ترقیاتی عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اور اس ضمن میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ مگر انہوں نے اِس سلسلے میں ایک غیر متوقع اعلان یہ بھی کر دیا۔ کہ وہ بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کو دیکھتے ہوئے اِس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ کہ وہ بلوچستان میں برسر پیکار مسلح عسکریت پسندوں سے بات چیت کا آغاز کریں۔ ویسے کسی بھی سیاسی، سماجی و علاقائی مسئلے کا واحد حل بات چیت یا مزاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ کسی بھی جنگ یا مزاحمت کی اختتام بالآخر مزاکرت سے ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ فریقین بات چیت یا مزاکرات پر آمادہ ہو سکیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے۔ کہ واقعی ریاست پاکستان بلوچ عسکریت پسندوں کیساتھ سنجیدہ بات چیت کیلئے تّیار ہیں۔ یا وزیر اعظم صاحب کی اِس اعلان کے پیچھے کچھ اور محرکات و مضمرات پوشیدہ ہیں۔ اِس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا آسان نہیں۔ لیکن اگر گزشتہ بیس سال کے تلخ تجربات کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے تو ایک بات صاف اور واضح طور سامنے آجاتی ہے کہ ریاست پاکستان کسی صورت میں بھی آزاد بلوچستان کی شرط قبول نہیں کریگی۔ اِس لیئے فریقین کے درمیان کوئی نتیجہ خیز بات چیت ہونے کی امید رکھنا مناسب نہیں۔ ہاں البتہ اگر بلوچ عسکریت پسند آزادی کی بیانیے سے دستبردار ہو کر جنگ کا خاتمہ یا نقصانات کی ازالے کے ساتھ ساتھ پاکستانی آئین کے فریم ورک میں رہ کر اپنی بنیادی حقوق ، اپنے سائل و وسائل اور زمینی و بحری معدنیات کی مالکانہ حقوق، لاپتہ افراد کی بازیابی اور مستقبل میں کسی قسم کی حق تلفی نہ ہونے کی ضمانت مانگیں۔ تو شاید بات کچھ آگے بڑھ سکے۔ لیکن مجھے یقین نہیں آتا کہ آزادی کیلئے اتنی بے شمار قربانیاں دینے کے بعد کوئی بھی تنظیم یا گروپ اِس پوزیشن میں ہے۔ کہ ثانی الذکر بیانیے پر رضامند ہو سکے۔ ایک بات تو طے ہے۔ کہ پاکستان میں عمران خان سمیت کوئی بھی سیول حکمران بلوچستان مسلئے پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں۔ اِس لیئے عمران خان عسکری قیادت کے صلاح مشورے کے بغیر اتنی بڑی بات کی جرآت نہیں کر سکتی اگر فوج کی طرف سے اُسے گرین سگنل نہیں ملتی ۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ دراصل اعلان عمران جی ایچ کیو کی فرمان ہے۔ جسے نہ پارلیمنٹ رد کر سکتی ہے نا عدلیہ ۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ فوج ایک بار پھر کیوں مِنّت سماجت پر اُتر آئی ہے۔ اگر کوئی بلوچ آزادی پسند رہنما اور جنگجو کمانڈر اِس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اُس نے پاکستان آرمی کو جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تو میرے خیال میں اُس سے بڑا خوش فہم و بیوقوف انسان فی زمانہ میں موجود نہیں ۔ کیونکہ اِس فوج نے جتنی جانیں افغان سرحد اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں گنوائے ہیں۔ بلوچستان میں بیس سال کی طویل جنگ میں اُنکی عشر عشیر نقصانات نہیں اُٹھائی ہے۔ دوسری بات اگر وزیرستان میں نام نہاد امن کی قیام اور خود ساختہ دہشت گردی کے نام پر یہ فوج اتنی بڑی نقصان اُٹھانے کے باوجود بات چیت کیلئے تّیار نہیں تو معمولی نقصان کے بدلے سونے کی چڑیا جیسی بلوچستان پر کمزور قوتوں سے کیونکر مزاکرات کرے۔۔ اس لیئے مزاکرات کی اس پیشکش کو کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1- امریکہ نے جنگ زدہ و لہولہان افغانستان کو مشکلات کی سمندر میں ڈبو کر اچانک چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اب نئی افغانستان پاکستان کے گلے پڑ گیا ہے۔ امریکہ کی اس غیر متوقع و جلد فیصلہ نے پاکستانی فوج کو نہایت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج، پارلیمنٹیرین ، تھنک ٹینکس اور میڈیا ابھی تک یہ فیصلہ نہ کر سکی ہیں۔ کہ موجودہ افغان حکومت کی کھل کر مخالفت کریں۔ یا طالبان کی پیش قدمیوں اور فتوحات کی حمایت یا مخالفت کریں۔یا کابل پر قبضے کے بعد طالبان حکومت کو تسلیم کریں یا نا کریں۔۔ یاد رہے طالبان کی پچھلی حکومت کو دنیا میں صرف تین ممالک نے تسلیم کر لی تھی۔ جن میں سعودیہ اور عرب امارات کے علاوہ پاکستان شامل تھی۔ لیکن اِس مرتبہ اگر خالصتاََ افغانستان پر طالبان حکومت قائم رہی تو وہ عرب امارات اور سعودیہ عربیہ کی حمایت سے محروم رئیگی ۔ امریکہ تو پہلے سے عندیہ دے چکی ہے کہ وہ نہ خود طالبان حکومت تسلیم کر لیگی اور نا ہی مغرب کو ایسا کرنے دیگی۔ البتہ اِس بات کی امکانات موجود ہیں۔ کہ چین، ایران اور روس کسی بھی افغان سیٹ اپ کو تسلیم کر لیں۔ لیکن یہ بھی اُس صورت میں ممکن ہے کہ خطے میں نئی صف بندیوں کی داغ بیل ڈالی جائے۔ بصورت دیگر کم از کم رشیا اور چین اس عمل سے دور رہینگے۔ مشرقی سرحد پر جنگ کے منڈلاتے بادل ، افغان بارڈر کی حفاظت کی بے چینی، مہاجرین کی شکل میں ٹی ٹی پی و دیگر دہشت گرد عناصر کی دخول کی خوف اور اندرونی بد امنی نے فوج کو بہت بڑی سودا کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتی تعلقات بھی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو نا صرف پسند نہیں بلکہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مستقل موجودگی امریکہ اور یورپ کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کو اچھی طرح سے علم ہے۔ کہ مغرب چین کو ان اہم زمینی و آبی گزرگاہوں پر کنٹرول کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس لیئے قوی امکان ہے کہ اگر بات بہت آگے بڑھ جائیگی تو چین کو علاقے سے بیدخل کرنے کیلئے امریکہ کے پاس بلوچستان کارڈ بھی آخری آپشن کی صورت میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اس لیئے پاکستان چین کی ساٹھ ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کی قیمت پر بلوچستان گنوانے کیلئے تیار نہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت یے۔ کہ ریاست کس بنا پر بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے ۔ یا کس حد تک مزاکرات کرنے پر سنجیدہ ہے۔ لیکن ہمارے کچھ خوش فہم دوست پانی دیکھنے سے پہلے شلوار چھڑانے میں لگ گئے۔ پاکستانی فوج مزاکرات کیلئے سنجیدہ ہے یا نہیں یہ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اپنے اُن دوستوں کی غیر سنجیدگی پر بہت افسوس ہو رہی ہے۔ جو ریاست سے بات نہ کرنے کی بے وقت راگ الاپ رہے ہیں۔ حالانکہ ریاست نے نا کبھی پہلے اُن سے بات چیت کی پیغام بھیجی ہے۔ اور نا ہی اب اِن سے بات چیت کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس طرح ریاست نے 2005 کو سیاسی و قبائلی رہنما شہید نواب اکبر خان بگٹی سے بات چیت کیلئے چوہدری شجاعت کی سربرائی میں وفد ڈیرہ بگٹی بھیج دیا۔ اب بھی اگر مزاکرات کیلئے کوئی پیشرفت ہوگی تو وہ خان قلات ، حیربیار مری، براہمدغ بگٹی، مہران مری اور جاوید مینگل کیساتھ ہوگی۔ کیونکہ ریاست کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی سیاسی، عسکری و قبائلی قد کاٹ کی بخوبی ادراک ہے۔ ریاست پاکستان جانتی ہے کہ پچھلے چاروں جنگیں انہی قبائلی قوتوں نے اپنی زور بازو سے لڑی ہیں اور اگر یہ جنگ جاری رہیگی تو انہی کے طاقت و قوت سے آگے بڑھے گی۔ وگرنہ فوج نے مزاکرات نہ کرنے کی شور مچانے والوں کو اچھی طرح سے بھانپ لیا ہے۔ کہ اگر اُنکے علاقوں میں اپریشن کو وزیرستان کی شکل میں تیز کیا گیا تو کوئی بھی میدان میں نہیں رہیگا۔ یا سرینڈر میں تیزی آئیگی یا ایران میں پناہ لیا جائیگا۔ لیکن باقی ماندہ بلوچستان میں مضبوط اعصاب کے مالک میدان خالی نہیں چھوڑ دینگے۔۔ اور ابھی تک تو فوج اور سیول حکمران یہ فیصلہ بھی نہیں کر پا رہے۔ کہ کس کس سے بات چیت کیا جائے۔ وزیر اعظم عسکریت پسند اور ناراض بلوچوں سے مخاطب ہو کر سب سے بات کرنے کی سوچ رہے۔ جبکہ اُن کی حکومت میں شامل بعض وزراء اس بات کی حق میں نہیں۔ بقول اُن کے را فنڈڈ عسکری قوتوں سے بات کرنا ٹھیک نہیں۔ وزیر اطلاعات جو اطلاعات کی وزیر کم اور فوج کی ترجمان زیادہ دکھائی دیتے ہیں کا کہنا ہے کہ بھارت سے منسلک عسکریت پسندوں سے بات نہیں ہوگی۔ جبکہ تمام عسکریت پسندوں پر بھارت کی ایجنٹ یا آلہ کاری کی الزام لگا دی گئی ہے۔ یعنی تمام مسلح تنظیم کے سربراہان سے بات نہیں ہوگی۔ اگر مزکورہ عناصر سے بات نہیں ہوگی تو کس کے ساتھ ہوگی ؟؟ اس رویے سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست پاکستان بات چیت کے نام پر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یا پھر سوات اور مالاکنڈ کی طرز کا ایک خونی آپریشن کی ارادہ رکھتی ہے۔ اِس لیئے ایسے موقعے بلوچ مزاحمتکاروں کیطرف سے مزاکرات کی پیشکش کو ٹکرانا دشمن کی بات کو تقویت دینے کی مترادف ہے۔کیونکہ اگر ریاست نے مزید خونریزی کی نّیت سے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔ تو اسے محض انکار کی بھینٹ نہ چھڑایا جائے۔ بلکہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کی حکمت عملی کو اپنا کر مزاکرات کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ مزاکرات سے نا آپ کی بیانیہ چھینی جا سکتی اور نا ہی کسی کو جنگ سے دستبردار کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ آپ اپنے جائز اور من پسند شرائط کیساتھ مزاکرات کے ٹیبل پر بیٹھیں۔ جسے دنیا بھی دیکھے گی اور سنے گی۔ مزاکرات ناکام ہونے کی صورت میں بھی آپ کی عالمی پزیرائی ہوگی۔ وہ قومیں جو آج تک آپ کی مدعا سے بے خبر ہیں۔ اُنکو بھی آپ کی سرزمین پر ناجائز قبضے کی پیغام جائیگی۔ مزاکرات یا بات چیت نہ ہونے سے آپ اسی طرح اندھیرے میں رہینگے جہاں کسی کو دکھائی اور سنائی نہیں دینگے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کئی آزادی کی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ نہ جانے آزادی لینے تک کتنی بار مزاکرات کے دور چلتے رہے۔ مگر بات چیت کی عمل کبھی رکی نہیں۔ ریاست اور شہید نواب اکبر خان بگٹی کے درمیان ناکام مزاکرات کے بعد 2016 میں ڈاکٹر مالک حکومت اور خان سلیمان و براہمدغ بگٹی کے درمیان دوسری بار باقاعدہ بات چیت ہوئی۔ لیکن ڈاکٹر مالک یا ریاست پاکستان براہمدغ بگٹی اور خان قلات کو زبردستی نہیں منوا سکے۔ کچھ دوست مزاکراتی عمل کو اس طرح مسترد کر رہے ہیں۔ جس طرح عمران خان نے ابسلوٹلی ناٹ کہہ کر امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کیا ہوا ہے۔۔۔۔ کیونکہ نہ امریکہ نے پاکستان سے اڈے مانگے ہیں۔ نا اِن دوستوں کو کسی نے مزاکرات کی دعوت دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔