یہ اقدام نہ صرف تاریخی حقائق سے انحراف ہے بلکہ اس سوچ کی بھی عکاسی کرتا ہے جو ہمیشہ سے بلوچ قوم کو اقتصادی اور سیاسی طور پر کمزور رکھنے کی پالیسی پر قائم رہی ہے۔ بارڈر کے دونوں جانب آباد بلوچ نسلیں تقسیمِ ہند سے بہت پہلے سے خونی رشتوں، مشترکہ ثقافت، زبان اور صدیوں پرانے تجارتی روابط کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں۔ اونٹوں اور گدھوں کے قافلے اس خطے کی معاشی بنیاد تھے اور گولڈ اسمتھ لائن جیسے استعماری خطوط نے کبھی بلوچ قوم کو باہمی تعلقات سے جدا نہیں کیا۔

پاکستان کے قیام کے وقت بلوچستان ایک خودمختار ریاستِ قلات کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود تھا جو افغانستان، ایران اور ہندوستان سے ملحق تھی۔ بلوچ آج بھی کوہِ سلیمان سے دریائے سندھ، سیستان و بلوچستان سے نمروز و ہلمند تک ایک ہی تہذیبی وحدت اور ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ برطانوی استعمار نے بلوچوں کے سیاسی قد سے خوفزدہ ہوکر اس خطے کو تین حصوں میں تقسیم کیا تاکہ قوم کو دائمی طور پر کمزور رکھا جا سکے، مگر بلوچوں نے اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

آج اکیسویں صدی میں بھی اسی نوآبادیاتی طرزِ فکر کے تحت بلوچوں کی معاشی سرگرمیوں کو غیر قانونی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں واہگہ اور کرتارپور کھلے رہتے ہیں، دوستی بسیں چلتی ہیں، فینسنگ نہیں ہوتی کیونکہ دونوں جانب سکھ اور پنجابی برادریوں کے خونی و ثقافتی رشتوں کو ریاست تسلیم کرتی ہے۔ لیکن بلوچوں کے وہی صدیوں پرانے تعلقات اچانک جرم بن جاتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار بلوچستان کے احساسِ محرومی کو بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔

سرحدی تجارت بند کرنے کا سب سے تباہ کن اثر یہ ہے کہ اس سے تقریباً تیس لاکھ افراد کے روزگار پر براہ راست ضرب پڑتی ہے۔ اگر بارڈر مینجمنٹ کی کوئی نئی پالیسی بنانی تھی تو اس سے پہلے متبادل روزگار فراہم کرنا ضروری تھا، مگر بغیر کسی حکمتِ عملی کے بارڈر سیل کرکے غریب بلوچ مزدوروں کو بھوک اور بیروزگاری کے دہانے پر دھکیل دینا صرف جبر نہیں بلکہ معاشی جنگ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ملک کے 99 فیصد سرکاری و غیر سرکاری ادارے ایران کے تیل پر چلتے ہیں، اور گبد، کلاتو، مند، ردّیگ، کوہگ اور تفتان جیسے بارڈرز پر پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے سرمایہ دار بڑے ٹریلرز کے ذریعے کاروبار کرتے رہتے ہیں، جن سے نہ سیکیورٹی کو خطرہ ہوتا ہے نہ ملکی سالمیت کو۔ مگر جب ایک غریب بلوچ نوجوان اپنی موٹرسائیکل یا پک اپ پر روزی کماتا ہے تو اسے اچانک “اسمگلر” بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو حق مانگنے والے کو غدار، اپنی ثقافت پر قائم رہنے والے کو مشکوک، اور روزگار کے لیے تجارت کرنے والے کو مجرم قرار دیتی آئی ہے۔

بلوچستان کی سیاسی محرومی کی تاریخ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ 1972–73 میں سردار عطا اللہ مینگل کی منتخب جمہوری حکومت کو صرف گیارہ ماہ بعد سیاسی دشمنی کے تحت برطرف کیا گیا، حیدرآباد سازش کیس گھڑا گیا، اور بلوچی و پختون اکائیوں پر ایک اور مارشل لاء مسلط کر دیا گیا۔ تب سے آج تک جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، ٹارچر سیلوں، مسخ شدہ لاشوں، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی حقوق کی پامالی کو ایک منظم پالیسی کے ذریعے جاری رکھا گیا ہے۔ اگر بلوچستان کو واقعی پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا تو یہاں صحت، تعلیم، پانی، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق کی یہ المناک صورتحال کبھی پیدا نہ ہوتی۔

ریاست جب تک بلوچ قوم کے معاشی و سیاسی حقوق تسلیم نہیں کرے گی، جبر کے ذریعے پیدا کی گئی خاموشی مستقل نہیں رہ سکتی۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ بلوچ قوم اس کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرے تو اسے نوآبادیاتی پالیسیاں ترک کرنی ہوں گی۔ سرحدی تجارت کو جرم نہیں بلکہ تاریخی حق کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور نسل کشی پر مبنی پالیسیاں فوراً ختم کی جانی چاہییں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر پر ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری ضروری ہے تاکہ بلوچ خطے کے لوگوں کو وہ بنیادی سہولیات مل سکیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں ریاستی ترجیحات کے باعث آسانی سے دستیاب ہیں۔

بلوچ قوم نہ جنگ چاہتی ہے نہ ٹکراؤ۔ بلوچ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی زمین، ان کے وسائل، ان کی ثقافت اور ان کے روزگار کو تسلیم کیا جائے۔ لیکن جب ترقی کے نام پر قبضہ، جبر اور لوٹ مار کی جائے گی تو کوئی بھی باشعور قوم اسے قبول نہیں کرے گی۔ ریاستی جبر وقتی طور پر آوازوں کو خاموش کر سکتا ہے مگر ان آوازوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق اور سچ پر مبنی جدوجہدیں کبھی مر نہیں جاتیں۔ بلوچ قوم کی آواز دب سکتی ہے، مٹ نہیں سکتی کیونکہ یہ آواز صرف معاشی انصاف کی نہیں، بلکہ زندگی، قومی تشخص بقا، شناخت کی آواز ہے۔