کیچ(ہمگام نیوز) بلوچ سماجیبو سیاسی کارکن کامریڈ وسیم سفر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑھ رہا ہے ملکی بااثر قوتیں وہ بار بار یہی کہتے چلے آ رہے ہیں آگر عوام ہماری سیکیورٹی اداروں کی سیکیورٹی کا زمہ داری نہیں لیتے یا ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے وہ تعاون بتا آخر کیا ہے عوام کی جان مال عزت ننگ ناموس کی تحفظ پاسداری روزگار کی فراہمی ریاست کی زمہ داری ہے افسوس کیساتھ کہنا پڑھ رہا ہے ریاستی مقتدرہ قوتیں ایک قدرتی روزگار بارڈر جسے بند کر کے عوام کو بلیک میل کرنے کیلئے یہ خربہ استعمال کیا جا رہا ہے یہ بلیم کرتے ہیں سیکورٹی کا خیال نہیں رکھتے سالانہ صوبائی بجٹ میں 85 فیصد ملکی خزانے سے سیکورٹی کی مد میں لئے جاتے ہیں سیکورٹی کی زمہ داری عوام پر ڈالا جا رہا ہے برملا کھلے عام یہ اظہار کرتے ہیں ہم پہ حملے ہوتے یا کسی قسم کی کوئی ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے جس کی باعث ہم لوگوں کے روزگار بند کرتے ہیں خالیہ عبدوئی بارڈر بندش جس کی باعث لاکھوں لوگوں کی روزگار متاثر نان شبینے کا مختاج اگر وہ لوگ معاشی بخران کی وجہ سے تنگ آکر غلط قدم اٹھایا جس کا اصل زمہ دار کون کس پر جس کی زمہ داری عائد ہوتی ہیں مگر افسوس یہ مقتدرہ قوتوں کا یہ روایہ کہ وہ عام لوگوں کو جس کی سزا دے رہے ہیں عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سیکورٹی فورسز پر حملے ہوتا ہے پھر اس کی ری ایکشن پوری عام لوگوں پر آتا ہے وہ لوگ امن امان قائم رکھنے کی خلف اٹھائے ہوئے سارے سہولیات کی فراہمی کیساتھ بھیٹے ہوئے ہیں عبدوئی بارڈر سے لیکر تربت سٹی تک چار کلومیٹر کے فاصلے حالی نہیں وہاں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ یا سیکورٹی قافلوں کو پروٹیکشن فراہم کرنے کیلئے راستے پر سیکورٹی فورسز کے دستے تعینات نہ ہو اس کے درمیان جو حملے یا آئی ڈی بلاسٹ ہوتا ہے تو پھر یہ عوام کی زمہ داری ہے یا ان لوگوں کی کہ وہ لوگ سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے آئے ہوئے ہیں سارے سرحد پر بھاڈ لگایا گیا ہے اب بارڈر پر ایک پرندہ بغیر اجازت پر نہیں مار سکتا جب تک انہی لوگوں کی مرضی منشاء نہ ہو پھر ان واقعات کی پاداش میں لاکھوں لوگوں کی روزگار روزی روٹی کمانے کا واحد ذریعہ معاش بارڈر کو مکمل طور پر بند کرنا لاکھوں لوگوں کی معاشی قتل عام کرنے کا مترادف ہے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے عبدوئی بارڈر کو سابقہ پوزیشن پر روزگار کے لئے بحال کریں تاکہ محنت کش مزدوروں کی روزی روٹی کا مسئلہ حل ہو جائے عبدوئی بارڈر کی مستقل بندش بلیدہ زامران تگران مند تمپ بشمول تحصیل تربت کے ملحقہ نواحی علاقوں کے لوگوں کیساتھ انتہائی زیادتی ہوگی لاکھوں لوگوں کی آبادی کو شدید مسائل درپیش ہونگے حکومت بلوچستان ہوم ڈیپارٹمنٹ اس وقت یہ حکم صادر کریں جب وہ عوام کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہو اپنے بنیادی حقوق کی حصول کیلئے پُرامن سیاسی جمہوری انداز میں جدوجہد کرنا ہمارا حق ہے اسے چھینے کیلئے حکومت بلوچستان دیگر ادارے مل بیٹھ کر مشترکہ طور پر یہ حق چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں روز نئی ترمیم ملکی آئین و قانون کو کئے جا رہے ہیں اب واحد ذریعہ آواز اٹھائی جانے کی پرامن سیاسی جمہوری مزاحمت اختجاجی مظاہرے دھرنے اب انہی پُرامن سیاسی جمہوری انداز میں جدوجہد کو برداشت نہیں کر رہے ہیں روز نئی حکم نامے وہ لوگ جاری کر رہے ہیں جس کیخلاف یہ پُرامن سیاسی جمہوری مزاحمت شروع کئے گئے ہیں اگر حکومت بلوچستان عسکری حکام سیول بیوروکریسی نے ان مندرجہ بالا ذکر کئے گئے علاقے کے لوگوں کی روزگار کو مدنظر نہیں رکھا گیا پرامن سیاسی جمہوری جدوجہد مزاحمت کے حق محفوظ رکھتے ہیں گزارش کرتے ہیں لاکھوں لوگوں کی تکالیف کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ مزاحمت فرض ہو چکا ہے سیاست شوق نہیں مجبوری ہے جب مظلوم محکوم لوگوں کی استحصال لوٹ مار ناانصافی کا بازار گرم ہو تو مزاحمت فرض ہوتی ہے شوق نہیں وہ لوگ جو انفرادی مفادات کی خاطر سیاست کرتے ہیں وہ ہرگز ڈامبر کی سڑکوں پر نہیں بھیٹتے ناکہ وہ ان محنت کش مزدوروں کی خاطر آواز اٹھاتے ہیں انہیں آج وزارتِ اعلیٰ دیگر مراعات دیکر عہدے کی منصب پر بٹھائے گئے ہیں عبدوئی بارڈر مزکورہ علاقوں کی مرگ زیست کا مسئلہ ہے جس کی بندش کیخلاف لوگ مجبور ہیں کہ وہ اختجاج مظاہروں کا راستہ اپنائیں کیونکہ ہماری اور ہمارے علاقے کی مستقبل کو تاریکی کی جانب دھکیل دیا جا رہا ہے















