ہمگام کالم : گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں، بجلی اور پانی کی تنگی نے سب لوگوں کی زندگی اجیرن کردیا تھا ، ہم اسکول کی گرمیوں کی چھٹیاں اسی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں گزارنے پر مجبور تھے ۔ بلوچ مسجد میں مغرب کا اذان ملا بغیر لوڈ اسپیکر کے دیتاتھا۔ یہ تو روز کا معمول تھا، مغرب کے بعد بجلی کا نہ ھونا، اور محلے کے لونڈوں کی روڈ پر ٹائر اور پتھراوں کرنا ۔ ہم بھی ایک ہاتھ چھوٹے پتھر پبلک گاڑیوں پر پھینک دیا کرتے تھے۔ بجلی تو نہیں آتی،، البتہ پولیس والے دوڑ لگواتے بہت تھے۔ بس آپ یوں سمجھیں کہ ہم لڑکپن میں ہی سیاسی کارکن بن چکے تھے، گوکہ ہم کسی پارٹی کو ووٹ دینے کے قابل نہ تھے لیکن پھر بھی ہم ‘بی ایس او مے جان توئے دردانی درمان توے” پر رقص آزادی کیا کرتے تھے۔
اس وقت پاکستانی عدالتوں نے سندھ کے عظیم لیڈر سائیں جی ایم سید کو غداری کے الزام میں ان کی رہائش گاہ حیدر منزل میں نظر بند کیا ھوا تھا ۔بعد میں نظر بندی ختم کردی گئی تھی ۔ حیدر منزل نشتر پارک کے بلکل سامنے واقع ہے ۔اس وقت میرے محلے کے کچھ دوست جن کا تعلق لاڑکانہ سے تھا۔۔۔ انھوں نے حیدر منزل جانے کا پروگرام بنایا۔ ہم دوست حیدر منزل پہنچے ، کافی بھیڑ نظر آیا۔۔ دوستوں نے شناخت کرانے کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دیا۔ اندر داخل ھوتے ہی ہمیں سامنے لان میں درجنوں لوگ نظر آئے جو سائیں جی ایم سید کے گرد دائرہ بنائے ھوئے تھے، بڑی مشکل سے ہم سائیں تک پہنچنے میں کامیاب ھوئے۔ سائیں بہت ہی کمزور تھے، آہستہ بول رہے تھے، ہم نے آگے بڑھ کر سائیں سے مصافحہ کیا۔ اس وقت میرے خیال سے سائیں بشیر قریشی، واحد آریسر، خالق جونیجو، ہاشم کھوسہ اور بھی بہت سے رہنما اس وقت وہاں موجود تھے۔ ہمارے دوست نے سائیں سے ہماری تعارف کروایا ۔ سائیں نے ہم سے مخاطب ھوتے ھوئے کہا بلوچ ھو؟ ہم نے کہا جی سائیں ، پاس ہی رہتے ہیں ، ہم بی ایس او کے حمایتی ہیں سائیں نے مسکرا کر کہا ، بی ایس او آزادی چاہتا ہے، ہم نے نادانی میں کہا نہیں آزادی نہیں بلکہ پنجابیوں کو نکالنا چاہتی ہیں ۔اس وقت واحد آریسر نے کہا ، پنجابی تو پاکستان ہیں ۔
سائیں آج جسمانی طور پر ہم میں نہیں لیکن سائیں کا فلسفہ آزادی پر اب بھی سندھی عوام کا مکمل ایمان ہیں ۔آج بھی سندھی دھرتی کے ہزاروں عاشقانہ آزادی سندھو دریا کے کنارے پر واقع سن شہر میں ایک تاریخ ساز شخصیت، سندھ کے رہبر سائیں جی ایم سید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال جاتے ہیں ۔
بس افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب سائیں جی ایم سید کا آستانہ حیدر منزل اس کاروباری دوڑ کے زد میں آکر فنا ھوگیا۔
سائیں شیخ ایاز نے کیا خوب کہا تھا۔
میرے دیدہ ورو، میرے دانشورو
پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو
راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو
رود کش نیک و بد کتنے کوتاہ قد
سر میں بادل لیئے ہین تہیہ کئے
بارش زہر کا اک نئے قہر کا
ایک فرعون کیا لاکھ فرعون ہو
ڈوب ہی جائیں گے، ڈوب ہی جائیں گے















