دنیا کے کسی بھی حصے میں قا بض کی قبضہ گیریت کے خلاف جب بھی کسی محکوم قوم نے اپنی آزادی، غیرت ،اور قومی شناخت کیلئے مزاحمت کی ہے۔شروع میں دشمن نے اپنی ریاستی طاقت کے غرور میں مبتلا ھوکر محکوم کی اس مزاحمت کو معمولی اور غیر اھم سمجھ کر محدود پیمانے پر دبانے کی کوشش کی ہے۔ آگے چل کر قومی مزاحمت میں عوامی طاقت سے جب شدت لائی گئی ہے ۔اور قوموں کی مزاحمت دشمن ریاست کے دبانے سے جب دب نہ سکی ہے۔ اور مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ تو دشمن نے ہمیشہ پینترے بدلے ہیں۔ خصوصا نہ دبنے پر بلوچ کے دشمن بزدل اور مکار پنجابی نے حالات کی نزاکت کو بھانپ کر فورا مکاری سے مختلف اوقات میں مختلف پینترے بدل کر اپنی نئی حکمت عملی بناتی رہی ہے۔اور ہمیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہچانے عوام سے دور رکھنے کیلئے نئی ترکیبیں اپنانے کی کوشش کی ہے۔بلوچ آزادی پسند سیاسی کارکنوں کو پنجابی نے اپنے ٹارچر سیلوں میں بد ترین غیر انسانی اذیتیں دے کر شہید کر کے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پیھنکا یے۔دشمن کی اس بربریت سے عوام کسی حد تک دشمن سے خوف زدہ اور نفرت میں مبتلا ہوگئے۔دوسری طرف ایک ہماری ہی حکمت عملی ہے۔ کہ جس کو پرانے سانیو Sanyo ٹیپ کی طرح ہم بدلنے کا سوچتے بھی نہیں۔ قومی آزادی کی تحریک چونکہ منظم عوامی طاقت ہی کی بدولت سے فیصلہ کن موڑ پر پہنچایا جاسکتا ہے۔
آج ہماری بحث کا موضوع ” بلوچ کی سادگی اور پنجابی کی مکاری” سرنڈر کے تناظر میں ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے آپ تمام وطن دوست سیاسی کارکنوں نے غور کیا ہوگا کہ بلوچ کی قومی آزادی کی تحریک کو اس طرح سے ختم کرنے کی پنجابی نے کوشش کی ہے کہ اس کا جانی مالی نقصان کم ہو۔اور بلوچ عوام کے دلوں میں پنجابی کیلئے نفرت سے بھی بچا جائے۔اس حوالے سے پنجابی نے ہمارے بہت سے مسلح آزادی پسندوں کو دھوکہ دے کر انھیں اپنی جھال میں پھنسانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔اور ہمارے بہت سے مسلح جہد کار اپنی سادگی کی وجہ سے اپنی جان تک گنوا بیٹھے۔ دشمن نے انہیں غیر مسلح کر کے ان کی عزت کو عوام کی نظروں میں خاک میں ملایا۔موقعہ پاکر پنجابی نے اپنا بدلہ دوسری شکل میں لے کران کی جان کو بھی نہ بخشا کر ۔انہیں کسی دوسری کاروائی کی شکل میں جان سے مار دیا۔
اب آئیے اپ سیاسی وطن دوست کارکنوں کو پنجابی کی اس بلوچ دشمنی کی ماضی قریب سے لے کر حال تک کی اس ذہنیت سے واقف کرائیں۔
گوریلا حکمت عملی اور جنگ کے حوالے سے بلوچستان کے سنگلاخ ،خشک،تہہ درتہہ اور موسمی حوالے سے سخت پہاڑی سلسلے میں پہنچ کر بلوچ گوریلا سے پنجابی فوج کا جنگ کرناانتہائی مشکل اور بعض جگہوں پر ناممکن سا لگتا ھے۔آج جب کوئی اسے عسکری زاویہ نظر سے دیکھے۔تو اسے سمجھ آئے گاکہ بلوچ کی طاقت کیا ہے۔ اور اسے کہاں کیا مواقع حاصل ہیں؟ دشمن کی کہاں سے کیا کمزوریاں ہیں؟
اب اگر کوئی اسے سطحی نظر سے دیکھےتو وہ پاکستان کی تیز رفتار جیٹ جہاز،ٹینک،زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل،ایٹمی ہتھیار وغیرہ کو دیکھ کر اپنی طاقت کو سطحی نظر سے دیکھے گا، اور گوریلا حکمت عملی کو نظر انداز کرکے صرف دشمن کی ظاہری شکل و طاقت کو دیکھ کر اس کی کمزوریوں کو چھوڑ کر کوئی درست نتیجہ اور تجزیہ پر نہیں پہنچ سکے گا۔جب آپ اسے ایک فوجی نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرینگے۔تو آپ ایک درست نقطہ پر پہنچ سکتے ہیں۔
کوئی بھی قومی جدوجہد آزادی کی تحریک ہو عالمی حمایت و کمک سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔لیکن میرے خیال میں کسی بھی قوم کے جہد آزادی کیلئے سب سے اول اس قوم کی عوامی حمایت و عملی مدد اور ثانوی اس قوم کی جغرافیائی اہمیت اور پہاڑی سلسلے کا ہونا ہے۔جب ہم اس دو نقطہ کی اہمیت کو خیال میں رکھیں۔تو ہم بھی دشمن کی طاقت و کمزوری اور اپنی دستیاب قوت و مواقع کی اہمیت کو سمجھ کر اپنے جہد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔اس وقت دشمن پنجابی کی سب سے اہم حکمت عملی یہی چل رہی ہے۔کہ بلوچ قوم اور وطن کی نگہبان مسلح تنظیموں کا نام استعمال کر کے اپنے میڈیا میں کچھ بکاو مال جیسے لوگوں کو” سرنڈر” کے نام پر مسلح تنظیموں سے الگ کرکے عوام میں بد اعتمادی اور مایوسی پیدا کرے ۔بلوچ کی دشمن ر یاست جہد آزادی کو کاونٹر کرنے کیلئے تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ بکاو مال کی سرنڈر پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے۔کیونکہ اس حکمت عملی سے اسے اپنے کرایہ کے فوج کی جانی و مالی نقصان کم اور فائدہ زیادہ میسر ہوتا ہے۔ اور اس سے ہنجابی کو ہمارے خلاف عالمی اور قومی سطح پر پروپیگنڈا کے زیادہ سے زیادہ مواقع بھی حاصل ہورہے ییں۔
آئیے اس مکار ، فراڈی ، بد عہد پنجابی کی مزاج اور ماضی قریب کے حکمت عملیوں کا ایک گہری نظر سے جائزہ لیں۔تاکہ وہ بکاو مال جو بھک گئے یا وہ بد بخت بکاو مال لوگ جن کی پاوں میں کافی عرصے سے لغزش نظر آریی ہے۔ اور وہ ابھی سے بکھنے کی تیاری کا سوچ کر موقع کی تلاش و وقت کے انتظار میں ہیں۔قومی جہد میں شامل تمام لوگ اپنے اور دوسرے کے گردوپیش کا جائزہ لیں کہ دشمن کی اس مکارانہ حکمت عملی کے سامنےکیسے بندھ باندھا جائے۔؟
اور اپنی قوم کے لوگوں کو ماضی میں اپنی قوم کی سادہ مزاجی دشمن کی نیت ،ارادہ،مکارانہ مزاج،اور بد عہدی کی 68 سالہ تاریخ کا ایک جائزہ پیش کریں۔اور ہم سب کو آ نے والے دنوں سے آگہی ہو۔ہوشمند قوموں کیلئے تاریخ صرف کوئی قصہ کہانی نہیں ہوتی بلکہ ایک سبق ہوتی ہے۔اور ہم میں سے اکثر نے تاریخ کو یا تو پڑھا ہی نہیں۔اگر پڑھا تو اس سے اپنی خامی و کمزوریوں کا جائزہ نہیں لے سکے۔جب جائزہ نہیں لے سکے تو قومی نقصان سے بچنا حالات کو اپنے قوم کے حق میں رخ دینا ثانوی بات ہوگی۔
جب برطانوی انگریز سامراج نے بلوچ وطن پر شب خون مار کر اسے تقسیم کرکے تین حصوں میں بانٹ دیا۔اور اس دور کے سامراج برطانیہ کا سب سے بڑا جرم یہ ہوا۔کہ انھوں نے بلوچ وحدت کو مختلف اکائیوں میں تقسیم کرنے کے بعد غیر فطری بدمعاش ریاست پاکستان کو ایک عملی شکل دی۔پاکستان نے جب بلوچ ریاست پر قبضہ کیا تو اس کے خلاف آغا عبدالکریم خان نے محدود اور غیر منظم طاقت سے مسلح بغاوت شروع کی۔تب بلوچ کی جغرافیہ،آنے والے دنوں میں عوامی حمایت سے دشمن نے اپنی جانی نقصان سے خوف زدہ ہوکر بلوچ کی اس غیرمنظم اور محدود لیکن انتہائی اہمیت والے مزاحمت کو بھی فوجی طاقت سے ختم نہ کرسکا۔بلکہ ہماری سادہ مزاجی کا فائدہ اٹھا کر قران پاک کا واسطہ دے کر اس مسلح مزاحمت میں شامل جہد کاروں کو دھوکہ سے غیر مسلح کردیا۔
بلوچ قوم کی قومی ریاست کی بحالی و قابض کی قبضہ گیریت ابھی تک نہیں ختم نہیں ہوئی۔بلوچ اسی طرح آج بھی مسلح مزاحمت کررہاہے۔اور دشمن اس کو کاونٹر کرنے کیلئے بھی اپنے پرانے طریقے کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔
قارئین کرام اس درمیان میں سب سے اہم سوچنے والی نقطہ یہ ہے کہ بلوچ اور پنجابی کے اس درمیان والے دور میں کس نے کیا کھویا کیا پایا۔؟ آئیے اس کا ایک جائزہ لیں۔
اپنی قومی آزادی کو حاصل کرنے اور پنجابی دشمن کی قبضہ گیریت کو ختم کرنے کیلئے ایک اور مزاحمت نواب نوروز خان کی قیادت میں شروعات کی۔سابقہ کی طرح یہ دور بھی محدود، غیر منظم اور بغیر تنظیم کے شروع ہوئی اور اسی طرح ختم ہوئی۔پنجابی نے درج بالا اپنے مکارانہ حکمت عملی کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اس دور کے جہد میں شامل جہد کار نواب نوروز خان کی قیادت میں شامل جہد کار سبزل خان زرکزئی،بٹے خان زرکزئی،جمال خان نیچاری،بہاول خان،مستی خان،ولی محمد زرکزئی،میر ساول خان موسیانی،ان تمام کو قران پاک کا واسطہ دے کر دشمن نے اپنے نمائندہ کے ذریعے ان سے مزاکرات اور قران کی ضمانت پر شروع میں ان کو غیر مسلح کروایا۔بعد میں ان سب کو پھانسی دی۔ اس دور سے لے کر آج تک بلوچ عوام کے دلوں میں پنجابی کی اس بد عہدی ظلم و ناروا سلوک کو بلوچ قوم نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔
پنجابی دشمن نے حالات کی نزاکت کو فورا سمجھ لیا۔اور اپنی مکارانہ چال سے پینترا تبدیل کیا۔بعد میں جب بھی کسی مسلح مزاحمت کار کو دشمن نے سرنڈر یا غیر مسلح کروایا۔تو ماضی کی اپنی غطی کو نہیں دہرایا۔بلکہ اپنے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو براہ اراست نہیں کسی دوسرے طریقے سے قتل کروایا۔مثلا روڈ ایکسیڈنٹ،قبائلی جنگ، یا زہر دے کر جان سے مار دینا۔اور اپنا انتقام لینا۔
ماضی کے ہتھیار پینکھنے والے کبھی تو بلواسطہ یا بلاواسطہ جان سے ماردیئے گئے۔اس دوران جو بچ گئے ۔پنجابی نے کچھ سے اپنے لئے مخبری کا کام لیا۔اور باقی کو مار دیا۔اس دوران جو بچ گئے ۔ان کو پنجابی نے عوام کی نظروں میں ذلیل کروادیا۔یوں کہیے کہ وہ زندہ لاش بن گئے۔
نوروز خان کی مزاحمت کے بعد ایک اور مزاحمت 1973 کے دوران شروع ہوئی۔جس میں بعض معلوم نامعلوم کرداروں نے حصہ لیا۔اس دور میں بھی جہد میں شامل کردار اس جہد کو کامیابی کے منازل تک پہچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اور غیر تنظیمی و منظم ادارہ نہ ہونے کے باعث ان کی مزاحمت دم تھوڑ گئی۔بعض نے اعلانیہ اور کچھ نے غیر اعلانیہ مسلح مزاحمت سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔لیکن دشمن پنجابی کو زیادہ تر مسلح مزاحمت کاروں کا علم ہوچکا تھا کہ کون کون ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔ان میں اسلم۔جان گچکی اور نورا محمد حسنی کا کردار مسلح مزاحمت کاری میں شامل تھا۔یہ لوگ جب مسلح جنگ کو داخلی کمزوریوں کی وجہ سے زیادہ دیر تک قائم نہ رکھ سکے۔اور دوبارہ شہری زندگی گزارنے لگے۔ایک دفعہ اسلم جان گچکی نے نوشکی کے جلسہ عام میں اپنے خیالات و ارادے کا ذکر تمام لوگوں کے سامنے کیا۔”کہ اب وقت کا تقاضہ ہےکہ اپنے اپنے پرانے ڈھاڈری ہتھیاروں کو دوبارہ سنبھالیں”
ہماری سادگی کہیے یا یادداشت کی کمزوری کہ دشمن کی دشمنی کو جلد یا دیر بھول جاتے ہیں۔لیکن ہمارا دشمن ہی اہیسا یے کہ وہ اپنی دشمن کو نہیں بھولتا۔البتہ ہماری ایک قومی بدبختی ابھی تک باقی ہےکہ قبائلی اور خاندانی جنگوں میں اپنے بھائی اور خونی رشتوں میں دشمنی کو نہیں بھولتےپنجابی ریاست نے وقت و حالات کو موضوں مناسب بنانے کیلئے ان کو کچھ وقت کیلئے موقع دیا۔تاکہ ان کو آسانی سے نشانہ بنایا جاسکے۔اور عوامی نفرت سے بھی ریاست کو بچایا جاسکے۔اس دفعہ پنجابی نے بلوچ دشمنی میں اپنے ماضی کی طریقہ واردات اور انتقام کو بدل دیا اور اپنے کرایہ کے قاتل سنڈیمنی اور جان جیکب کی تفویض کردہ سردار علی حیدر محمد حسنی کے ذریعے اسلم جان گچکی اور نورمحمد محمد حسنی کو قبائلی دشمنی کی آڑ میں شہید کروا کر ریاست نے اپنا انتقام لے لیا۔اس دفعہ وہ اپنے ماضی کے برعکس طریقہ واردات و انتقام میں کسی حد تک کامیاب ہوا۔کیونکہ لوگوں کی ذہنوں کے پیچھے یہ صرف ایک قبائلی دشمنی تھا۔لیکن ہم ہر گز پس پردہ کرداروں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔یہ خالصتا پنجابی ریاست کا ایک نئے طریقے سےانتقام تھا۔
اس کےعلاوہ بہت سے معلوم و نامعلوم مسلح سے غیر مسلح ہونے والوں کو اسی طرح پنجابی نے قتل کروایا۔اگر کچھ بچ بھی گئے تو ان میں سے کچھ لوگ سرکار کی نمک حلالی کرریے ہیں۔یا وہ آنے والے دنوں میں نئے طریقوں سے مختلف وارداتوں میں قتل کئے جاسکتے ہیں۔اورحال ہی میں جو نے سرنڈر ہوئے ہیں ۔ابھی بلوچ کی جو مزاحمتی قوت باقی ہے۔دشمن اسی طاقت و خوف کی وجہ سے ان پر ابھی تک ہاتھ نہیں ڈال رہا۔آج قوم کی یہ کوشش ہونی چائیے کہ دستیاب مزاحمتی قوت طاقت و توانا رہے۔تاکہ قومی نجات بھی ممکن ہو۔اور ان کی جان بھی بچا رہے۔ورنہ کسی بھی وقت اور طریقے سے آنےوالوں کی باری آسکتی ہے۔
ماضی میں مسلح کے بعد غیر مسلح ہونے والے شاہستہ خان مینگل،نورالدین مینگل،میر اصغر خان مینگل سے پنجابی نے اپنا انتقام قبائلی دشمنی کے ذریعئےکیسے لے لیا؟محمد انور ایڈوکیٹ کو ان کے ایک قریبی رشتہ دار کے ذریعے زہر دے کر قتل کیا گیا۔یہ پنجابی انتقام کا ایک نیا طریقہ واردات تھا۔
ابھی کچھ عرصے ہی کی بات ہے کہ میر ہزار خان ساسولی ،درخان مری،دولت خان محمد حسنی قائم خان بگٹی، سفرخان مری،شہزاد نیچاری،نہال خان بگٹی،میرجان بلوچ،خانحمد مری،کریم بخش بگٹی اپنے کسی کام کے سلسلے میں جب سرلٹھ پہنچے تو وہاں خدا کے نام پر نام نہاد مذہب کی جنگ اور پنجابی کےکرایہ کے قاتل افغان طالبان سے ان کا آمنا سامنا ہوا۔ ہمارے سادہ لوح لوگوں نے ان طالبان کے بہکاوے میں آکر غیر مسلح ہوئے۔بعد میں طالبان نے ان سب کو پیسوں کے بدلے آئی -ایس – آئی کے حوالے کیا۔کم از کم 2 سال گزرنے کے بعد اب تک ان سب کی خیریت کا تاحال کچھ پتہ نہیں۔ اس کے علاوہ سبی کے گاوں” تلی ” سے مری قبیلے کے ایک نامی گرامی معتبر ملک توکل جھٹیانی مری جو کہ شروع میں جنگ آزادی میں شامل تھا۔لیکن بعد میں دشمن کے لالچ و خوف کے بہکاوے میں آکر 2006 میں غیر مسلح اور سرنڈر ہوا تھا۔ چھ 6 مہینے اس قبائلی رہنما نے اپنی نارمل زندگی گزاری۔ سرکار نے اسے اپنی حفاظت کیلئے ظاہری طور پر مسلح ہونے کی اجازت دی تھی۔لیکن اس کے بعد ماضی کی طرح پنجابی نے اس سے اپنا انتقام لے کر اسے ہمیشہ کیلئے غائب کیا۔اور آج تک اس کا کچھ اتا پتہ نہیں۔
اس کے علاوہ شہید سفر خان کے ساتھی شہید نظر محمد شہی بلوچ دشمن کے بہکاوے میں آکر کوئٹہ چھاونی میں پنجابی کے سامنے غیر مسلح ہوا تھا۔لیکن ہماری سادگی کو دیکھئے کہ انہوں نے وہاں فوجی کینٹ میں فوجی عہدیدار کے سامنے واضع الفاظ میں کہا تھا۔کہ آج ہم اپنے کچھ داخلی کمزوریوں اور آپ کے ظلم و بربریت کی وجہ سے غیر مسلح ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔لیکن آزادی بلوچ قوم کا اصولی حق بنتا ہے۔اپنے دل کی بات کو دشمن کے سامنے صاف بیان کردی نے کے بعد جب وہاں سے نکلے اور دوسرے ہی دن لاہتہ ہوئے اور آج تک غائب ہیں۔
پنجابی آج ان سادہ لوح و بدبخت لوگوں کو پہلے مرحلے پر تو غیر مسلح کرنے میں لگا ہوا ہے۔سب سے پہلے بلوچ قوم کے سامنے ان کو بے عزت و بے آبرو کرتا ہے۔اس کے بعد ان کو ایک ایک کرکے مختلف بہانوں قبائلی دشمنیوں کی آڑ،زھر خورانی،روڈایکسیڈنٹ،اور نامعلوم طریقے سے گرفتار کرکے ہمیشہ کیلئے اس طرح غائب کرے گا جیسے موجودہ بیس ہزار بلوچ اسیران کو غائب کرکے اپنی مرضی کے مطابق کسی کو قتل کرکے اس کی لاش کو ویرانے میں پینکھ دیتا ہے۔
یہ ہوئی پنجابی کی مزاج،عادت،اور دشمنی و انتقام۔
آج ان غیر مسلح لوگوں کو اس بات پر بھی غوروفکر کرنا چائیے کہ موجودہ جنگ آزدی میں قریبا سولہ سالوں میں بلوچ مسلح آزادی پسندوں نے بے شمار مخبر و غداروں کو ہلاک کیا ہے۔اب کیا ان مخبرو کی خاندان والے اپنے انتقام کو بھول گئے ہیں؟آج یہ غیر مسلح لوگ تو ان کیلئے سافٹ و آسانی سے ٹارگٹ پر ہونگے۔کچھ وقت پہلے آپ تمام سیاسی کارکنوں نے میڈیا کے ذریعئے پنجابی آئی- ایس- آئی کے نمک حلال اور بلوچ قومی غدار سراج رئیسانی کے اس بیان کو پڑھا ہوگا۔جس میں اس نے واضع الفاظ میں ان ہتیھار پیھنکنے والوں کو دھمکی دے کر کہتاھے کہ جن لوگوں نے پاکستان کے خلاف ہتیھار اٹھائے تھے۔مرد ہتیھار اٹھاتانہیں۔اور جو ہتیھار اٹھانے کے بعد ہتیھار پیھنک دے وہ مرد نہیں۔ہم انہیں کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ہر صورت اپنا بدلہ قبائلی حوالے سے لینگے۔اب ہر کوئی اندازہ کرلے کہ آج تک وہ اپنے باپ غوث بخش رئیسانی جو کہ بلوچ قبائلی دشمنیوں کو زیادہ کرنے والے پنجابی کے انتخابات کی وجہ سے قبائلی جنگ میں مارے گئے۔25 پچیس سال گزرنے کے بعد آج تک بدلہ نہیں لے سکے۔لیکن بلوچ قومی آزادی کے جنگ میں شامل پہلے ہتیھار اٹھانے اور اب ہتیھار پیھنکنے والوں کو میڈیا میں پریس کانفرنس کے ذریعے ابھی سے براہ راست کھلم کھلا جان سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔کیونکہ یہ سب کچھ ان سے پنجابی آئی-ایس-آئی کروا رہی ہے۔
جس نے جیسے بھی غلطی سے ہتیھار پیھنکا یے۔وہ اپنے اس عمل کا سوچے۔اور آج اگر کوئی دوسرا ہتیھار پیھنکنے اور پنجابی کے جال میں پھنسنے کی سوچ رہا یے وہ بھی پنجابی کے ماضی کے کردار کا جائزہ لے۔کہ اس کا انتقام کب کیسا ہوگا۔؟قومی آزادی کے جنگ میں واپسی کے تمام دروازے اس دن سے بند ہو چکے ہیں۔جس دن آزادی وطن کے پہلے شہید نے اپنی خون سے پنجابی اور بلوچ کے درمیان ایک سرخ لکیر کیھنچ لی۔اب تو یہ سرخ لکیر اور مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔اس سرخ لکیر کو کراس کرنا ناممکن ہے۔راستہ ایک ہی یے اور وہ ہے۔بلوچ قومی جنگ آزادی کو پنجابی کے ساتھ فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنا۔اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔!
تمام قوم اور خصوصا آزادی پسند سیاسی کارکنوں کو پنجابی کی اس مکارانہ ذہنیت اور انتقامی ذہنیت سے بیگانہ نہیں ہوناچائئے۔ورنہ ماضی کی طرح ایک ایک کرکے پنجابی اپنی انتقام لیتا رہئیگا۔اور ہمارے پاس افسوز کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ماضی کے ان بے متزکرہ سیاسی کارکنوں کے علاوہ بھی بہت سے معلوم نامعلوم سیاسی کارکن اسی عمل سے گزرے ہونگے۔جو کہ ہمارے علم میں نہیں۔مگر بیشتر کو پنجابی ناگ نے خاموشی سے اسی طرح ڈھس لیا ہے۔اور ہم لاشیں اٹھاتے رہے۔آج بلوچ سیاسی حلقوں کے ذمہ دار پنجابی انتقام کی سدباب کا سوچ کر حکمت عملی بنائیں۔ تاکہ وسیع قومی نقصان کا سدباب ہوسکے۔ورنہ وقت،قوم اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرےگا۔
پنجابی کی وعدہ خلافی،مکارانہ ذہنیت کیلئے ہمارے پاس سب سے بڑا ثبوت اور مثال یہ ہے کہ جب بلوچ کی ریاست پر قبضہ گیریت کے خلاف آغا عبدالکریم کو افغانستان میں اپنی وطن کی آزادی اور دشمن سے لڑنے کی خاطر امداد نہ ملنے پر مجبورا واپس قلات جاناپڑا۔اور آغا عبدالکریم کا اپنے 142 ساتھیوں کے ساتھ پنجابی سے مقدس اسلامی کتاب قران مجید پر مشروط معاہدہ ہوا۔لیکن پنجابی فوج نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آغا کی پارٹی کے142 اراکین پر حملہ کردیا۔خود اس پر10سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے عائد کئے گئے۔اور ان کی پارٹی کے دوسرے ساتھیوں کو مختلف سزائیں اور تکلیفیں دی گئی۔ظالم اور مظلوم کے درمیان مزاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے۔جب تک مظلوم اپنے قومی طاقت کو منظم کرکے دشمن کے ساتھ مظلوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک طاقت ور فریق کی حیثیت سے اس کے ساتھ اس کی زبان میں بات کرے گا۔بلوچ اپنے آباواجداد کے مزاحمتی تاریخ کو ہر گز نہیں بھولے ہیں۔یہ کیسا ممکن ہےکہ ہم اپنی قومی تاریخ میں بہادری اور شجاعت کو چھوڑ کر ایک ایسے بدتہزیب بزدل مکار دشمن کے سامنے سرنڈر کریں۔جو خود اپنی ریاستی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی 1973 میں محکوم اور بے بس بنگالی قوم کے آزادی کی جنگ میں جنرل ٹکاخان کی سربراہی میں اپنی 90،000 فوج کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑی سرنڈر کی۔ پنجابی ریاستی فوج کی اس سے بڑی ہزیمت اور کیا ہوسکتی ہے۔؟
یہ بلوچ قوم کی آزادی کی جنگ ہے۔اور بلوچ ہی اسے جیت جائے گا۔بس صرف وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی قوم کے نوجوانوں کو منظم کرکے ایک طاقت کو منظم کرنا ہے۔پنجابی فوج مکار ضرور ہے۔لیکن بہادر ہرگز نہیں۔!بلوچ آج پنجابی کی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسی اور عالمی گیم چینجنگ کی صورتحال کی اہمیت ،اپنی بہترین جغرافیہ اور قوم کی افرادی طاقت کی اہمیت کو جانے۔آج بلوچ صبر و استقامت کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو جاری رکھا ہوا ہے ۔دشمن کی سب سے بڑی کوشش یہی ہےکہ سرنڈر کے موضوع کو میڈیا میں نمایاں کرکے قوم کو دھوکہ کے ساتھ بے حوصلہ کرکے انہیں ناامید کرکے بلوچ کی جیتی بازی کو ہار میں تبدیل کرکے حالات کو اپنے حق میں تبدیل کردے۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ ہم اپنے شہیدوں کی خون کی بدل جوکہ آزاد بلوچ قومی وطن کی تشکیل ہے۔ ہر صورت قومی اتفاق اور حوصلے کے ساتھ اس جنگ کو جیتنا ہے۔تاکہ بلوچ کی قومی شناخت اپنی قومی بیرک کے ساتھ دنیا کے نقشے پر سامنے آئے۔