بولان کے بیٹوں نے ہر صبح ہر شام ہر وقت ہر لمحہ دشمن پر کاری ضرب لگایا وہ خوف جو بولان کے بہادر سرمچاروں نے دشمن کے آنکھوں میں ڈالا وہ خوف آج ہر شہر ہر بستی ہر گلی میں دشمن کو ذہنی طور پر کھوکھلا کر بیٹھا ہںے جو آج کی دور قابض فوج ہر جگہ شکست کھا چکا ہے جو کہ اپنے ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ پر جانے کےلئے فورسز کو ہر پہاڑ ہر موڑ میں مورچہ زن ھو کر آگئے پڑنا پڑتا ہے اکثر تو بلوچ سرمچار کے ہاتھوں میں ڈھیر کر دیئے جاتے ہیں بلوچستان کے علاقوں میں فوج کو اپنے راشن لیجانے کےلئے ہیلی کاپٹر اور ڈرون کا مدد لینا پڑتا ہیں
12 ستمبر کے شام ساتھیوں میں شہید کمانڈر قادر بخش عرف انجیر شہید کمانڈو محمد گل عرف وحید بلوچ شہید شفو سمالانی عرف تادین شہید تاج محمد عرف بابل شہید عبید عرف فدا گوادری شہید صمد خان عرف دوستین بلوچ ایک میش کےلئے بولان کے پہاڑوں سے روانہ ھو گئے تھے جو کہ ہرنائی کے میں کشت کر رہے تھے اور دشمن کے دل میں ہر لمحہ خوف تاری ھوتا رہا ہںے
شہید کمانڈر قادر بخش وطن ئے پاسباں
شہید کمانڈر قادر بخش آپ 2014 میں بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے اپنی جہد کا آغاز کی تو اس وقت کاہان کے اوتاک میں تھے آپ بلوچ قوم کی جہد میں ایک عظیم سرمچار تھے آپ کے خاندان نے بہت قربانیاں بھی دی آپ کے چاچا شہید کمانڈر صحبت خان مری اور آپ کی بھائی شہید جمیل بھی کاہان میں ایک ڈرون حملہ میں شہید ھو گئے تھے اس کے باوجود آپ کو قابض ریاست کے اہلکاروں کی طرف سے دھمکیاں بھی دی گئی تھی پر بھی آپ نے اپنے قومی جہد میں ایسا کردار ادا کیا جو کہ شاید میں بیان نہیں کر پائو گا
شہید کمانڈر قادر بخش آپ کی خاندان بھی آج ایک دربدری کی زندگی گزار رہی ہیں جو کے آپ نے کاہان بمبور اور بولان میں اپنی جہد مسلسل جاری رکھا اور اپنی قومی جہدکاروں ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ دشمن پر ایسے حملے کئی جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور آپ خود راکٹ فائر میں ایک نشانہ پر ٹک لگاتے تھے اور آپ جنگی صلاحیتوں سے ایک گوریلا کمانڈر تھے
شہید کمانڈر قادر بخش ایک دلیر اور بہادر سرمچار تھے آپ سے میرا ملاقات 2021 جولائی میں ھوا تو اس وقت کمانڈر قادر بخش اور ساتھیوں کے ساتھ کشت پر تھے تو شہید کے ساتھ ایک راکٹ 4 گولا کے ساتھ تھا جب سفر شروع ھوا تو میں شہید قادر بخش کے ساتھ روانہ ھوا راستے میں ہم چل رہے تھے بارش شروع ھوا ندی میں پانی زیادہ ھو گیا جس کی وہ سے ساتھیوں کو روکنا پڑا تو سب ساتھی سفر کر کے تھک گئے تھے تو تھوڑی دیر آرام کرنے کےلئے بیٹھ گئے تھے تو ایک ساتھی پہاڑی پر بیٹھے کر دروبیں کر رہا تھا تو اس نے آواز دیا کے ہیلی کاپٹر آرہا ہںے تو شہید نے کہا آج اگر ہیلی کاپٹر آ گیا تو میں راکٹ فائر کرو گا لیکن ہیلی کاپٹر بہت دور سے گزر گیا تھا
شہید کمانڈر قادر بخش بہت محنتی اور مخلص ساتھی تھے اور دشمن کی خلاف ہر وقت جنگی حکمت عملی اپناتے اور ہر ساتھی کو جنگ کی تربیت دیتے تھے اور دشمن پر حملہ کرنے کےلئے گوریلا جنگ کی طریقہ بتاتے تھےاور خود بھی دشمن پر کاری ضرب لگاتے تھے
جو کے آپ ایک خوش مزاج ساتھی تھے آپ ساتھیوں کے ساتھ ہستے اور ہسآتے تھے جو کہ آپ کبھی بھی جذباتی نہیں ھوتے اور نا کبھی جذباتی قدم اٹھاتے تھے جو کہ آپ ایک پختافکر کے وارث تھے آپ نے ہمیشہ تنظیم ڈسپلن کے تحت کام کرتے اور دوسروں کی بھی غیر قانونی کرنے سے روکتے اور تنظیمی ڈسپلن کی ہدایت دیتے تھےاور آپ کبھی بھی کسی ساتھی کو کمزور نہیں سمجھتے تھے بلکہ کمزور ساتھیوں کو کومگ کرتے تھے اور کام کا طریقہ بتاتے تھے
شہید کمانڈو محمد گل عرف وحید بولانی
آپ نے 2021 میں بی ایل اے پلیٹ فارم سے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا آپ اپنے والد کا بڑا بیٹا اور امیدوں کا چراغ تھے آپ نے بولان میں اپنے ہم فکر ساتھیوں کے ساتھ ٹرینگ حاصل کیا تو آپ کمانڈو وحید کے نام سے مشہور ہوئے
آپ بہت محنت کے ساتھ ہر کام کو کرتے تھے جیسا کے مین کاری ڈیوٹی لکڑی جمع کرنا دشمن پر نظر رکھانا ھو یا کسی کام میں جانا راستہ کلیر کرنا آپ ایس کاموں میں سر فہرست تھے
آپ جب چھوٹے تھے تو آپ کا خاندان جلا وطن ھو گیا جس کی وجہ سے ذلّت کا زندگی گزارنا پڑا آپ نے تعلیم تو حاصل نہیں کیا لیکن آپ ایک سمجھ دار اور ہونہار سپاہی تھے آپ نے قومی جہد میں ہمیشہ ایمانداری کیا اور آپ کے خاندان میں شہید فدائی درویش شہید کل محمد شہید چاکر بولانی اور شہید غلام رسول نے مارد ئے وطن پر خود کو قربان کردیا
آپ نے بولان اور کوہ ڈونگان کے محاذوں میں قومی جہد کے فرائض سرانجام دے اور آپ جب ساتھیوں کے ساتھ سفر میں چلتے تھے تو آپ پیدل سفر کرنے میں کبھی بھی تھکتے نہیں اور ہمیشہ جب کوئی ساتھی بیمار ھوتا یا پر تھک جاتا تو آپ سب سامان اٹھاتے تھے
آپ ایک بات ہمیشہ کہتے تھے جب ہمارا ایمان مضبوط ھو ہمارا قوم فکری طور پر تیار ھو تو دشمن کتنا بھی طاقتور ھو وہ ٹوٹ سکتا ہںے
شہید شفو سمالانی عرف تادین
آپ نے بولان کاہان سبی اور کوہ ڈونگان کے محاذوں میں خدمت سرانجام دے آپ کا تعلق غربوغ سے تھا آپ ایک غریب فیملی سے تعلق رکھے تھے آپ ایک بہادر اور محنتی ساتھی تھے آپ ہر کام میں ماہر تھے جیسا کہ پہاڑوں میں غار بنانا جھونپڑی بنانا بکری لانا اور ذبیحہ کرنا راستہ ڈھونڈ نا وغیرہ
آپ خوش مزاج دوست بھی جو ہر ساتھی کے ساتھ مذاک کرتے اور ساتھیوں کو مسکراتے رہتے تھے لیکن آپ ساتھیوں کو ہمیشہ لیکچر دیتے اور کام سکھاتے رہتے تھے
شہید تاج محمد عرف بابل
آپ کا تعلق بولان پل کوڑی سے تھا آپ کہ فیملی نے بہت قربانی دیا آپ کا بھائی لال محمد چاچا کمانڈر نادر عرف ماما گونڈو اور شہید قادر بلوچ نے وطن والوں کےلئے خود کو قربان کیا جوکہ ہمیشہ بلوچ قوم یاد رکھے گا اور دشمن کو بھی یاد دلاتے رہے گئے آپ نے بولان کے سرد چوٹیوں میں بیٹھتے کر دشمن کا مقابلہ کیا اور آج ہر نوجوان اس قدم کو خوشی سے اٹھاتا ہںے وہ جانتے ہںے کے ہمارا وطن ایک دن ضرور آزاد ھوگا اور آزادی کی جنگ میں قربانی دینا پڑتا ہںے
شہید عبید عرف فدا گوادری
آپ نے 2024 میں بولان کے پہاڑوں سے اپنے جہد کا آغاز کیا وہ جہد جس کےلئے ہر نوجوان نے اپنا جان ہتھیلی پر لئے کر سر پر کفن باندھ کر ہر میدان ہر علاقہ اور ہر بستی میں دشمن کا مقابلہ کیا شہید بالاچ مری کہتے تھے دشمن کے خلاف جنگ لڑ سکئے یا نہیں لیکن ہمیں اپنا خون سرزمین کےلئے دینا ھوگا
آپ انتہائی قابل سرمچار تھے ایک سال میں بہت محنت کیا اور آپ کے دل میں آپ باتوں میں آپ کے جذبات میں وہ محبت تھا جو آج بلوچ قوم کا نعرہ بن چکا ہںے
شہید صمد خان عرف دوستین بلوچ
آپ کا تعلق بولان غربوغ سے تھا آپ ہمیشہ خاموش رہتے تھے لیکن آپ کا خاموشی میں ایک زار چھپا تھا وطن سے محبت دشمن سے نفرت کرتے تھے آپ کے دو بھائی بھی اس جہد میں قربان ھو گئے آپ اپنے دونوں بھائیوں سے چھوٹے تھے لیکن آپ کے حوصلہ مضبوط تھے کہ اپنے وطن اور شہیدوں کا بدلہ لینا ہے
12 ستمبر کو ہرنائی میں آپ سب ساتھی کشت پر تھے ہم چار ساتھی کسی کام سے سفر کر رہے تھے تو حال حوال ھوا ساتھیوں سے دن 4 بجے تھا خبر ملی کے رات 4 بجے ساتھیوں کے اوپر حملہ ھوا ہںے ہم روانہ ھوگئے کسی بڑے پہاڑ کی طرف 7 بجے پہنچ گئے سارا رات رابطہ کھولا کوئی نہ ملا صبح سویرے 3 ساتھی روانہ ھو گئے شہید ساتھیوں کے طرف ہم بہت دور تھے دشمن فوج نے 4 بجے ڈرون اور جیٹ کے ذریعہ بمباری کیا اور بعد میں صبح سات بجے ہیلی کاپٹروں نے چاروں طرف سے پہاڑی کو گھیر لیا ساتھی سے رابطہ ھوتا رہا ہم بھی ساماں اٹھا کر ساتھیوں کے کمک کےلئ روانہ ھوئے ہم سے پہلے 6ساتھی روانہ ھو گئے شہیدوں کی طرف ہمیں اوتاک جانا پڑا تو دوسرے دن 6 بجے رابطہ ھوا فوج واپس ھوچکا ہںے تو تیسرے دن ساتھی 4 بجے وہاں پہنچے جس جگہ ساتھیوں کے اوپر بمباری ھوا وہاں ساتھیوں کے بدن کے ٹکڑے پر تھے سرزمین بارود اور خون سے بھرا ھوا تھا 6 ساتھی شہید ھو گئے ہرنائی علی تل کے مقام پر بعد میں شہیدوں کے قبرستان وہاں بنائے گئے















