یہ سچ ہے کہ بعض تصویریں لفظوں سے کہیں زیادہ گہری، کربناک اور اثرانگیز ہوتی ہیں۔ تصویر بولتی ہے، اور بعض اوقات چیخ چیخ کر سچ کہتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع پنجگور سے آنے والی ایک ایسی ہی تصویر نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ایک کم سن بہن، زویا ظہیر، جو اپنے شہید بھائی ذیشان ظہیر کی قبر پر چادر چڑھاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو نہ صرف ایک بہن کے درد کا اظہار تھے بلکہ پوری بلوچ قوم کے کرب، خوف اور زخم کی نمائندگی بھی کر رہے تھے۔

یہ منظر دو جولائی کو اس وقت پیش آیا جب پنجگور کے علاقے خدابادان، مواچھ بازار میں ذیشان ظہیر کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے پرامن انداز میں احتجاج کیا، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “بلوچ نسل کشی بند کرو” جیسے الفاظ درج تھے۔ ان کے نعرے آسمان چیر رہے تھے، مگر حکومت کان بدستور بہرے تھے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی چھتری تلے سرگرم مسلح گروہوں نے علاقے کا امن تباہ کر دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ نوجوانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ذیشان ظہیر اس ظلم کی تازہ مثال ہے، جو اپنے گھر سے نکلا تھا مگر واپس تابوت میں آیا۔

یہ محض احتجاج نہیں تھا، یہ ایک اجتماعی نوحہ تھا ایک زندہ لاش بنتی ہوئی قوم کا فریاد نامہ، جو شاید اسلام آباد کی بند دیواروں سے ٹکرا کر رہ گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی کال پر ذیشان ظہیر کی یاد میں ایک خاموش واک کا انعقاد بھی کیا گیا، جو مواچھ چوک سے کہور قبرستان تک گئی۔ یہ واک واقعی “خاموش” تھی، لیکن اس کی خاموشی بھی ایک پکار تھی ایک احتجاجی زبان، جو الفاظ کے بغیر بھی سب کچھ کہہ رہی تھی۔ خواتین، بچے، نوجوان، بزرگ، سب ایک درد کی زنجیر میں بندھے تھے۔ قبرستان میں جب ذیشان ظہیر کی قبر پر چادر چڑھائی گئی تو فضا میں عجیب سا سکوت تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔ ہر چہرہ آنسوؤں سے تر، ہر نظر سوالی۔

زویا کے آنسو ہم سے سوال کرتے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک ماہیں بیٹے دفناتی رہیں گی؟ بہنیں بھائیوں کی قبروں پر چادر چڑھاتی رہیں گی؟ کب تک بلوچ نوجوانوں کی لاشیں گلیوں میں ملتی رہیں گی؟ کب تک ہمیں جبر کے خلاف خاموشی کا خراج دینا پڑے گا؟

یہ سوال صرف زویا کا نہیں، یہ ہر اُس بلوچ بچے کا سوال ہے جو جنازوں کے سائے میں پل رہا ہے۔ ہر اُس ماں کا سوال ہے جو روز نیند سے جاگ کر دروازے پر بیٹے کے جوتے دیکھتی ہے۔ ہر اُس قوم کا سوال ہے جسے حق مانگنے پر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔

ریاست اگر واقعی ایک ماں ہے تو پھر کیوں اس کے سوتیلے رویے بلوچستان کے حصے میں آتے ہیں؟ کیوں اس ماں کی آغوش میں صرف زخم ہیں؟ اور اگر یہ زخم بھی جرم بن چکے ہیں تو بلوچ عوام کے پاس صبر کے سوا کیا بچتا ہے؟

یاد رکھیے، تصویر بولتی ہے، اور بعض اوقات چیخ کر تاریخ میں گواہی دیتی ہے۔ زویا ظہیر کی آنکھوں نے وہ چیخ ماضی، حال اور شاید مستقبل کے لیے ثبت کر دی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ اس چیخ کو سنیں، یا یونہی بہرے بن کر ظلم کے ساتھ شریک رہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور سے دو دن پہلے موصول ہونے والی خبر نے مجھے بے قرار کر دیا۔ ذیشان ظہیر بلوچ، ایک جوان، طالب علم اور خوابوں کا مسافر ، اپنے فٹبال گراؤنڈ سے لاپتہ ہوا اور اگلے ہی روز اس کی لاش موت کے ٹھہرے ہوئے سوالات بانٹتی ہوئی ان کی لاش ملی۔ اس قتل نے صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ پورے علاقے کے دلوں کو خون کے آنسو رلائے ہیں۔

کل اخبارات نے پنجاب کی خبروں کو نمایاں کیا، مگر پنجگور کی گلیاں آج بھی ذیشان کے لواحقین کے ندامت زدہ صدف سے گونج رہی ہیں۔

پنجگور میں خاموش واک کے دوران خواتین نے زینتِ قبروں پر پھول چڑھائے، تو مرد حضرات نے دھوپ میں سینے ٹھونک کر لاپتہ افراد کے لواحقین کو طاقت کا احساس دلایا۔

ذیشان کے خون نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ بلوچ قوم کی مظلومیت کو عالمی ضمیر تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اگر واقعی خدمت گار ہے تو اسے فوری تفتیش کرکے قاتلوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ورنہ ذیشان کے قاتل سرِ عام خوف کے سائے میں گھومتے رہیں گے اور پنجگور کی مٹی ان بے گناہ جوانوں کے لہو کی خونی داستان سناتی رہے گی۔