پنجابی پاکستان نے انگریزوں کی ایما پر جب ہندوستان سے جدا ہونے کا منصوبہ بناکر یہ موقف اختیار کیاتھا کہ چونکہ ہندو تعداد میں زیادہ ہیں اور وہ مسلمانوں سے روز گار چھین رہے ہیں لہذا مسلمانوں کو جداگانہ وطن چاہیے۔
لیکن
تہتر(73) سالوں سے پاکستانی مقتدرہ ادارے بلوچ قوم سے افرادی تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث ، وہ بلوچوں کی معیشت، ملازمت چھیننے کے ساتھ ساتھ بلوچوں کی زندگی بھی چھین رہے ہیں تب بھی بلوچ اپنی جداگانہ شناخت کے لئے متحد ہونے میں غفلت برت رہے ہیں۔
ایران اور پاکستان نے بلوچستان کے سینے پر جو عارضی اور جبری بارڈر کی لکیر کھیچ لی ہے وہ اب بلوچوں کی سانسوں کو بھی زندگی سے کاٹ رہا ہے، بلوچ قوم بے بسی،لاچارگی کا شکار اس مصنوعی جبری سرحد کو اکھاڑ پھینکنے کی بجائے دو لیٹر تیل کے ساتھ بھوک و پیاس سے بل بلا کر جان دے رہے ہیں۔
بلوچ قوم کو کب یہ ہوش آئے گا کہ ہر روز قسطوں میں مرنے سے بہتر ہے کہ ایک ساتھ ایک وقت میں مر کر باقی آنے والی نسلوں کو بچایاجا سکے۔
دو لیٹر تیل کے لئےبلوچ بھوک، پیاس سے لڑ کر مر رہے ہیں، ایرانی و پاکستانی بارڈر فورسز کے گولیوں کا سامنا کررہےہیں لیکن بلوچ نے کبھی مڑ کر دیکھا کہ ان کی اپنی سرزمین تیل ، گیس، سونا، تابنا، یورینیم، اور دیگر بیش بہا قومی معدنی دولت سے مالا مال ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بلوچ قیادت قوم کو بچانے کے لئے کردار ادا کرے، میرے دانست میں بلوچ قیادت آپ کو صحیح راستہ دکھا رہا ہےکہ ایران اور پاکستان کی غلامی سے چٹکارا ہی میں ہماری عافیت ہے ، فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔
بنگالیوں نے شیخ مجیب الرحمن کی قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان کو ووٹ دیا، ان کی مدد کی، ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے تب شیخ مجیب الرحمن نے اپنی مخلصانہ کاوشوں سے بنگالی قوم کو ایک باعزت مستقبل دی، انہیں بکنے نہیں دیا، ان کی قربانیوں کی قیمت ایک آزاد بنگلہ دیش کی صورت میں ان کے سپرد کردیا۔ اگر بنگالی قوم شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو شائد شیخ مجیب الرحمن تن تنہا اپنی قابلیت، سے بنگالی قوم کو آزاد نہیں کراسکتا۔۔۔۔اگر بنگالی قوم شیخ مجیب کی طرح مخلص لیڈر کو سامنے لانے کی بجائے کسی پاکستان نواز لیڈر کو سامنے لاتے تو یہ بات سو فیصد طے تھی کہ آج تک بنگالی قوم بلوچوں ، پشتونوں کی طرح غلامی کی چکی میں پس رہا ہوتا۔
لہذا بلوچ قوم کو اپنی بے بسی، لاچارگی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اب فیصلہ کرنا پڑیگا کہ وہ ایران اور پاکستان کی اس مصنوعی لیکر کو اپنی قومی اجتماعی طاقت سے اکھاڑ پھینکیں، گوادر اور چابہار جیسے عالمی طرز کے بندرگاہوں کے مالک بلوچ کو کبھی بھوک و پیاس نہیں ہوگی۔
سونا اگلتا بلوچستان کے باسی پوری دنیا کے امیر ترین اقوام میں سر فہرست ہیں بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ انہیں اٹھنا ہے، چھپ کا روزہ توڑنا ہے۔
اس بات میں دورائے نہیں کہ قومیں جب اپنی کھوئی ہوئی آزادی کے لئے کمر کس لیتے ہیں تو انہیں قربانی دینی پڑیگی، یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم آزادی کے لئے قربانی دی تو آزادی حاصل کرپائیں گے لیکن اگر آزادی کے لئے قربانی نہ بھی دیں تب بھی دشمن اور قابض ہمیں بھوک پیاس ، تنگ دستی، بے روزگاری کا شکار بناکے ویرانوں اور بیابانوں میں مار کر پھینکتا رہیگا۔
اس وقت ایران اور پاکستان کی سرحد پر ہزاروں گاڑی مالکان بے بسی کی عالم میں اس تنظار میں بیٹھے ہیں کہ آسمان سے کوئی ولی، فرشتہ نیچے اترے گا اور ان کے لئے روزگار کا دروازہ کھول دے گا۔
لیکن بھوک، پیاس، اور کسمپرسی کا شکار ان لاکھوں بلوچوں کو یہ احساس نہیں کہ وہ اگر اپنی سرحد بند کردیں ، اور اس غلامانہ نظام کے لئے نفرت کا اظہار کریں تو پاکستان اور ایران کی معشیت کی سانسیں یعقینی رکھ جائیں گے۔
پاکستان کے قابض فوج کا ہر جرنیل اس بات کا برملا اظہار کرچکا ہے کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بلوچستان ہے تو پاکستان ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ بلوچستان کے باسی خود اس بات سے ابتک نا آشنا ہیں کہ بلوچستان نہیں تو پاکستان نہیں دوسرے لفظوں میں اگر بلوچستان پاکستان کی چنگل سے آزادی حاصل کرلیتا ہے تو پاکستان کو دنیا ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔
لہذا ہمیں بلوچستان کو اپنے کنٹرول میں لانا پڑیگا، جب ملک اپنے دسترس میں آئی تو پھر کسی پنجابی اور گجر کو یہ مجال نہیں ہوگا کہ وہ ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین سکے، کسی پنجابی جرنیل کو بلوچستان میں داخل ہونےکے لئے ویزہ درکار ہوگا اور چاہ بہار و گوادر کی سمندر کے ذریعے بین الااقوامی تجارت سے موصول تمام آمدنی بلوچستان کے عوام کی بھلائی ، خوشحالی اور ترقی پر خرچ ہوگا۔
فیصلہ بلوچ قوم نے ہی کرنا ہے، اگر بلوچ عوام نے اپنی اجتماعی بے بسی کا چادر اوڑھے رکھا تو پھر یونہی ہر دن بلوچستان کے کونے کونے میں ایک بلوچ نوجوان، بھوک، پیاس اور دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر موت کا چادر اوڑھ کر سوتا رہیگا اور پنجابی و گجر ہماری لاشوں کو نوچتے ہوئے موج مستیاں کرتے رہیں گے۔















