تربت ( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق 31جولائی 2023 کو تربت کے علاقہ آپسر ڈاکی بازار میں اپنے گھر جاتے ہوئے جبری گمشدگی کے شکار نوجوان نوشاد بلوچ ولد میاہ کے اہلخانہ نے تربت سول سوسائٹی کے کنوینرگلزاردوست کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ نوشاد بلوچ ایک طالب علم اورکسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں لہٰذااسے فوری طوربازیاب اور رہا کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں ان کے رشتہ دار خواتین اوربچیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، انہوں نے کہاکہ نوشاد ایک شریف النفس لڑکا ہے جو کبھی کسی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوا، اگر وہ واقعی مجرم ہیں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جاتی اور اسے عدالت میں پیش کرکے ان کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے جاتے عدلیہ جرم کے مطابق اسے سزا دیتی مگر ایسا کرنے کے بجائے خاندان کو ازیت دیا جارہا ہے جو قانون کے مطابق عمل نہیں ہے۔
بعدازاں تربت پریس کلب روڈسے کمشنرآفس تک ریلی نکالی گئی اورکمشنرآفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
مظاہرین نے کمشنر آفس میں کمشنرمکران ڈویژن سید فیصل احمد آغا سے ملاقات کی اور ان سے نوشاد کی بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی۔
کمشنر نے اہلخانہ کویقین دلایاکہ نوشادبلوچ کی بازیابی کے لئے اقدام اٹھایاجائے گا،
کمشنر مکران کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر تربت بہرام سلیم بھی موجودتھے۔














