جب کسی سماج میں غلامی جڑ پکڑ لیتی ہے تو اس کی بدصورتی وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ہونے لگتی ہیں، لیکن ہم، ان بدصورتیوں پر غور کرنے یا انہیں زائل کرنے کے بجائے وہ آئینہ ہی توڑ دیتے ہیں جو ہمیں ہماری خواہشات کے برعکس ہمارا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ یہ زہرآلود سیاسی رویے ، فکری ناپختگی، ہیروازم ، احساسِ برتری، مسابقت کےجنون ، پاپولرازم کی لت ، بغض و کینہ، نرگسیت اور انا پرستی ،سب مل کر ہماری اجتماعی نفسیات کا شعوری یا لاشعوری طور پہ حصہ بن چکے ہیں،موجودہ دہائی میں پیسے کا ریل پیل کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے جو تحریک کے اندر ایک نیا اور نمایاں رجحان بن کر مرض کی طرح ابھرا ہے ۔ قومی تحریک کا حصہ بنتے ہوۓ ہمیں ان ذہنی امراض سے کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے نجات حاصل کرنی چاہئے تھی ، مگر افسوس !نجات تو اپنی جگہ یہ امراض پہلے سے قدرے زیادہ آج بھی ہماری ذات پہ حاوی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان بدصورت حقیقتوں کو من و عن قبول کر کے صرف آزادی کی جنگ لڑتے رہیں ، یا پھر آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنی فکری صورت گری بھی کریں ، تاکہ آزادی کی خوبصورتی پر یہ بدصورتیاں کبھی گرہن نہ لگا سکیں ؟ اگر ہم انہی بدصورتیوں کے ساتھ آزادی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، حالانکہ ان بدصورتیوں کی موجودگی میں یہ تقریباً ناممکن ہے ، تو بھی وہ آزادی محض ایک قابض ریاست سے نجات کے مترادف ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی مواقع آئے جہاں انقلاب اور آزادی کے نام پہ صرف جھنڈے اور آقا بدلےگئے، مگر ظلم کی ساخت وہی رہی، جن زنجیروں کو توڑنے کا خواب دیکھا گیا انہی میں دوبارہ جکڑ دیے گئے، اپنے ہی سایوں کے خوف میں لپٹی وہ رات کبھی نہ ختم ہوئ اور نہ ہی وہ سحر آج تک طلوع ہو پائی جس کا انتظار تھا۔ یقینا آزادی کی یہ سحر راتوں رات طلوع نہیں ہوتی ، یہ ایک مسلسل اور کڑا سفر ہے جو سفاکانہ حدتک خودتنقیدی کے عمل کا بھی تقاضا کرتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ ہمارا “بے رحمانہ خود تنقیدی” آزادی فکر ، انسانی شعور اور بالخصوص آزادی وطن میں حصہ ڈالے گی. سقراط سے لے کر والٹئیر تک اتھارٹی کو چیلنج کرنے کی روایت صدیوں سے انسانی شعور کا حصہ رہی ہے۔ ہمیں بھی اسی روایت کو آگے بڑھانا ہوگا، اگر واقعی ہم آزادی کی اس سحر کے متلاشی ہیں۔ ہمیں ہر اس سوال کا سامنا کرنا ہوگا جو بالعموم قومی تحریک سے اور بلخصوص ہماری ذات یا اتھارٹی سے متعلق ہے ، کیونکہ ذاتی وابستگیاں ، پسند و ناپسند اور گروہی مفادات بدقسمتی سے حالیہ سیاسی و عسکری محاذ پہ اداروں اور قومی تحریک پہ حاوی رہی ہے ۔ سیاسی و عسکری کارگردگی سے ہٹ کر ذاتی وابستگیوں کی بنیاد پہ ہم نے لوگوں کو سلطانی ٹوپی پہنائ ہیں اور جس کے سر یہ سلطانی یہ ٹوپی سجائ گئ ، ان میں سیاسی پختگی کی بجاۓ سلطانی رعونت زیادہ نمایاں ہوئ ہے ستر کی دہائی کی تحریک کے مقابلے میں ہم بے شک کئ میدانوں میں آگے نکل آۓ ہیں مگر کئ معاملات میں آج بھی ہم بہت پیچھے ہیں، خاص کر اس زمانے میں گوریلا کا فکر و وجود “عسکری قیادت” کی نظر میں بندوق و مڈی سے بڑھ کر تھا اور اس کا زندہ و سلامت رہنا اور مسلسل جہد کا حصہ بننا شہادت سے بڑھ کر تھا، مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ اب بندوق فکر پر حاوی ہے اور اور وجود مڈی پر ، شاید طاقت کی سیاست نے انسانی وجود کو ہی ارزاں اور بے قیمت کر دیا ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے ستر کی دہائ کے مقابلے میں اب ہمیں جنگ میں شدت و جدت کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوۓ مگر “یس مین” رویے ، تابع داری کے کلچر(Puppet Culture)، واہ واہ کی پرستش جیسی عادات کی “شدت و جدت” کو ختم کرنا ہوگا ۔ ہمیں شہدا کی تقسیم سے لے کر ہر ممکن تقسیم پر ضرب کاری لگانے ہوگی، اور اپنی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے ہر پہلو کو دیکھنا ہوگا ۔ سیاست کے میدان میں میکیاولی طرز فکر (دی پرنس) سے لے کر گرامشی (ماڈرن پرنس) کے طرز فکر کے ہر سیاسی رموز کو سمجھنا ہوگا ، اور ساتھ ساتھ ان تلخ حقائق کا ہمیں کھلے دل سے سامنا کرنا ہوگا ، اپنے سیاسی چہرے پر نگاہ ڈالنی ہوگی کہ کہیں واقعی ہم سیاسی مکالمے کی روح سے ناواقف، فکری طور پر پسماندہ، اور سیاسی اعتبار سے بونے تو نہیں ہیں؟ اس سیاسی بونے پن کی وجہ سے جب بھی تاریخ کسی فیصلہ کن موڑ (critical juncture) پر پہنچتی ہے، ہم عقل، سیاسی بصیرت اور قومی شعور کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی مفادات کے اسیر نظر آتے ہیں ، یہی ہمارا المیہ ہے ، ایک ایسا المیہ جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہے، ہماری قربانیاں ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بننے کی بجاۓ اپنی اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ مسجدوں کے لیے تکبیر کا کام دے رہی ہیں ۔ اور” ہر اینٹ سمجھتی ہے کہ دیوار مجھ سے ہے” ۔ ہمیں ویت تھانہ نیوین کے الفاظ میں جلد یا بدیر سمجھنا ہوگا کہ دراصل زمین زادہ ہونے کا مطلب کیا ہے اور اس کے لیے فکری پختگی ہونا کس قدر لازمی ہے ؟ اسی طرح یہ ادراک بھی بہر طور لازمی ہے کہ قومی آزادی کا وارث ہونے کی ذمہ داری کیا ہے ؟ کیونکہ “جنگ صرف گولی چلانے کا نام نہیں “ ہمیں چے گویرا کی اس خواہش کا بہرحال احترام کرنا ہوگا کہ بلوچ وطن قابض کے لیے ویتنام بنے کیونکہ بقول چے “ اگر دنیا میں دو، تین، کئی ویت نام وجود میں آجائیں،تو مستقبل کتنا روشن ہوگا”