سیاست کی دنیا میں سفارت کاری ایک وسیع تر میدان ہے، جہاں سمت کا تعین اکثر ’’مشترکہ مفادات‘‘ سے ہوتا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ “قومی وحدت” کے پس منظر میں ہمارے اپنے ’’باہمی مفادات‘‘ کس حد تک مشترک ہیں، اور ہماری ’’فکری بالیدگی‘‘ اس حوالے سے کس درجے کی ہے؟ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسی دہائی کی مثال لیجیے, چند امریکی نمائندے بلوچ موقف سننے کے بعد اسے اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ پہنچے۔ وہاں موجود بلوچ آزادی پسند تنظیم کے عہدیدار نے امریکی عہدیداروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بلوچ قوم کے اصل نمائندے صرف وہ خود ہیں۔ ان کے بقول جن افراد سے امریکی نمائندوں کی ملاقات ہوئی تھی، جن کے کہنے پہ وہ برطانیہ پہنچے وہ دراصل بلوچ قوم کے نہیں بلکہ بلوچ سماج کے بالائی طبقے کے نمائندے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ طبقاتی یا غیر طبقاتی سے بالاتر سیاسی ناپختگی کی ایک واضح مثال تھا۔ ہمارے دعووں کے برعکس کہ ہم عمل میں ہے اس لیے ہماری فکری پختگی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ ہمارے سیاسی رویے کب , کیسے اور کیوں اس قدر سطحی ہو گئے ؟ یہ سوالات نہایت اہمیت کے حامل ہے۔
جہاں تک تاریخی حوالوں سے سیاسی رویوں کی بات ہے قومی تحریک شروع دن سے ایسے رویوں کا حامل نہیں تھا ، شہید غلام محمد بلوچ اور شہید بالاچ مری کو ایک صف میں دیکھا گیا ہے ، ہم تقسیم در تقسیم ، طبقاتی حوالے سے ، قیادت کے حوالے سے ، اصول و ضوابط کے حوالے یا پیسوں کے حوالے سے کیونکر ہوئے ہماری سیاسی رویوں میں یہ زہر کس طرح سرایت کرگیا ؟ اس سوال کا جواب بلوچ سیاسی و عسکری محاذ پہ موجودہ قیادت بلوچ قوم اور تایخ کے سامنے دے سکتے ہیں،گر وہ اپنے آپ کو جوابدے سمجھتے ہیں ۔
دراصل سیاسی رویوں کا دار و مدار ہمیشہ سیاسی تربیت پہ ہوتا ہے ، بدقسمتی سے ہم زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں برداشت اور رواداری کا حوصلہ پیدا نہیں کرپاتے ،ہم سیاست کو سیاسی مکالمے کے بجاۓ مقابلے کا میدان بنا دیتے ہیں ،جہاں اصل مقابلہ دشمن سے زیادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوتا ہے، اسی کا عکس ہمیں سفارتکاری کے میدان سے لے کر میدان جنگ تک صاف صاف دکھائ دیتا ہے ، تقسیم کی یہ لہر اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ایک طرف کبھی کبھی سبقت حاصل کرنے کے جنون میں ضرورت سے زیادہ سنگتوں(فدائیوں) کی قربانی دی جاتی ہے تو دوسری طرف شہدا کو مد مقابل کر کے بیانات میں جتلانا پڑتا ہے کہ ہمارے شہداء (فدائی) باشعور اور غیر جذباتی ہیں ، حالانکہ بات شہدا پہ نہیں قیادت کی سیاسی بصیرت اور فکری ذمہ داری پہ ہونی چاہئے۔
ان زہر آلود سیاسی رویوں کی ایک اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران اکثر قیادت کی خواہش کے مطابق سیاسی کارکنان ایک ہی شخصیت کا بت تراش لیتے ہیں اور اسے ’’قوم کا نجات دہندہ‘‘ قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ اس کے بعد اس نام کے ساتھ کسی اور نام کو برداشت کرنا ان کے لیے نہ صرف ناممکن ہو جاتا ہے بلکہ کسی کو شریک قیادت ماننا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں ، ہم اپنے تراشے ہوۓ بتوں کو ماؤ ، چے سے کم درجے سے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے، اور قیادت بھی خلاؤں سے نیچے اترنے کو تیار نہیں ہوتے، ذاتی پسند و ناپسند کا سلسلہ تاحیات چلتا رہتا ہے، آج کی سیاست ان زہر آلود سیاسی رویوں کی پوری طرح غمازی کرتی ہے۔
سیاست، بالخصوص سفارت کاری کے میدان میں، ہمیں سب سے پہلے ذاتی پسند و ناپسند سے نکل کر “قومی وحدت” کی خاطر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ سفارتی محاذ پر جانے والے نمائندوں کو یہ سمجھانا ضروری ہوگا کہ ان کا اصل مقصد بلوچ کاز کو اجاگر کرنا ہے، نہ کہ کسی کو نیچا دکھانا تاکہ ہماری انا کو تسکین ملے۔ افسوس کہ ہمارے کئی بلوچ سنگت، جنہیں بلوچ کاز پہ جلاوطنی نصیب ہوئی، اپنی سیاست کا محور تحقیق، اکیڈمیا، ریسرچ پیپرز ، انٹرنیشنل فورمز پہ بلوچ کاز کی مؤثر ترجمانی ، ڈپلومیسی ، تھنک ٹینکس کا حصہ بننا ، سفارتکاری کے لیے آفیشل دفاتر کا قیام ، مختلف سیاسی طاقتور حلقوں سے تعلقات کے بجائے سیاسی ناپختگی کے تحت ایک دوسرے کو محض سیاسی مخالفت کے بناہ پہ کاؤنٹر کرنے میں بے مقصد زندگی گذار رہے ہیں۔
میں یہاں وہ تمام تر فکری ناپختگیاں کھل کر بیان نہیں کرنا چاہتا کہ کہیں ہماری کمزوریوں سے دشمن فائدہ نہ اٹھالے ، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ہمارے اک آدھ سیاسی کارکن انہی سیاسی بے سمت رویوں کے باعث مایوسی کا شکار ہوۓ ، وہ ایسی انجام و المناک راہوں کا انتخاب کر بیٹھے جن کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اور ہم یہاں بیٹھے بیٹھے بس ان کے محض بڑے بڑے پوسٹرز بناتے رہے ،اور اپنی سیاست چمکاتے رہے ، بانک کریمہ کا وہ آڈیو بیان تو ہم نے سنا ہوگا جس میں وہ اپنے ایک سیاسی ہم سفر و ہم منزل شہید ساجد حسین کو مخاطب کرکے سیموئیل جانسن کے مشہور قول دہراتی کہ “حب الوطنی بدمعاش کا آخری سہارا ہے” آخر یہ بد معاش کون تھے انہیں حب الوطنی کا سہارا کیوں لینا پڑا ؟ یہ محض سوال نہیں بلکہ تاریخ ہے۔















