میں روز کی طرح شام کو ٹائم پاسی کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ بازار چلا گیا اور وہاں ہوٹل میں چائے پینے کے لیے بیٹھ گیا، ہوٹل میں کافی رش تھا کیونکہ ہمارے علاقے کے اس ہوٹل میں اچھی چائے ملنے کے ساتھ ساتھ یہاں فری وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہے. اس لیے تمام نوجوان شام کو یہاں آکر نیٹ استعمال کرتے ہیں. میں بھی اکثر شام کو اس ہوٹل میں آتا رہتا ہوں. ہم ہوٹل پہنچ کر ایک ٹیبل کے ارد گرد بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ ہوٹل کے کونے پر موجود ٹیبل پر بیٹھا ایک نوجوان بار بار میری طرف دیکھ رہا ہے اور جب میں اس کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ اپنی توجہ دوسری طرف کر لیتا ہے. تھوڑی دیر بعد ہم لوگ ہوٹل سے نکل کر بازار میں گھومنے لگے. دوسرے دن میں نے پھر شام کو ہوٹل کا رخ کیا، آج میں اکیلا تھا، جب میں ہوٹل کے دروازے پر پہنچا تو وہی نوجوان اپنی ٹیبل چھوڑ کر میری طرف لپکا، میرے قریب پہنچ کر اس نے سلام دعا کی اور ہاتھ ملانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا، سلام دعا کے بعد اس نے کہا کہ مجھے آپ سے کچھ کام ہے، میں نے کہا جی فرمائیے،یہاں ہوٹل میں کافی رش ہے اگر آپ کے پاس ٹائم ہے تو کہیں باہر چلتے ہیں اس نے کہا میں بھی فارغ تھا اس لیے ہم ہوٹل سے الٹے پاؤں نکل کر قریب موجود باغ میں چلے گئے،باغ پہنچ کر ہم ایک درخت کے نیچے بیٹھتے ہوئے میں نے کہا کہ جی فرمائیے کیا کام ہے مجھ سے اور آپ کون ہو، تو اس نے کہا کہ میرا نام منان ہے سات سال پہلے میں خضدار میں رہتا تھا، ایف ایس سی کا اسٹوڈنٹ تھا، خضدار میں میرے کچھ دوست بھی تھے،ایک دن میں اپنے دوستوں کے ساتھ بازار جانے کے لئے کالج سے نکلا. ہم پیدل جارہے تھے ہمارے قریب ایک بلیک رنگ کی پجارو گاڑی آکر رکی. ہم میں سے ایک دوست آگے بڑھا اور گاڑی والے سے ہاتھ ملایا، پھر ہمیں آواز دی کہ آؤ گاڑی میں بیٹھ جاؤ. ہم چاروں دوست گاڑی میں بیٹھ گئے. ہمارے اس دوست نے گاڑی چلانے والے کا ہم سے تعرف کروایا کہ یہ فضل مجاہد ہے اور حسب روایت ہمارا بھی فضل مجاہد سے تعارف کروایا. وہ ہمیں بازار میں ڈراپ کرکے چلا گیا. اس کے بعد بعض اوقات بازار میں راہ چلتے فضل مجاہد سے سلام دعا ہوتی تھی. بہت جلد ایک دوسرے سے ہماری جان پہچان ہوگئی تھی،کبھی کبھی بازار میں ایک دوسرے کو دیکھتے تو ایک ساتھ چائے بھی پی لیتے اور مجلس بھی ہوتی تھی، میں جب بھی فضل مجاہد سے ملتا تو اس کے ساتھ ہر بار مختلف لوگ ہوتے تھے. ایک دن فضل نے مجھے بازار میں دیکھا تو آواز دیکر کہا چلو آج ہمارے ساتھ،میں نے پوچھا کہاں. اس نے کہا تم سوال بہت کرتے ہو بیٹھو میں آپ کو بتاتا ہوں، میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور روانہ ہوئے راستے میں فضل مجاہد نے کہا ایک بندے کو پکڑنے جانا ہے میر زیب نے بھیجا ہے میں نے کہا کیوں خیر تو ہے اس نے کہا ہمارے پاس اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہے گاڑی بازار سے نکل کر سیدھا وڈھ کی طرف روانہ ہوئی کچھ دیر میں آر سی ڈی روڈ پر چلنے کے بعد ہم ایک لنک روڈ پر جا رہے تھے،آگے ایک گاؤں نظر آیا، فضل نے اپنے دوستوں سے کہا کہ تیار رہو وہ بندہ اسی گاؤں میں رہتا ہے، فضل نے ایک پرانے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی باقی سب لوگ گاڑی سے اتر کر اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھالنے لگے میں اور فضل اب بھی گاڑی میں بیٹھے تھے، فضل کے دوستوں میں سے ایک نے دروازے پر دستک دی دوسری طرف سے ایک چھوٹا سا بچہ باہر نکلا، باڈی گارڈ نے اس سے پوچھا کہ تمھارا والد کہاں ہے اسے بلا لاؤ، دور سے آتی گاڑی کو دیکھ کر وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ میر زیب کے بندے ہیں اور مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، وہ دیوار پھلانگ کر بھاگنے لگا لیکن فضل نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس کے پیچھے گاڑی بھگانے لگا،وہ بندہ قریب قبرستان کی طرف دوڑا تو فضل نے پیچھے سے اسے گاڑی کا بمپر دے مارا، وہ قبروں کے اوپر گرا، اسکے گرتے ہی فضل کے باقی بندے بھی پہنچ گئے اور اسے زخمی حالت میں گرفتار کر کے گاڑی میں ڈال دیا، اب ہم واپس خضدار کی طرف روانہ ہوئے لیکن اب ان کا اسٹاپ خضدار نہیں تھا بلکہ وہ سیدھا سردار ثنا اللہ کے علاقہ انجیرہ پہنچ گئے، گرفتار قیدی کو باقی سپاہیوں کے حوالے کرکے وہ میر زیب کے پاس گیا اور میری تعارف بھی کرائی، میں دل ہی دل میں بہت خوشی محسوس کر رہا تھا کہ آج فضل کی دوستی کی وجہ سے چیف آف جھالاوان کے ساتھ بیٹھا ہوں لیکن آج محسوس ہوا کہ میں غلط تھا، ہم نے وہاں رات کا کھانا کھایا. پھر فضل نے مجھے کہا کہ چلو ہمارے گھر چلتے ہیں. وہ مجھے اپنے گھر لے گیا رات ہم نے وہاں گزاری صبح جب ہم اٹھے منہ ہاتھ دھونے کے بعد وہ ناشتہ لینے کے لیے گھر کے اندر چلا گیا، اس کے جانے کے بعد ایک بزرگ شخص بیٹھک میں داخل ہوا جسکی لمبی داڑھی تھی اور سر پر چادر باندھی ہوئی تھی، ہم نے ایک دوسرے سے سلام دعا کی اور وہ بیٹھ گیا، اس نے اپنا تعارف کروایا کہ میں فضل مجاہد کا والد ہوں میرا نام مولوی عبدالخالق ہے اور میں چیف صاحب کا پیش امام بھی ہوں،تعارف کے بعد جتنی دیر بیٹھے فضل مجاہد کی تعریف کرتا رہا. ہر بات پر کہتا تھا کہ میرا بیٹا فضل ایسا ہے ویسا ہے حتیٰ کہ اس کی دین دوستی کے بھی پل باندھنے لگے،تھوڑی دیر بعد فضل کا بڑا بھائی عطا پانی کا جگ ہاتھ میں لیئے کمرے میں داخل ہوا. وہ شکل سے انتہائی شریف اور قدرے نالائق لگتا تھا. جب وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کے والد کو اس کا بیٹھنا ناگوار گزرا. خیر فضل مجاہد بھی نہا دھو کر آ گیا اور ہم نے ناشتہ کیا اور نکل گئے. جب ہم وہاں سے خضدار کی طرف نکلے تو میں پورے رستے میں یہی سوچتا رہا کہ مولانا صاحب کتنا سادہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی کرتوتوں سے ناواقف ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ میرا بیٹا ایماندار اور فرمانبردار ہے لیکن فضل اس کے بالکل برعکس تھا،چوری غنڈہ گردی، شراب، چرس بس ایسے سمجھو کہ معاشرے کے جتنے بھی غلط کام ہیں فضل وہ سب کرتا ہے. ( لیکن بعد میں بہت جلد مجھے لگا کہ سرداروں کی تھالی میں کھانے والے باپ بیٹے ایک ہی گدی کے نشین ہیں. مولوی عبدالخالق کا کردار پھر کبھی تفصیل کے ساتھ آپ دوستوں کے سامنے پیش کروں گا. ) خیر کچھ دن فضل کے ساتھ رہنے پر مجھے بھی اس کے رنگ لگنے لگے. وہ کہتے ہیں نا کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے. ہمارے گھر کے قریب میرا چچا کا بھی گھر تھا ،اس کے دو بیٹے ہیں جو صبح اسکول جاتے تھے اور شام کو اپنے شاپنگ سینٹر پر بیٹھتے تھے، کچھ دنوں سے میں یہی محسوس کر رہا تھا کہ میں فضل کی دوستی کی وجہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے دور ہوتا چلا جا رہا ہوں،ایک دن یہی کیفیت لیئے باتوں باتوں میں میرا اور میرے کزنوں کا جھگڑا ہوا،ہم لڑ پڑے،کزن نے یہ سمجھا کہ معمول کی نوک جھونک دو دوستوں یا کزنوں میں ہوتا رہتا ہے،انھوں نے اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دی، لیکن میں دھمکی دیتے ہوئے دکان سے نکل کر سیدھا فضل مجاہد کے پاس چلا گیا. اور اسے پورا واقعہ سنا دیا. تو اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے غلیظ سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے کہا کہ پھر تم نے کیا سوچا ہے،میں نے بھی جذبات میں آکر بغیر سوچے سمجھے کہا کہ کیا سوچنا ہے بس مجھے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے، تو فضل نے کہا کہ چلو میر زیب سے بات کرتے ہیں، ہم خلق جھالاوان پہنچے جہاں پہلے سے میر اپنے باڑی گارڈوں کی حصار میں بیٹھا ہوا تھا، فضل مجھے میر زیب کے پاس لے گیا اور اس سے کہا کہ یہ وہی دوست ہے جسے میں نے پہلی بار آپ سے انجیرہ میں ملوایا تھا. یہ ہمارا بندہ ہے اور اس کو اس کے کزنوں نے بے عزت کی ہے اور یہ بدلہ لینا چاہتا ہے، میر زیب تیش میں آ کر کہا پھر کیا دیکھتے ہو دو گاڑیاں بھر کر لے جاؤ اور انھیں سبق سکھاؤ کہ میر کے بندوں سے گستاخی کی کیا قیمت ہوتی ہے، ہم دو گاڑیوں میں نکل گئے، راستے میں فضل نے مجھے ایک پسٹل دیتے ہوئے کہا یہ لو، دکان کے سامنے گاڑیوں کی بریک کرتے ہی تم اتر جانا اور حملہ کرنا، زندگی میں پہلی بار میں اس کیفیت سے دوچار ہو رہا تھا کہ کہاں پھنس گیا لیکن اب پانی سر سے اوپر نکلتا جا رہا تھا، لاکھ کوشش کے باوجود میں خود کو بے بس پا رہا تھا، اسی سوچ میں گرا ہم لوگ دکان کے سامنے پہنچ گئے،دکان پر میرے دونوں کزن موجود تھے، گاڑی سے اتر کر لرزتے ہاتھوں اور مردانگی کی مڈ بھیڑ میں اپنے کزنوں پر فائز کھول دیا، میں اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا،صرف اتنا دیکھ سکا کہ میرے چھوٹے کزن کو گولی لگی اور وہ گر گیا، اسکے بعد ہم گاڑی میں سوار ہو کر سیدھا خلق جھالاوان پہنچ گئے،راستے میں پشیمانی اور خوف کے عالم میں سوچوں گم دیکھ کر فضل نے میرے کندھے پر جھٹکا دیتے ہوئے کہا کن سوچوں میں گم ہو، میں نے بھی جواب میں صرف ایک پھیکی سی مسکراہٹ دی. رات ہم نے وہیں گزاری صبح معلوم ہوا کہ میرے چھوٹے کزن کو کندھے پر گولی لگی تھی اور وہ ہسپتال میں داخل ہے اور چچا نے میرے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کی ہے، اب میں خضدار میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتا تھا. کچھ دن بعد فضل والوں کے ساتھ انجیرہ چلا آیا. وہاں ایک نئی دنیا قائم تھی. اب آہستہ آہستہ فضل مجاہد کے تیور بھی بدلے بدلے سے لگنے لگے تھے. ایک دن شام کے وقت میں سردار کے گیٹ کے سامنے ڈیوٹی دے رہا تھا کہ میں نے دیکھا سردار کا بیٹا سکندر کتے کی طرح ایک بندے کو مار رہا ہے،بڑی مشکل سے لوگوں نے اس کی جان بچائی، اب تو یہ روز کا معمول تھا،کبھی میر زیب کسی کو مارتا تو کبھی مہر اللہ کسی کچاری میں فیصلے کے دوران کسی کی پگڑی کو اچھالتا،اکثر لوگوں کو قیدی بنایا جاتا، انھیں راتوں کو خٹ کاٹ لگا کر ڈنڈوں سے خوب پٹائی کی جاتی. لوگوں کو بے عزت کرتے اور ان سے پیسے بٹورتے تھے. اسی بہانے ہم سپاہیوں کو موسلی بھی ملتی تھی. وہ راتوں کو اپنے بندے بھیج کر روڈ پر خالق آباد سے لیکر” مونا خل ” تک گاڑیوں کو لوٹتے تھے. ایک رات کو میں نے دیکھا میر زیب اور میر مہر اللہ دو نوجوان لڑکیوں کو کو گھسیٹ گھسیٹ کر لا رہے تھے. وہ ان پر لاتوں، مکوں اور ڈنڈوں کا استعمال کر رہے تھے. ان دونوں لڑکیوں کو باغ میں لیکر آئے اور سپاہیوں سے ایک بڑا کھڈا کھودنے کو کہا. دونوں لڑکیوں پر کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے انھیں قتل کردیا. اور دونوں کو بغیر کفن کے اسی کھڈے میں دفن کر دیا، بعد میں مجھے پتا چلا کہ ان دونوں دوشیزاؤں جن کے نام نور بی بی اور بی بی حوران تھے ان کے ساتھ اکثر میر نعمت بد فعلی کرتا تھا، وہ بے چاریاں مجبور تھیں اور کچھ نہیں کر سکتے تھے ہر رات میر نعمت ان کی عزت کے ساتھ کھیلتا اور وہ چپ چاپ اس آگ میں جلتے. وہ کرتے بھی کیا کرتے سردار اور میروں کے سامنے کسی کی بھی نہیں چلتی. جب میر زیب اور میر مہر اللہ کو معلوم پڑا کہ میر نعمت ان لڑکیوں کے ساتھ کیا گل کھلا رہا ہے. اور میر زیب اور میر مہر اللہ کا ویسے بھی میر نعمت کے ساتھ نہیں بنتا تھا. تو انھوں نے لڑکیوں کو منع کیا تھا کہ وہ میر نعمت کے پاس نہ جایا کریں. انھوں نے کہا کہ میر ہم اپنی مرضی یا خوشی سے نہیں جاتے،ہم مجبور ہیں،آپ لوگ خود میر نعمت کو سمجھاؤ کہ وہ ہمارے اوپر رحم کرے. اس بات پر میر زیب غصے میں آکر ان دونوں لڑکیوں کو قتل کر دیا۔ اب میں کافی پشیمان تھا کہ میں کیسے لوگوں کے بیچ پھنس گیا ہوں،کیوں اپنی آزاد زندگی کو انکا غلام بنایا،دوسروں کی طرح بعض اوقات میر لوگ مجھے بھی بے عزت کرتے تھے،میری تعلیم بھی ادھوری رہ گئی. میں ایک اچھے اسٹوڈنٹ سے ایک چور اور لٹیرا بن گیا تھا، ہوتے ہوتے جب دو ہزار گیارہ میں بی ایل اے نے فضل مجاہد کو قتل کردیا تو میری بھی جان چھوٹ گئی،میں سیدھا زہری چلا آیا، یہاں پر ہماری کچھ زمینیں ہیں اور ایک ٹیوب ویل بھی، میں نے اپنے زمینوں پر کام شروع کیا اور اپنے باپ اور رشتہ داروں کو چچا کے پاس میڑ بھیجا کہ مجھے معاف کردو،اور چچا نے مجھے معاف کر دیا. پھر دو ہزار تیرہ کو بی ایل اے نے میر زیب، میر سکندر اور میر مہر اللہ کو بھی ایک دھماکے میں مار دیا تو مجھے ایک شہید کی بہن کی وہ باتیں یاد آئیں جب اس نے اپنے بھائی کی لاش کے سرہانے کھڑی ہو کر کہی تھی کہ زیب دیکھو تم نے میرے بھائی کو مار دیا لیکن اس کے چہرے کی طرف دیکھو وہ کتنا پر سکون ہے، یاد رکھو میرا بھائی لاوارث نہیں اس کے سنگت تمہارا وہ حال کریں گے کہ تمھارے جسم کے ٹکڑے آوارہ کتے بھی نہیں کھائیں گے. سنگت آپ کے ساتھ اس تمام قصے کو بیان کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ تم ان سرداروں کے خلاف اکثر لکھتے رہتے ہو اور میں چاہتا ہوں کہ میری باتیں بھی لوگوں تک پہنچا دو، یہ سردار ہمیں خوف دلاتے ہیں ہم پر رعب و دبدبہ ڈالتے ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ لڑوا کر اپنے لیے باڈی گارڈ ہم میں سے پیدا کرتے ہیں یا ہم سے کہتے ہیں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تم لوگوں کی عزت بھی محفوظ نہیں ہوتی . یہ رات کے اندھیرے میں ہماری عزتیں کیسے اچھالتے ہیں میں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا ہے. اور میں چاہتا ہوں کہ میرے علاقے لوگ یہ بھی سمجھ جائیں کہ یہ ہمیں ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں تاکہ وہ ہم پر آسانی سے حکمرانی کر سکیں۔