شال 🙁 ہمگام نیوز) جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6104 دن مکمل کر گیا۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں ماورائے قانون اقدام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہزاروں بلوچ جبری طور پر لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہزاروں خاندان شدید کرب اور اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کو چاہیے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ملکی قوانین کے مطابق رویہ اختیار کرے۔ اگر کسی بھی شخص کو ریاستی ادارے حراست میں لیتے ہیں تو اسے 24 گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کا فوری خاتمہ کیا جائے، لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس سنگین انسانی مسئلے کے حل کے لیے ملکی قوانین کے تحت عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔