لندن (ہمگام نیوز) بلوچ قوم پرست رہنما اور فری بلوچستان موومنٹ کے صدر حیربیار مری نے ایکس ( ٹوئیٹر ) پر اپنے پیغام دنیا کو متنبع کرتے ہوئے بتایا کہ 19 جون کو شائع ہونے والی ایک حالیہ رائٹرز رپورٹ کے مطابق، پاکستانی جنرل عاصم منیر نے واشنگٹن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر ایران کمزور یا غیر مستحکم ہوا تو ایرانی اور پاکستانی زیرِ قبضہ بلوچستان ایک مسئلہ بن جائے گا۔ یہ طرزِ بیان نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ سراسر بددیانتی پر مبنی ہے۔ امریکی قیادت کو اس قسم کے خودغرض جنرل کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔

بلوچستان مسئلہ نہیں، بلکہ اس خطے کے امن و استحکام کی کنجی ہے۔ اصل خطرہ پاکستان اور ایران کی اسلامی جمہوریتوں سے ہے جو نہ صرف انتہاپسندی کو فروغ دیتی آئی ہیں بلکہ محکوم اقوام کو ریاستی دہشتگردی اور تشدد کے ذریعے کچلنے کی طویل تاریخ رکھتی ہیں۔

ایران نے حوثی باغیوں، شامی اسد حکومت، عراقی ملیشیاؤں اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروہوں کے ذریعے خطے میں دہشتگردی کو برآمد کیا ہے، جس سے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ پاکستان نے بھی اسی پالیسی کو اپنایا، جس میں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے دہشتگرد گروہوں کو کشمیر میں حملوں کے لیے تیار کرنا، اور افغانستان میں دہائیوں پر محیط خونریز خانہ جنگی میں مختلف شدت پسند گروہوں کو استعمال کرنا شامل ہے۔ یہ واقعات محض اتفاقات نہیں بلکہ سوچے سمجھے طریقے سے انتہاپسندی کو خارجہ پالیسی کا ہتھیار بنانے کی ریاستی حکمتِ عملی ہیں۔

امریکہ اور مغربی دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے جوہری ٹیکنالوجی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو منتقل کی۔ ایران اور پاکستان، دونوں نے بارہا جوہری بلیک میلنگ کا سہارا لیا، ایران یورینیم کی افزودگی کے ذریعے اور پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے ذریعے، تاکہ عالمی امداد، سیاسی رعایتیں، اور اپنی آمرانہ حکومتوں کے لیے بین الاقوامی جواز حاصل کیا جا سکے۔ ان کی یہ حکمتِ عملی نہ صرف خطے کے دیگر ممالک، جیسے بھارت اور اسرائیل، کے لیے خطرہ ہے بلکہ بلوچ، پشتون، کرد، الاحواز عرب، آذری ترک اور دیگر محکوم اقوام کے لیے بھی ایک مستقل ظلم اور جبر کا باعث بنی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس، بلوچ تحریک کسی قسم کی انتہاپسندی پر مبنی نہیں، بلکہ ایک جائز جدوجہد ہے جو عزت، انصاف اور آزادی کے اصولوں پر قائم ہے۔ اگر دنیا واقعی مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے بلوچستان کو پاکستانی یا ایرانی پروپیگنڈے کی عینک سے دیکھنا بند کرنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا اصل خطرات اور امن کے ممکنہ شراکت داروں میں فرق کرے۔