لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے قابض پاکستانی فوج کے عقوبت خانوں میں قید نہتے بلوچ اسیران کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کے عمل کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قابض پاکستان بلوچ جد و جہد آزادی کے سامنے اپنی کمزوری اور نفسیاتی شکست کو چھپانے کے لئیے اپنے عقوبت خانوں موجود اغواء شدہ بلوچ نوجوانوں کو جعلی مقابلے کے نام پر شہید کرکے اپنی بلوچ دشمن ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔
پاکستانی قابض فوج کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جہاں وہ جنگی و عسکری میدان میں بلوچ جہدکاروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رکھنے اور شکست کی خفت اٹھانے کے بعد پہلے سے اغواء کئے گئے بلوچ سیاسی قیدیوں کو دوران حراست شہید کرکے انکی لاشیں بیابانوں میں پھینکتا ہے جو کہ سالہا سال سے انکے ٹارچر سیلز میں مقید ہوتے ہیں اور اپنی اس مکروہ چہرے کو چھپانے کے لئیے پاکستانی فوج اپنے زرخرید میڈیا کے ذریعےجبری طور پر اٹھائے گئے ان بلوچوں کی شہادت کو دو بدو مقابلہ قرار دیتا ہے جوکہ عالمی قوانین کوپاوں تلے روندنے اور جنگی اقدار کے خلاف اقدامات کے مترادف ہیں۔
ایف بی ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج بلوچ تحریک آزادی کی شدت کے سامنے بے بس ہوتے ہوئے اپنے غصے اور بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئیے بے گناہ بلوچ سیاسی قیدیوں کو عقوبت خانوں سے نکال کر جعلی مقابلے کا نام دیکر ششہید کررہا ہے تاکہ وہ اپنے فوجی کارندوں کی جذبات و اوسان کو بحال رکھ سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ کچھ عرصے سے بلوچستان بھر میں پاکستانی قابض فوج پر بلوچ سرمچاروں کے متواتر کامیاب ضربوں نے پاکستانی فوج کے مورال کو کافی گرا دیا ہے اور اس سراسیمگی میں وہ کوئی اور راہ نہ پاکر اب بلوچ اسیران اور عام نہتے عوام کو نشانہ بنا کر اپنے فوج کو حزیمت اور شرمندگی سے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔
کوئٹہ کے مضافات شعبان کے مقام پر جن چار بلوچ نوجوانوں کی دورانِ جنگ شہادت کا دعوی پاکستانی فوج کررہی ہے ان چاروں بلوچ نوجوانوں کے بارے میں اہلخانہ اور بلوچ علاقائی ذرائع ابلاغ کے شائع کردہ رپورٹس اور اخباری بیانات اس بات کی گواہ ہیں کہ ان تمام نوجوانوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کئی ماہ قبل پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے اغوا کرکے غائب کیا ہوا تھا جنہیں اب عقوبت خانوں سے نکال کرجعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا ہے۔
یاد رہے شعبان میں ان چاروں شہدا میں سے شاہزیب ولد رحمت اللہ اور نعیم ولد نورالدین کو بالترتیب سات اور دو جنوری کو کلی خیراللہ اور خروٹ باد سے اغواء کرکے غائب کیا گیا تھا ان دونوں شہداء کا تعلق دشت کمبیلا سے ہے۔
چاروں میں سے باقی دو شہداء حافظ محمد طاہر ولد حافظ محمد اکبر اور زبیر احمد ولد عبدالصمد کا تعلق سوراب کے علاقے گدر سے بتایا جاتا ہے ان کو بھی گزشتہ سال نومبر کے مہنیے میں قابض پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے سوراب کے علاقے سے اغواء کرکے غائب کیا تھا۔
پارٹی ترجمان نے مزید کہا کہ قابض پاکستانی ریاست کے پاس نہ کوئی اخلاقی روایات کا پاس رکھنا لازمی ہے اور نہ ہی جنگی و عسکری قوانین و متعین شدہ عالمی جنگی اصولوں کی کوئی اہمیت ہے، قابض ریاست کے اس طرح کے ہھیکنڈوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بلوچ قوم کا سامنا ایک نہایت ہی نیچ اور حواس باختہ دشمن سے ہے جو عالمی و انسانی سمیت تمام جنگی قوانین و اقدار سے نابلد ہے۔
بلوچ لوک داستانوں اور معقولوں میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ “ اللہ مناں دژمنے دئے گڈا سلامتیں دژمنے دئے ” کیونکہ ایک باوقار دشمن جنگ اور جذبات کے درمیان ایک وقار اور نفی تلی رکھ رکھاؤ کے ساتھ مزاحم ہوتا ہے جو مزاحمتی و سیاسی اقدار و اخلاقیات سے نہ صرف واقف ہوتا ہے بلکہ وہ ان اقدار و روایات کا تادمِ آخر پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے ناکہ پاکستانی فوج کی طرح نہتے اور عام سیاسی قیدیوں کو اپنے زندانوں میں سالہا سال انسانیت سوز مظالم و اذیتیوں سے دوچار کرنے کے بعد محض حساب برابر کرنے کے لئے جعلی مقابلوں کا سہارا لے کر شہید کرتی ہے، پاکستانی قابض فوج کا رویہ اور جنگی اقدامات ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ غنڈوں کا کوئی جھتہ اپنا بدلا لینے اور حساب برابر کرنے کے لئے کسی بھی نہتے اور بے سروسامان فرد کو شہید کرسکتا ہے۔
ایف بی ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستان اجتماعی سزاؤں سمیت گمشدہ بلوچ افراد کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی اپنے عمل کو تیز کرچکا ہے اس سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ بلوچستان کے اندر بلوچ قوم کی نسل کشی اور سیاسی قیدیوں سمیت تحریک آزادی میں شامل بلوچوں کے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے پالیسی میں تیزی لائی جاچکی یے تاکہ ان پر دباؤ بڑھا کر انہیں بلوچستان کی جہدِ آزادی سے دست بردار کرایا جاسکے۔
قابض پاکستان کے اس گھناونے عمل کو ناکام بنانے کے لئیے بلوچ قوم پر فرض ہے کہ وہ اپنے صفوں کے اندر بلوچ اجتماعی مفادات کی نگہبانی کی جذبے کے تحت اتحاد و اتفاق کے عمل کو تیز کریں اور گروہی و ذاتی مفادات کی سوچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض متحدہ بلوچ سرزمین اور بلوچ قومی اجتماعی مفادات کے بارے میں از سرِ نو غور فکر کریں۔