جنگ کی خبریں اور اس سے جڑی ہوئی تصاویر اکثر لوگوں میں ایک خاص قسم کا ذہنی دباؤ یا اضطراب پیدا کرتی ہیں جسے جنگی اضطراب کہا جا سکتا ہے۔ یہ اضطراب آہستہ آہستہ بھی پیدا ہو سکتا ہے یا کبھی کبھار اچانک ایک خاص منظر یا خبر دیکھنے کے بعد فوراً محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کے اثرات صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں متعدد جسمانی علامات میں شامل ہو سکتے ہیں: جیسا کہ دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا۔ معدے میں بےچینی یا مروڑ۔ متلی یا الٹی جیسا احساس۔ چکر آنا یا ہلکا سر گھومنا۔ مگر کچھ افراد کو “پینک اٹیک” بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں سانس لینے میں مشکل اور شدید گھبراہٹ ہوتی ہے۔ جبکہ ذہنی یا نفسیاتی علامات میں ہو سکتی ہیں: ضرورت سے زیادہ فکریں اور سوچوں کا نہ رکنا۔ نیند نہ آنا یا نیند میں بار بار جاگنا۔ جسمانی بےچینی یا کسی کام میں دل نہ لگنا۔ خوفناک خواب آنا یا ڈراؤنے مناظر ذہن میں آنا۔ اسی طرح اگر آپ خود کو اس کیفیت میں پائیں تو درج ذیل طریقے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
1. خبروں کو محدود وقت دینا:
یاد رکھیں اگر کوئی خبر آپ پر بہت زیادہ منفی اثر ڈال رہی ہے تو اسکی لت لگنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لہذا روزانہ صرف 30 منٹ سے کم وقت خبروں (چاہے وہ ٹی وی پر ہوں یا سوشل میڈیا پر) کو دیکھنا۔ خاص طور پر سونے سے پہلے بہت مؤثر طریقہ ہے اس اضطراب کو قابو میں رکھنے کا۔
2. اپنے احساسات کو بانٹیں:
جنگ یا کسی بحران کی صورتحال میں اکثر انسان کو ایک عجیب سی بے یقینی اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے جو وہ پہلے کبھی نہیں جھیلا ہوتا۔ ایسے وقت میں قریبی دوستوں یا خاندان سے کھل کر بات کریں تاکہ آپ کا ذہن حقیقت کی بنیاد پر سوچ سکے۔
3. اگر دماغی دباؤ بہت زیادہ ہو جائے تو ماہر نفسیات سے مدد لیں:
اگر محسوس ہو کہ یہ خبریں آپ کی ذہنی صحت کو بُری طرح متاثر کر رہی ہیں تو فوراً کسی ماہر نفسیات (جیسے سائیکاٹرسٹ یا تھراپسٹ) سے رجوع کریں۔
4. انسانی تعلقات کو اہمیت دیں:
جب آپ اپنی بےچینی کو کسی قریبی اور ہمدرد انسان کے ساتھ بات چیت میں تبدیل کرتے ہیں تو بے بسی کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔
5. فطرت سے رابطہ رکھیں:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ صرف 15 منٹ فطرت (مثلاً پارک، درختوں، سبزے یا کھلی فضا) میں گزارنے سے اضطراب کم ہوتا ہے۔
6. اپنے جسم کا خیال رکھیں:
صحت مند خوراک کھائیں۔ پانی زیادہ پئیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ/نم رہے۔ نیند پوری کریں اور سونے جاگنے کا باقاعدہ وقت رکھیں۔ سونے کو اپنی ترجیح بنائیں کیونکہ نیند ہی ذہنی سکون کی بنیاد ہے۔
7. مصروفیات کا درست استعمال کریں:
جب آپ خبروں اور سیاسی گفتگو سے دوری اختیار کرتے ہیں تو آپ کے پاس زیادہ وقت بچتا ہے۔ اگر اس وقت کو بہتر طریقے سے نہ گزارا جائے تو ذہن پھر سے فکر کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے مشغلے اپنائیں جو ذہنی سکون دیں جیسا کہ مطالعہ، ورزش، دعا یا موسیقی وغیرہ۔
8. غصے کو قابو میں رکھیں:
جنگی اضطراب اکثر غصے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جب انسان کو لگے کہ وہ حالات پر قابو نہیں رکھ پا رہا۔ ایسی حالت میں مراقبہ، سانس لینے کی مشقیں اور جسمانی سرگرمیاں بہت فائدہ مند ہوتی ہیں۔
9. ایروبک ورزش کریں:
کوئی بھی ورزش جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو (جیسے دوڑنا، تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا) اضطراب کو کم کرتی ہے۔ جتنی شدید ورزش ہوگی اس کے نتائج اتنے ہی اچھے ہوں گے۔
10. اگر خود سے بہتر محسوس نہ کریں تو ماہر نفسیات سے رجوع کریں:
- اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ تمام تدابیر آزمانے کے باوجود بھی آپ خود کو سنبھال نہیں پا رہے تو فوراً کسی ماہرِ نفسیات یا تھراپسٹ سے مدد لینا بہترین قدم ہوگا۔















