اس وقت دنیا میں چند ہی قومیں ہیں جنہوں نے غلامی سے چھٹکارا نہیں پایا اور وہ اس جدوجہد میں ہیں کہ کیسے آزاد ہو کر اس دنیا میں آزادی سے سانس لے پائیں. بلوچ قوم ان اقوام میں سے ایک ہے جو اسی کشمکش سے گزر رہی ہے اور دو بڑی ظالم طاقتوں کے درمیان پس رہی ہے. ہم اگر اپنی آزادی کو حاصل کرنے کے لیے وہ طریقے اپناتے ہیں جو سبھاش چندرا بوس یا بھگت سنگھ نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنائے تھے یا نیلسن منڈیلا نے اپنے ملک کے لیے اور پھر چے گویرا نے کیوبا کی آزادی کا حصہ بن کر کیا تھا، ان سب نے لڑ کر آزادی حاصل کی تھی، اور ہم بھی آزادی چاہتے ہیں تو ہم بھی وہی کریں گے جو انہوں نے کیا یا یوں کہیں کہ ہم بھی انہی لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں یا چلنے کی کوشش کر رہے ہیں.
تو وہ کیا اعمال ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ابھی تک آزادی ملنے کے آثار نظر نہیں آرہے؟
سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ان لوگوں نے کس دور میں یہ کام انجام دیئے اور اُس وقت دنیا کے حالات کیسے تھے اور اِس وقت جب ہم آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تو اِس وقت دنیا کے حالات کیسے ہیں. اگر جغرافیائی اعتبار سے دیکھیں تو ہندوستان نے ایک ایسے ملک سے آزادی حاصل کی جو باہر سے آیا ہوا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ اس کا اپنا ہمسایہ ملک نہیں تھا، جو ہندوستان کی آزادی کے بعد وہاں سے ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا.
اگر بلوچستان کی بات کریں تو بلوچستان تین ہمسایہ ممالک میں بٹا ہوا ہے اور بلوچستان پر ابھی کسی بھی باہر سے آنے والے ملک کا قبضہ نہیں ہے، بلکہ ہمسایہ ممالک ہیں جو بلوچستان کی آزادی کے بعد بھی ہمیشہ یہیں رہنے والے ہیں.
اس کے بعد اگر ہم غور کریں تو اُس وقت دنیا میں دوسری جنگ عظیم کا دور تھا جس میں بڑی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہی تھیں اور اسی چیز کا فائدہ بہت سے جنگجوؤں نے اپنے ملک کے لیے اٹھایاتھا، ایسے ہی ہم اگر سبھاش چندرا بوس کی بات کریں تو سبھاش چندرا بوس 1897 میں کٹک کے علاقے میں بنگالی ہندو گھرانے میں پیدا ہوا. 1919 میں انہوں نے کیمبرج میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے انگلینڈ کا سفر کیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے اپنے والد کی خواہش کی تعمیل کی جو چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا برطانوی ہندوستان میں اعلیٰ انتظامی خدمات سرانجام دے اور ہندوستانی سول سروسز میں ملازمت کرے۔ تاہم اس نے امتحانات میں کامیاب ہونے کے باوجود ہندوستان کا رخ کیا، کیونکہ اسے خود نوآبادیاتی ملک میں نوآبادیاتی طاقت کے ملازم کی حیثیت سے کام کرنا ناقابل قبول تھا اور وہ1921 میں ہندوستان واپس آگیا۔
انہوں نے 1921 میں مہاتما گاندھی سے ملاقات کی اور ہندوستانی نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے۔ بوس کے سخت مخالف برطانوی مؤقف نے انہیں 1921 سے 1941 کے درمیان تین سال تک کی گیارہ بار قید کی سزا بھی دلوائی۔ 1927 میں بوس نے ہندوستان کے لئے فوری اور جامع خودمختاری پر اصرار کیا، جو گاندھی کے نظریات کے بالکل برعکس تھا تو وہ گاندھی کے نظریات کی مخالفت میں آگئے. 1933 سے 1936 تک بوس یورپ میں رہے جہاں انہوں نے اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے بھی ملاقات کی۔ انہیں یقین تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف خارجہ پالیسی کی حمایت سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ 1941 میں سبھاش چندرا بوس کابل پھر ماسکو کے راستے جرمنی پہنچ گئے۔ 1942 میں انہوں نے ایک ریڈیو خطاب میں “ہندوستان کی آزادی” کا مطالبہ کیا۔ بوس نے جرمن حکمران ہٹلر سے ہندوستان کی آزادی کے لئے حمایت کا مطالبہ بھی کیا۔ 1943 میں بوس جاپان کے لیے روانہ ہوئے اور جاپانی مقبوضہ سنگاپور میں اس کا خیرمقدم کیا گیا. اسے ہندوستانی فوج کا قائد قرار دیا گیا جو لگ بھگ 40 ہزار پر مشتمل تھا جو جنوب مشرقی ایشیاء میں برطانوی جنگی قیدی تھے. سبھاش چندرا بوس ایک ہندوستانی قوم پرست تھے جن کی منحرف حب الوطنی نے انہیں ہندوستان میں ہیرو بنا دیا، لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران جس نے جرمنی اور جاپان کی مدد سے ہندوستان کو برطانوی حکمرانی سے نجات دلانے کی کوششیں کیں.
جس دور میں سبھاش چندرا بوس ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے تھے اسی دور میں ہندوستان میں ایک اور جنگجو بھی تھا جس نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت بڑا نام کمایا تھا جس کا نام تھا بھگت سنگھ. جو 1907 میں پنجاب (ابھی کے پاکستانی پنجاب) میں پیدا ہوئے. بھگت سنگھ آزادی کے لئے برطانوی مخالف جدوجہد میں ایک ہندوستانی انقلابی تھے۔ انہوں نے ہندوستان کی پہلی سوشلسٹ تنظیم یوگیندر شکلا اور چندرشیکھر آزاد کے ساتھ ایچ ایس آر اے (ہندوستانی سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن) کی بنیاد رکھی. ایک برطانوی پولیس افسر کے قتل کے الزام میں بھگت کو پھانسی دیی گئی۔ 1928 میں بھگت سنگھ اور اس کے ایک ساتھی نے 21 سالہ برطانوی پولیس افسر سینڈرز کو لاہور میں گولی مار دی تھی، سینڈرز کو غلطی سے قتل کر دیا تھا، جن کو انہوں نے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ برطانوی پولیس سپرنٹنڈنٹ اسکاٹ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسکاٹ ایک مشہور ہندوستانی قوم پرست رہنما لالہ لاجپت رائے کی موت کا ذمہ دار تھا جس پر انہوں نے لاٹھی چارج کا حکم دے دیا تھا جس میں رائے زخمی ہوگئے تھے اور اس کے دو ہفتے بعد ہی دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ 1929 میں اس نے ایک ساتھی کے ہمراہ اسمبلی میں دو بم دھماکے کیے اور پھر گرفتاری دی. جیل میں بھوک ہڑتال بھی کی جو کئی دنوں تک چلی اور ایک ساتھی کی موت کے بعد ہی بھوک ہڑتال کا خاتمہ ہوا، اور پھر اسے 1931 میں دو اور ساتھیوں سمیت پھانسی دے دی گئی. انہیں شمالی ہندوستان میں ایک شہید سمجھا جاتا ہے۔ ان کی موت نے پنجاب بھر میں فسادات کو جنم دیا کیونکہ مہاتما گاندھی کو بھگت سنگھ اور ان کے کچھ ساتھی قیدیوں کو رہا کرنے کا موقع ملا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے کیونکہ بھگت سنگھ ایک پرتشدد انقلابی تھے اور اس طرح انہوں نے گاندھی کے عدم تشدد کے خلاف مزاحمت کے اصول کی خلاف ورزی کی اور اس کے نتیجے میں کچھ سکھوں نے ابھی بھی گاندھی کو ہندوستان کا قومی ہیرو تسلیم نہیں کیا۔ بھگت سنگھ ایک ہندوستانی سوشلسٹ انقلابی تھا جس کی ہندوستان میں انگریز کے خلاف دو ڈرامائی تشدد اور 23 سال کی عمر میں پھانسی نے انہیں ہندوستانی تحریک آزادی کا ایک ہیرو بنا دیا تھا.
اور اگر ہم چے گویرا کا آزادی سے جڑے جدوجہد کو سہی سمجھتے ہیں تو اس کی زندگی پر ایک نظر ڈالنے سے پہلے فیدل کاسترو کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ کون تھے اور چے گویرا کی زندگی کے سفر میں اس کا کیا کردار تھا.
فیدل کاسترو 1926 میں کیوبا میں پیدا ہوئے۔ وہ اسپین سے ہجرت کرکے کیوبا میں بسنے والے ایک بہت امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے.1952 میں کاسترو پارلیمنٹ میں نشست کے لئے امیدوار تھے لیکن الیکشن ہونے سے پہلے کیوبا کے سابق صدر بتیستا نے فوج لے کر کیوبا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا. یہ حالت دیکھ کر کاسترو نے اپنی پرسکون زندگی چھوڑ کر ہتھیار اٹھا لئے، اس دوران غداری کے مقدمے میں وہ جیل بھی گئے. انقلاب لانے کے لیے کاسترو میکسیکو گئے جہاں اس کی ملاقات چے گویرا سے ہوئی۔ دونوں نے مل کر روس کی مدد سے ایک بہت بڑی انقلابی فوج بنائی جس کی مدد سے چے گویرا نے کیوبا کے شہر سانتاکلارا اور کاسترو نے کیوبا کے دارالحکومت حوانا پر قبضہ کر کے کیوبا میں انقلاب برپا کر دیا. کیوبا کے انقلاب کے پیچھے کاسترو محرک قوت تھے، جس نے 1958 کے آخر میں ڈکٹیٹر بتیستا کا اقتدار ختم کردیا تھا، چنانچہ اس انقلاب میں روس کا ملوث ہونا اور جغرافیائی لحاظ سے کیوبا کا امریکہ کے قریب ہونا، امریکہ کو ناخوشگوار گزرا جس کی وجہ سے امریکہ نے کیوبا اور کاسترو پر حملے کرائے مگر وہ ناکام ہوئے، جس کے بعد کاسترو کے دل میں امریکہ کے لیے نفرت اور بڑھ گئی تو اس نے روس کو کیوبا میں جوہری ہتھیاروں کے اڈے فراہم کرائے جس کے نتیجے میں دنیا کی تیسری جنگ عظیم چڑھنے والی تھی. کاسترو کیوبا کے فوج کے سربراہ سمیت وزیر اعظم اور صدر بھی رہے ہیں، وہ ایک ڈکٹیٹر تھا مگر کیوبا کی عوام کے پسندیدہ تھے. امیروں سے لے کر غریبوں میں بانٹنے والے فیدل کاسترو 2016 میں 90 سال کی عمر میں کیوبا میں انتقال کر گئے.
چے گویرا 1928 میں ارجنٹائن میں پیدا ہوئے اور اس کا نام ارنیسٹو گویرا تھا. چے گویرا کارل مارکس سے بہت متاثر تھے جس کی وجہ سے کمیونزم نے اس کے دل اور دماغ پر غلبہ حاصل کرلیا تھا. اس دور میں دنیا میں دو نظام چل رہے تھے ایک طرف امریکہ، فرانس اور برطانیہ جو سرمایہ دارانہ نظام کے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اور دوسری طرف کمیونزم جو غریبوں کی حمایت کرتے تھے جن میں روس اور چائنا جو کمیونزم نظام کے حامی تھے. چے گویرا نے اپنے ہمسایہ ممالک کے سفر کئے جہاں سے اسے غریبوں سے ہمدردی اور سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت اور ملی. اسی دوران اس کی ملاقات کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو سے ہوئی جس کے بعد وہ فیدل کاسترو سے جڑ گئے اور کیوبا کے انقلاب کا حصہ بنے. چے کا لقب بھی فیدل کاسترو نے اسے دیا، اس طرح ارنیسٹو گویرا اب چے گویرا بن گیا تھا. 1958 میں روس کی مدد سے کیوبا میں ان کا انقلاب کامیاب ہوگیا اور امریکہ اس چیز سے نا خوش تھا.
چے گویرا امریکہ کو بہت نا پسند کرتا تھا اس کے باوجود وہ امریکہ گئے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کیا. چے گویرا اور فیدل کاسترو کی وجہ سے امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی جنگ اور تیسری جنگ عظیم کا آغاز بھی ہونے والا تھا مگر روس نے ہوش کے ناخن لیے اور جنگ کا آغاز نہیں کیا. یہ چیز دیکھ کر چے گویرا نے چائنا سے نزدیکی بڑھا لی کیونکہ چائنا بھی روس کی طرح ایک کمیونسٹ تھا. روس اور چائنا کے تعلقات آپس میں اچھے نہیں تھے تو روس نے فیدل کاسترو کو چے گویرا کے خلاف بھڑکایا. 1965 میں چے گویرا نے الجزائر میں روس پر شدید تنقید کی تو اس کے کیوبا لوٹتے ہی فیدل کاسترو نے چے گویرا کو گرفتار کر لیا اور 2 دن قید کے بعد رہائی تو ملی پر سینٹرل کمیٹی سے نکال دئیے گئے تھے. طبیعت سے انقلابی ہونے کی وجہ سے اس نے افریقی ملک کانگو کا رخ کیا وہاں پر انقلاب لانے میں ناکام ہوئے تو بولیویا چلے گئے اور وہاں کے انقلاب میں حصہ لیا، مگر وہ وہاں بھی ناکام ہوئے کیونکہ وہ وہاں کے انقلابی لوگوں کے لیڈر بننا چاہتے تھے جو وہاں کے مقامی باشندوں کو منظور نہیں تھی. بولیویا کی حکومت کو چے گویرا کی آمد کا پتہ چل گیا تھا، تو چے گویرا کی کیوبا واپسی پر اس پر حملہ کر کے گرفتار کر لیا گیا. 1967 میں بولیویا کی ایک جیل میں اسے قتل کر دیا گیا. قتل کے بعد اس کے دونوں ہاتھ کاٹ کر ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا. 30 سال بعد اس کی لاش برآمد ہوئی، اس وقت بولیویا کے حالات پہلے سے بہتر تھے تو اس کی لاش کو عزت کے ساتھ کیوبا بھیج دیا گیا. کیوبا میں فیدل کاسترو نے اس کی آخری رسومات بڑے عزت و احترام سے ادا کیے. آج بھی دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو چے گویرا کو ایک انقلابی اور ایک انسان دوست کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک میں اسے ایک دہشت گرد کے روپ میں دیکھا جاتا ہے.
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ تھے تو وہ عروج پر تھا اور جس وقت ان طاقتوں نے اپنے منہ پھیرے تو زوال اس کا مقدر بن گیا. طاقتور کے قریب رہ کر اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہوجائے کہ وہ بھی طاقتور ہے تو اس غلط فہمی کو سر اٹھانے سے پہلے وہی طاقت کچل دیتا ہے. سپاہی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ لڑتے ہوئے مارا جائے اور شہید کہلائے تو اسے میدان جنگ میں گھیریئے ٹھیک بندوق کے سامنے اسے کھڑا کیجئے اور پھر تین، دو، ایک….. اس سے سپاہی کی خواہش بھی پوری اور میدان بھی صاف.
نیلسن منڈیلا 1918 میں ساؤتھ افریقہ میں پیدا ہوا جس کا اصلی نام رولیح لاحلا تھا. 300 سو سال پہلے جب برطانیہ نے ساؤتھ افریقہ پر قبضہ کر لیا تھا تو ان کے ساتھ کچھ نیدرلینڈی بھی آئے تھے جنہیں ڈھچ بھی کہتے ہیں. 1931 کو جب برطانیہ افریقہ کو چھوڑ کر چلا گیا تھا، لیکن نیدرلینڈی واپس نہیں گئے تھے. نیدرلینڈ کے سفید فام لوگوں کی تعداد 9 فیصد تھی اور افریقی جو وہاں کے مقامی باشندے تھے ان کی آبادی 91 فیصد تھی. ان 9 فیصد نیدرلینڈی سفید فام لوگوں کا پورے ساؤتھ افریقی سیاہ فام لوگوں پر راج تھا، برطانیہ کے جانے کے باوجود ساؤتھ افریقی غلام تھے. نسل پرستی اور بالاتری سوچ کی وجہ سے سیاہ فام اپنے ہی ملک میں سہولیات سے محروم تھے، سفید فام لوگوں کی حکومت تھی اور سیاہ فام لوگوں سے جانوروں جیسا برتاؤ کیا جاتا تھا. انہی حالات کی وجہ سے نیلسن منڈیلا نے اپنے لوگوں کے حق میں آواز اٹھائی اور اس سے تمام سیاہ فام لوگ جڑ گئے. اس پہ ملک سے غداری کے بھی الزامات لگے جس کی وجہ سے اسے کل ملا کر 27 سال جیل کی سزا بھی ملی. لمبے عرصے تک جیل میں قید ہونے کی وجہ سے نیلسن منڈیلا کا آزادی حاصل کرنے کا جنون ختم ہو چکا تھا اور وہاں ساؤتھ افریقہ پر عالمی برادری کا سیاہ فاموں پر ظلم کرنے کے خلاف دباؤ آرہا تھا اور اس وقت ساؤتھ افریقہ پر تجارتی پابندیاں بھی لگ رہی تھیں، ملک کے حالات بد سے بدتر ہو گئے تھے. نیلسن منڈیلا نے حکومت سے مذاکرات کئے جس کے نتیجے میں اسے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملی اور وہ برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا. مگر اس نے افریقہ پر قبضہ کرنے والے سفید فام لوگوں کو اپنے ملک سے نہیں نکالا بلکہ ان کے ساتھ مل کر حکومت چلائی، جس کی وجہ سے اسے دنیا میں ایک بہت بڑی شہرت ملی اور اسے امن کا نوبل پرائز بھی دیا گیا. اسی دوران امریکہ میں بھی سیاء فام لوگ اپنے حقوق، برابری کے حق اور نسل پرستی کے خلاف لڑ رہے تھے. امریکہ میں بھی مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فام لوگوں کے حق کے لیے جدوجہد شروع کر دی تھی جس کے نتیجے میں وہ کئی مرتبہ جیل بھی گیا تھا، اس پوری جدوجہد میں مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی حکومت کو سیاہ فام لوگوں کے حق دینے کے لیے مجبور کیا اور ان کوششوں میں انہوں نے اپنی جان بھی دی.
چے گویرا ہو یا فیدل کاسترو یا پھر سبھاش چندرا بوس، ان سب نے جو بھی کارنامے سر انجام دئیے اس میں زیادہ تر بیرونی طاقتوں کا عمل دخل تھا. بھگت سنگھ کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مختصر زندگی کا مالک تھا اسی لیے وہ بیرونی طاقتوں کی مدد سے محروم رہا.
نیلسن منڈیلا کی زیادہ تر کوشش آزادی کے لیے نہیں بلکہ نسل پرستی کے خلاف تھی جس کی اُس وقت زیادہ تر ممالک حمایت کررہے تھے. اب ان باتوں سے کیا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے یا بیرونی طاقتوں کی مدد زیادہ اہمیت کا حامل ہے. کسی بھی کام کو تیاری کے بغیر انجام دینا ایسا ہے کہ جیسے لوہے کو چبانا اور اسے ہضم کرنا.
(جاری















