حصہ دوئم (گذشتہ سے پیوستہ) جس طرح ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں دیکھا کہ کس طرح دنیا کی چند مشہور شخصیات نے اپنے مقاصد انجام دئیے. ان کرداروں سے ہمیں متاثر ہونا چاہیے یا پھر انہیں ڈھونڈنا چاہیے جو ان شخصیات کو ان کے وجود دینے میں اہم کردار تھے. ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ سہی وقت پر سہی جگہ پر تھے. کیا ہمارے پاس ایسے جانباز سپاہی یا رہبر نہیں تھے؟ جس سوال کا جواب آپ کے پاس ہو تو اُس سوال کو پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی پر اس کے باوجود یہ کہتا چلوں کہ بے شک تھے. لیکن اُن کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ان کی اہمیت تب کم ہوتی ہے جب ان کی جگہ ہم دوسروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں. ہم ہمیشہ اپنوں کو نیچا دکھاتے ہیں اور دوسروں کو اونچا مقام بخشتے ہیں اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے ہماری ناکامی کی. تو آخر بلوچستان کو آزادی دلانے کے لیے کچھ اور بھی راستے ہونگے جو کچھ حد تک آزادی کو یقینی اور ممکن بناتے ہوں گے جیسے اقوام متحدہ اور یورپی یونین یا وہ طریقہ جو بنگالیوں نے بنگلہ دیش کو آزاد کرنے کے لیے کیا. بلوچستان پر اس وقت دو بڑی طاقتوں کا پاکستان اور ایران کی صورت میں قبضہ ہے اور یہ دونوں ممالک وہ ممالک ہیں جنہوں نے اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کی فہرست میں اپنا نام درجہ اوّل میں درج کروایا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے بالکل خلاف ہے، اور اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے یا شاید یہ دونوں ممالک انہی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جنہوں نے یہ بین الاقوامی قوانین بنائے ہیں. اس وقت بلوچستان کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے اداروں سے امید زیرِ بحث ہے اور اگر ہم یہ کہیں کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ سے کیا امیدیں ہیں تو پہلے اقوام متحدہ کے بارے میں جاننا ہوگا. اقوام متحدہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قیام میں آیا، اقوام متحدہ کا قیام میں لانے کا مقصد دنیا کو عالمی جنگوں سے بچانا ہے. اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ پاکستان اور ایران سمیت 193 ممالک اس کے ممبروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ ایسے بین الاقوامی سطح پر متعلقہ امور پر کارروائی کرسکتا ہے جیسے امن و سلامتی، آب و ہوا کی تبدیلی، پائیدار ترقی، انسانی حقوق، اسلحے کے پھیلاؤ کی روک تھام، دہشت گردی کو روکنے، انسانیت سوز اور صحت کی ہنگامی صورتحال اور زرعی پیداوار شامل ہیں۔ اقوام متحدہ دنیا کے ممالک کا سب سے بڑا گروپ ہے۔ یہ اپنے ممبروں کے مابین بات چیت اور گفت و شنید کو ممکن بناتا ہے تاکہ مل کر دنیا کے سب سے اہم مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ لہذا دنیا کی نظروں میں آج یہ دنیا کی ایک سب سے طاقتور اور اہم ادارہ ہے۔ دنیا کی نظر میں اقوام متحدہ ایک کامیاب ادارہ ہے جو معاملات حل کر سکتا ہے، اگر ایسا ہے تو امریکہ عراق پر حملہ کیسے کرتا اور اگر اس چیز کو نظر انداز بھی کریں تو تب بھی شامی، کرد عوام اور بلوچوں کے حالات بہتر بنانے میں ناکام ہے. اقوام متحدہ میں پانچ ایسے ممالک ہیں جن کے پاس ایسی طاقتیں ہیں (جن کو ویٹو پاور کہتے ہیں) جو کسی بھی طرح کے عالمی مسئلے کا حل اپنے مفاد کے مطابق کرنے کی طاقت یا جو ان کے مفادات کے خلاف ہو تو اس کو رد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں. یہ ممالک دنیا کے بڑے بڑے فیصلے ایک “ہاں” سے کرسکتے ہیں یا دنیا کے بڑے بڑے فیصلوں پر عملدرآمد ایک “نہ” سے روک سکتے ہیں. ان پانچ ملکوں میں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں. یہ وہ ممالک ہیں جو دنیا پر اپنی حکومت چاہتے ہیں. ماضی میں تو برطانیہ یہ مزا چک چکا ہے اور حال میں دنیا پر امریکہ کا راج ہے، مگر امریکہ کو یہ ڈر بھی ہے کہ مستقبل میں اس کے سر کا تاج کہیں چین کے سر نہ جائے. اگر ماضی کی بات کریں تو برطانیہ، روس اور فرانس کے اسی بادشاہت کے ہوس نے ایشیاء اور افریقہ کے خطے کا پورا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا اور اس خطے میں رہنے والے لوگوں کی زندگی پر انتہائی گہرے اور ناقابل یقین اثرات ڈالے ہیں. کہیں پہ نئے ممالک وجود میں آئے تو کہیں پہ پرانے ممالک وجود سے ہی مٹ گئے. پاکستان کا وجود میں آنا اور بلوچستان کا مٹ جانا، یہ ایک بہت بڑی مثال ہے. دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کے سر سے دنیا میں حکومت کرنے کا تاج چھن کر امریکہ کو چلے جانا اور ایشیاء میں ہندوستان سے ایک زلت آمیز شکست کے بعد ایشیاء سے جاتے ہوئے اور اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے وہ چیز کر گیا جس کی برپائی اس خطے کے لوگ اب تک کررہے ہیں. جب برطانیہ کو ہندوستان سے شکست ملی تو برطانیہ نے ہندوستان کے دو ٹکڑے کر کے پاکستان کو وجود دیا. پاکستان وہ ملک تھا کہ جس کا اپنا کوئی آئین بھی نہیں تھا، پاکستان 1947 میں بنا جس میں 1935 کی برطانوی آئین نافذ کر دیا گیا اور پاکستان کا آئین پاکستان بننے کے نو سال بعد 1956 میں عمل میں آیا. جب پاکستان نے 1948 میں بلوچستان پر قبضہ کیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان اور برطانیہ نے مل کر بلوچستان پر قبضہ کیا. اقوام متحدہ کے قیام کے دو سال بعد پاکستان اقوام متحدہ کا رُکن بنا تو سب سے پہلے ایران نے اسے تسلیم کیا اور فرانس میں پاکستانی پرچم سب سے پہلے لہرایا گیا. اگر چیزوں سے فرانس اور برطانیہ کا پاکستان سے گہرے دوستی کا اندازہ لگا سکتے ہیں تو چین ان سے دو قدم آگے ہے کیونکہ چین کو پاکستان چاہیے تاکہ بلوچستان کے ذریعے یورپ اور پوری دنیا میں رسائی حاصل کر کے تجارت کر سکے اور بلوچستان کے وسائل لوٹ کر اپنی معیشت کو ناقابل تاثیر بنا سکے. امریکہ بھی کئی مرتبہ پاکستان کو اپنی جنگوں کے لیے استعمال کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں پھر سے ایران یا اس خطے میں کسی بھی ملک سے نپٹنے کے لیے پاکستان کو ایک مہرے کی طرح استعمال کر سکتا ہے. اب اگر ہم ایران کی بات کریں تو اس کی پشت پناہی روس کرتا ہے. اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ جب برطانیہ ہندوستان، افغانستان اور بلوچستان پر قبضہ کر چکا تھا تو ایران اس سے کیسے بچا. اگر ہم پچھلے کچھ واقعات پر نظر ڈالیں تو ایران کئی مرتبہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے ساتھ عرب ممالک میں خانہ جنگی اور ان میں تضاد پیدا کرنے کا سفر روس کے ساتھ مل کر ہی طے کر چکا ہے. اب بلوچستان کی پاکستان اور ایران سے آزادی ان عالمی طاقتوں کے سہارے، یہ ایسا ہے کہ جان بوجھ کر خود کو اندھیرے میں دھکیلنا. اور اگر کہیں غلطی سے بھی ان پانچوں قوتوں میں سے زیادہ تر ممالک نے بلوچستان کی آزادی کے حق میں فیصلہ دیا تو تب ایک کے انکار سے بلوچستان اپنی آزادی کے حق سے محروم ہو جائے گا. وہ یوں کہ ایک کی “نا” چار کی “ہاں” سے زیادہ طاقت رکھتا ہے. اور اگر ہم یورپی یونین کی بات کریں کہ اس کا بلوچستان کے معاملے سے کچھ تعلق بھی ہے یا ان کا کام کچھ اور ہے. سال 1945 میں انسانی تاریخ کی سب سے مہلک واقعہ دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا. یورپ اور پوری دنیا میں بہت سارے قائدین میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ یہ المناک تباہی صدیوں سے طویل عرصے سے پھیلے ہوئے عسکریت پسندانہ قوم پرستی کی مثالوں سے پیدا ہوئی ہے. درحقیقت اٹلی میں مسولینی اور جرمنی میں ہٹلر صرف اپنے ملک میں غیر منحصر اقلیتی ثقافتوں کے ممبروں اور اپنے ملک کے باشندوں کے مابین خوف اور عدم اعتماد پھیلانے کے ذریعے اقتدار میں اپنے اپنے عروج کو نتیجہ خیز ہونے کے قابل تھے۔ اس کے نتیجے میں جنگ کے بعد متعدد قومی رہنماؤں نے ایسے حل تلاش کرنے کے لئے مل کر کام کرنا شروع کیا جو ساتھی یورپی ممالک کے مابین باہمی تعاون اور اعتماد کو بڑھا سکے۔ یورپی یونین نام نہاد یورپی برادری کی موجودہ ریاست ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد گذشتہ سات دہائیوں کے دوران تیار ہوئی ہے، وہ معاملہ جس نے یورپ کو تباہ کردیا تھا۔ اس کو تشکیل دینے کا مقصد معاشی بہتری کو منظم اور فروغ دینا، انسانی حقوق کا تحفظ کرنا، شہری اور معاشرتی انصاف کو انجام دینے اور اس میں اضافہ کرنا ہے۔ رکن ممالک کی قومی سرحدوں کے پار انسانوں کی نقل و حرکت میں آسانی اور افادیت دینا ہے۔ 1950 کی دہائی میں یورپ کے اندرونی چھ ممالک کے ساتھ شروع ہونے والی یوروپی یونین کی مسلسل توسیع کے ساتھ 28 ممبر ممالک کی زینت تک پہنچ گئی تھی، جو کہ بعد میں برطانیہ کی روانگی کے ساتھ کم ہوکر 27 ہوگئی ہے۔ یورپی یونین کی بنیاد رکھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے علاوہ یورپ یا باہر کے ممالک کے مسائل حل کرنا بلکہ صرف یورپی یونین سے جڑے رکن ممالک کے معاملات دیکھنا ہے. آپ اگر ان کے پاس جائیں گے تو وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ان سے آپ کو کیا فائدہ ہونے والا ہے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ آپ سے ان کو کیا فائدہ ہونا ہے. ہاں یورپین یونین میں پاکستان اور ایران کے دہشت گردی کے واقعات زیرِ بحث ہوتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ بلوچستان کو کیسے ان سے بچایا جائے بلکہ اس لیے کہ کیسے ان دہشت گردوں سےخود کو بچایا جائے. اور اگر ہم یہ کہیں کہ جیسے بنگلہ دیشیوں نے مر کر، کٹ کر اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی حاصل کی ہے اسی طرح لڑ کر ہم بھی آزادی حاصل کرلیں گے تو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اُس وقت پاکستان ایک جوہری طاقت نہیں تھا مگر اب پاکستان ایک جوہری طاقت بھی ہے اور ان جوہری ہتھیاروں کے معائنے بلوچستان میں ہی جانچے جاتے ہیں. جغرافیائی اعتبار سے دیکھیں تو اس طرح کی جنگ بلوچستان کے حق میں بالکل بھی نہیں جاتا. 1970 میں جب پاکستان میں نئے وزیراعظم کے لیے الیکشن ہوئے تو شیخ مجیب الرحمن کی 160 نشستیں بھٹو کے 81 نشستوں سے بہت آگے تھے. شیخ مجیب الرحمن ابھی کے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے والد تھے. اس وقت مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے سارے لوگ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ تھے اور مغربی پاکستان (پاکستان) کے سارے لوگ بھٹو کے ساتھ تھے. پاکستان واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا. بنگلہ دیشی یہ الیکشن جیت چکے تھے لیکن شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار دینے کی بجائے یحییٰ خان اور بھٹو نے مل کے بنگلہ دیش میں فوجی آپریشن شروع کروا دیا. یہ پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے وہ یہ جنگ ہارنے والے تھے کیونکہ بنگلہ دیش پاکستان سے ہزاروں میل دور تھا اور کئی مہینوں کے جنگ کے بعد آخر وہی ہوا جو ہونا تھا، آج بنگلہ دیش ایک آزاد ملک ہے. سیدھی سی بات ہے جو تمہارا ہوتا ہے وہ واپس تمہارے پاس ہی آجاتا ہے اور جو تم کسی سے چھینتے ہو وہ پھر سے تم سے چھن جاتا ہے. اس مضمون میں پیش کئیے کلمات ان نام نہاد انسان دوست اداروں کی حقیقت بیان کرنا ہے ناکہ ان لوگوں کو مایوس کرنا ہے جو انہی اداروں پر یقین رکھتے ہیں یا ان سے ان کی امیدیں وابستہ ہیں. (جاری ہے)