بلوچ تحریک کو کچلنے کے لیے ریاست ہر وقت ہر لمحہ مختلف حربے آزما رہا ہے اور اس کی کوشش بھی یہی ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح بلوچ قوم کو آپس میں ہی الجھا کروہ فاہدہ اٹھا سکے۔دشمن ریاست ہر قسم کی ہتکھنڈے استعمال کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہمیں کمزور کیا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ سنگت حیر بیار مری کی طرف سے ممکنہ اتحاد کی نوید اور تمام آزادی پارٹیوںکے سامنے دو نکات سے تو ریاست کے نیندین آڑ چکے ہوں گے اب یہ بلوچ قوم اور باقی پارٹیوں کی زمہ داری ہے کہ ایک اپنی اپنی ڈیڑھ انچ مسجد و مندر بنانے کے بجائے یک زبان ہو کر دشمن ریاست کے خلاف اپنی توانائی اور طاقت استعمال کریں۔ اپنے مختلف حربوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم میں ابھرتی اتحاد کی قومی احساس, حوصلہ اور بلوچ قائدین کی ممکنہ اتحاد سے پریشان حاکم کی نہایت کوشش بھی رہیگی کہ بلوچ کے اس اتحاد میں مزید پیشرفت کو کسی صورت ناکام بنا دیا جائے.اور اس کے لیے اس نے مختلف پٹو ہمارے اندر بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے وہ ممکنہ اتحاد کو بننے سے پہلے ہی توڑنے کی کوششوںمیں لگا ہے۔کیونکہ بلوچ مسئلے کی بین الاقوامی سطح پر شہرت کے بعد جب بلوچ قائدین متحد ہوکر بلوچ مسئلے پر بات کرتے ہوئے دیگر ممالک میں اپنے لئے دوست بنائے تو انکی بات مؤثر ہوگی اور انکی بات کو بہتر انداز میں سنا جاے گا۔ قبزاگیر اپنے روایتی پراسرار حربے زیر ا استعمال لاتے ہوئے، بلوچوں کی صفوں میں موجود اپنے پیداگروں دلالون پیسے کے پجاریون اور غیر شعوری طور پر قابض کا ہاتھ بٹانے والے ناداں ساتھیوں, اور ریاستی مشینری کے ذریعے وہ ہر ممکن کوشش کریگا جس سے بلوچ مسئلے پر بلوچ قائدین اور عوام کے درمیان غلط فہمی پیدا کرتے ہوئے انہیں آپس میں مزید دور کیا جا سکے ۔ کسی بھی اتحاد بننے سے پہلے ہمیں اپنی پرانی نادانیون غلطیون اور گروہیت پسندی ذاتی مفادات اور زاتی تعلقات کی وجہ سے تنظیموں میں من مانییوں اور تنظیموں کو استعمال کر کے زاتی دشمینیون سے تحریک کو جو نقصان پہنچا ہے ان کے جوابدہ ہونا پڑے گا کیونکہ بلوچ جدوجہد کی کہی نشیب وفراز ہم نے اپنی آنکھون سے دیکھے ہیں کہ کس طرح بلوچ نے اپنی آزادی کو جدوجہد پوری دنیا کو منوایا کہ بلوچ کو چاہیے تو صرف آزادی دشمن ریاست سے ہمیشہ سے چھٹکارا اور پھر دنیا کی یمدردی حاصل کی۔بلوچ سرزمین کی کونے کونے سے مسلح و سیاسی پارٹیون کو عوامی حمایت حاصل رہی۔بلوچ قوم نے مسلح و سیاسی پارٹیون کو اپنا مانا ان کے لیے جو ان کی بساط کے مطابق بن سکا وہ کیا اور بلوچ کی جہد نے بہت ہی کم وقت میں وہ مقام پایا کہ ریاست پاکستان کی وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔لیکن آگے جو ہوا وہ ہماری اپنی بد بختی ہی کی وجہ سے ہوا۔ہم نے بلوچ قوم کی دی ہوی طاقت کو دشمن ریاست کی بجاے اپنون کے خلاف استعمال کی۔ایک چھوٹی سے طاقت نے ہم کو ہماری اصلی اوقات دکھا دی تو کیا آزادی لینے کے بعد جو طاقت اور سرزمین ہمیں ملنے والی ہے کیا ہم اس کو صیح استعمال کر سکیں گے یہ ایک سوچنے والی بات ہے۔وہ طاقت جو بلوچ قوم نے ہمیں دی تھی ہم نے اس کو کس طرح مایوسی میں بدل ڈالی اس کی ایک واضح مثال یہ ہے جو ہر ایک آزادی پسند کو اس کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ وہ بی این پی مینگل جو 2011 تک ایک پارٹی نہیں بلکے کچھ مفاد پرستون کا ٹولہ بن چکا تھا عوامی حمایت نام کی کوی شے تک ان کو نہیں تھی اگر غلطی سے وہ کو ی جلسہ کرتے تو بمشکل وہان 100 کے قریب لوگ ہوتے خاص کر مکران میں تو وہ یہی 100 لوگ بھی جمع نہیں کر سکتے تھے کیا آج بھی وہی پوزیشن ہے؟؟؟؟وہی بی این پی مینگل جو پہلے ایک جلسہ تک نہیں کر سکتا تھا اگر کرتے تو عوام کی طاقت اس کو ناکام بنا دیتے آج وہ پنجگور گوادر تربت نوشکی اور حب چوکی میں ہزارون کی مجمع کس طرح جمع کر رہا ہے لازمی ہم میں ہی کوتاہی ہے۔ہزارون کی تعداد میں بلوچ فرزندون نے شہادت نوش کی ہے ہزارون ابھی تک لاپتہ ہیں ہزارون کی تعداد میں لوگوں کے گھر جلاے جا چکے ہیں اس کے باوجود ایک پارلیمنٹ پیٹ پرست کیون کامیاب ہو رہا ہے کیا ہم وجوہات کوڈھونڈنے کی کوش کی؟؟؟میں ہر گز یہ نہیں کہتا کہ سارے غلطیون کی جڑ یہی آذادی پسند پارٹیان نہیں لیکن کہی نہ کہی جا کے اس کے زمہ دار ہم ہی ہیں۔ وہی نیشنل پارٹی جو بکھر کے ایک ٹولی بن چکا تھا وہی ڈاکٹر مالک و حاصل اپنے گھرون سے نہیں نکل سکتے تھے جلسے و جلوس تو دور کی بات آج تربت شہر میں کس طرح گھوم رہے ہیں ووٹ مانگ رہے ہیں جلسے کر رہے ہیں اس کی محرکات کیا ہیں ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے نہ کہ ایک چھوٹی سے طاقت کو اپنی ہی ہمخیالون کی خلاف استعمال کریں۔بلوچ ذالبولون کی بلوچ تحریک سے نزدیکی ہمدردی اور پھر باقاعدہ مسلح تنظیمون کے لیے کام تک کرنا کیا آج بھی وہی پوزیشن ہے؟؟ نہیں ہر گز نہیں بلکے آج تو تربت جیسے شیر میں آزادی پسندون کے خلاف زالبول ریلی نکالتے ہیں ہمیں ان کی سدباب کرنی چاہیے۔ سنگت حیر بیار مری کی اتحاد کے لیے بیان اور اس کی شراہط بلکل حق بجانب ہیں اور ہر ایک آزادی پسند کو اس کی حمایت کرنے چاہیے کہ بلوچ جل رہا ہے بلوچ برباد ہو رہا ہے بلوچ کی نسل کشی ہو رہی ہے اور ہم پھر بھی اپنی آنا میں ہی رہیں پھر تو ان شہیدون کی خون ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اتحاد لازمی ہونے چاہے لیکن پہلے والی اتحاد یا ہم آہنگی کیون دشمنی اور گروہیت میں بدل گی وہی وجوہات قوم کو بتانے پڑیں گے۔ پوری دنیا میں ہر چلنے والی تحریکون میں اختلافات پیدا پوے ہیں یہ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ اول و آخر بلوچ ہی نے کی ہے لیکن ان لوگوں نے اختلافات پیدا ہونے کی وجوہات کو ڈھونڈ نکالا ہے انہون نے پرانے غلطیون کی سدباب کر نے کے بعد پھر ہم گرنچ ہو گے ہیں اور اپنی پرانی طاقت کو پھر بحال کر دی ہے تو کیا ہم نہیں کر سکتے؟؟ میرے نزیک اتحاد کرنا ہم گرنچ ہونا یک طاقت بن کہ دشمن کو پریشان کرنا ایک حوصلہ آفزاہ امر ہے اس کی مجھ سمیت کوی بھی باشعور دوست مخالفت ہر گز نہیں کر گا لیکن کچھ سوالات کے جوابات ان تمام آزادی پسند پارٹیون و مسلح تنظیمون کو اپنی قوم کو بتا دینے چاہے پھر اتحاد ہو تو وہ بہتر رہے گا۔ کیا ہمیں یہ احساس نہیں تھا کہ جو طاقت و حوصلہ میرے پاس ہے یہ بھی تو اسی قوم کی امانت ہے تو اتنی بڑی خیانت کیون؟؟ موجودہ اختلافات کس لیے کہان سے اور کس نے شروع کی اس کی اصل زمہ دار کون ہے؟؟؟؟ کیون ہم اجتماتیت سے انفرادیت اور پھر گروہیت کی جانب گامزن ہو گے؟؟؟ کیون ہم نے قومی خواہشات کو پسے پشت ڈال کر ذاتی خواہشات کے غلام بن گے؟؟؟ کیون ہم نے ہر سنی سنای بات کی جواب میں تنظیم کو ڈال بنا کر ردعمل دیتے رہے؟؟ کیون ہم نے مسلح و سیاسی تنظیمون کو اپنی ذات کے لیے استعمال کی۔؟؟؟ کیون ہم نے اپنی ذاتی دشمنینون کو نکالنے کے لیے تنظیمی پلیٹ فارم کو استعمال کی؟؟؟کیون ہم نے زاتی اختلافات کو قومی اختلافات میں بدل ڈالی؟؟؟ کیون ہم نے بغیر ثبوت کے بےگناہ عام عوام کو غدار ٹھہرا کر اس کی خون کر دی؟؟؟کیون ہم نے جھوٹ کے سہارے اپنی ہی عوام کو بے وقوف بناتے رہے؟؟؟ کیون ہمارے اندر موجود پہلے والی ہم آہنگی انتشار اور پھر انتشار سے بدل کر دشمنی میں تبدیل ہو گی؟؟؟ سینکڑون کے تعداد میں مسلح ساتھیون کی سرینڈر کرنے کا زمہ دار کون ہے لازما غلطیان تو ہماری اپنی ہی ہیں؟؟؟ میرے خیال میں ہمیں مندجہ بالا سوالوں کے جواب ہر حال میں دینے چاہیے پھر جا کے اتحاد اور ایک موثر اتحاد ممکن ہو سکے گا اور پھر اس اتحاد کے بعد ڈسپلین اولین اور آخری شرط ہونے چاہیے نہ تو یہ اتحاد بھی پرانی اتحادون کی طرح گھر کی کسی کھونے میں پڑے یہی اتحادیون کو بددعا ہی دے گا۔