مقبوضہ بلوچستان کے علاقے خاران میں سی پیک روڈ رُنگان بُھٹ کے مقام پر قابض پاکستانی فورسز کے ایک کانوائے کو مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعہ 4 مارچ کی صبح کو اس وقت پیش آیا جب مذکورہ شاہراہ پر پاکستانی فورسز کی غیر معمولی موجودگی برقرار تھی۔ یاد رہے کہ قابض پاکستانی فورسز کی نقل و حرکت کو مذکورہ علاقے میں معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ قابض فوج کے پٹرولنگ اسکواڈ پر یہ تباہ کن حملہ ایسے وقت پر پیش آیا جب فورسز کی بھاری تعداد مذکورہ شاہراہ سے سفر کر رہے تھے۔

علاقائی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حملہ انتہائی شدید اور منظم ہونے کے ساتھ ساتھ یکلخت بھی تھا جس سے قابض فورسز کے اہلکاروں کو کسی بھی طرح سے سمبھلنے اور دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کا موقع نہیں ملا۔

ذرائع کے مطابق کانوائے ایف سی اور نارکوٹکس فورسز کے اہلکاروں پر مشتمل تھا جو خاران شہر سے شاہوگِڑی کی جانب جا رہے تھے۔ قافلہ کم از کم چھ گاڑیوں پر مشتمل تھا جن میں پک اپ اور ویگو گاڑیاں شامل تھی۔ گاڑیوں میں سوار افراد کی تعداد سات سے نو تک کی بتائی جا رہی ہے۔

حملے کے حوالے سے مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کانوائے کسی پُل سے گزر رہا تھا، جسے جغرافیائی لحاظ سے گھات لگائے حملوں کیلئے نہایت ہی موزوں مقام سمجھا جاتا ہے۔

مزید اطلاعات یہ بھی بتاتی ہے کہ حملہ آوروں نے سڑک کے قریب پہلے سے پوزیشن سنبھال رکھی تھی۔ حملے میں راکٹ لانچرز، خودکار ہتھیار سمیت دیگر بھاری اسلحے کے استعمال کا بھی ذکر سامنے آ رہا ہے۔

علاقائی سطح پر ملنے والی اطلاعات کا جائزہ لیا جائے تو حملے کے زد میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد کم از کم پندرہ سے بیس تک بتائی جا سکتی ہے کیونکہ مقبوضہ بلوچستان کے اندر عسکری نقل و حمل کے دوران عموماً ایک ہی فوجی گاڑی میں ڈرائیور سمیت چھ سے آٹھ اہلکار سفر کرتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

حملے کے بعد فورسز کی اضافی نفری فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کی گئی اور سی پیک روڈ کو گواش کے مقام پر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بھی بند کردیا گیا۔ بعد ازاں ایمبولینسوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے زخمی اور ہلاک اہلکاروں کو خاران شہر منتقل کیا گیا۔

تاحال اس حملے کی زمہ داری کسی مسلح تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تاہم ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری مختلف آزادی پسند مسلح تنظیمیں قبول کرتی آ رہی ہیں۔

حملے کے بعد علاقے میں قابض فورسز کی جانب سے سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔جس کے باعث ہلاکتوں اور نقصانات کی درست تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ ایسے واقعات اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کی بلند و بانگ دعووں کے برعکس سی پیک روڈ اور اس سے منسلک شاہراہیں بدستور کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جہاں فورسز کی نقل و حرکت اکثر بلوچ آزادی پسند عسکری تنظیموں کے حملوں کا ہدف بنتی رہی ہیں۔