عالمی اور علاقائی سیاست اس وقت ایک غیر یقینی مرحلے سے گزر رہی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے بالخصوص ایران کے گرد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کی صورت میں اس کے اثرات محض ایک ریاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، بشمول وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا، اس کے براہِ راست یا بالواسطہ مضمرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ خطے کی تزویراتی حرکیات، نظریاتی کشمکش اور طاقتوں کے مفادات کا جائزہ لیا جائے۔

ایران اور علاقائی طاقتوں کے مابین کشیدگی کی نوعیت

ایران خطے اور بین الاقوامی طور پر اپنے شیعہ طرز کے اسلامی نظام، ایٹمی پروگرام اور شیعہ پروکسی تنظیموں کو مالی و عسکری کمک دینے کے حوالے سے عالمی طاقتوں کیلئے مسئلہ رہا ہے اور ہے۔ یہ سب اسرائیل، مغرب، آمریکہ، مشرق وسطی کے ممالک اور خلیجی ممالک کیلئے قابل برداشت نہیں۔ کیونکہ اس سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی ایک دوڑ شروع ہو سکتی۔ دوم ہر ایک اپنے فکری گروہوں کو مالی و عسکری کمک دے کر کسی بھی خطے کو غیر متذلزل رکھ سکتا ہے اور ساتھ ساتھ ہر ریاست مذہبی رجحان کی طرف بڑھے گی جو ہر ظلم اور لوٹ مار کو مذہبی فکر کے مطابق جائز سمجھے گا۔ اس سب کے سبب خطے میں ایک نہ ختم ہونی والی جنگ ہو سکتی ہے۔ سوم ایران اسرائیل کو اور اسرائیل ایران کو فکری و نظریاتی حوالے سے ایک دوسرے کے دشمن سمجھتے ہیں۔ چہارم امریکہ اس خطے میں ( خاص طور پر مشرق وسطی) اسرائیل کو ایک طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے تاکہ میری غیر موجودگی میں میرے مفادات کی حفاظت و تکمیل کر سکے۔ لہذا ان تمام حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کس طرح اور کیسے اس جنگ کا آغاز کرتے ہیں۔ لیکن ابھی بظاہر طاقتور مختلف مسائل کو حل کرنے میں کوشاں نظر آ رہے ہیں جیسا کہ سفارت کاری، انٹیلیجنس مزید معلومات کیلئے کیونکہ انفارمیشن ہی جنگ کا آعاز اور رخ بدلتی ہیں اور ساتھ ساتھ خطے کے تمام ممالک کو جنگ کے حوالے سے انکے سفارشات کو مدنظر رکھنا۔ لیکن ایران اس تمام دگر گوں میں مکمل طور پر پھنسا نظر آتا ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ اگر ایٹمی معاملات پہ سمجھوتہ ہوا تو ایران دوسرا یوکرین نہ بن جائے۔ دوم ایران اس طرح کی سفارت کاری پہ یقین نہیں رکھتا جو اسکے حق میں نہ ہو لہذا وہ وقت کو طول دینا چاہتا ہے تاکہ اس سے دو فائدے حاصل ہوں اول۔ ایرانی عوام کو یہ دیکھانا کہ جنکے اشاروں پہ آپ ناچ رہے ہیں ان سے ہماری بات چیت ہورہی ہے۔ دوم بین الاقوامی طور پر خود کو سفارت کاری کے ذریعے منوانا جو بہت مشکل ہے کیونکہ سفارتی حوالے سے ایران مکمل طور پر دنیا سے کٹ چکی ہے۔ مگر فلحال ان دونوں معاملات میں کامیاب نظر نہیں آ رہے۔

لہذا اب یہ کہنا مشکل ہوگا کہ ایران ایٹمی معاملات، اپنے میزائلوں کی رینج کم کرنے، شیعہ طرز اسلامی حکومت کا خاتمہ اور ساتھ ساتھ اپنے شیعہ پروکسی تنظیموں کو بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ کیونکہ یہ ایران کیلئے مکمل سرنڈر کرانا ہوگا اور اگر وہ ان معاملات پر معاہدہ کرتا بھی ہے تو ایران نظریاتی و فکری طور پر اپنا وجود کھونے کے ساتھ ساتھ خود کو دوبارہ منوانے کے قابل نہیں رہے گا جو ایک قسم کی نظریاتی موت ہے۔ اس تمام صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل ایران پر بیک وقت حملہ کریں گے تاکہ ایران کو سمبھلنے کا موقع نہ ملے کیونکہ ایران کے پاس ڈرونز اور بلیسٹک میزائلوں کی بڑی کھیپ ہے۔ اور ان ممالک کے اولین ٹارگٹ خامنہ ای ہوں گے تاکہ ان سے جڑی فکری و نظریاتی وابستگی ختم ہو جائے، مرکزی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ ایٹمی تنصیبات ، زیرزمین میزائل اور ڈرونز کے سرنگوں، ابنائے ہرمز پر جلدی سے ایران کی اجارہ داری ختم کرنا اور ساتھ ہی ایران کی پروکسیوں کو علاقائی طاقتوں کے زریعے دبانا یا پھر انکے سرکردہ بچے ہوئے رہنماؤں کو مارنا تاکہ انکی کمر ٹوٹ جائے۔

تاہم یہ امر واضح نہیں کہ کسی ممکنہ عسکری مداخلت کے بعد مطلوبہ سیاسی نتائج فوری طور پر حاصل ہو سکیں گے یا نہیں، کیونکہ ریاستی ڈھانچوں کی تبدیلی محض عسکری کارروائی سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے داخلی سیاسی متبادل اور سماجی قبولیت بھی درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ ایران کی سطح پر کوئی خاص عوامی لیڈرشپ یا تنظیم کا فقدان، مجاہدین خلق اور شاہ کے بیٹے کی اس حد تک نہ کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی وہ گراؤنڈ پہ فکری و نظریاتی حوالے سے وجود رکھتے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ پاسداران انقلاب اور آرمی میں بغاوت جنم لے اور ان میں سے کوئی طاقتوروں کے ساتھ مل کر انکو مطمئن کر سکے۔ لہذا ابھی تک یہ سب تصورات زیر غور ضرور ہو سکتے ہیں مگر جلدی کوئی خاطر خواہ کامیابی کی امید ممکن نہیں۔ اسکے علاوہ مقبوضہ قوموں کا ایران سے غلامی کے خلاف آزادی کے حصول کیلئے جنگ بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے جس میں جیوگرافیائی حوالے سے بلوچ اور احواز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مگر عسکری و سیاسی حوالے سے کرد انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ مقبوضہ قومیں کس طرح اپنی آزادی کی جدوجہد لڑتے ہیں۔ اور انکی کامیابی صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر خود کو منوانا ہے۔ اگر یہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے میں قومی سرحدوں کی تبدیلیاں انتہائی تیز ہوں گے۔

بلوچستان کا تناظر: امکانات اور خطرات

ایران میں ممکنہ عدم استحکام کی صورت میں بلوچستان کا خطہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے جو جغرافیائی طور پر افغانستان، ایران اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے۔ پاکستان، چین، روس اور بعض خلیجی ریاستیں بلوچستان میں اپنے تزویراتی مفادات رکھتی ہیں۔ اس لیے بلوچ قومی تحریک کو نہ صرف ریاستی مزاحمت بلکہ علاقائی طاقتوں کی پراکسی سیاست کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں مذہبی گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان جو اب بین الاقوامی طور پر خود کو ابھار رہی ہے اور بلوچستان میں ہماری کمزور حکمت عملیوں کے بحث پھیل رہی ہے، جیش العدل، داعش اور القاعدہ کی موجودگی یا ممکنہ فعالیت خطے میں نظریاتی اور فرقہ وارانہ پیچیدگیوں کو بڑھا سکتی ہے۔ اس طرح کے حالات تحریک کی سمت کو مزید بگاڑے گی یا ایک اندرونی جنگ ہو جائے گی جو آزادی سے زیادہ مذہبی یا قبائلی جنگ ہوگی۔اب یہ بلوچ کیلئے امتحان ہوگا کہ وہ اپنی آزادی کی تحریک کی کامیابی کیلئے کتنا سنجیدہ ہوں گے اور کیسے علاقائی اور مذہبی طاقتوں کو شکست دیں گے۔ بلوچ قومی تحریک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج داخلی اور بین الااقوامی سطح پر سنگل قیادت کا فقدان، نظریاتی ابہام ( کچھ تنظیمیں ایک ٹکڑے کی آزادی اور ایک مکمل بلوچستان کی آزادی چاہتا ہے) ، اور تنظیمی انتشار ہے۔ کسی بھی قومی تحریک کی کامیابی کے لیے واضح سیاسی پروگرام، متحدہ سفارتی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی جواز ناگزیر ہوتے ہیں۔

نظریاتی تقدیس اور احتساب کا مسئلہ

سیاسی تحریکوں میں تنظیموں اور قیادت کو غیر تنقیدی تقدیس دینا ایک ساختی کمزوری کو جنم دیتا ہے۔ جب مکالمہ، تنقید اور احتساب کی روایت کمزور ہو جائے تو تحریک اندرونی انتشار اور غیر شفافیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ علمی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اختلافِ رائے اور تنقیدی فکر کسی بھی جمہوری یا قومی جدوجہد کی بنیادی شرط ہیں۔ لہذا احتساب کے فقدان سے فیصلہ سازی شخصی وفاداریوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں تحریک اپنے اصل مقصد سے انحراف کا خطرہ مول لیتی ہے۔

اس طرح کے حالات میں بلوچ قوم ہزاروں قربانیاں تو دیے گی مگر کامیابی یا مقصد کا حصول مشکل ممکن لگتا ہے۔ ہاں البتہ ایک صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر بین الاقوامی طاقتیں چاہیں تو لیکن ہم میں اتنی سکت ہے کہ ان طاقتوں کو کنٹرول کر سکیں یا اپنی آزادی کو برقرار رکھ سکیں؟ آزادی کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ جی ہم آزاد ہو گئے ہیں۔

اجتماعی ذمہ داریاں اور ممکنہ حکمتِ عملی موجودہ حالات میں چند اصولی نکات قابلِ غور ہیں:

حدِ ادنیٰ اتحاد: اگر مکمل تنظیمی انضمام ممکن نہ ہو تو کم از کم مشترکہ مقاصد زمین (مکمل بلوچستان نہ صرف ایک ٹکڑے پہ راضی ہونا) ، شناخت اور آزادی پر اتفاق ضروری ہے۔ تاکہ غلامی کے دن کم ہوں۔

سفارتی ہم آہنگی: بین الاقوامی سطح پر متضاد بیانیے تحریک کو کمزور کرتے ہیں لہٰذا مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ اگر ممکن ہوتو کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بنا جائے تاکہ طاقتوروں کا اعتماد جیتا جا سکے اور جلدی اپنے مقاصد حاصل کئیے جائیں۔اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو کم از کم مختلف طاقتوں کا حصہ بن کر ایک حکمت عملی کے تحت آزادی کا حصول ممکن بنا جا سکے مگر یہ انتہائی پیچیدہ اور مشکل سفارتی عمل ہوگا جسمیں مختلف طاقتوں کو بیک وقت کنٹرول رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ لہذا بہتر ہے کسی ایک بلاک کا حصہ بنا جائے۔

علاقائی توازن: اپنے گلزمین پر کسی بیرونی طاقت یا انکی پراکسیوں اور مذہبی تنظیموں کو کسی صورت ابھرنے نہ دیا جائے۔ تاکہ بلوچ اپنے وطن پہ اپنے آپ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر منوا سکیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو کم از کم جو ایک ٹکڑے کی آزادی چاہتے ہیں وہ پاکستان کو اس حد تک دباؤ میں رکھیں کہ وہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں قدم نہ جما سکے تاکہ بلوچ خود کو ایک ڈی فیکٹو ریاست (اپنا سیاسی نظام، اپنی فوج اور خارجہ پالیسی کے ساتھ بینکنگ نظام وغیرہ) کے طور پر منوا سکیں۔

سلامتی و جغرافیائی اہمیت: بلوچستان ایک طول ساحلی پٹی کا مالک ہے جو بندرعباس سے لیکر کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔ لہذا ساحلی پٹی خصوصاً بندرگاہی راستے تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور اگر بلوچ اپنے ساحل کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوا تو سمندری رسائی کسی بھی ممکنہ سیاسی خودمختاری کے لیے کلیدی عنصر ہو سکتی ہے۔ اور اگر ہم اپنے سمندر کی دفاع نہیں کر پائے تو شاید ہماری آزادی کا حصول ان دہائیوں میں ممکن نہیں ہوگا۔ نتیجہ خطے کی موجودہ صورتحال ایک کثیر جہتی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس میں ریاستی مفادات، نظریاتی تصادم، نسلی سیاست اور عالمی طاقتوں کی مداخلت باہم مربوط ہیں۔ ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی نہ صرف علاقائی توازن کو متاثر کرے گی بلکہ اس کے اثرات قومی تحریکوں اور مقامی سیاسی حرکیات تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی تحریک کے لیے سب سے اہم عناصر داخلی اتحاد، فکری وضاحت، سفارتی مہارت اور احتسابی ڈھانچہ ہیں۔ بصورتِ دیگر قربانیاں تو دی جا سکتی ہیں مگر پائیدار سیاسی کامیابی کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔