ہمارے ہاں ہر سیاستدان اپنی تقریر کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے کہ میرے غیور بھائیوں اس تعریفی کلمے سے وہ سامعین سے ایک ہمدردی کی توقع رکھتا ہے جیسے وہ چونکہ خود غیرت مند اور سامنے والوں کے غیرت مند ہونے کا قائل و معترف ہے اور یوں ایک رابطے کی شروعات سے باتیں آگے بڑھاتا ہے لیکن اب کے بلوچستان کے حالات دیکھ کر ایسے لگتا ہے جس میں خود زرا بھی غیرت باقی ہے وہ یہ جملہ نہیں کہے گا کیونکہ اُسے پتہ ہے نہ وہ موجودہ حالات میں خود غیرت مند ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے اورنہ اُس کے سُننے والے اُسکی سربراہی میں خود کو ایسی شان کے حقدار سمجھتے ہیں کیونکہ غیرت مند کو غلامی کا احساس پیدا ہونے کے بعد آرام سے نہیں بیٹھتا نہ اُس کے مال و متاع کو کوئی اُسکی اجازت کے بغیر ہاتھ لگا سکتا ہے او ر نہ کوئی اُس کی چادر و چاردیواری کو پائمال کرسکتا ہے جب کہ اس وقت بلوچ قوم مجموعی طور پر نہ صرف غلام ہے اور یہ بات صرف وہ لوگ نہیں کہہ رہے جو غیرت کا مظاہرہ کرکے اس سے نجات کیلئے مختلف محاذوں پر لڑ رہے ہیں بلکہ وہ بلوچ بھی بلوچستان کیساتھ کالونی جیسا سلوک روا رکھنے کا اظہار کرتے ہیں جو اس وقت پاکستانی پارلیمانی سسٹم کا حصہ ہیں ۔ یوں اگر یہ لوگ بلوچستان کو کالونی کہتے ہیں اور اس سے آزادی کیلئے جدوجہد نہیں کررہے ہیں تو اُنکا غیرت مند ہونا مشکوک اور ایسا بیانیہ اُنکے منافقت کی نشانی ہے کیونکہ اگر کوئی محرومی کی بات کرتا ہیں تو اُس کا علاج حقوق کی دستیابی ہے جب وہ خود کو غلام سمجھتے ہیں تو اُسکا علاج حقوق یا مراعات نہیں بلکہ آزادی ہے ۔دنیا میں جن جن قوموں نے خود کو کالونی سمجھا ہے اُن سب نے آزادی کی جنگ لڑ کر آزادی لی ہے یا اسکے لئے بغیر لگی لپٹی کے جد وجہد کررہے ہیں۔بلوچ قوم بھی ٹھیک یہی کررہی ہے البتہ ان پارلیمانی پارٹیوں کے بغیر۔

ہمارے ہاں جہاں تک بلوچ کے مال و متاع کا سوال ہے وہ بھی اُس کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ حضرات جو پاکستانی اسمبلیوں میں جاتے ہیں خود اکثر یہ کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ پاکستان ہمیں حق نہیں خیرات دے رہا اور وہ بھی ہماری لوٹی گئی دولت کے زکوات سے بھی کم دے کر اِسی کو ہم پر مہربانی سمجھتا ہے ۔اُوپر سے ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ خیرات بھی عام آدمی تک نہیں پہنچتا جسے یہی بلوچ و پشتون پارلیمانی سیاستدان حضرات اپنے قوم کو لولی پوپ دینے کے عوض ریاست کی طرف سے دیا گیا انعام سمجھ کر اپنے پاس رکھتے ہیں گویا وہ نہ قوم کے دوست ہیں جو اُنکے مشکلات کو کم کرنے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں نہ پاکستان کے دوست ہیں جو اپنی کرپشن سے لوگوں کو مزید محرومیوں کی طرف دھکیل کر پہلے سے موجود فاصلوں کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کا نیم البدل کوئی مراعات نہیں ہو سکتی مگر ان کی اپنی قوم کو محروم رکھنے کی پالیسی نے بلوچ قوم کی ریاست سے نفرت کو شدت ضرور بخشی ہے اور یہ اُنکا واحد ‘‘نیک کام’’ ہے ۔

چادروچاردیواری کی بے حرمتی کی صورتحال کس قدر گھمبیر ہے اس پر کسی لمبی چھوڑی تمہیدباندھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ چند سال قبل اگر ریاستی فورسز ماورائے عدالت گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے اور گھر میں موجود مردوں کو کوئی وجہ بتائے بغیر لے کر غائب کرتے یا اُنھیں فیملی والوں کے سامنے گولیوں سے چھلنی کرتے یا چند مدت اپنے پاس رکھنے کے بعد نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیتے یا اُن کی مسخ شدہ لاش پھینک دیتے لیکن اب خواتین کو گھروں سے اُٹھا کر غائب کررہے ہیں مگر کوئی آواز نہیں اُٹھا رہااس بے حسی پر ایک کہاوت بہت صادق آتی ہے کہ ــ”اگر سو کتوں کی سربراہی ایک شیرکرے تو سب کتے شیر کی طرح دلیری کا مظاہرہ کرکے لڑیں گے اور اگر سو شیروں کی راہنمائی ایک کتا کرے تو سارے شیر کتے کی طرح بزدل بن کر میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے”اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ بہادر اقوام بلوچ و پشتون کے شیروں کو پابند سلاسل کرکے کتوں کو اُنکی سربراہی سونپ دی گئی ہے جو بھونکتے بہت ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے جس طرح بلوچوں کو ماہ رنگ بلوچ اور پشتونوں کومنظور پشتین عملی میدان میں لے کر چلے تھے جس سے ظالموں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے اور اُنکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جن قوموں کے بارے میں ان سیاستدانوں نے یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ ان کو کچھ مراعات دو یہ ہماری طرح سب کچھ بھول کر سرجھکائے چلنے کو تیار ہوں گے مگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور منظور پشتین کی بے لوث قیادت نے یہ ثابت کیا کہ جو لوگ ان قوموں کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں یا اُنھوں نے اسلام آباد والوں کے سامنے یہ تاثر پیدا کی ہے اصل میں وہ خودلالچی ،قوم کو مال مویشی سمجھ کر خود کو منڈیوں میں سجانے والے بھکاؤ مال ہیں انکی قومیں نہیں۔

اُنکے مقابلے میں یہ دونوں لیڈر دست خالی تھے اور آج بھی دست خالی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں کے ہردلعزیز ہیں اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ اُن کے پاس ظلم اور ذیاتیوں کو ہر شکل میں دیکھنے والی آنکھیں اور سچ کہنے کی جرات تھی جو پاکستانی پارلیمانی سیاست کرنے والوں کے پاس ناپید ہے جسے مراعات کی طلب نے دیمک کی طرح چاٹ کر ناکارہ کردیا ہے جبکہ بی وائی سی اور پی ٹی ایم قیادت ہر لحاظ سے عام ہیں یہی چیز اُنھیں خاص بنا گئی وہ حقیقی طور پر اُن ہزاروں لاکھوں انسانوں کی طرح ہیں جو ہر ایک کے تکلیف کو اپنے تکلیف کی طرح محسوس کرتے ہیں اور اُس کیلئے ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے کوئی خود اپنے لئے کھڑا ہوتا ہے اُنکی باتوں میں کسی تجرید یت کا عنصر نہیں اُنکے باتوں کے درجن بھر معنی نہیں ہیں جو ہر ماحول کیلئے الگ معنوں میں تشریح کئے جائیں۔

ان تنظیموں کے رہنماؤں کو پابند سلاسل کرنے یا زیرزمین جانے کے بعد بلوچ خواتین کے اغواء کے کیسز میں تباہ کن تیزی آنا اور اس بربریت کے خلاف کسی بھی سیاسی جماعت کا اسٹینڈ نہ لینا ہماری اس دیرینہ موقف پر تصدیق کی مہر ثبت کر دیتا ہے کہ یہ تمام پارلیمانی جماعتیں بلا تفریق پی ٹی ایم اور بی وائی سی کو غیر موثر کرنے اور اب بلوچ خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں سرکار کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ان اقدامات کا مقصد یہی ہے ایک طرف بلوچ تحریک آزادی کیلئے مشکلات ایجاد کئے جائیں دوسری طرف اُن پُرامن سیاسی و سماجی قوتوں کو غیر موثر کیا جائے جو ریاست کیلئے مشکلات پیدا کر کے ان کے بے عملی کے مقابلے میں ایسی عملی مثال چھوڑ رہے ہیں جسکا یہ مراعات کے قیدی اپنی مصلحتوں کی وجہ سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔

بی وائی سی اور پی ٹی ایم کو ریاست کے ان اقدامات سے قبل اس لئے غیرموثر کیا گیا تاکہ جو کچھ ابھی کیا جارہا ہے اُس کے خلاف موثر آواز نہ اُٹھائی جاسکے ۔صرف منظور پشتین اور ماہ رنگ بلوچ اپنے ساتھیوں کیساتھ منظر سے ہٹائے گئے ہیں باقی سب ـ‘‘ قومی راہنما،ملی مشر،فخر بلوچستان ، فرزند ،بلبل و شانتل ’’ سب کے سب باہر ہیں مگر لگتا ایسے ہے کہ ان ماؤں بہنوں اور بے گور کفن لاشوں کا کوئی والی وارث نہیں اس پر ستم یہ کہ یہ نہاد لیڈر اپنی اس بے عملی پر شرمندہ ہونے کے بجائے ہر فورم پر اپنے تقاریر میں سوزو گداز پیدا کرنے ان مظلوں کا ذکر چھیڑتے ہیں تاکہ اُنھیں غور سے سُنا جائے کہ وہ کن مظلوں کے نمائندے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ صرف اپنے مفادات کے نمائندے ہیں اور کسی کے نہیں اور نہ وہ چاہتے ہیں کوئی اصلی نمائندگی کرے۔

سب کو یاد ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کو سردار یار محمدرند نے کہا تھا کہ آپ لڑکی ہیں گھر میں بیٹھیں اور اختر مینگل نے بانُک حسیبہ قمبرانی (اگر میں نام بھول گیا ہوں تو معذرت ) سے کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں کہا تھا کہ آپ لڑکی ہیں احتجاج میں نہ بیٹھیں یہ کام ہمارا ہے ۔اُس وقت بانُک حسیبہ قمبرانی کا بھائی جبری لاپتہ کیا گیا تھا اور سردار مینگل صاحب اُس وقت لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ مقرر کئے گئے تھے بقول ایمان مزاری اس مدت میں جو سردار مینگل اس کمیٹی کے سربراہ رہے اُس کے کئی ایک میٹنگ ہوئے سردار صاحب نے ایک میٹنگ بھی اٹینڈ نہیں کیا ۔یہ ہے اس سنجیدہ مسلے سے اخلاص اور عملی ‘‘کوشش’’ کا جیتا جاگتامثال۔

انکی عمل سے خالی بیانات دیکھ کر شہید اکبر خان بگٹی کا ایک بلوچی ریڈیو چینل کو دئیے گئے انٹرویو کے دؤران مکالمہ یاد آتا ہے ۔انٹرویو لینے والا کہتا ہے ‘‘ نواب صاحب آپ کا پیغام بلوچوں کیلئے کیا ہے؟ ’’ شہید بگٹی کہتے ہیں ‘‘ پیغام یہی ہے کہ یہ جو ہمارے لیڈرحضرات ہیں قبیلوں اور پارٹیوں کے بڑے ہیں وہ خالی بیانات نہ دیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے لیکن عمل اُنکا زیرو ہے جب تک کوئی حرکت نہ کرے کوشش نہ کرے کامیابی حاصل نہیں ہوگی ۔اُنھیں مزاحمتی عمل میں شامل ہونا چائیے۔اس وقت وہ صرف گفتار کے شیر ہیں ہم کہتے ہیں میدان میں آکرجنگ اور کشکمش کے اندر گھس کر اپنا شیر ہوناثابت کروآپ لوگوں کے یہ خالی بیانات قوم کے کسی کام کے نہیں’’

انٹرویو لینے والے کے دوسرے سوال پر کہ ‘‘ آپ کو اس جنگ میں کس کی مدد حاصل ہے ؟’’ اس پر آپ نے وہ تاریخی جواب دیا جو ہر با غیرت بلوچ کے زہن میں پتھرکے لکیر کی طرح نقش ہوگیا ہے نے کہا‘‘ اور کیا مدد کریں گے آپ بلوچ ہیں آپ لوگ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں آپ نے بلوچ ہو کرکونسی فنڈنگ کی ہے کونسے آدمی مزاحمتی تحریک میں شامل کئے ہیں ۔یہ لوگ یہاں بلوچ ساحل و وسائل کی جنگ لڑ رہے ہیں انھیں بلوچ قوم کی ہر طرح کے مدد کی ضرورت ہے اب خالی باتوں کا وقت گزر گیا ہے عملی طور پر اپنی شراکت دکھاؤ’’ اس پر انٹرویو لینے والا کہتا ہے ‘‘ نواب صاحب ہم شرمندہ ہیں ’’ شہید اس بات سے ناراض ہو کر کوفت سے کہتے ہیں ‘‘ شرمندگی سے کچھ نہیں ہونے والا اگر پوری قوم اسی طرح شرمندہ رہی تو ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا’’

یہ باتیں شہید بگٹی نے دوہزار پانچ یا چھ میں کی تھی اُس وقت سے لیکر اب تک کچھ نہیں بدلہ جس طرح ان گفتار کے غازیوں کی کارکردگی زیرو تھی اب بھی زیرو ہے بلکہ اس سے بد تر کیونکہ یہ ساتھ نہ ہو کربھی ساتھ دینے کاتاثر دیتے ہیں ہمدرد نہ ہو کر بھی ہم نفس ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جس سے قوم کے سادہ لوطبقے کو یہ خوش گمانی ہوتی ہے کہ یہ واقعی ہمارے دکھ درد کو سمجھنے والے اور اس سے راحت دلانے حقیقی کوشش کرنے والے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ سب سیاست کے شُترمرغ ہیں ۔ایک زمانے میں ڈاکٹر ناگمان نے ڈاکٹر مالک بلوچ کیلئے یہی اصطلاح استعمال کیاتھا لیکن اصل میں اکیلے ڈاکٹر مالک نہیں سارے بلوچ پارلیمانی سیاست کرنے والے ایک جیسے ہیں اُن سے مسلح جدوجہد کی بات کرو تو کہتے ہیں ہم سیاسی اور پُرامن جدوجہد کرنے والے ہیں اور جب اُن سے ماہ رنگ بلوچ کی طرح پُرامن جدوجہد کا تقاضا کروکہ جس سے کسی نہ کسی نتیجے کے برآمد ہونے کی اُمید کی جاسکتی ہے تو کہتے ہیں ہمارا اپنا طریقہ کار ہے جب کہ حقیقت میں انکا کوئی ایسا طریقہ کار نہیں کہ جس سے ریاست کے کسی بھی بلوچ مخالف منصوبے کو روکا جاسکے۔

یہ اتفاق نہیں پورے منصوبہ بندی کیساتھ بلوچ غرور پر حملہ کرنے خواتین کو نشانہ بنایا جارہا اور اس کیلئے موثر آواز نہ اُٹھے اس لئے بی وائی سی قیادت کو بندی اور پوری قوم کے احتجاجی سلسلوں کو منتشرکرنے لکپاس کا ڈرامہ رچایا گیا اُس کے بعد سے اب تک ماہ جبین بلوچ سمیت بیس کے قریب بلوچ لڑکیا ں جبری طور پر اغواء کی گئی ہیں اور پنجگور میں جو ماں اور بیٹی کے ساتھ کیا گیا وہ سب کے سوا ہے لیکن اُس پر بھی کسی نے احتجاج نہیں کیا کوئی روڈ بلاک نہیں کیا کوئی دھرنا نہیں دیا کسی نے استعفیٰ نہیں دیاجیسے کچھ ہوا نہیں۔

کیااس کے بعد کوئی خود کو غیور کہنے کا حقدار سمجھے گا ؟ گذشتہ دنوں بلوچ بیٹیوں کے جبری گمشدگیوں کے موضوع پر بات کرتے ہوئے سردار یار محمد رندنے کہاتھا کہ‘‘ جب میں رات کو اُٹھتا ہوں اُس کے بعد صبح تک سو نہیں سکتا کیونکہ جب میں ان گمشدہ بچیوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت پریشان ہوتا ہوں اور مجھے نیند نہیں آتی ہے۔

معذرت کیساتھ یہ مسلے کا حل نہیں اور نہ یہ کسی حقیقی سردار کے رتبے کے شایان شان ہے کہ وہ بیٹھ کر روئے کیونکہ اگر رات کو اُٹھ کر پھر نہ سونے سے یہ بچیاں واپس آتیں تو اُنکے بدنصیب والدین، بہنیں،بھائی قریبی عزیز اتنا بھی نہیں سوتے جتنا ہم لوگ سو کر اُٹھتے ہیں وہ لوگ ساری ساری رات جاگ کر رو رو کر گزارتی ہیں اُنکے لئے ایک ایک لمحہ کتنا بھاری ہے اُس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا ۔بے بسی سے رونے اور دست خالی پریشان ہونے کیلئے قوم کے یتیم و بیوائیں کافی ہیں آپ لوگ(تمام بلوچ نواب و سردار و سیاستدان ) قوم کے بڑے ہو اثر و رسوخ رکھتے ہو آپ سب مل کر راستے بند کرکے، اجتماعی طور پر سینٹ ،قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی اور لوکل باڈیز سے استعفیٰ دے کر اپنے زندہ و باغیرت قومی لیڈر ہو نے کا ثبوت دے کر لازم دباؤ کیوں نہیں ڈالتے کہ ریاست اس گھناؤنے عمل کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائے اور کسی ماہ جبین بلوچ اور کسی نسرین بلوچ کے والدین کا سر اس خیال سے نہ پھٹ جائے کہ اس وقت ہماری بچی کس حال میں ہوگی؟کوئی بڑا مطالبہ نہیں اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اُنکی گرفتاری پاکستان کے ہی قانون کے مطابق ہو اور اُنھیں اپنے دفاع کا پورا حق دیا جائے جسے اُس ملک کی آئین و قانون ضمانت دیتی ہے۔آپ لوگ اگر واقعی چاہیں تو ایسے عملی اقدامات کرکے ریاست کو اپنی بات پہنچانے اور منوانے کی صلاحیت و طاقت رکھتے ہو ۔آپ لوگ کیوں وہ کام نہیں کرتے جو آپ لوگوں کے شایان شان ہے جس کی شہیداکبر بگٹی نے عملی میدان میں اُتر کر اپنے شیر اور باغیرت ہونے کا عملی ثبوت دکھانے کا کہا تھانہ کہ بڑی بڑی خالی بیانات دے کر یا اجتماعی بددعا ؤں کا اہتمام کرکے؟