شیر محمد خان مری، جنہیں “Godfather of counter insurgency” کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان کے خلاف پہلی بار Guerrillaism Wisdom-school کا آغاز کرتے ہیں۔ انہیں بلوچ قومی تحریک کے اصل بانیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے فوجی ہلکاروں کے خلاف بہت ساری جھڑپیں کیں، جس سے پاکستان اور اسکی سکیورٹی اہلکاروں کو بھاری نقصانات پہنچے۔ ان کی زندگی پہاڑوں میں مزاحمت کرنا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا یا جلاوطنی میں گزارنا شامل تھی۔ انہوں نے راولپنڈی سازش کیس اور حیدرآباد سازش کیس میں بھی قیدیں کاٹیں تھیں۔ ان کا تعلق جاگیردارنہ گھرانے سے تھا، لیکن انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ترقی پسند سیاست سے متاثر ہو کر میر غوث بخش بزنجو اور دوسرے بلوچ دانشوروں کے ساتھ ہم قدم رہے اور قومی آذادی کے لیے مسلسل سفر کیا ۔ ہر مشکل کا دیدہ دلیری سے سامنا کیا کرتے رہتے تھے۔ شیر محمد مری کی عظیم شخصیت اور بلوچستان کی مزاحمتی تحریک میں ان کا اہم کردار” انہیں رہتی دنیا تک یادگار بناتا ہے، خاص طور پر ان کی Guerrilla warfare کی حکمت عملیوں کو دنیا کے تمام گوریلہ جنگوں کے نظام میں سراہا جاتا ہے۔

جنرل شیروف مری کی شخصیت اور ان کی قومی جدوجہدوں کی بدولت بلوچستان میں آزادی کی تحریک جاری ہے۔ ان کے انٹرویو آج بھی ریکارڈ ہیں جن میں انہوں نے طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ بین الاقوامیت سے عاری تنگ نظر قوم پرستی کو زہریلی رجعت قرار دیا ہے۔ شیر محمد مری نے بھی کئی بار واضح کیا تھا کہ “پنجاب سمیت ہر قوم کے مزدور، کسان اور غریب عوام ہمارے بھائی ہیں اور ہماری جدوجہد اس سوشلسٹ سماج کے لئے ہے جو سامراج اور سرمایہ داری سے دنیا بھر کے مظلوم عوام کو آزادی دلائے گی۔” جنرل شیروف کی سیاسی اور قومی جدوجہدوں کی بدولت آج بلوچستان کے ہر شہر میں آزادی کی جنگ جاری ہے

شیروف مری کی عظیم شخصیت اور ان کی قومی سرگرمی و محنت مشقت کی بدولت آج بلوچستان میں آزادی کی تحریک جاری ہے۔ جنرل شیرو مری 11 مئی 1992 کو ہمیشہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی سہنری تاریخ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ہر برسی پر پوری قوم جنرل شیروف کو خراج تحسین سے نوازتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ بلوچ قوم کے دلوں میں تاقیامت انکی یاد زندہ ہے۔

 مادر وطن بلوچستان جنرل شیرو جیسے بہادر رہنما کو رہتی دنیا تک خیر مقدم کرتا ہے۔