پاکستان کی ریاست ہمیشہ سے اپنی بقا کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے جن میں شدت پسندی اور دہشتگرد گروہوں کو پروان چڑھانا شامل ہے۔ کبھی طالبان کے نام پر، کبھی القاعدہ کے نام پر اور اب ایک نیا نام سامنے آیا ہے، داعش۔ یہ گروہ ایک نیا لیبل ضرور ہے، مگر اس کی جڑیں پاکستان کے پرانے منصوبوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد جاری ہے۔ پاکستان اس جدوجہد کو فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر ان سب کے باوجود تحریکِ آزادی بلوچستان اپنی جڑوں میں مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اب دہشتگردی کے نئے برانڈ یعنی داعش کو بلوچستان میں داخل کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ داعش کے حالیہ حملے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دیکھے گئے ہیں۔ ان حملوں نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں آزادی کی تحریک نہیں بلکہ دہشتگردی کا مسئلہ ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے جسے پاکستان دنیا کے سامنے رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ مزید فنڈنگ اور عسکری تعاون حاصل کر سکے۔ پاکستان کا یہ پرانا طریقہ ہے کہ وہ دنیا کو ایک نئے خطرے سے آگاہ کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس خطرے کا شکار دکھا کر امداد کا طلبگار بنتا ہے۔ ماضی میں یہی عمل طالبان کے حوالے سے کیا گیا تھا، جب ان کی موجودگی نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی فنڈنگ دلوائی۔ آج یہی کھیل بلوچستان میں داعش کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں داعش کو متعارف کروا کر پاکستان کی اصل نیت یہ ہے کہ آزادی کی تحریک کو بدنام کیا جائے۔ پاکستان جانتا ہے کہ براہِ راست فوجی آپریشنز سے دنیا میں اس پر تنقید بڑھ رہی ہے، اس لیے اب اسے ایک پراکسی دہشتگرد کی ضرورت ہے جو اس کا کام کرے اور الزام آزادی کے متوالوں پر لگایا جا سکے۔ داعش کے نام پر جو حملے بلوچستان میں ہو رہے ہیں، ان کا مقصد عام شہریوں کو نشانہ بنانا اور افراتفری پیدا کرنا ہے۔ یہ حکمتِ عملی واضح طور پر پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہے، کیونکہ ایک منظم قومی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ عوام کو خوفزدہ کیا جائے۔ بلوچ عوام اس کھیل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ داعش کا بلوچستان سے کوئی تاریخی یا سیاسی تعلق نہیں۔ یہ محض ایک درآمد شدہ اور مصنوعی طاقت ہے، جسے پاکستان نے اپنی پالیسیوں کے تحت یہاں لانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ داعش کی جڑیں افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں تلاش کی جاتی ہیں، مگر بلوچستان میں اس کی اچانک موجودگی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاستی ادارے اس کو لا کر جگہ فراہم کریں۔ اس سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ داعش بلوچستان میں پاکستان کے منصوبے کے تحت داخل ہوئی ہے۔ پاکستان کی اس پالیسی کا ایک اور مقصد یہ ہے کہ عالمی میڈیا اور ادارے بلوچستان میں ہونے والی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑ دیں۔ اگر دنیا یہ مان لے کہ بلوچستان میں داعش سرگرم ہے تو پھر آزادی کی تحریک کے حقیقی مقاصد پس منظر میں چلے جائیں گے۔ پاکستان ہمیشہ عالمی برادری کو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ دہشتگردی کا شکار ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود دہشتگرد گروہوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ بلوچستان میں داعش کی موجودگی اسی حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔ بلوچستان کی سرزمین پر پاکستان نے پہلے ہی فوجی چھاؤنیاں، چیک پوسٹس اور خفیہ ایجنسیاں مسلط کر رکھی ہیں۔ اب داعش جیسے گروہوں کے ذریعے وہ مزید کنٹرول بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف بلوچ عوام کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ آزادی کے نعرے کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھایا ہے۔ وہ اپنی سرزمین پر غیر ملکی گروہوں کو قبول نہیں کرتے، چاہے وہ داعش ہو یا پاکستان کے پروردہ دیگر شدت پسند گروہ۔ یہی وجہ ہے کہ داعش کے حملے عوامی سطح پر ناکام ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کو روکنے کے لیے اب اس کے پاس نئے حربے کم پڑتے جا رہے ہیں۔ داعش کو لانچ کرنا اسی مایوسی کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ منصوبہ بھی زیادہ دیر کامیاب نہیں ہو گا، کیونکہ بلوچ عوام اور دنیا دونوں اس حقیقت کو دیکھ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں داعش کی موجودگی ایک مصنوعی عمل ہے، جو صرف اور صرف پاکستان کے ریاستی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے اس منصوبے کو تسلیم کیا تو یہ بلوچ عوام کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہوگی۔ آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بلوچستان میں مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ آزادی کا ہے۔ پاکستان کی طرف سے تیار کیے گئے گروہ کبھی القاعدہ، کبھی طالبان اور اب داعش کے نام سے آتے جاتے رہیں گے، مگر بلوچ عوام کی تحریکِ آزادی اپنی جگہ قائم رہے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے دنیا کو دیکھنے اور تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔