سرزمین بلوچستان میں کاہان کی چٹانوں اور بمبور کے پہاڑوں کے بیچ دو بھائیوں نے زندگی گزاری دو بھائی جن کی زندگی مختصر تھی مگر ان کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہوگیا شہید جمیل اور شہید کمانڈر غلام قادر جمیل کی عمر صرف ۲۱ سال تھی ایک پر سکون مؤمن اور مہربان نوجوان وہ غربت اور مشکلات میں پلا بڑھا لیکن کبھی اپنی مسکراہٹ اور امید کو نہیں کھویا اس کے ساتھی کہا کرتے تھے “جب جمیل ہمارے ساتھ ہوتا تو دلوں کو سکون ملتا غم ہلکے ہوجاتے وہ صرف دوست نہیں تھا بلکہ مرہم تھا اس کا شادی سر پر تھا اس کے گھر والے ایک سادہ سی خوشی کی تیاری کر رہے تھے، لیکن تقدیر نے اس کے لیے کفن شہادت لکھ دیا ۲۶ نومبر ۲۰۲۲ کو سیاه کوه کاہان میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ امر ہوگیا اس کا سرخ خون بلوچستان کی مٹی پر بہا اور اس کا نام اُن شہیدوں میں درج ہوگیا جنہوں نے اپنی جوانی اور جان بے دریغ وطن پر نچھاور کی لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی اس کا بڑا بھائی غلام قادر جمیل کی شہادت کے بعد اپنے دکھ کو دل میں چھپا کر اسی راستے پر چل پڑا غلام قادر صرف ایک کمانڈر نہیں تھا وہ سب کا کا دل اور روح تھا وہ میرا سب سے اچھا دوست اور سب کا سہارا تھا۔ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا تھا۔ جیسا کہ میں نے خود دیکھا “جب جمیل اور باقی بچے سیاه کوه میں شہید ہوئے، ہم سب غم میں ڈوب گئے تھے۔ لیکن غلام قادر اپنے دل کے گہرے دکھ کے باوجود فون پر ہمیں دلاسا دیتا رہا گویا تمام غم وہ خود اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا تاکہ دوسرے ہلکے ہوجائیں غلام قادر ایسا کمانڈر تھا جو دوست کی طرح زندگی گزارتا تھا مشکلات اور مہمات میں وہ خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنستا لڑتا اور حوصلہ دیتا ایک یادگار رات کا منظر ابھی بھی آنکھوں کے سامنے ہے جب ہم ایک شہر میں عوام سے بات کرنے گئے، واپسی پر موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اندھیرا چھایا ہوا تھا، کپڑے بھیگ گئے تھے اور زمین سرد تھی لیکن غلام قادر نے مسکرا کر کہا یہ مشکلات میٹھی ہیں کیونکہ یہ ہمارے عوام اور سرزمین کے لیے ہیں اُس رات ہم سب ہنستے ہوئے بارش میں سو گئے اور آج بھی جب میں سوچتا ہوں تو کہتا ہوں وہ رات میری زندگی کی سب سے بہترین نیند تھی کیونکہ میں غلام قادر شہید وحید اور شہید شادی خان کے ساتھ تھا غلام قادر اپنی روحانیت اور حوصلے سے سب کو توانائی بخشتا تھا آخرکار کئی سالوں کی قیادت اور استقامت کے بعد ۱۲ ستمبر ۲۰۲۴ کو غلام قادر بھی شہید ہوکر نمیران ہوگیا اس بار ہرنائی کے پہاڑوں میں اپنے پانچ رفیقوں کے ہمراہ، جو کل ملا کر چھ دلاور تھے اُس دن پہاڑوں نے دیکھا کہ کیسے چھ بہادروں کا خون بلوچستان کی مٹی کو رنگین کر گیا اور ایمان و قربانی کو پتھروں پر پھر سے تحریر کردیا آج ان دو بھائیوں کی یاد بلوچستان کے آسمان پر دو روشن ستاروں کی طرح جگمگا رہی ہے جمیل اپنی ایمان اور سکون کے ساتھ اور غلام قادر اپنی شجاعت اور رفاقت کے ساتھ، دونوں نے اپنے نام لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے کندہ کر دیے بمبور کے پہاڑ جمیل کے ایمان کی گواہی دیتے ہیں اور ہرنائی کے پہاڑ غلام قادر کی قربانی کی صدا سناتے ہیں یہ دونوں بھائی آزادی کے پرندے ہیں جو ایک کے بعد دوسرا اُڑ گیا تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ شہادت اختتام نہیں بلکہ جاودانگی کی ابتدا ہے اور بلوچستان کے لوگ ہمیشہ کہیں گے یہ دونوں بھائی وہ چراغ تھے جنہوں نے تاریکی کو شکست دی