سانحہِ ڈگاری نے پورے بلوچستان کو لرزا کر رکھ دیا ہر دل زخمی ہوا ہر آنکھ اشکبار ہوئی مگر کچھ نام نہاد میر و سردار جنہیں صرف موقع چاہیے خود کو بلوچوں کا خیرخواہ ثابت کرنے کا انہوں نے مائیک سنبھال کر چیخنا شروع کیا “یہ ظلم ہے! یہ ناقابل برداشت ہے۔”

ظلم تو ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ واحد ظلم ہے؟ کیا ماجبین بلوچ *بلوچ* نہیں جو دو مہینے سے کسی گمنام زندان میں قید ہے۔ نہ کوئی خبر، نہ پتہ کہ وہ کس حال میں ہے۔ کیا اُس کے لیے آپ کی زبان بند ہے اور وہ ماں بہنیں جو پنجاب کی سڑکوں پر دھوپ، بارش اور تھکن کے سائے میں بیٹھی اپنے پیاروں کے لیے فریاد کرتی ہیں، کیا وہ بلوچ یا پھر مظلوم نہیں؟ اُس وقت آپ کی ضمیر کہاں سو جاتی ہے۔؟

آپ صرف اُن باتوں پر بولتے ہو جہاں مفاد کی سیاست ہو، جہاں کیمرہ ہو، جہاں تعریف ملے بلوچ صرف وہ نہیں جو آپ کے قریب ہوں بلوچ وہ بھی ہیں جو سڑکوں پر گھسیٹے جا رہے ہیں، قیدخانوں میں سسک رہے ہیں، مگر وہ کیونکر آپ کے ضمیر کو نہیں ہلاتے؟

سانحہِ ڈگاری کے بعد پنجاب کے کئی دانشور روز کچھ نہ کچھ لکھتے ہیں۔ ایسے جیسے بلوچوں کے ہر دکھ کا مرہم انہی کے قلم میں ہو ایسے جیسے وہی مسیحا ہوں، وہی نجات دہندہ ہوں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایک دن، صرف ایک دن آپ نے زحمت نہیں کی  کہ اُن ماں بہنوں کی چیخ سنو جو آپ ہی کے پنجاب کی سڑکوں پر بیٹھی ہیں! دھوپ، بارش، بھوک بےقراری اور بےبسی میں انہوں نے آپ سے کوئی دولت نہیں مانگی نہ کوئی رعایت، کچھ مانگا تو صرف اپنے پیاروں کی خبر مانگی انصاف مانگا، سننے والا مانگا!

جب آٹھ سالہ زینب انصاری کے ساتھ ظلم ہوا اسے اغوا کیا گیا،زیادتی کی گئی پھر گلا دبا کر مار دیا گیا تب تمہاری دانشوری کہاں تھی؟ تمہارے کالم خاموش کیوں تھے؟ تمہارے ٹوئٹر اور کیمرے اندھے کیوں ہو گئے تھے؟ کیا تب تمہیں ایک بچی کی چیخیں سنائی نہیں دیں؟ کیا وہ مظلوم یا کم از کم انسان نہ تھی؟ چونکہ کیمرا اُس وقت تمہارے فائدے میں نہ تھا تو تم نے اپنے ضمیر پر تالا ڈال دیا۔

لیکن آپ کی روشن خیال دانشوری بس ایک مخصوص وقت، مخصوص جگہ پر جاگتی ہے۔ جب ڈگاری جیسے واقعات، جنہیں موضوع بنا کر ان سے مفادات نکالا جاسکے، تو چیخ چیخ کر بلوچ دوستی کا راگ سنایا جاتا ہے لیکن جب مظلوم بلوچ عورت آپ کے در پر ہو تب نظریں جھک جاتی ہیں، قلم رک جاتا ہے، زبان کو تالا لگ جاتا ہے۔ آپ صرف وہی دیکھتے ہیں جو آپ کو دیکھنا پسند ہوتا ہے، باقی مظلومیت تو آپ کو دور دور تک نظر نہیں آتا۔