بلوچستان کی آزادی کی جنگ 78 سالوں سے چل رہی ہے اور کئی تنظیمیں یہ آزادی جنگ لڑ رہے ہیں اِن تنظیموں کے لیڈر اور سرمچاروں کی محنت سے آج بلوچستان کے ہر کونے میں پاکستان اور اُس کی فوج شکست کھا رہی ہیں سرمچار جن کو اپنی زندگی سے زیادہ اپنی وطن عزیز ہیں جو شہادت کو فخر محسوس کر تے ہیں اور پاکستان اور اُس کی فوج کو سرمچاروں کی چھوٹی سی اوپر یشن میں بی ہیلی کاپٹر اور ڈرون استمعال کر نا پڑ تا ہے دشمن اس قدر کمزور ہو چکاہے لیکِن اِن تنظیموں کی جنگ دشمن کو کمزور کر نا نہیں ہے بلکہ بلوچستا ن کی آزادی کی ہے اور بلوچستا ن کی آزادی تب ممکن ہے جب دشمن کو دشمن اور دوست کو دوست کی نظر سے دیکھا جائے جس طرح پاکستان چائنہ اور ایران جیسے دوسرے طاقت ور ممالک سے مل کر آزاد پسند تنظیموں کو دبا کے بلوچستان میں اپنا قبضہ جمائے رکھنا چاہتا ہے اُسی طرح آزاد پسند تنظیموں کو بھی ایک ساتھ متحد ہو کر اس جد وجہد کو آ گے بڑا نا چاہئے اور طاقت ور جتنے بی تنظیم ہیں ایک ساتھ متحد ہو کر اگر پاکستان اور اُس کی فوج کے خلاف جنگ لڑے جب منزل ایک ہے مقصد ایک ہے تو کے کام بی ایک ساتھ کیا جائے ان تنظیموں کا اتحاد ہی اِن تنظیموں کے کامیابی کا باعث بن سکتا ہے اور پاکستان اور اُس کی فوج کو وہ شکست دے سکتے ہیں جو پاکستان اور اُس کی فوج خواب میں نہیں سوچ سکتا ہے پاکستان تو چاہتا ہے کے اِن تنظیموں کے درمیان درار پیدا ہو جائے اور یہ آپس میں ہی مایوسی کا شکار ہو