رکھی تھی اور دنیا کی سانسیں دھیمی پڑ گئی تھیں۔ گہرے سائے جیسے کسی نے زمین کے رخسار پر پھیلادیے ہوں۔۔۔ سردی ہڈیوں تک سرایت کر گئی تھی مگر خون اپنے جوش میں گرم رہا۔ کیمپ کے سامنے، دشمن کی چیک پوسٹ کے عین مقابِل پر کھڑا ہو کر میں خاموشی سے سانسیں گن رہا تھا۔ چاروں طرف میرے ساتھی اپنے اپنے تیاری میں مصروف تھے۔۔۔ کوئی میگزین برابر کر رہا تھا، سنائپر پہاڑی پر لیٹے ہوۓ سانسیں روک کر نشانے پر آنکھ جمائے تھے، ہر ایک کی آنکھ میں ایک ہی فکر۔۔۔ یہ رات ہمیں زندہ پلٹنے دے گی یا نہیں۔

‎میرا ہتھیار AKM تھا۔۔۔ چند میگزین میرے پاس تھے، پوزیشن سیٹ تھی۔ دل کے اندر ایک عجیب سا سکوت اور دردمند توقع اکٹھی ہو گئی تھی۔ پہلے میں جنگ کو ایک فن سمجھتا تھا۔۔۔  فلموں اور کھیلوں کی وہ خوشنما دنیا جس میں گولیاں اور راکٹ ہمیشہ وافر ہوں۔ مگر اب حقیقت نے اپنے سخت چہرے سے آغوش کھول دیا۔ یہ کوئی کھیل نہیں، یہ ضمیر اور جان کا سودا ہے۔ یہاں ہر گولی کا حساب ہے، ہر سانس کی قیمت ہے۔ ٹریننگ میں سکھایا گیا تھا کہ ایک گولی بھی فضول ضائع نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ اُستاد کی وہ باتیں اب میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔

‎روشنی دور پہاڑ کی جانب مدہم سی جھلک رہی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ روشنی قریب آئی اور پھر… شور، گولیوں نے رات کو پھاڑ کر سرخ رستے کھول دئیے۔ دشمن کے سینے کو جب گولیاں چھیر رہی تھیں تو ہر نشانہ ایک واقعہ بن رہا تھا، ہر واقعہ ایک چھوٹا سا زخم۔ سنائپر کی آواز، سنگت شیرآک کی سخت ہدایات، واکی ٹاکی کی مختصر فقرات۔۔۔ یہ سب ایک سنجیدہ طریقۂ کار میں جُڑے ہوئے تھے۔

‎کئی میگزین خالی ہوۓ، میری انگلی بار بار ٹرِگر پر اٹکی رہی، دماغ میں وہی ہدایت گھومتی تھی کہ گولیاں فضول ضائع نہ ہوں۔ پیاس نے حلق کھردرا کر دیا تھا۔۔۔ وہ بوتل جسے کپڑوں میں لپیٹ کر رکھاتھا، میں نے اپنے لبوں سے چھڑک لی اور دوبارہ کندھے پر لٹکا دیا۔ ہم ٹھٹھرتے جسموں کے ساتھ جیسے جون کی گرمی کی ایک جھلک تلاش رہے ہوں۔

‎اچانک وہ لمحہ آگیا جب وشین آگے بڑھا۔۔۔ وہی ساتھی جس نے مجھے یہاں تک کا سفر دکھایا، میرا اُستاد اور ہمسفر۔ اس کی حرکت میں نڈھال مگر پختہ ارادہ تھا۔ سنگت کلیئر کہتا ہے، میں نے دل میں سوچا۔۔۔ بس ایک سر دکھے گا، بس ایک نشانہ اور… مگر قسمت نے ایک خاموش گولی چلائی۔۔۔ وہ گولی وشین کے سینے میں اُتر گئی۔ وقت نے ٹھہر کر ایک گھاٹی میں سرنگوں ہو کر چیخ ماری۔ وشین زمین پر گِرا۔۔۔ خون اس زمین کی محبت کا ثبوت بن کر بہنے لگا۔ ہم نے فوراً جوابی حملہ کیا، دشمن کو پسپا کیا، مگر تب تک وہ روشنی کچھ اور تھی، اک صورت بدل گئی تھی۔

‎لشکر کو شکست دینے کے باوجود، وہاں جیت کا جشن نہیں تھا۔۔۔  صرف ایک خاموشی تھی۔ کچھ نے زخمیوں کو میسر رحم سے نکالا، کچھ نے سامان اکٹھا کیا، مگر میں وہیں اپنی پوزیشن میں جم کر کھڑا رہا، دل کا بوجھ سینے پر محسوس کیے بغیر نہیں رہ رہا تھا۔ پھر سنگت شیرآک قریب آیا، آنکھوں میں مغموم وقار، الفاظ میں وہی سختی اور وہی درد۔ اس نے جو کچھ کہا، اس کے الفاظ نے میرے دل کی گہرائیوں میں ایک نامہ چھوڑ دیا۔۔۔ وشین کا نام، اس کی قربانی، اور زمین کے لیے وہ جنگ جو ہمیں بدل کر رکھ گئی تھی۔

‎اب رات کی خاموشی میں صرف ایک چیز واضح تھی۔۔۔ یہ جنگ بندوقوں کی نہیں، ضمیروں کی تھی۔ یہاں ہر فاتح، ہر شکست خوردہ اور ہر لاوارث لاش سے ایک سبق جُڑا ہوا تھا۔۔۔ زندگی کی قدر، دوست کا احسان اور زمین کی بے مثال اہمیت۔ ہم واپس چل پڑے، مگر وشین کا سایہ ہمارے ساتھ رہا۔۔۔ ایک سرگوشی، ایک دعویٰ، ایک امر کہ جس زمین کے لئے ہم نے لڑا، وہ زمین ہمیں کبھی