میر محمد بلوچ

محترم سردار اختر مینگل صاحب!

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ پارلیمانی سیاست سے وقتی دوری یا وقفے کے بعد شاید آپ سکون کے چند لمحات گزار رہے ہوں گے۔ سردار صاحب! آج یہ خط لکھنے کا مقصد آپ کی خدمت میں چند گزارشات اور کچھ تلخ حقائق گوش گزار کرنا ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے وڈھ کے حالات انتہائی گھمبیر صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ریاستی جبر اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن آپ کی زیرِ سرپرستی آپ کے فرزند گورگین مینگل نے وڈھ کے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق نہ بزرگوں کی عزت و احترام کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ خواتین اور بچوں کی حرمت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے۔

محترم سردار صاحب! بلوچ قوم نے آپ کو مون گڈریوں کے وارث اور ننگ و ناموس کے محافظ کا مقام دیا تھا۔ قوم نے آپ کو عزت اس لیے دی کہ آپ بلوچ روایات، اقدار اور لوگوں کے وقار کے امین سمجھے جاتے تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج آپ کے فرزند گورگین مینگل کے بعض اقدامات سے بلوچ ننگ و ناموس اور روایات کو نقصان پہنچنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

وڈھ میں لوگوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ روا رکھا جا رہا ہے، اس کے باعث آج کئی لوگ مینگل کوٹ جانے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ جس کوٹ کو کبھی لوگ اپنی عزت، تحفظ اور اپنائیت کی علامت سمجھتے تھے، آج بعض لوگوں کے نزدیک وہی کوٹ خوف اور اذیت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

کسی زمانے میں مینگل کوٹ کے گرد اتنی بلند و بالا قلعہ نما دیواریں نہیں تھیں، لیکن لوگوں کے دلوں میں اپنائیت، اعتماد اور محبت کی مضبوط دیوار موجود تھی۔ آج اگر دیواریں بلند ہو گئی ہیں تو افسوس یہ ہے کہ ان کے ساتھ اپنائیت کم اور خوف زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

سردار صاحب! تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قلعے کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجاؤں، مغل بادشاہوں اور نوابوں کے ہوا کرتے تھے، مگر ان حکمرانوں اور ان کے لوگوں کے درمیان تعلق محبت اور اپنائیت پر نہیں بلکہ طاقت اور خوف پر قائم تھا۔ وقت گزرتا گیا اور ان میں سے بیشتر قلعے مٹی کے ڈھیروں یا کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے، کیونکہ عوام پر بادشاہت صرف قلعے تعمیر کرکے قائم نہیں رکھی جا سکتی۔

سردار صاحب! سردار عطا اللہ مینگل ایک عوامی سردار اور عظیم سیاسی رہنما تھے۔ انہوں نے آپ سمیت اپنے تمام فرزندوں کی تربیت بھی اسی سوچ اور فکر کے تحت کی کہ وہ مینگل قبیلے اور بلوچ قوم کے خدمت گزار بنیں، نہ کہ ان پر حکمرانی کرنے والے۔ انہوں نے سرداری کو عوام کی خدمت، عزت اور اعتماد کا ذریعہ سمجھا، طاقت کے اظہار کا نہیں۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے سردار عطا اللہ مینگل کی اسی سوچ اور تربیت کو اپنے فرزند تک اس انداز میں منتقل نہیں کیا جس کی بلوچ قوم آپ سے توقع رکھتی تھی۔ آج بعض لوگوں کا تاثر ہے کہ گورگین مینگل نے سردار عطا اللہ مینگل کی عوامی سیاست اور روایات کے بجائے سندھ اور پنجاب کے وڈیروں اور چوہدریوں کے طرزِ سیاست کو اختیار کیا ہے۔

سردار صاحب، یوں محسوس ہوتا ہے کہ گورگین بھی احساسِ کمتری کے اُس نفسیاتی الجھاؤ میں گرفتار ہو چکے ہیں جسے عام طور پر “لٹل مین سنڈروم” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سردار دودا خان بھی اسی کیفیت کا شکار دکھائی دیتے تھے۔ شاید اپنے پست قد کے باعث پیدا ہونے والے احساسِ کمتری کو وہ طاقت، تشدد، قتل و غارت اور خوف کی سیاست کے ذریعے چھپانے اور اپنی برتری ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔

آج گورگین بھی اسی راہ کے مسافر نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ہی قبیلے کے غریب، بے بس اور نہتے لوگوں پر رعب جمانے، طاقت کا بے جا استعمال کرنے، تشدد روا رکھنے اور گالم گلوچ کے ذریعے اپنی برتری منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ عزت خوف سے نہیں، بلکہ کردار، انصاف اور انسان دوستی سے حاصل ہوتی ہے؛ جبر وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر احترام کبھی نہیں۔

مینگَل کوٹ کی روایت کبھی بزرگوں کی تذلیل، لوگوں کو خوف زدہ کرنے، بدتمیزی یا طاقت کے اظہار کی نہیں رہی۔ یہ کوٹ ہمیشہ بلوچ روایات، مہمان نوازی، عزت اور اپنائیت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض واقعات کے باعث اس روایت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سردار صاحب! آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے فرزند سردار عطا اللہ مینگل کی تعلیمات اور سیاسی ورثے کے بجائے ان عناصر سے متاثر نظر آتے ہیں جہاں طاقت، اختیار اور خوف کو سیاست کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ آپ اپنے فرزند کو سنبھالیں، انہیں درست سمت دکھائیں اور انہیں یاد دلائیں کہ سرداری کا اصل مطلب لوگوں کے دل جیتنا ہے، نہ کہ طاقت کے ذریعے فاصلے پیدا کرنا۔

آج وہ سرداری، طاقت اور دولت کے جس نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں، اگر وہ راستہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ وہ علی مدد جتک، ضیاء لانگو یا شفیق مینگل جیسے کرداروں کے قریب تو جا سکتے ہیں، لیکن سردار عطا اللہ مینگل کی عوامی روایت اور مقام حاصل نہیں کر سکیں گے۔

معذرت کے ساتھ سردار صاحب! اگر آپ اپنے فرزند کے ہر غلط قدم پر خاموش رہتے ہیں یا اس کی حمایت کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جس طرح خاندانی رشتوں کو متاثر کیا گیا، اختلافات کو بڑھنے دیا گیا اور فاصلے پیدا ہوئے، ان معاملات میں آپ کا کردار روک تھام اور اصلاح کا ہونا چاہیے تھا۔

آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ دونوں بھائی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ سردار صاحب! یہ خاندانی اور قبائلی دشمنی کسی بھی صورت آپ کی سیاست، آپ کے خاندان اور آپ کی سرداری کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی۔

گزشتہ دنوں زمین کے ایک تنازعے کے حوالے سے منظور حملزئی کے قتل کا واقعہ سامنے آیا۔ آپ کو چاہیے تھا کہ ایسے معاملے میں انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے، لیکن اس کے بجائے بی این پی کو بطور ڈھال استعمال کرکے کوٹ پر حملے کی خبر کو نمایاں کیا گیا، جس سے مزید ابہام پیدا ہوا۔

سردار صاحب! مینگل قبیلہ ہمیشہ مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ چاہے وہ سیاسی جدوجہد ہو، ووٹ کی طاقت ہو، جلسے جلوس ہوں یا مشکل حالات میں آپ کا ساتھ دینا ہو، اس قبیلے کے بزرگوں اور نوجوانوں نے ہمیشہ آپ کو طاقت فراہم کی۔

لیکن آج سوال یہ ہے کہ کیا یہی طاقت اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال ہونی چاہیے؟

سردار صاحب! آپ جبری لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرتے ہیں، آپ کی تقریریں مظلوموں کے لیے ہمدردی اور انصاف کے جذبات سے بھرپور ہوتی ہیں، لیکن عملی زندگی میں لوگ آپ سے انہی اصولوں کی پاسداری کی توقع رکھتے ہیں۔

رشید لانگو کئی سالوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ ان کے بیٹوں کو سردار عطا اللہ مینگل نے وڈھ بازار میں دکانیں دی تھیں، مگر وہ بھی ان سے چھین لی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

سردار صاحب! آپ ننگ و ناموس کے وارث سمجھے جاتے ہیں، پھر کیوں شہید اسد آباد وڈھ میں شہید عبدالحق مینگل اور اسکے بھتیجے کے گھروں پر جہاں خواتین اور بچے موجود تھے، راکٹوں اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، لوگ سوال ضرور اٹھائیں گے کہ پھر آپ کی سیاست اور ان قوتوں میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے جن پر آپ خود تنقید کرتے رہے ہیں؟

سردار صاحب، یہ سن کر مجھے ذاتی طور پر شدید کوفت ہوئی کہ مینگل قبیلے کی خواتین بلوچی میڑھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے آپ کے اپنے بھائی کے ساتھ پیدا ہونے والے غیر ضروری تنازعے کو ختم کرنے کی غرض سے اپنی چادریں آپ کے قدموں میں رکھ دیں، مگر افسوس کہ آپ نے اپنی انا کو نہ صرف بلوچی روایات، بلکہ خواتین کی میڑھ سے بھی بالاتر سمجھا۔ آپ نے نہ ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھا اور نہ ہی ان کی درخواست کو اہمیت دی، بلکہ انہیں عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنے کے بجائے کوٹ سے مایوسی کے ساتھ واپس بھیج دیا۔

سردار صاحب، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بلوچ روایات میں جب خواتین میڑھ لے کر کسی فریق کے پاس جاتی ہیں تو بڑے سے بڑے خونی تنازعات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ قبائلی اقدار میں لوگ خواتین کی حرمت اور میڑھ کے احترام میں خون بہا تک معاف کر دیتے ہیں۔

آپ سے بلوچ قوم کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ آپ کو ننگ و ناموس کا محافظ اور روایات کا امین سمجھا جاتا ہے۔ پھر مینگل قبیلے کی خواتین کے ساتھ یہ طرزِ عمل کیوں؟ ان کی میڑھ کو رد کیوں کیا گیا؟ اور اس کے بعد گھروں پر حملے، چادر و چار دیواری کی پامالی اور خواتین و بچوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے جیسے اقدامات کیوں؟

قبیلے کے ساتھ تصادم، خاندان کے اندر دشمنی اور طاقت کے ذریعے اختلافات کو دبانے کا راستہ کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔

سردار صاحب! قبیلے کے اندر لڑائی، خاندان کے درمیان دشمنی اور اپنے ہی لوگوں سے ٹکراؤ کسی بھی صورت آپ کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کی گئی برتری زیادہ دیر قائم نہیں رہتی، کیونکہ اصل طاقت عوام کی محبت، اعتماد اور حمایت ہوتی ہے۔

سردار صاحب! ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں خاندانی اور قبائلی تنازعات نے حالات کو اس حد تک پہنچایا کہ طاقت رکھنے والے لوگ بھی اپنے ہی علاقوں میں تنہا ہو گئے۔ سردار ثناء اللہ زہری کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں اپنے بھائی رسول بخش زہری کے قتل کے بعد سرداری کا حصول، اپنے بھتیجے دودا خان، ماموں امان اللہ اور زہری قبیلے کے دیگر بزرگوں اور نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے تنازعات نے ایک طویل کشمکش کو جنم دیا۔

آج اگرچہ طاقت کا اظہار وقتی طور پر کسی کو مضبوط دکھا سکتا ہے، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو بڑے بڑے نام اور مضبوط سمجھی جانے والی طاقتیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ انسان اپنے ہی لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتا ہے۔

سردار صاحب! ایسا نہ ہو کہ یہ خاندانی اور قبائلی دشمنی کل وڈھ کو آپ ہی کے لیے ایک ایسے نوگو ایریا میں تبدیل کر دے جہاں آپ کے اپنے لوگ آپ سے دور ہو جائیں، جہاں محبت اور اعتماد کی جگہ خوف اور فاصلے لے لیں۔

یاد رکھیے، سرداری صرف قلعوں، دیواروں، طاقت یا اختیار سے قائم نہیں رہتی بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے سے قائم رہتی ہے۔ جو سردار اپنے لوگوں کے دکھ درد میں شریک رہتا ہے، تاریخ میں وہی عزت اور احترام کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔

سردار عطا اللہ مینگل کی اصل میراث عوامی محبت، سیاسی بصیرت، اصولی جدوجہد اور لوگوں کا اعتماد تھا۔ اگر اس میراث کو برقرار رکھنا ہے تو راستہ بھی عوامی خدمت، انصاف اور رواداری کا اختیار کرنا ہوگا۔

سردار صاحب، میں نے سنا ہے کہ وڈھ میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ باپ بیٹوں کو سمجھاتا ہے اور انہیں قابو میں رکھتا ہے۔ مگر وڈھ میں یہ بات بھی زبانِ زدِ عام ہے کہ آپ کا بیٹا آپ کی عزت و وقار کا بھی خیال نہیں رکھتا۔

سردار صاحب، کوئی بیٹا اگر جائیداد، اختیار اور طاقت کی لالچ میں آ کر اپنے والد کو زہر پلا دے تو یہ ایک شخص کا قتل ہوتا ہے لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ گورگین آج وڈھ میں نفرت، تشدد اور انتشار کا جو زہر گھول رہے ہیں، وہ آپ کی شخصیت، آپ کی سیاست اور برسوں پر محیط جدوجہد اور قربانیوں کو آپ کی زندگی ہی میں داغدار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو خدشہ ہے کہ تاریخ آپ کی خدمات سے زیادہ ان تلخ واقعات کو یاد رکھے گی۔

سردار صاحب! اب بھی وقت ہے کہ آپ اپنا کردار ادا کریں، بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کریں اور وڈھ کو خوف، کشیدگی اور تقسیم کے بجائے امن، اعتماد اور اپنائیت کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔

امید ہے کہ آپ ان گزارشات کو ایک خیرخواہانہ آواز کے طور پر سنیں گے اور حالات کو مزید خراب ہونے سے پہلے اپنا کردار ادا کریں گے۔