سندھ ایک تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے متنوع صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتوں نے صدیوں سے جنم لیا اور پروان چڑھی ہیں۔ انہی میں بلوچ قوم بھی شامل ہے جو سندھ میں قابلِ ذکر تعداد میں آباد ہے۔ تاہم حالیہ عرصے میں ایک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ میں رہنے والے بلوچ باشندوں کو بعض لوگ “سندھی” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ رویہ تاریخی اور ثقافتی دونوں حوالوں سے غلط ہے اور بلوچ قوم کی الگ شناخت کو مجروح کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم غور کریں گے کہ سندھ کے بلوچوں کو سندھی کہنا کیوں حقیقت کے منافی ہے، بلوچ قوم کی اپنی منفرد زبان، ثقافت، تاریخ اور روایتیں کون سی ہیں، اور کیوں ضروری ہے کہ بلوچ اپنی اصل پہچان پر قائم رہیں اور خود کو سندھی کہنے سے گریز کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ بلوچ بڑی تعداد میں سندھ میں آباد ہیں (اندازاً کل بلوچ آبادی کا 50 فیصد سندھ میں مقیم ہے)، اس کے باوجود وہ نسلی طور پر ایک الگ قوم ہیں نہ کہ سندھی۔ اس تحریر کا مجموعی مقصد بلوچ شناخت کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ ہمارا انداز سنجیدہ اور زور دار ہوگا مگر دائرۂ ادب و احترام میں رہتے ہوئے حقائق کو پیش کیا جائے گا۔
سندھ کے بلوچوں کو ‘سندھی’ کہنا کیوں غلط؟
بنیادی طور پر “سندھی” ایک مخصوص لسانی و ثقافتی قومیت کا نام ہے جس کی اپنی زبان (سندھی) اور تہذیبی روایات ہیں۔ صرف سندھ کی سرزمین پر رہائش اختیار کر لینے سے کوئی غیر سندھی قومیت اس کی تاریخ یا شناخت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ سندھ میں آباد بلوچوں کو سندھی کہنا ایک تاریخی اور نسلی مغالطہ ہے۔ بلوچ قوم نسلی اعتبار سے سندھیوں سے مختلف پس منظر رکھتی ہے اور ان کی اپنی جداگانہ روایتیں اور تاریخی ورثہ ہیں جن کا تعلق بلوچستان اور بلوچ ثقافت سے ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اور ذرائع کے مطابق اگرچہ بلوچ بڑی تعداد میں سندھ میں آباد ہیں اور بظاہر کچھ لوگ انہیں سندھی شناخت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں، مگر یہ تصور حقیقت میں بلوچ قوم کی انفرادیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچوں کو محض جغرافیے کی بنا پر سندھی کہنے سے ان کی صدیوں پر محیط الگ پہچان گویا پسِ پشت ڈال دی جاتی ہے۔ یہ رجحان اس لیے غلط ہے کہ اس سے تاریخ کی سچائی مسخ ہوتی ہے اور دو مختلف قوموں – سندھی اور بلوچ – کی شناختیں خلط ملط ہو جاتی ہیں۔ بلوچ اور سندھی اپنی جگہ دونوں قابلِ احترام قومیں ہیں، مگر انہیں ایک کہہ دینا علمی اور سماجی لحاظ سے درست نہیں۔
بلوچ قوم کی الگ زبان، ثقافت اور تاریخ
بلوچ قوم کی زبان، ثقافت اور روایات اسے دوسری قومیتوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ بلوچوں کی زبان بلوچی کہلاتی ہے جو لسانی اعتبار سے ایرانی الاصل ہے، جبکہ سندھی زبان بالکل مختلف، یعنی ہند-آریائی خاندان سے تعلق رکھنے والی زبان ہے۔ زبان کا یہ فرق ہی ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ اور سندھی دو جدا قومیتیں ہیں۔ بلوچ ادب اور شاعری میں بھی اپنی الگ مٹھاس اور تاریخ کی جھلک نظر آتی ہے۔ بلوچ ثقافت میں مہمان نوازی، بہادری اور غیرت جیسے اوصاف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہر قوم کی طرح بلوچ بھی اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں اور ہر سال 2 مارچ کو یومِ بلوچ ثقافت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس میں بلوچ مرد و خواتین اور بچے روایتی لباس پہن کر اپنی تہذیب کا جشن مناتے ہیں۔ اس دن کا مقصد بھی دنیا کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ بلوچ ثقافت کتنی متنوع اور خوش رنگ ہے۔
بلوچوں کا روایتی طرزِ زندگی تاریخی طور پر خانہ قبائلی رہا ہے۔ بلوچ مردوں کے لباس کی بات کی جائے تو ان کی پہچان لمبی ڈھیلی قمیض، بہت چوڑی شلوار اور سر پر مخصوص پگڑی ہے۔ خواتین کے لباس بھی رنگین کڑھائی اور آئینہ کاری سے مزین لمبی چادر اور گھیر والی پوشاک پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بلوچ اپنے رسم و رواج کو آج تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی لوک موسیقی، روایتی رقص “چاپ”، اور قبائلی حکایتیں ان کی ثقافتی دولت ہیں جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔ بلوچوں کی روایت میں ہر مہمان کو عزت دینا اور قول کا پکا ہونا قابلِ فخر باتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان تمام ثقافتی عناصر سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کی اپنی منفرد تہذیبی شناخت ہے جو سندھی ثقافت سے بالکل مختلف مگر اتنی ہی شاندار ہے۔
۔ ان بلوچوں نے مقامی زبانیں ضرور سیکھ لیں مگر اپنی علیحدہ روایات برقرار رکھیں۔ بلوچ تاریخ بہادری اور آزادی پسندی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ ماضی میں بلوچ قبائل نے اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے جو جدوجہد کی، اس کا تذکرہ ان کی لوک داستانوں اور رزمیہ شاعری میں ملتا ہے۔ یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کی اپنی زبان، اپنی ثقافتی پہچان اور اپنا تاریخی ورثہ ہے جو اسے سندھی قوم سے الگ مقام دیتا ہے۔
اپنی اصل شناخت پر قائم رہنے کی ضرورت
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچوں کے لیے اپنی اصل شناخت پر قائم رہنا کیوں ضروری ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ قوموں کی شناخت ان کا تاریخی ورثہ ہوتی ہے۔ بلوچوں کی زبان، ثقافت اور روایات صدیوں کی امانت ہیں۔ اگر نئی نسلیں محض جغرافیائی مطابقت یا کسی دباؤ کے تحت خود کو “سندھی” کہلانا شروع کر دیں گی تو یہ قیمتی ورثہ رفتہ رفتہ کھو جائے گا۔ زبان کا معاملہ سب سے اہم ہے: اپنی مادری زبان ترک کر دینے سے آنے والی نسلیں اپنے ادب، لوک کہانیوں اور تاریخ سے نابلد رہ جائیں گی۔ بدقسمتی سے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں چند بلوچ قبائل رفتہ رفتہ علاقائی زبانیں اپنانے لگے ہیں اور بلوچی کم بولی جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ جانتے ہیں کہ ان کی جڑیں بلوچ ہیں اور وہ اسی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر بھی دیکھا جائے تو بلوچ قبائل نے جب کبھی دوسری زبان یا ثقافت کو اپنایا ہے تب بھی اپنی نسلی پہچان کو نہیں چھوڑا۔ مثلاً سندھ میں آباد بہت سے بلوچ خاندان سندھی یا سرائیکی بولنے لگے، لیکن صدیاں گزر جانے کے باوجود وہ خود کو بلوچ ہی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچیت ایک مضبوط شناخت ہے جو محض زبان بدلنے سے ختم نہیں ہوتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ اپنے نام، اپنی زبان اور اپنی روایات کو زندہ رکھیں۔ اپنی شناخت پر قائم رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر ثقافتوں سے نفرت کی جائے، بلکہ اس کا مقصد اپنی اقدار سے جڑے رہنا ہے۔ جب ایک قوم اپنی پہچان برقرار رکھتی ہے تو نہ صرف اس کا ثقافتی سرمایہ محفوظ رہتا ہے بلکہ معاشرے میں مجموعی طور پر ثقافتی تنوع بھی برقرار رہتا ہے۔ سندھ کے دنیا بھر میں بسنے والی بلوچ قوم کا حصہ ہیں اور انہیں اپنے اس تعلق پر ناز ہونا چاہیے۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں بلوچ قوم آباد ہے اور ہر جگہ اپنی شناخت کے لیے کوشاں ہے۔ سندھ کے بلوچ بھی اگر اپنی شناخت پر قائم رہیں گے تو نہ صرف وہ خود باوقار رہیں گے بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی ایک واضح ورثہ منتقل کر سکیں گے۔ انہیں چاہیے کہ اپنی زبان (بلوچی) کو گھر اور اپنی محفلوں میں زندہ رکھیں، اپنی ثقافتی تقریبات (جیسے یومِ بلوچ ثقافت) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور فخر کے ساتھ خود کو بلوچ کہیں۔ یہی رویہ ان کی اصل پہچان کو مستقبل میں بھی تابندہ رکھے گا۔
سندھ میں بلوچوں کی بڑی تعداد، مگر الگ قوم
سندھ میں بلوچوں کی آبادی کسی طور بھی قلیل نہیں۔ تاریخی طور پر بھی سندھ بلوچوں کے ایک بڑے مسکن کے طور پر ابھرا ہے۔ آج صوبہ سندھ میں لاکھوں کی تعداد میں بلوچ بستے ہیں۔ صرف کراچی شہر میں بلوچ آبادی پچیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی کئی اضلاع میں بلوچ نمایاں موجود ہیں۔ بعض مطالعوں کے مطابق بلوچ اس وقت سندھ کی آبادی کا تقریباً 50٪ حصہ ہیں، جو انہیں صوبے کا سب سے بڑا نسلی گروہ بناتا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے بلوچ سندھ کے معاشرے میں کس قدر اہم ہیں۔
اتنی بڑی آبادی کے باوجود بلوچوں نے خود کو سندھی قومیت میں ضم نہیں کیا بلکہ اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا ہے۔ بے شک صدیوں تک ساتھ رہنے بسنے سے بلوچ اور سندھی برادریوں میں باہمی رشتے اور میل جول پیدا ہوا ہے اور کئی بلوچ قبائل سندھ کی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بعض بلوچ قبائل نے سندھی یا سرائیکی زبانیں بھی اپنا لی ہیں (مثلاً شمالی سندھ میں کچھ رند اور چانڈیو جتوئی قبائل وقت کے ساتھ سندھی بولنے لگے) مگر نسلی طور پر وہ آج بھی بلوچ کہلاتے ہیں۔ سندھ میں بہت سے مشہور قبائل اور خاندان بلوچ نژاد ہیں، مثلاً چانڈیو، لغاری، زرداری، کوسا، جتوئی بلیدی وغیرہ – اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے مقامی زبانیں اپنا لی ہیں لیکن انہیں اپنی بلوچ اصل کا ادراک ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بلوچ چاہے نسلوں سے سندھ کی مٹی پر آباد ہیں، پھر بھی وہ تہذیبی طور پر بلوچ ہی ہیں، سندھی نہیں۔ ان کی مثال ایک ایسی رنگا رنگ دھارے کی سی ہے جو سندھ کی ثقافتی نہر میں بہتے ہوئے بھی اپنا الگ رنگ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سندھ کی خوبصورتی بھی اسی میں ہے کہ یہاں رہنے والے بلوچ اپنی پہچان کے ساتھ پھلیں پھولیں اور صوبے کی مجموعی ثقافتی دولت میں اپنا حصہ شامل کرتے رہیں۔
مذکورہ بالا بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ بلوچ قوم کی شناخت ایک حقیقت ہے جسے کسی بھی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ خصوصاً سندھ میں آباد بلوچوں کو اپنی اس شناخت پر فخر کرنا چاہیے اور خود کو سندھ کے بلوچ کے طور پر متعارف کرانا چاہیے نہ کہ سندھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ دھرتی نے بلوچوں کو اپنایا ہے اور بلوچوں نے بھی سندھ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے، مگر اپنی اصل پہچان کو برقرار رکھ کر ہی بلوچ اس معاشرے میں باعزت اور پُر وقار انداز میں جی سکتے ہیں۔ جب ہر قوم اپنی زبان اور ثقافت کو سنبھال کر رکھے گی تو باہمی احترام بھی بڑھے گا اور سب کو اپنی اپنی پہچان کے ساتھ جینے کا حق ملے گا۔
آخر میں ہمارا پیغام یہی ہے کہ بلوچ قوم چاہے سندھ میں ہو یا دنیا کے کسی بھی حصے میں، وہ اپنی تاریخ اور ثقافت کی امین ہے۔ خود کو سندھی یا کسی دوسری شناخت سے موسوم کرنے کے بجائے بلوچوں کو چاہیے کہ اپنی عظیم وراثت پر قائم رہیں۔ نئی نسل کو اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی روایات سے روشناس کرائیں۔ اسی میں بلوچ قوم کی بقا اور ترقی ہے۔ احترامِ باہمی کے ساتھ اپنی پہچان کا تحفظ ہر قوم کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ بلوچ شناخت ایک قابلِ فخر حقیقت ہے اور اسے زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔















