موجودہ تحریک کے ابتدائی دور میں بلوچ سماج کے اجتماعی شعور کا احاطہ کرکے دیکھیں تو سنہ 73 یا اس سے پہلے کے بلوچ تحاریک کی صورتحال کیا تھی، ہمارے اسلاف کو کن مصائب و نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس بابت ہمارے موجود نسل کے اکثریت نے قصے ضرور سنے تھے لیکن ہم میں ایسے بہت کم افراد موجود تھے جو عملی طور پر اس دور سے گذرے ہوں۔ مجموعی طورپر دیکھا جائے ماضی کے ان تحاریک سے ہماری وابستگی ایک افسانوی سی ہی رہی۔ پچھلے تحاریک میں ضرور ہزاروں کمیاں اور غلطیاں ہوئی ہونگی کہ وہ ناکامی پر منتج ہوئیں لیکن ناکامیوں کے باوجود ہمارے ذہنوں میں انکی اہمیت ایک مزاحمت کی سی رہی ہے۔ جو اور کچھ نہیں تو اس فائدے کے ساتھ ہمارے شعور اور تاریخ پر یہ نقشہ چھوڑنے میں کامیاب ہوئے کہ ہم نے کبھی پاکستانی قبضے کو تسلیم نہیں کیاہے۔ ان تحاریک کے نتائج سے قطع نظر بلوچ کامیاب تو نہیں ہوئے لیکن انکی وجہ سے پاکستانیت میں تحلیل ہونے سے بچے رہے۔ جسٹس نواز قتل کیس میں بابا مری کے گرفتاری کے بعدجب مسلح تحریک آزادی دوبارہ شروع ہوئی تو اس میں موجود کشش نے بلوچ نوجوانوں کی توجہ فوراً کھینچ لیا۔ کہتے ہیں کہ جنگ ہی قوموں کو خاص بناتی ہے اور پہچان دیتی ہے۔ اس تحریک میں موجود کشش کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ پاکستانی نظام میں بلوچ قومی طور پر احساسِ کمتری کا شکار ایک لا پہچان شے اور بے مقصد انبوہ بن چکا تھا اور جب یہ جنگ شروع ہوئی تو اس نے ایک طرف ہمیں ایک قومی مقصد سے آشنا کیا تو دوسری طرف ایک پہچان دیتے ہوئے ایک موضوع بھی بنا لیا اور یہی وہ کشش تھی جو ماضی کے مزاحمت کے قصوں سے جڑ کر خاص طور پر بلوچ نوجوانوں کو اپنی جانب جوق در جوق کھینچنے میں کامیاب ہوا۔ اسی جنگ کے اثرات کے تناظر میں آج ہمارے سماج پر ایک نظر ڈالیں تو اس جنگ نے تمام مصنوعی کرداروں کو ختم کردیا ہے۔ اگر آج کوئی بھی ہمارے سماج میں مثبت یا منفی حیثیت رکھتا ہے تو وہ اس جنگ سے پیدا ہونے والے عناصر ہیں، یعنی ہمارے سماج میں شہیدوں کے عزت و مقام کو دیکھیں وہ کسی بھی بااثر شخصت سے زیادہ معتبر ہیں۔ اسی طرح لیڈروں اور تنظیموں کے اثرات اور ان سے جڑی پہچانیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ دوسری طرف اس سے نکلے منفی عناصر کو دیکھیں کے آج ڈاکٹر مالک جیسے بکاو بلوچ ہوں یا ڈیتھ اسکواڈوں کی سربراہی کرنے والے کروڑوں میں کھیلتے ذلیل جرائم پیشہ افراد ان کو آج پیسے یا پارلیمنٹ کی صورت میں کچھ بھی ملا ہے تو وہ بھی اس جنگ کی وجہ سے ہی ملا ہے ورنہ پنجابی قبضہ گیر کے نفسیات کے تناظر میں دیکھیں تو ان جیسے عناصر کو یہ پنجابی فوجی اپنے جوتے صاف کرنے کے لائق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اب بلوچ سماج میں اس جنگ کے حق یا مخالفت سے باہر کے جتنے بھی بلند یا کم کردار ہیں وہ ہِچ ہوکر رہ گئے ہیں۔ اثراتی حوالے سے اب یہ نیست طبقہ بھی دن بدن سکڑتا جارہا ہے کچھ قومی غیرت کا پلو تھام کر اپنا تاریخی فریضہ انجام دینے کیلئے تکالیف کی پرواہ کیئے بغیر راہ حق کا چناؤ کرکے قومی تحریک سے جڑ رہے ہیں اور کچھ عارضی مراعات کیلئے دشمن کے دہلیز پر بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تحریک کے ابتدائی دور میں دشمن کے رویے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ تحریک اس کے اندیشوں سے کئی گنا زیادہ تیزی سے بلوچ عوام میں سرایت کرگئی اور ایک مختصر مدت میں پورے بلوچستان میں وسعت اختیار کرگئی۔ دشمن اس تحریک کو ایک مردہ گھوڑا سمجھ رہا تھا جسے وہ اپنے دانست میں گاڑھ کرآیا تھا اور شاید اس کے ابتدائی کاروائیوں کو بھی سرداروں کے روایتی بلیک میلنگ کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ اسی لیئے متعداد کیس تھونپنے کے بعد بابا مری کو رہا کرکے اسے دوبارہ گرفتار نہیں کرتا ہے اور دشمن کے جبر میں اتنی شدت بھی دِکھائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن تحریک میں نوجوانوں کے جوق در جوق شرکت کو دیکھ کر اس نے جلد ہی اپنی حکمت عملی بدل لی اور اپنے اصل بدنما چہرے کے ساتھ نمودار ہوا اور تمام آزادی پسند بلوچوں کا قتل عام شروع کردیا۔ تحریک کے ابتدائی پھیلاو کو دیکھ کر موجودہ نسل اسی کو فطری رفتار سمجھتے ہوئے آزادی کو آنے والے چند سالوں میں ڈھونڈ رہی تھی اور دشمن کے طاقت اور بربریت کا غلط اندازہ لگا رہے تھے لیکن جب دشمن نے وار شروع کردیا تو ہم میں سے زیادہ تر اس کیلئے شعوری لحاظ سے تیار نہیں تھے جو بہت سے سیاسی کارکنان کا دشمن کا آسان شکار بننے کی وجہ بنی اور چند ہی سالوں میں اب ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے کیسے کیسے قیمتی لوگ کھودیئے، لیکن ان ابتدائی نقصانات کے باوجود دشمن اس تحریک کو کچلنے میں ناکام ہوا، اسکی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ایک قلیل تعداد سے قطع نظر بلوچ سرمچار اور سیاسی کارکنان خوفزدہ ہوئے بغیر اپنے جانوں کے قیمت پر اس تحریک کو سنبھالتے اور آگے بڑھتے رہے، یعنی اس تحریک کو ہزاروں کی تعداد میں بلوچ شہید ہوکر زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئے اور آج یہ تحریک دشمن کیلئے ایک سر درد سے بڑھ کر بقا کر مسئلہ بن چکا ہے۔ قابض کے زاویہ نظر سے بولا جاتا ہے کہ ایک تحریک یا بغاوت کینسر کی طرح ہوتا ہے جو جتنا زیادہ پرانا ہوجائے، اسے ختم کرنا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ تاریخ عالم پر ایک نظر دوڑا کر دیکھیں تو یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ جس بھی تحریک کو اسکے ابتدائی لہر کے بعد ختم نہیں کیا گیا تو وہ پھر طوالت اختیار کرتا جاتا ہے اور کسی بھی گوریلہ تحریک کی کامیابی اسکے فتح کو نہیں بلکہ اسکے شکست نا کھانے کو کہا جاتا ہے۔ اس مختصر پس منظر کو بیان کرنے کا میرا مقصد بلوچ شہداء کے شہادت کے اس اہمیت کو بیان کرنا ہے جو ہوسکتا ہے کہ کسی نے جان دینے سے پہلے طے نہیں کیا تھا لیکن وہ ان تما م شہادتوں کے جمعی ماحصل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ گذشتہ 15 سالوں کے دورانیئے کے بابت بات کی جائے تو ہم ناکامیوں ، کمزوریوں اور کوتاہیوں کی ایک طویل فہرست تیار کرسکتے ہیں۔ لیکن ان سارے منفی پہلووں کے باوجود اگر ہم اثبات تلاش کریں تو وہ بلوچ شہداء کے شہادتوں کا جمعی اثر ہے۔ یعنی آج بلوچ تحریک اپنے تمام تر کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ اس نہج پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوا ہے کہ پوری دنیا بلوچستان میں بلوچوں کو حقیقی مالک سمجھتے ہیں اور جب بھی بلوچستان کی بات ہوتی ہے تو وہ بلوچ آزادی پسندوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اب ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں ہم زیر غور ہیں اگر بدلتے حالات کے تحت ہمیں کبھی بھی کسی بھی عالمگیر طاقت کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو بلوچستان میں اس پورے جنگ کا نقشہ بدل جائے گا اور بلوچ آزادی پسندوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا جو عوامی قوت کو اپنی جانب کھینچ کر دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت کے حامل ہوجائے گا۔ یعنی اپنے تمام تر کمزور حالات کے باوجود چلتے ، کٹتے ، گِرتے اور بڑھتے ہم جہاں لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہیں، وہاں ہم مزید محض ایک گمنام قوم و تحریک نہیں بلکہ کمزور ہی صحیح لیکن فیصلہ کن اثر رکھنے والی قوت ہیں کیونکہ کسی کے مقاصد کے آگے ہمارا وجود کھڑا ہے تو کسی کے مقاصد ہمارے تقویت کے محتاج ہیں۔ اس صورتحال میں ہماری زندگی کامیابی کی تمام تر امیدیں چمکتے سورج کی طرح روشن رکھتا ہے، اور یہ مقام بغیر قربانیوں کے حاصل کرنا ہر گز ممکن نہیں تھا۔ قومیں اس مقام پر اپنے بے تحاشہ فرزندوں کے قربانیوں کے سیڑھی پر چڑھ کر ہی پہنچتی ہیں۔ اس لیئے آج اگر یہ تحریک کوئی نام یا مقام یا پھر کوئی حیثیت رکھتی ہے تو وہ ہمارے ان ہزاروں شہیدوں کے قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو مستقبل میں امیدیں تو روشن ہیں لیکن جس درجے یا شدت کی ہماری تحریک ہے اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ بہت جلد ایک طاقتور دشمن کو شکست دے سکے۔ کمزور حالت کے باوجود ہماری سب سے بڑی حاصل قوت یہی قربان ہونے کا جذبہ ہے جو دشمن کو خوف میں مبتلاء کرتا ہے۔ یعنی اتنے قربانیوں کے باوجود تحریک کا جاری رہنا دشمن اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کیلئے ایک پیغام ہے کہ ہم مریں گے، مصائب کا سامنا کریں گے لیکن اپنے سرزمین سے دستبردار نہیں ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ یہی دشمن جو پندرہ سال پہلے بلوچوں کو پانی اور بجلی مانگنے تک پر جیونی اور میاں غنڈی میں گولیوں سے چھلنی کرنے پر نہیں ہچکچاتا تھا، آج اس حد تک دفاعی پوزیشن پرآچکا ہے کہ اگر اس وقت بلوچ آزادی کے سوا کسی بھی چیز کی مانگ کریں وہ تسلیم کرنے پر تیار ہونگے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس حد تک خون بہانے کے باوجود وہ اس تحریک کو کچل نہیں سکا تو پھر وہ آگے اسے مسلسل قوت استعمال کرتے رہ کر محض مختصر دورانیوں کیلئے منتشر تو کرسکتا ہے لیکن ختم نہیں کرسکتا۔ دشمن کو اس حد تک پیچھے دکھیلنے اور اسے دفاعی پوزیشن میں لانے کی وجہ ان تمام شہیدوں کے قربانیوں کا جمعی نفسیاتی اثر ہے۔ اسی طرح ہم ان تمام شہادتوں پر غور کریں تو ان قربانیوں کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ بلوچ اور قابض پاکستان کے بیچ ایک خونی لکیرِ کھنچ گئی ہے جس نے بلوچ کو قومی، تہذیبی اور نفسیاتی طور پر قابض میں تحلیل ہونے سے بچا کر الگ کردیا ہے۔ آج پورے بلوچستان میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس نے اپنے کسی خاندان کے فرد یا دوست یا ہمسائے یا پھر کسی جاننے والے کی شہادت نہیں دیکھی ہے۔ ان شہادتوں کی وجہ سے چند کاسہ لیسوں کو نکال کر دیکھیں تو ہر ایک بلوچ کے دل میں دشمن سے نفرت اور آزادی کیلئے چاہت پیدا ہوچکی ہے۔ گوکہ انتہائی4 درجے کے بربریت کی وجہ سے بہت سے لوگ دشمن سے اس نفرت اور آزادی کی چاہت کا اظہار نہیں کرتے لیکن یہ سب کے دلوں میں ایک چنگاری کی طرح موجود ہے جو کبھی بھی مناسب موقع پر دھکتی آگ بن سکتی ہے اور پاکستان چاہے جو کچھ بھی کرے وہ قوت کے استعمال سے عارضی طور پر اسے دبا تو سکتا ہے لیکن کبھی بھی اس چنگاری کو نہیں بجھا سکتا کیونکہ وہ ان شہیدوں کو کبھی دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا اور بہت سے لوگ خاموش ضرور ہیں لیکن کوئی بھی اس بات کو نہیں بھول سکتا کہ ان کا کوئی پیارا اس قابض ملک کے ہاتھوں شہید ہوا ہے، اپنے پیاروں کے اس موت کو فراموش کرنا ہرگز ممکن نہیں۔ یہ سلسلہ محض یہاں تک بھی موقوف نہیں بلکہ ہر شہادت از خود تحریک کا ایک پرچار ہے ایک ایسی پرچار جو زبانی نہیں بلکہ احساسات کے ذریعے ہر بلوچ تک پہنچتی ہے اور صرف موجود وقت کے قید تک ہی یہ محدود نہیں بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی اور محسوس ہونے والی پرچار ہے، جو آزادی کے اس پیغام کو تب تک ایک نسل سے دوسرے نسل ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل کرتی رہے گی جب تک کہ یہ شہادتیں اپنا منطقی انجام آزادی نہیں پاتے۔ آزادی کا یہی پیغام اس تحریک کے شروعاتی دنوں میں تمام تر آسانیوں کے باوجود اپنی قوم کو سمجھانا اور اسے قائل کرنا کتنا مشکل تھا لیکن اب وہی پیغام ان شہادتوں کی وجہ سے از خو د پھیل رہا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ بلوچ آزادی چاہتا ہے اور اسی لئے شہید ہورہا ہے۔ شہادتوں کے یہ اثرات اور لوگوں کے اندر سلگتی یہ چنگاری کبھی بھی ہمارے مضبوط ہونے یا پھر دشمن کے کمزور ہونے کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اب اس تحریک اور اس سے جڑے تنظیموں و پارٹیوں پر غور کریں تو قابض سے اپنے وطن کو آزاد کرنے کے جس نظریے کے تحت وہ اس تحریک کو چلا رہے ہیں۔ اس تحریک کو جواز گوکہ تاریخی پس منظر اور اسکا جائز موقف دیتا ہے لیکن اسکو ٹھوس بنیادیں یہ شہادتیں ہی فراہم کرتی ہیں۔ یہ شہادتیں جدوجہد کے عملیت، اٹل ارادوں، آخری حد تک جانے کا عزم اور آقا و غلام کے حقیقی تعلق کا ایسا کھلا اظہار ہیں، جو شاید ان شہادتوں کے علاوہ کسی بھی اور سیاسی عمل سے ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایسے متشکک سوالات اور قیاسات گم ہوچکی ہیں جو بلوچ اور پاکستان کے تعلقات کے نوعیت کے بارے میں ہوتی تھیں۔ زندگی جیسے قیمتی شے کو مقصد کیلئے قربان کرنے سے ایک قوم کے حیات پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جس کے احاطہ کیلئے میں خود کو نااہل پاتا ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان شہادتوں نے ہی ہمیں ایک قوم بنایا اور آپس میں جوڑ دیا۔ شاید آزاد قوموں کو کوئی سرحد اور آئین آپس میں جوڑتی ہو لیکن ہم جیسے غلام قوموں کو شہیدوں کا خون آپس میں جوڑ کر ایک قوم بناتا ہے۔ ایک قوم کے نفسیات پر شہیدوں کے قربانیوں کے اثرات لازوال ہوتے ہیں، ذرا سوچیں کہ اگر کوئی بے غرضی کے ساتھ بغیر جان پہچان کے آپ کو ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلادے تو اس عمل کا ہمارے نفسیات پر کتنا گہرا اثر ہوتا ہے اور ہمارا اس شخص کے ساتھ کیسا رشتہ قائم ہوجاتا ہے تو پھر یہاں کوئی شخص جو نا آپکو ذاتی طور پر جانتا ہے نا پہچانتا بے غرضی کے ساتھ آپ کیلئے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ زندگی قربان کردیتا ہے تو اس عمل کے اجتماعی نفسیاتی اثرات کتنے گہرے ہونگے؟۔ یہی وجہ ہے دنیا کا جو بھی قوم ہو ، جو بھی نسل ہو ، جو بھی ملک ہو ، جو بھی عہد ہو اپنے شہیدوں کو ایک انتہائی اعلیٰ مقام دیتا ہے، اور یہ ہمارے شہیدوں کے بدولت ہی ہے کہ آج عالمی حالات ہوں یا ہمارے معروضی حالات یا پھر قومی نفسیات سب بلوچ قومی آزادی کے حصول کیلئے زرخیز ہوچکے ہیں۔ ان شہیدوں ، شہادتوں اور قربانیوں سے قوم پر بلا واسطہ اور رہتی وقت تک نفسیاتی طور پر بلواستہ جو اثرات پڑتے ہیں اہل لیڈر اور جماعتیں اپنے قوم کو بناتے ہیں، قومی تشکیل کا تاریخی فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن ہم ایک بڑے بد بختی کا شکار ہیں کہ ہماری جو قوت، جو کامیابیاں، جو قربانیاں یا جو بھی کارنامے ہوں و گروہیت کے چکی میں پستے ہوئے چھوٹے چھوٹے خانوں میں تقسیم ہوکر بے اثر ہوجاتے ہیں۔ بد بختیوں کا یہی سلسلہ ہمیں ان شہادتوں اور شہیدوں میں بھی ملتا ہے کہ یہاں کوئی بھی ان قربانیوں کے طفیل قوم کو نہیں بلکہ خود کو اور اپنے گروہ کو بنانا چاہتا ہے۔ سب ان شہیدوں کو بیساکھی بناکر الگ الگ ان پر لنگڑا کر چلنا چاہتے ہیں۔ کسی نے اپنا مردہ جسم شہید اکبر خان پر کھڑا کیا ہے تو کوئی غلام محمد کے شہادت سے لپٹ کر اپنا مردہ جسم گھسیٹ رہا ہے، کسی کو کچھ نہیں ملا تو پھر پیچھے جاکر شہید سفر خان کے شہادت سے اپنے لیئے جوا ز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شہیدوں کے خون پر پلنے والے ان طفیلی جماعتوں کے وجود کو برقرار رہنے کیلئے لاشوں کی انتہائی ضرورت ہے کیونکہ تمام کے تنظیمی صورتحال کو دیکھ کر یہ کہنا ہر گز مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ تمام گروہ اب رک چکے ہیں۔ جہاں یہ کھڑے ہیں اس سے آگے جانے کی یا تو ان میں صلاحیت نہیں یا پھر نیت کا قحط ہے۔ ان کے وجود سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں پھوٹ رہا اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ بلوچ سماج یا تحریک پر جو بھی مثبت اثرات پڑیں ہیں وہ ان شہادتوں کی وجہ سے ہی پڑے ہیں اس لیئے یہ گروہ اب ان شہادتوں کو بانٹ کر، ان سے اپنا نسبت جوڑ کر یا شہیدوں کا نسبت خود سے جوڑ کر ان شہادتوں، ان شہادتوں کے مثبت اثرات، ان اثرات میں موجود جذبات کو اپنے وجود کیلئے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسی لیئے ہر گروہ اپنی توانائیاں اپنے لیئے شہیدوں کے الگ الگ کوٹے بنانے پر خرچ کررہا ہے۔ یقین کریں اگر آپ شہیدوں اور شہادتوں کے اثرات کو ان جماعتوں سے الگ کردیں تو ان جماعتوں کو اپنا وجود ثابت کرنے کے لالے پڑ جائیں گے۔ شہیدوں کے اس بندر بانٹ اور مردہ پرست سیاست نے شہیدوں کی درجہ بندی کا بھی غلط رجحان پیدا کردیا۔ یہاں میرا مراد شہیدوں کے زندگی میں کردار سے نہیں بلکہ انکو اس وجہ سے درجہ بندیوں میں بانٹنا ہے تاکہ ان سے گروہی فائدہ اٹھایا جائے۔ یعنی جو شہید اپنے زندگی میں قطع نظر اپنے کردار کے اونچا خاندانی، قبائلی یا سیاسی حیثیت رکھتا ہے اسے زیادہ کیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی درجہ بندی سے بچنے کیلئے میں کسی شہید کا نام نہیں لونگا لیکن یہ عمل کثرت سے مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ پر کشش شہیدوں کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور ایسے کئی شہید جن کا کردار مثالی تھا صرف اس بنا پر نظر انداز ہوتے ہوتے گمنام ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پیچھے مضبوط خاندانی ، قبائلی، مالی یا سیاسی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح یہی سلسلہ بین الجماعت بھی دِکھتا ہے کہ ایک جماعت ایک شہید کو اس لیئے نظر انداز کرتا ہے کیونکہ اسکے پرچار سے قومی فائدہ تو ہوگا لیکن گروہی فائدہ نہیں ہوگا مثال کے طور پر شہید درویش کا جتنا بڑا کردار ہو وہ اپنی جگہ لیکن بی این ایم کبھی اسکے بابت کوئی جلسہ ،جلوس یا ریفرنس نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس سے نسبت نہیں جوڑ سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس عظیم جماعت کا عظیم شہید ہے اس لیئے اس عظیم شہید کی وجہ سے اس عظیم جماعت کو قبول کریں یعنی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اگر وہ کوئی بھی پروگرام کریں گے بھی تو کوئی فائدہ ہوا تو وہ بی این ایم کو نہیں بی ایل اے کو حاصل ہوجائے گا جو انھیں گوارا نہیں۔ اسی طرح بی آر پی اپنا سارا زور شہید اکبر خان بگٹی کے شہادت پر لگا ئے گا اسے شہید غلام محمد سے واسطہ نہیں اگر وہ اتنی ہی توانائی غلام محمد کے برسی پر لگائے گا تو پھر فائدہ تو بی این ایم کا ہوگا اسے کیا لینا دینا۔ حتیٰ کے ایک ساتھ شہید ہونے والے جلیل ریکی اور ٹھیکیدار یونس کے بابت بی آر پی کا رویہ یہ ہے کہ وہ ہر سال جلیل ریکی کا برسی تو مناتا ہے لیکن اس کے لاش کے بغل میں پڑے یونس شہید کی لاش انہیں نہیں دِکھتی وجہ وہی ہے جو بیان کیا گیا ہے۔ بی ایس او ہر سال رضا جہانگیر کے برسی پر پوری توانائی خرچ کرکے کچھ نا کچھ ضرور کرتا ہے لیکن رضا کے شہید ہونے کے چار دن بعد بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی ممبر شہید شکور کی برسی نہیں منائی جاتی کیونکہ شکور بی ایس او سے زیادہ بی ایل اے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس سے بی ایس او کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔اگر یہ امتیاز زندگی میں کردار کے بناء پر برتا جاتا تو وہ ایک دلیل ہوتی لیکن یہاں اگر کوئی کہے کہ یہ امتیاز کردار کے بابت برتا گیا ہے تو یہ سراسر دھوکہ ہے۔ آپ کیسے درویش کے کردار کو اکبر خان سے کم کرسکتے ہیں اور آپ کیسے اکبر خان کے کردار کو غلام محمد سے کم کہہ سکتے ہیں یا آپ کیسے غلام محمد کے کردار کو ماما مہندو کے برابر نہیں مانیں گے۔ شومیوں کا یہ سلسلہ طویل ہے آپ غور کریں بہت آسانی سے بہت سی مثالیں ملیں گی۔ ہمارے اس گروہیت پسند سیاسی ذہنیت کا سب سے بڑا توڑ شہیدوں کا ایک دن منانا تھا، جو تیرہ نومبر کی صورت میں قوم کے سامنے آیا۔ اس ایک دن ہم تمام شہیدوں کو برابری کے ساتھ یاد کرتے ، اسی ایک دن پر سب اپنی قوتیں مجتمع کرکے بڑے بڑے پروگرام کرتے، ہزاروں پروگرام کرتے تاکہ یہ دن پوری بلوچ قوم سمیت دنیا بھر کے ذہن میں نقش ہوجاتا تو اس کے بہت سے فائدے ہوتے۔ اول اس سے شہیدوں کے اوپر گروہیت پسند سیاست کی موت ہوجاتی۔ دوئم شہیدوں کی بندر بانٹ اور درجہ بندی کا منحوس روایت دم توڑ دیتا۔ تیسری یہ کہ آپ سب شہیدوں کو ایک اعلیٰ اور برابر درجہ دیکر یکساں یاد کرکے انکا حق ادا کرتے جس سے تمام شہیدوں کے لواحقین کی بھی دل بڈی ہوتا۔ چوتھی یہ کہ ہر جہد کار کو یہ یقین ہوتا کہ اسکے موت کے بعد اسے واجب مقام اور عزت ملے گی اور وہ گمنامیوں کے اندھیروں میں کھو نہیں جائیں گے، جس سے سب کے حوصلے اور جذبے مزید بلند ہوتے۔ آزادی کے ایک سپاہی کا یہی تو ایک معاوضہ یا امید ہوتا ہے جو وہ اپنے قوم سے چاہتا ہے کہ اسے ہمیشہ تاریخ کے پرنوں اور یادوں میں زندہ رکھا جائے، اگر وہ بھی ہم کسی سے چھین لیں پھر اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہوگی؟۔ پانچویں یہ کہ تیرہ نومبر شہیدوں کے دن کے حوالے سے جتنا مضبوط پہچان رکھتا ہمارے قوم میں تحریک کا اتنا ہی پر زور اثر ہوتا کیونکہ جب ہر کوئی جانتا اور کسی عید کی طرح اس دن کو ہر سال مناتا تو وہ یہ بھی جانتا کہ یہ شہید بلوچ آزادی کیلئے دشمن پاکستان سے لڑ کر شہید ہوئے ہیں۔ قومی تحریک کا اس سے زیادہ مضبوط پرچار اور کیا ہوسکتا ہے؟۔ اسی طرح چھٹی یہ کہ اگر ہم اس دن پر اپنا قوت صَرف کرکے اسے عالمگیر بناتے ہیں تو یہ پوری دنیا میں ایک پہچان رکھے گی ہر کوئی جانے گا کہ اس دن کو بلوچ شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو پاکستان کے ہاتھوں شہید ہوئے، اور پاکستان کے ہاتھوں کیوں شہید ہوئے؟ کیونکہ وہ بلوچستان کی آزادی چاہتے تھے۔ یہ دن از خود بیرون ممالک میں آپکا سب سے بڑا پرچارک اور سفیر بن جاتا۔ لیکن کئی فوائد کے باوجود یہ دن بری طرح نظر انداز ہوا۔ کیوں؟، کیونکہ ’’اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو پھر کھائے گا کیا ؟‘‘۔ اگر ہماری یہ سیاسی جماعتیں شہیدوں کا ایک دن منائیں گے تو پھر پورا سال کریں گے کیا؟ انکا وجود ان شہیدوں پر قائم ہے ہی لیکن پورے سال میں انکے بڑے بڑے پروگرام دیکھیں جو انکے ہونے کا معدوم سا پتہ دیتے ہیں تو وہ ان شہیدوں کی برسیاں ہیں، ہر تنظیم کے اپنے اپنے شہیدوں کی برسیاں۔ ورنا آپ بغور جائزہ لیں کہ ان جماعتوں کے پاس اور کیا سیاسی پروگرام ہوتے ہیں، مرنے والوں پر جلسے، مرنے والوں پر نیم ہڑتالیں، مرنے والوں پر ریفرنسس، مرنے والوں پر لاتعداد بیانات دینے کے علاوہ؟ اگر انقلابی سیاست یہی ہوتی ہے تو میں لب با مہر گر نہیں انقلابی سیاست کچھ اور ہوتی ہے تو پھر یہ ان تنظیموں اور بحیثیتِ قوم ہمارے لیئے ایک انتہائی شرم کی بات ہے۔ مجھے اس تیرہ نومبر کے حوالے سے کبھی کبھی صورتحال انتہائی مزاحیہ لگتا ہے مطلب بی ایس او کو دیکھیں اسکے گلے میں یہ تیرہ نومبر والی ہڈی بری طرح پھنسی ہے جسے وہ نا نگل سکتے ہیں نا اگل سکتے ہیں کیونکہ 2010 میں اس دن کو منانے کا اعلان بی ایس او کی طرف سے ہوا تھا۔ اس وقت بی ایس او کے چیئرمین بشیر زیب تھے گوکہ اب کے بی ایس او آزاد اور اس وقت کے بی ایس او آزاد میں نام کے سوا کچھ بھی مشترک نہیں لیکن اب اس طوق کو گلے میں باندھے بی ایس او کو مجبوراً ہر سال تیرہ نومبر کے دن ایک آدھ کال دینی پڑتی ہے کیونکہ شہیدوں کا ایک دن منانے کا اعلان انہوں نے کیا تھا۔ مزاحیہ بات یہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بی ایس او ہر سال اس دن کا کال دیتا ہے اور کریڈٹ لینے کیلئے ہر سال کے بیان میں یہ اضافہ بھی کرتا ہے کہ اس دن کی شروعات ہم نے کی ہے لیکن اسی دن کے بنیادی فلسفے سے روگردانی بھی کرتا ہے یعنی اس دن کا مقصد شہیدوں کا ایک دن منانا تھا بی ایس او اس کی کال دیتی ہے لیکن اپنے اعلان کا تضاد بن کر سال کے دوسرے دنوں میں بھی شہیدوں پر وہی روایتی جلسے جلوس اور ریفرنسس کا کاروبار بھی چلاتا ہے۔ چلو ہم مانتے ہیں کہ بی ایس او آزاد کا تیرہ نومبر والا اعلان بہت اچھا حکمت عملی تھا ہم اسے سر بچشم قبول کرتے ہیں اور بی ایس او کو اسکا کریڈٹ بھی دیتے ہیں لیکن خدایا ہم عام بلوچ تو اس دن کو اسکے حقیقی برابری کے فلسفے کے بنیاد پر اپنانے پر تیار ہیں کیا بی ایس او خود ہے؟۔ اسی طرح بی این ایم کا بھی موقف نرالہ ہے جو عوامی دباؤ اور اتحادی بی ایس او کے اتحاد کی مجبوریوں کی وجہ سے اس دن کے مخالفت کے بعد اس پر خاموشی پر پہنچتا ہے اور اس سال اسکے حمایت تک آجاتا ہے لیکن ساتھ میں بی ایس او کے سنت پر عمل کرکے اس دن کے فلسفے کو کچل کر روایتی برسیاں بھی مناتا ہے۔ بی آر پی کے ساتھ کیونکہ مقدس اتحاد عہدوں کے اعدادو شمار پر جھگڑے کی وجہ سے بن نہیں سکا تو اس لیئے بی آر پی کا آغاز اس دن پر خاموشی سے شروع ہوتا ہے پھر خاموش مخالفت سے ہوتے ہوئے اب اس دن کا مذاق اڑانے پر پہنچتا ہے۔ تحریک میں تنظیموں کی ذمہ داری قوم کو لیڈ کرنے اور قومی تشکیل کی ہوتی ہے جس میں ہماری تنظیمیں ناکام ہیں۔ اس لیئے کوئی امید تنظیموں سے باندھے بغیر میرے سامنے ایک طرف بلوچ شہداء، ان کی شہادتیں، انکے شہادتوں کے اثرات، ان اثرات سے منسلک جذبات ہیں تو دوسری طرف قوم ہے۔ اس بیچ میں سیاسی دلالی کرکے فائدہ حاصل کرنے والے جماعتوں کو میں منفی کرکے براہ راست قوم سے یہ امید رکھوں گا کہ ان شہیدوں کے ساتھ انصاف کرکے وہ شہیدوں کا دن اس واجب طریقے سے رہتی دنیا تک منائیں گے جس کا حقدار یہ شہداء ہیں اور شہادتوں سے پھوٹنے والے جو فوائد کوء قوم اکھٹی کرسکتی ہے، بلوچ قوم انہیں سمیٹ کر قومی تشکیل کی طرف جائیں گے، کیونکہ یہ وہ شہید ہیں جو ہمارے اپنے بھی ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو ہمیں جانتے تک نہیں تھے لیکن ہمارے لیئے قربان ہوگئے۔ انکی قربانی ہم پر قرض ہے اگر وہ قرض اتارنا ہے تو ہمیں انکا مقصد پورا کرنا ہے۔ ہم نے ان شہیدوں کے ساتھ اگر اس طرح وفا کی جس طرح انہوں نے ہم سے وفا کرتے ہوئے جان قربان کردیا تو پھر دشمن چاہے جتنا بھی توانا ہو لیکن ہم ایک دن ضرور آزاد ہونگے۔ ہماری آزادی اس لیئے اٹل نہیں کہ یہ ذمین ہماری ملکیت ہے، ملکیتوں کا چھِن جانا تو اس دنیا کا سب سے پرانا دستور ہے بلکہ ہم اس لیئے ضرور جیتیں گے کیونکہ ہم نے خون بہایا ہے۔