تحریر: ذرشان بلوچ
ھمگام آرٹیکلز
ایک وقت تھا کہ جب تحریروں سے سیاہی کی مہک اٹھتی تھیں، صفحات کو پلٹنے سے پیدا ہونے والی دلفریب آوازیں اور لفظوں کے مٹے و ٹوٹے سلسلے کسی لُٹے بستی کی منظر پیش کرتی تھیں کہ جہاں ابھی تک زنگی کی امید اور فنا ہونے کی چنگاری جھلک رہی ہوتی تھی اور ایک دور یہ بھی ہے کہ جہاں ڈیجیٹل ٹائیپنگ ایپس کے ذریعے کچھ بھی کبھی بھی لکھ کر تشت از بام رکھ دیا جاتا ہے۔ خیر بات اگر آسائش و آسانی کی ہو تو دور ماضی مات کھا چکی ہے لیکن اس معاملے میں ہمیں قدامت پسند ہی سمجھ لیں کہ تحریر لکھ بھی دی جائے اس میں وہ مہک کہاں سے لایا جائے؟ بہرحال مجبور ہیں ہم ،مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہے، اور انہیں مجبوریوں کے ساتھ خوبصورت روحوں کی یادیں لے کر اپ سب کے سامنے پیش خدمت ہوں۔
آج کل میرے لیے الفاظ کا چناؤ انتہائی مشکل ہو چکا ہے، بالخصوص کسی تحریر کے ابتداء میں، دم گھٹنے اور خیالات منجمد ہونے لگتے ہیں، بہرحال قلات کے پہاڑوں کی یخ بستہ سردی سے لیکر وادی نوشکل کی جھلستی صحراؤں سے ہوتے ہوئے خاران کی جنت نما سرسبز و شاداب پہاڑوں کے حصار میں اپنے پیارے شہداء کی آبائی سرزمین ایری کلگ تک کا سفر اپنے ٹھوٹے الفاظ میں لکھ دیے دیتا ہوں۔
آغاز یہاں سے بہتر رہے گا کہ جب مجھے قلات سے کسی کام کے سلسلے میں نوشکی کی طرف جانے کا ارادہ ہوا، بچپن کا اپنا حلیہ اپنا کر چادر سر پر باندھ کر منزل کی طرف نکل پڑا، راستے میں وہی دشواریاں، ٹہرو ہاں طالب، کہاں سے آرہے ہو اور کہاں جارہے ہو؟ میرا ایک ہی جواب ہوا کرتا تھا “مدرسے سے مادر وطن اپنی سر زمین کی طرف” کہ جہاں نظام ظلم کی حکمرانی ہے، جہاں آدھے سے زیادہ نوجوان نسل عقوبت خانوں میں قید اپنی آنکھوں میں آزادی کی روشنی لئے ظلم برداشت کر رہے ہیں، جہاں ہر سڑک، چوکھٹ اور چوراہوں پر ماؤں کے کلیجوں کی لاشیں پڑی ہیں اور ایسے میں جس جس چیک پوسٹ سے گزرتا گیا میری نفرت میں مزید اِضافہ ہوتا گیا ۔
جیسے ہی نوشکل، زگریں جان کا آبائی علاقے پہنچا تو ایک دوست (ہمبل) نے مجھے خوش آمدید کیا اور اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں لے گیا جہاں کسی کھونے میں بیٹھ کر مقصد کی باتین شروع ہونے ہی لگی تھیں کہ اچانک باہر سے زوروں کی آواز آئی کہ ایف سی والے ہوٹل کی طرف آرہے ہیں، میں گھبرا گیا اور کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کرنا کیا ہے تو میرا دوست جو کہ شہیدوں کی سرزمین کا ابھرتا ہوا ایک کمانڈنگ سرمچار تھا، نے مجھے گودام نما تہخانے میں بیجھ کر خود پوزیشن سنھبالتے ہوئے کہا اگر واقعی یہ ہمارے لیے آرہے ہیں تو گھبرانا مت دوست بارہ گولی کے بارہ فوجی مار کر تب یہ ہم تک پہنچ سکیں گے، اس تمام تر صورتحال سے میں کافی الجھ سا گیا تھا کہ باہر سے خاموشی ٹوٹی اور معلوم ہوا کہ پاس سے ہی کسی نوجوان اُٹا کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
وہاں سے نکل کر رات گئے تک کسی خفیہ محفوظ مقام پر انتظار کرتے رہے اور رات کے دوسرے پہر ہم اپنے مشن کے لیے روانہ ہوئے، جیسے ہی ایک کلی سے دوسرے گلی کا سفر تہہ ہوا تو دو اور ساتھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ کمان ہمبل کر رہا تھا، مقررہ مقام پر پہنچتے ہی پوزیشنیں سنبھال لی گئیں، سب دوستوں کو علم تھا کہ انکا رول کیا ہے اور کیا کیا کرنا ہے، اوپر سے کمانڈ ہمبل سنبھال رہا تھا جو کہ جنگی مہارت سے پہلے بھی متعدد دفعہ دشمن کو کاری ضربیں لگا چکا تھا، اس بار بھی زیادہ دیر نہیں لگی کہ دشمن کے چیک پوسٹ کو ساتھیوں نے ملیا میٹ کردیا اور اس علاقے کو دشمن کے لیے اج تک وحشت زدہ بنا دیا یہ غالباً اس پوسٹ پر تیسرا اور آخری حملہ تھا، جسکی کامیابی کے بعد آج تک دشمن وہاں پر بسیرا نہیں کر پایا ، آپریشن کے ختم ہوتے ہی ہمبل ہمیں مناسب راستوں سے نکالتے ہوئے ریگستان کی ٹھنڈ ریتوں پر لے گیا جہاں ہمارے رات کا پڑاؤ تھا۔ دوستوں نے چائے بنائی، خوب ہنسی مذاق کے بعد میں اور ہمبل سو گئے باقی دونوں دوست گاٹ پر چوکس کھڑے تھے، صبح صادق اور دو دوست واپس اپنے علاقے کی طرف روانہ ہوئے، میں اور ہمبل کسی اور محفوظ مقام پر چلے گئے۔
چند دن بعد مجھے اور ہمبل کو شہدائے راسکوہ کی سرزمین خاران جانے پر اتفاق ہوا تو عصر کے بعد اپنے موجودہ ٹھکانے سے سفر کا آغاز ہوا۔ پہاڑوں کی دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے کے میرل جان کے خاران، وہ خاران جسکی تعریفیں کرتے ہوئے میرل جان کبھی نہیں تھکتا تھا، پہنچنے سے پہلے مجھے اُس کی اور بارگ جان کی خوشبو آنے لگی، مجھے محسوس ہوا کہ ہمبل بھی کہیں اپنے خیالوں میں مد عوش سا ہے، رفتار دیمھا کرتے ہوئے ہمبل مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھنے لگا کہ کیا سوچھ رہے ہو ؟
کہنے کو بہت کچھ تھا پر کچھ کہہ نہ سکا، ہمبل زرا آرام سے چلو مجھے میری یاروں کی خوشبو آرہی ہے۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگا “دوست یہ شہیدوں کی سرزمیں ہے اب وہ خاران نہیں رہا جسے نوابوں نے دو ٹکے کی خاطر گوریلا کمانڈر نورا مینگل کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ، اب تو یہاں میرل، ناصر ،حلیمہ بلوچ اور انگنت شہداء کی سوچ بستی ہے۔
خیر وہاں سے سگنل ملتے ہی ہم خاران کے مشرق کی جانب نکل پڑے کہ جہاں لٹھ (بند) کے مقام پر ایک سنگت (واجہ) ہمارے انتظار میں تھا، جن سے ملتے ہی ان کے پیچھے نکل پڑے، کسی گاؤں کے قریب رات کی ایک پہر گزارنے کے بعد ہم وہاں سے نکل پڑے۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں مشرق مغرب شمال یا جنوب اور ہمبل سے میں نے پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی، مجھے یقین تھا اور چھٹی حِس بتا رہی تھی کہ میں اپنے شہید یاروں کے درمیان ہوں، بس اپنی مڈّی ( بندوق) مضبوطی سے پکڑے ہوئے آگے کی طرف دیکھ رہا تھا، صبح صادق کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی کہ مجھے شہید میرل جان کی روح آواز دینے لگی کہ “بیا پخیر۔۔۔۔ ببو خیرٹ زرشان جان بیا پخیر” دل تو کہہ رہا تھا کہ ہمبل کو کہوں کہ ہمیں یہاں رکھ جانا چائیے لیکن سنگت واجہ ہم سے تھوڑا آگے نکل چکا تھا،صرف ان کے سواری کی بیک بتی دیکھائی دے رہی تھی۔ چند ہی لمحوں بعد واجہ نے دائیں طرف آکر رکنے کا اشارہ کیا، پہنچے تو دیکھا یہ ایک قبرستان ہے، آنکھیں چمک اٹھیں، مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ہم کہاں ہیں، اپنی سواری سے جونہی ہم اترے واجہ کی آواز آئی کہ “چلتے چلتے اپنے یار کو سلامی دے کر جائیں” قبل از سلامی جب ہمبل علاقے کا معائنہ کر رہا تھا تب میں اور واجہ اُس قبر کے پاس پہنچے، روشنی اتنی نہ تھی کہ تختی پڑھ سکوں تو موبائل فلیش کا استعمال کرتے ہوئے تختی کا جائزہ لینے لگا جس پر لکھا تھا “شہید نثار عرف میرل ء گُڈّی واب جاہ”۔۔۔۔۔آہ۔۔۔کیا پُر مسرت صبح تھی وہ، میرل جان اپنے وطن کے آغوش میں، اپنے جانشینوں سے سلامی وصول کر رہا تھا۔
سورج طلوع ہونے سے قبل ہم کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے تھے، تھوڑی دیر آرام کیا پھر ہمبل کے کسی دوست سے کال پر بات ہوئی جس سے وہ ہمارے اگلے ٹکانے تک جانے کی رہنمائی حاصل کر رہا تھا۔
بسم اللّٰہ ہمبل کال منقطع کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور واجہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگا کہ چلو، آگے ایک دوست ہمارا راہ دیکھ رہا ہے۔
آج بھی اگر خیالوں میں راسکو کے دامن میں آباد چھوٹی چھوٹی بستیوں کے نقشے بنتے ہیں تو حیرانگی نہیں ہوتی کہ کیسے ان سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ ایسے نر مزار پیدا ہوئے جو کہ اپنے بچپن میں ہی سمجھ چکے تھے کہ ان چٹانوں، پہاڑوں اور اس سر زمیں کی دفاع کرنا ان کے زندگی کا مقصد و فرض ہے۔
دشوار راستوں کو ختم کرکے ایک مضبوط و توانا کلی کو کراس کر کے ندی سے جا رہے تھے کہ پدگ پہاڑ کی چوٹی سے اُس سنگت نے ہمیں دیکھ لیا جہاں وہ ہمارے لئے پہلے سے منتظر تھا اور ایسے میں فون کی گھنٹی بجی آواز آرہی تھی کہ ( ہی نُمے خننگ اٹ اناّ راستنگا دُھا جَل نا تہٹی ببو)۔ فون کاٹتے ہوئے ہمبل زور سے ہنسا، میں پوچھنے ہی لگا تھا کہ ہمبل اتنے زور سے ہنسنے کی کیا وجہ ہے کہ ہمبل کہنے لگا ” بیدار انت سنگت” تعجب سے میں پہاڑیوں کی چوٹیوں پر نظریں گمانے لگا لیکن بے سود مجھے کوئی نظر نہ آیا۔
اگے چل کر واجہ نے موٹر سائیکل روک دی، ہم بھی رک گئے غالباً راستہ پُر کھٹن ہونے کی واجہ سے موٹر سائیکل پر اب سفر کرنا ممکن نہیں تھا، سامان اتار رہے تھے کہ پہاڑ کی چھوٹی سے پھتر گرنے کی آوازیں آئی، دیکھا تو ایک بارگ بند نوجوان انتہائی پھرتی سے نیچے اُتر رہا تھا، ہاتھ میں کلاشنکوف اور گلے میں دوربین لٹکائے انتہائی پُر مسرت انداز میں واجہ سے گلے ملنے کے بعد ہم سے ملنے لگا۔ وہ ہمبل سے محو گفتگو تھا اور میں انتہائی باریک بینی سے اُس کو تکتا رہا، کھالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس، بلوچی چوٹ پہنے ہوئے، سر پر چھوٹا سا چادر باندھے ہوئے یہ نوجوان پوری رات اسی چھوٹی پر ہمارا انتظار کرتا رہا ہے، نہ آنکھوں میں تھکن نا حوصلوں میں کمزوری، شہید میرل جان کے روپ میں وادی ایری کلگ سے چند دور فاصلے پر یہ میری سنگت صدام جان پنام کے ڈی سے پہلی ملاقات تھی۔
بعد از سلام ہم سب کے ڈی کے ہمراہ ایک وتاخ (ٹھکانے) میں چلے گئے، وہاں موجود ایک اور دوست دوربین ہاتھوں میں لئے نگرانی پر تھا، کے ڈی کو دیکھ کر ایسی خوش محسوس ہو رہی تھی گویا بیس سالوں بعد اپنے گھر والوں سے ملاقات ہوئی ہو، ہمبل اور کے ڈی کے درمیان معمول کی گفتگو ہو رہی تھی کہ کے ڈی نے ہمبل کو تنگ کرنا شروع کر دیا، جنکو وہ (زنڈو) کے نام سے پکارنے لگا ، ہاں زنڈو تم کو بولا بھی تھا کہ میرل کی سوچ ہمیں ایک گٹھڑی کی طرح یکجا و مضبوط کریگی آج دیکھ رہے ہو نہ کہ متعدد پارٹیوں کے دوست ایک کیمپ میں ایک ہی پرچم تلے موجود ہیں، کے ڈی جنکا میرل کی طرح براس کی تشکیل میں اہم رول تھا، چائے کا کش لیتے ہوئے محفل کو اپنی میٹھی باتوں سے مگن رکھے ہوئے تھا۔
معزز قارعین! قلات اور پِھر نوشکل سے ہوتے ہوئے خاران کے جنت نما وادی تک اپنے یاروں کے ساتھ آپ سب کو صدام جان تک تو پہنچا دیا لیکن ان سے جو ملاقات ہوئی، اس بابت اپنے اگلے تحریر میں اپنی یادیں جلد ہی آپ سب کے نذر کروں گا۔
جاری۔















