ہم ہر شہید کو سب سے بڑھ کر احترام دیتے ہیں
کیونکہ شہید صرف ایک انسان نہیں
بلکہ غیرت اور آزادی کی تاریخ کا ایک باب ہے
شہید وہ ہے جو جان کی حد پار کر گیا تاکہ اس کی سرزمین زندہ رہے
وہ جس نے دنیا کی راحتیں چھوڑ دیں تاکہ اپنی قوم کا ہمدرد بنے
اس کے سینے میں لگنے والی ہر گولی بلوچستان کی عزت کا ثبوت تھی
شہداء کے بچے ہمارے لیے صرف اُن کی یادگار نہیں
بلکہ وہ اسی مقدس راہ کا تسلسل ہیں
شہید کے بچے کی ہر مسکراہٹ
بلوچستان کے آزاد مستقبل کی آواز ہے
جب ہم ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں
تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خود شہید ہمیں خاموشی سے کہہ رہا ہو
میرا راستہ جاری رکھو میں زندہ ہوں، اپنے انہی فرزندوں میں
اور شہداء کے والدین
وہ اس مٹی کے سب سے عظیم انسان ہیں
شہید کے ماں باپ بلوچستان کا دھڑکتا ہوا دل ہیں
ان کے بوڑھے ہاتھوں سے صبر کی خوشبو آتی ہے قربانی کی خوشبو
ان کے چہروں کی ہر جھری انتظار اور آنسو کی نشانی ہے
ہم ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں
کیونکہ انہوں نے آزادی کے لیے اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کی
اگر آج ہم اس سرزمین پر سانس لے رہے ہیں
تو یہ ان خاموش ماؤں کے آنسوؤں کی برکت ہے
جو راتوں کو اپنے بیٹے کی تصویر دیکھ کر کہتی ہیں
میرا بیٹا چلا گیا مگر بلوچستان جاگ اُٹھا
شہداء ہمارے دلوں میں زندہ ہیں
ہر پہاڑ ہر مٹی ہر ہوا کے جھونکے میں ان کا نام گونجتا ہے
جب ہوا بلوچستان کے ٹیلوں پر سے گزرتی ہے
تو یوں لگتا ہے جیسے شہداء کی آواز آ رہی ہو
ہم زندہ ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں ہم تم میں زندہ ہیں
ہم شہید کو اس لیے احترام نہیں دیتے کہ وہ چلا گیا
بلکہ اس لیے کہ وہ رہ گیا
ہماری رگوں میں ہمارے ایمان میں ہماری غیرت میں
ہم شہیدوں کے خون سے زندہ ہیں
ان کی یاد سے مضبوط ہیں اور ان کے راستے پر آخر تک چلیں گے
ان کے بچے ہمارے دل کے سب سے عزیز ہیں
ان کے والدین ہم سب کے والدین ہیں
اور خود شہداء بلوچستان کی جاودان روح ہیں
سلام اُن پر جنہوں نے جان دی تاکہ ہم سربلند زندگی گزار سکیں
سلام اُن شہیدوں پر جن کا خون ہماری عزت کا پرچم ہے















