ایک عظیم فلسفی برٹرینڈ رسل کہتا ہے کہ “پختہ شعور انسان کو ذات سے نکال کر اجتماعی زندگی کی طرف لے جاتا ہے” اسی طرح آج شہید طارق جان اور شہید عمران جان اپنی اپنی ذات کے خول سے نکل کر ایک اجتماعی پہچان بنانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوگئے۔ پوری دنیاکے بنی آدم کی تہذیبی تاریخ ایسے عظیم ہستیوں کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ ان شہداء کا تعلق بلوچستان کے مردم خیز سرزمین خاران سے ہے۔ان دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور شہید اللہ رام ساسولی بھی ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ شہید باری ،ماجد ڈیگارزی،اسلم اور شہید بارگ سے ان کی کافی قربت رہی ہے۔ان کی شروع سے ہمدردی اور سوچ بلوچ قوم کے ساتھ رہے ہیں اور جب اللّٰہ رام ساسولی کی شہادت رونما ہوئی تو اس سے طارق ساسولی اور ان کے باقی دوستوں کو سنجیدگی سے سوچھنا پڑا اور انہوں نے شہید اللہ رام اور باقی شہداء کے ارمانوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا رخ کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف دشمن پر بلوچ سرزمین کے مختلف مقامات پر کامیاب حملے کیے بلکہ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی اور علمی تربیت بھی کی۔ بقول کارل مارکس”تاریخ میں کچھ ایسے عظیم ہیروز، پرجوش اور با غیرت انسان ہوتے ہیں جو ظلم کو دیکھتے ہوئے اسے برداشت کرنے کی بجائے اس کےخلاف میدان میں اترتے ہیں” اور طارق اور عمران جان کی سطح ان تاریخی اساسوں میں سے ہے اور اس سے پہلے بھی خاران کی سرزمین نے شہید رازق جان، باری جان میرل جان مقبول تگاپی ناصر ڈیگارزی اور بارگ جان جیسے سپوت جنم دیے تھے جنہوں نے نہ مٹنے اور نہ بھولنے والی تاریخ رقم کی جس پر پوری بلوچ قوم کو فخر اور ناز ہے۔ ان عظیم شہداء نے بلوچ کو ایک شعور اور زانت کا احساس دلایا جس کا تذکرہ برٹرینڈ رسل اپنی کتاب ویسٹرن فلسفی میں کرتا ہے کہ انسان اور حیوان میں فرق اس بات میں ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کے خطرات اور مسائل کا ادراک کرکے جامع حکمت عملی پر گامزن ہوتا ہے جب کہ حیوانوں کو اپنے آنے والے دنوں کے چیلنجز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ان شہداء کے سامنے پاکستان کے ان نوآبادیاتی نظام کا تسلط ہے جو ہمیشہ کے لیے بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر گامزن ہے جس طرح امریکہ نے اپنی استعماری پالیسیوں کے تحت مقامی باشندے ریڈ انڈین کو ہمیشہ کے لیےختم کیا۔ اس کے برعکس بلوچ قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت بھی پائی جاتی ہے جو اپنی عارضی مفادات کے لیے پاکستانی قبضہ کے سامنےخاموش ہیں مگر ان کو ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے عارضی مفادات کے لالچ سے وہ اپنے آنے والی نسلوں کو دائمی غلامی کی طرف دھکیل رہے ہیں جو ان کی قبروں پر لعنت بھیجتے ہوئے ان کے ساتھ اپنے رشتوں کو شرمندگی کے تناظر میں دیکھیں گے جس طرح باقی غلام قومیں ہیں۔ اسی طرح قوم میں کچھ موقع پرست لوگوں نے انقلاب کے شروع کے دنوں میں زبانی کلامی جمع خرچ کئے مگر جب ریاستی تشدد تیز ہوا تو انہوں نے خاموشی اختیار کر کے اپنے روزگار اور ذاتی زندگی کو ترجیح دی اور ساتھ ساتھ اپنے شرمناک چہرے چھپانےکے لیے اسے اپنی “حکمتِ عملی” کا نام دیا کے ہم زندہ بچ گئے ہیں اور باقی لوگ تو بے احتیاطی سے چلے گئے مگر جب غلام کچھ نہ کرے اور غلامی کی زندگی کو گلے سے لگائے تو اسے مالک کی مرضی کے تحت ضرور ایک مصلحت پسندانہ زندگی ملے گی مگر وہ شہداء کے خون اورتاریخ کے سامنے ایک مجرم ہوگا۔
انقلابی تاریخ میں انقلابی کی موت قوم کے دائمی بقا اور زندگی کے لیے ہوتی ہےاور یہ بات واضح ہے کہ ایک انقلابی فرد کی جسمانی زندگی کی مدت باقی لوگوں کے نسبت کم ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر وقت دشمن کے ٹارگٹ کے نظر ہوتا ہے اور عام لوگ صرف طبی وجوہات کے تحت موت کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن ایک فرق ضرور واضح ہے کہ عظیم مقصد کے لیے قربان ہونے والے اپنی آخری سانس میں اپنے گزری ہوئی زندگی کے لمحات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مقصد گو کہ اپنی آنکھوں کے سامنے حاصل نہیں کیا مگر آخر تک اسی کاز کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے اپنے دن اور رات لگائے مگر کبھی تھکاوٹ، بزدلی اور بیزاری کا اظہار نہیں کیا اور اس جدوجہد کے دوران وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز سے واقف ہوئے اور زندگی میں ایسے ارمان نہیں گزرے جن سے وہ واقف نہیں رہے۔دوسری طرف سرزمین کے وہ غدار اور مصلحت پسند بھی ہیں جنہوں نے جدوجہد کے مشکلات کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی یا دشمن کی صفوں میں شامل ہوئے تو وہ ضرور زندگی میں عیش و عشرت کے لمحات گزاریں گے مگر اپنے آخری ایام میں وہ سخت ندامت کے شکار ہوں گے اور وہ زندگی کی اصل روح سے بے خبر ہوں گے جو مسلسل جدوجہد اور مشکلات میں چھپا ہے، مگر اس وقت کا پچھتاوا اور افسردگی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ویل ڈیورانٹ کہتا ہے ،”زندگی جدوجہد کے بغیر ایک صاف اور سفید کورے کاغذ کی طرح ہوتی ہےجس میں کچھ بھی نہیں ہوتا، اور زندگی کے آرام اور عیاشیوں کے دن بلکل شمار نہیں ہوتے”۔ آج بلوچ قوم کی خوش نصیبی ہے کہ اس کے رکھوالے شہید طارق اورعمران کی صورت میں ہیں نہ تو یہ قوم کب کی پاکستانی تسلط کے سامنے سرنگوں ہوتی۔ جب تک بلوچ قوم میں ان جیسے سپاہی ہیں تو بلوچ قوم کی سرزمین، زبان تہذیب تاریخ اور روایات کو دنیا کی کوئی طاقت اپنی استعماری پالیسیوں کے زیر نہیں کرسکتا۔ آج ان شہداء کا قیمتی خون بلوچ قومی قیادت سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اپنے گروہی، ذاتی مفادات اور اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک جامع حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں اور دشمن پر ضرب کاری لگائیں تاکہ ان شہداء کے ارمان پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں۔















