ہمگام کالم : بلوچ قومی تحریک اپنی پانچویں دور میں گزر رہی ہے، سارا دورانیہ قربانیوں سے اٹی پڑی ہے، ایک والد کے تین، تین بیٹے قربان ہوئے، پورے خاندان اجڑ گئے،والدین اپنے اکلوتے بیٹے کی لاش کو کندھا دے چکا ہے، بہنیں اپنی بھائیوں کی مسخ لاشوں کی شناخت پر ترس رہے ہیں، مائیں اپنی آنکھوں کی بینائی اپنے بیٹوں کے انتظار میں کھوچکےہیں، ہزاروں نوجوان، پیر و مرد ، بچے اور خواتین اس وقت پنجابی اور گجر کے اذیت خانوں میں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
اتنے گمنام شہدا نے اپنے وطن کے لئے جان دی ہےکہ انہیں گننا اور ان کی فہرست مرتب کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے، اس وقت بلوچ قوم کے پاس قربانیوں کو گننے کا وقت نہیں ہے، ان قربانیوں کو اجتماعی فرض سمجھ کر انہیں نتیجہ خیز اور بار آور بنانے کے لئے اپنی تنظیمی نظم ونسق، ڈسپلین اور اصولوں کی پیروی کرنا کامیابی کی جانب سفر کا نام ہے کیونکہ ایک تنظیم ، ایک پارٹی اس وقت منزل سر نہیں کرسکتا جب تک وہ ایک منظم اور اصولوں کی پیروی کو اپنا شیوا نہ بنائے۔
قربانیاں چھوٹی یا بڑی نہیں ہوا کرتے، قربانی ایک جذبہ ہے، ایک قومی ضمیر پر لبیک کرتے ہوئے سرزمین کے لئے خود کو وقف کرنے کا نام ہے۔
بلوچ نوجوانوں کو خاص کر بی ایس او اور دیگر نوجوان جن کا کسی تنظیم، پارٹی سے تعلق نہیں ان کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سنجیدہ رویوں سے لیس ہوکر قومی تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں، کسی کرنل، جرنل، میجر، لیفٹیننٹ وغیرہ کے اصطلاحات سے متاثر ہونے کی بجائے قومی آزادی سے متاثر ہو تو وہ شعوری طور پر اس تحریک کا حصہ دار بنتا ہے اور آنے والے بلوچ نسل کا مستقبل سنوارنے اور دنیا کے ساتھ عزت، وقار سے تعلقات قائم رکھنے کے لیئے اپنی قوم کی دلیرانہ ترجمانی بہتر طور پر کرسکتا ہے جب ہم اپنی جدوجہد کوقومی امنگوں کے تابع کرتے ہوئے شتر بے مہار بننے کی بجائے ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کریں گے، جو ذمہ داری ہمیں دی گئی ہے اسے اپنی ذاتی شناخت اور ٹیگ لگانے کی بجائے اسے تحریک کی بڑھوتری، تحریک کا اثاثہ اور امانت سمجھیں گے تو مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
ہم دعویدار ہیں کہ بلوچ تحریک آزادی باقی دنیا کےتحریکوں سے الگ شناخت رکھتی ہے تو ہمارے پاس اس بات کی دلیل اور ثبوت ہیں وہ ثبوت اور دلیل ہماری جنگی کاروائیاں اور سیاسی پروگرامز کی صورت میں وجود رکھتے ہیں جو ہمیں دیگر اقوام کے مسلح تنظیموں سے ممتاز بناتی ہے۔ہمارے مطالبات سے لیکر ہماری سیاسی پروگرام تک، ہماری مسلح تنظیموں کی کاروائیوں اور ہدف کے چناوں اور اسے انجام دینے تک سبھی فیصلوں نے ہماری قومی تحریک کو دنیا میں الگ پہچان دیا ہے۔ بلوچ جلاوطن قیادت کی سفارتی اور سیاسی کامیابی ہے کہ انہوں نے دو دہائی سے جاری موجودہ بلوچ مسلح تنظیم کے خلاف پاکستان اور ایران کی گٹھ جوڑ کو ہروقت ناکام بناتے ہوئے بلوچ مسلح تنظیموں کو عالمی سطح پر دہشت گرد قراد دینے کے قابض قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا لیکن افسوس کا مقام ہے طالبان، بوکوحرام، الشباب ، القاعدہ کی کاروائیوں اور طرز مشہوری سے متاثر ہوکر چند ایک کمانڈروں نے بلوچ تحریک کو ایک سال کے دورانیے میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کراکے اپنی نالائقی، سیاسی کوتاہ بینی کا مظاہرہ کیا۔
میرے مطابق اس وقت بلوچ تحریک آزادی کو دنیا کی اخلاقی، سفارتی، فوجی، معاشی، سیاسی مدد و کمک کی ضرورت ہے ہی لیکن دنیا کو بھی دیر پا امن، خطے کی سیکورٹی، معاشی ترقی اور شدت پسندی سے نجات کے لئے بلوچستان کی ضرورت پیش آئے گی۔بلوچستان کی اپنی تاریخ، جغرافیہ خود عالمی توجہ اپنی جانب مبزول کراتی رہی ہے اب یہ بلوچ سیاسی قیادت پر منحصرہے وہ چند معطل شدہ کمانڈروں کی غلط پالسییوں کی وجہ سے عالمی برادری خاص کر امریکہ کے ذہن بلوچ تحریک بابت منفی رجحان کو کس طرح زائل کرنے میں کامیاب ہونگے۔
کچھ لوگ طالبان کا امریکہ کے ساتھ بات چیت کو طالبان کی بندوق کا دین سمجھ رہے ہیں ، میری رائے میں ایسے سوچ رکھنے والے گروہ سطحی اور قلیل مدت کا سوچ رکھتے ہیں ان کا خطے میں جاری بدلتے حالات، اور جنگی داو پیچ کو سمجھنے کی اہلیت نہیں ہے طالبان کے پاس بندوق ہے ، کیا ہم نے سوچا یہ بندوق ، گولی، اور ہدف طالبان کو کس نے دی ؟ کیا ہم نے سوچا ہے کہ طالبان کا ہدف مستقل ہے یا وقت و حالات کے مطابق ہدف اور مدد بدلتی رہتی ہے؟ طالبان جو بظاہر افغانستان پر چڑھائی کرنا چاہتےہیں ، ان کا یہ خواہش پاکستان میں رہنے والے راولپنڈی کے جرنیلوں کا دیرینہ خواب ہے جو شائد کبھی پورا نہیں ہوسکتا اگر افغان قیادت اپنی حقیقی ہمسایوں (بلوچستان، پشتونستان) کی پہچان کرے اور خطے میں امن لانے کےلئے بلوچ و پشتون اقوام کی کردار کو تسلیم کرنا پڑیگا۔، اگر ہم طالبان کو حاصل ان کی ماضی کے حکمرانی اور ان کے افغانستان کی عوام اور خطے میں کردار کا جائزہ لیں توہمیں بخوبی علم ہوگا کہ طالبان نہ افغانستان کے خیرخواہ تھے نہ اب ہیں نہ آئندہ وہ افغانستان کے عوام کی بھلائی اور خطے کی بہتری کے لئے کچھ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
بلوچ تحریک میں حادثاتی طور پر شامل ہونے والے چند ایک حضرات کا خیال ہے کہ وہ طالبان، بوکوحرام یا دیگر شدت پسندوں کی طرح عالمی اصولوں کو روندتے ہوئے،بے دھڑک کاروائیاں کریں گے تو ان کو دنیا میں شناخت ملے گی لیکن وہ اس پہلو پر سوچنے سے معزور دکھائی دیتے ہیں کہ القاعدہ کو کیا دنیا میں کم شہرت ملی؟ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں، القاعدہ پر عالمی میڈیا کے نامور اداروں نے ڈاکومنٹریز بنائے، طالبان کی جنگی حکمت عملیوں، کاروائیوں پر دنیا کے تمام جانے مانے معتبر اداروں اور مصنفوں نے کتابیں تحریر کیئے، تجزیاتی رپورٹس نشر کئے،یونیورسٹی کے پروفیسرز نے طالبان، القاعدہ پر پی ایچ ڈی کررکھے ہیں۔ مختصر یہ کہ طالبان ، القاعدہ نے خوب مشہوری حاصل کی لیکن اصل سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ انہوں نے عوام کے لئے کیا کچھ کیا؟ یا عالمی برادری کو باور کرایا کہ ان کی لڑائی، ان کی مشہوری، ان کی قربانی خطے میں تمام مذاہب، تمام فرقوں، تمام انسانوں کے لئے کیا مثبت پہلو رکھتی ہے؟ وہ جنگ جیتے تو یورپ کو کیا فائدہ ہوگا، امریکہ، افریقہ،خلیج اور برصغیر پر اس کے کیا مثبت اثرات مرتب ہونگے؟ یہ سب طالبان اور القاعدہ کے پاس ندارد ۔ ۔۔۔ ان کا مستقبل کا منصوبہ نہ رکھنا، خطے میں امن، سلامتی سے لاتعلقی نے انہیں طاقتور درندے کی حیثیت سے شناخت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ایران انہیں استعمال کرکے مویشی منڈی میں بیوپاریوں کی طرح کبھی روس کے خلاف استعمال کیئے، کبھی امریکہ کے خلاف تو کبھی کسی اور کے خلاف ، ان کے سفر کا اختتا م مذبع خانہ ہی ہے۔ میرے خیال سے طالبان، القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کا عوامی مسائل، اور مسلمانوں کی بھلائی ، برابری، مذہب کی رکھوالی، دین اسلام کی اصل شبہہ اور پیغام مسلم امہ تک پھیلانے اور غیر مسلم اقوام کو اسلام کو کمزور کرنے سے روکنے جیسے منصوبوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
طالبان کے پاس طاقت ہے، لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، طالبان کے پاس چلانے کے لئے بندوق ہے لیکن ہدف چننے کا اختیار نہیں، طالبان کے پاس بات کرنے کے لئے پلیٹ فارم ہے لیکن کونسے موضوع پر بات کرنی ہے اس کا اختیار نہیں، طالبان کے پاس معاہدوں پر متفق ہونے کا موقع ہے لیکن ان معاہدوں کے شقوں کو مرتب کرنے، اعتراض کرنے اور ان معاہدوں میں اپنی رائے دینے، اور رد و بدل کرنے کا اختیار نہیں، طالبان کے پاس افغانستان میں جنگ بندی پر راضی ہونے کا ارادہ ہے لیکن اس جنگ بندی کوکب شروع کرنا اور کب ختم کرنا ہے اس بات کا اختیار نہیں اگر طالبان اتنی افرادی، فوجی اور معاشی طاقت اور مشہوری پانے کے باجود بھی بے بس اور محتاج ہیں تو پھر اس طاقت کا کیا فائدہ؟ بندوق کی طاقت نے طالبان کو سجائی گئی مذاکراتی میز پر نہیں لایا ہے جبکہ جس نے مذاکرات کے لئے میز سجایا ہے انہوں نے طالبان کو میز پر لایا ہے۔ اور وہ طاقت (پاکستان، ایران، امریکہ) طالبان کو اس میز پر بے عزت کرکے لات بھی مارسکتے ہیں اور مسکرا کر فوٹو سیشن کراکے ان کو اپنی من چاہے معاہدات پر دستخط بھی کروا سکتے ہیں۔
طاقت کو سب کچھ سمجھنے والے لوگوں کے لئے طالبان کی لڑائی بہت کچھ سوچنے کا سامان مہیا کرتا ہے کیونکہ طالبان یا مجاہدین کو جہاد کے نام پر لڑانے والا پاکستان آج تیس سال بعد اسی کافر ملک روس کے ساتھ معاہدات کررہا ہے، مشترکہ جنگی مشقیں کررہا ہے، مل بیٹھ کر برگر، چائے، کافی پی رہے ہے، ہاتھ ملا رہا ہے ، ٹینک، بم و بارود، جہاز، میزائل خرید رہا ہے ۔ فوجی اور معاشی معاہدات کررہا ہے لیکن طالبان کے ہاتھ میں آج بھی بندوق تو ہے لیکن ہدف تبدیل ہوگیا ہے۔ پہلے ان کا ہدف روس تھا ، اب آئی ایس آئی نے انہیں افغانستان، امریکہ، ہندوستان، بلوچستان اور اسرائیل بطور ہدف دےدیا ہے۔ تو کیا طالبان کی اس طاقت کو آپ کامیابی سمجھیں گے یا بد ترین ناکامی، تباہی اور بربادی؟ میرے خیال سے جو لوگ بلوچ تحریک میں بلا سوچے سمجھے بندوق کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں ان کے ہاتھ میں بندوق تو ہوگا لیکن یہ بصیرت، قابلیت نہیں کہ کونسی ہدف کب منتخب کرنی ہے، کس وقت کرنی ہے اور کیسے کرنی ہے؟ گوریلا جنگ کا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں لیکن گوریلا جنگ کیسے لڑنی ہے، کب سامنے آنی ہے کب زیر زمین ہونی ہے اس نوعیت کے جنگی تجربوں سے وہ ناواقف ہیں، ایک آدھ ذاتی ٹوئیٹر اکاونٹس بنا کر عارضی شہرت کیلئے شائد وہ چند ہزار فالورز جمع کرپائیں لیکن سوال پھریہاں بنتی ہے کہ مسلح تنظیم کے ترجمانوں کے ہوتے ہوئے کمانڈروں کی ذاتی ٹوئیٹر اکاونٹ چی معنی دارد؟ کبھی کھبار دشمن سے بھی سیکھنا چاہیے، طالبان جو اس وقت افغانستان میں بڑے بڑے حملے سرانجام دے رہے ہیں، ان کا صرف ایک ترجمان زبیح اللہ مجاہد کے نام سے ٹوئیٹر پر موجود ہے لیکن باقی کوئی بھی کمانڈر چھوٹا یا بڑا اس وقت منظرعام سے غائب ہے۔ طالبان کے مسلح کمانڈروں کو کس بات کا ڈرہے کہ وہ اپنی تصویر اور ذاتی ٹوئیٹر اکاونٹس نہیں بنا پارہے؟ طالبان کیوں اپنی مسلح سیلفی نہیں دیتے، ان کا تو افغانستان کے کافی صوبوں پرمبینہ کنٹرول کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، جب گذشتہ عید پر طالبان نے تین روزہ جنگی بندی کا اعلان کیا تو، طالبان جنگجووں کو کابل اور دیگر صوبوں میں گھومتے ، لوگوں کے ساتھ گھل مل کر سیلفی لیتے دیکھا گیا، جنگ بندی کا میعاد ختم ہوتے ہی، خبریں موصول ہوئے کہ جن طالبان جنگجووں نے سیلفیاں لئے تھے، ان سب کو جوابدہ بنایا گیا، اور ہم نے دیکھا کسی بھی طالبان کمانڈر نے اپنی مرکزی قیادت کے اس جوابدی پر اپنا الگ دھڑا نہیں بنایا، رد عمل میں کسی طالبان کمانڈر نے اپنی الگ میڈیا سیل بنانے اور اپنی ذاتی ٹوئیٹر اکاونٹ متعارف نہیں کرائی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طاقت رکھتے ہیں ان کو ایک مرکز کنٹرول کرتی ہے، انہیں اس بات کا احساس ہے کہ چھوٹی سی کوتاہی ان کی تنظیم کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے اور اسی غرض سے وہ ذاتی مشہوری، شوق لیڈری جیسے منفی حرکتوں سے گریز کرتے ہیں۔
تحریکوں میں قربانیوں کے بغیر کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہے لیکن جو قربانیاں دی جارہی ہیں ان کو ضائع ہونے میں پل بھر بھی نہیں لگتا اگر ایک کمانڈر اٹھ کر تنظیمی ترجمان کی موجودگی کے باوجود اپنی تشہر کرانا شروع کردے پھر اجتماعی مقصد دب کر رہ جاتی ہے۔ اپنی عظیم شہدا کی قربانیوں کو ضائع ہونے اور بے اثر ہونے سے بچانے کےلئے بلوچ قوم کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلح محاذ میں سرگرم زیر زمین گمنام سرمچاروں کی بے غرضانہ جدوجہد کا حصہ بن کرتحریک کو سطحی، شہرت کے مرض سے بچائیں اور اسے ایک بار پھر سے حقیقی، اور شعوری سوچ سے لیس کرتے ہوئے صحیع ڈگر پر چلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
آپ نے تاریخ میں تیز ترین رفتار سے اڑان بھرنے والے مسافر بردار جہازوں کا نام تو سنا ہوگا، ان جہازوں میں سوار مسافروں کے ہمراہ حادثات کا بھی سنا ہوگا، مسافروں سے بھرے جہاز اگر منزل کھودے تو کیا ہوگا؟ ظاہر سی بات ہے وہ لاپتہ ہوگا، اور ایک ایسا واقعہ چند سال قبل ملائیشیا میں پیش آیا تھا جس میں مسافر بردار جہاز اچانک لاپتہ ہوگیا تھا، جسے دنیا کی ماہرین نے مہینوں تلاش کرنے کے باوجود کھوج لگانے میں ناکام رہے۔ اپنی مرکز سے رابطہ منقطع کرنے اور منزل کھوکر اڑنے والے جہاز ہمیشہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں، سمجھ داروں کے لیے اشارہ کافی ہے، بلوچ قوم کو اگر اپنی تحریک کو منزل تک پہنچانے کی خواہش ہے تو انہیں اپنی جہاز کو حادثات سے بچانے کے لئے عطائی اور حادثاتی طور پر بننے والے پائلٹوں کے سپرد نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس جہاز میں ہماری پوری تحریک اور ہماری آنے والی نسلیں سفر کررہے ہیں۔















