شال( پ ر)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں شہید آغا محمود خان احمد زئی کو ان کی پندرویں برسی کے مناسبت سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید آغا محمود جان قومی آزادی کے علمبردار، مدبر سیاسی رہنما اور گہرے فکری شعور کے حامل دانشور تھے۔ ان کی فکری، سیاسی اور علمی خدمات بلوچ قومی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ترجمان نے کہا ہے کہ آغا محمود احمد زئی کا کردار، نظریاتی استقامت اور جرات مندانہ مؤقف ان ہزاروں نام نہاد دانشوروں، ادیبوں اور لکھاریوں سے کہیں بلند تھا جو ریاستی وظیفوں، صدارتی تمغوں اور مختلف اعزازات کے حصول کے لیے اپنی دانشوری کا اظہار کرتے ہیں۔ افسوس کہ موجودہ دور میں ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو خود کو دانشور ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ دانشور نہیں بلکہ “دانش خور” ہیں، جو سستی شہرت، ذاتی مفادات اور نمود و نمائش کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر محض نمائشی کردار ادا کرتے ہیں اور یوں فکری و ادبی بددیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آغا محمود جیسے مخلص قومی رہنما اور فکری رہبر بلوچ قوم کا قیمتی سرمایہ اور ان کی علمی و فکری میراث قومی اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔اس مین کوئی دورائے نہیں کہ آغا محمود نے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں ایک قومی کیڈر کی حیثیت سے نہایت اہم اور عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ان کی گرانقدر خدمات، فکری جدوجہد اور قومی تحریک میں ان کے تاریخی کردار کا اعتراف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ آغا محمود جان کی شہادت درحقیقت ان کے نظریات کی فتح ہے۔ انہوں نے اپنی فکر، شعور اور دانش کے ذریعے ہزاروں ذہنوں کو بیدار کیا اور انہیں قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت اور فکری رہنمائی نے بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں قومی شعور اور سیاسی آگہی کو فروغ دیا اور انہیں جدوجہد کے راستے پر گامزن کیا۔ اسی وجہ سے بلوچ نوجوان انہیں اپنا استاد، رہبر اور آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ آغا محمود خان محض ایک سیاسی کارکن نہیں تھے بلکہ ایک قومی دانشور، محقق اور بلوچ قومی کاز کے لیے ایک مؤثر فکری مرکز کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی فکر، نظریات اور جدوجہد بلوچ قومی تحریک کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے اور آنے والی نسلیں بھی ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔انہون نے دھرتی اور مٹی کا قرض ادا کرتے ہوئے اپنی آخری سانس تک آزادی کی جدوجہد سے وابستگی برقرار رکھی۔ انہیں بلوچ آزادی کے آدرش سے اپنی عملی اور مخلصانہ وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ قلات کے شاہی قبرستان میں ان کے خاندان کے سینکڑوں افراد مدفون ہیں، تاہم آغا محمود اپنی فکر، کردار اور جدوجہد کے حوالے سے ان سب سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے روایتی خانی ذہنیت اور شاہی خاندان کی دقیانوسی روایات سے بالاتر ہو کر خود کو ایک عام بلوچ کے ساتھ جوڑا اور نظریاتی سیاست کو اپنا راستہ بنایا۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ شہداء کے لہو نے آزادی کے شعور کو مزید پختہ کیا ہے اور بلوچ قومی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ شہداء کے مشن کی تکمیل ہر بلوچ پر قومی ذمہ داری ہے۔ بلوچ شہداء کی ہزاروں آرام گاہیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ آزادی کی تحریکوں کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کے مزاروں پر کندہ الفاظ آنے والی نسلوں کے لیے آزادی، حوصلے اور رہنمائی کی علامت بن کر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔















