بلوچ قومی تحریک میں ایسے بہت سے کردار ہیں جو بلوچ نوجوانوں کیلئے مشعل راہ کی حثییت رکھتے ہیں۔ اُن نوجوانوں میں سے ایک کردار عمل اور جہد مسلسل کا نام شہید جہانزیب بلوچ کا ہے جہنوں نے بلوچ قومی تحریک کو ہزاروں شہدا کیطرح تحریک کی آبیاری کیلئے اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا۔
شہید جہانزیب بلوچ ایک پرحوصلہ پرجوش اور باصلاحیت نوجوان تھے۔ شہید جہانزیب ہر کام میں پیش پیش تھے۔اکثر و بیشتر شہید درویش کی مثالیں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سرزمین سے عشق کا پیمانہ اگر دیکھنا ہو تو شہید درویش کی زندگی اور کمٹمنٹ دیکھ لو سرزمین کی محبت کا شائد کچھ اندازہ ہوجائے، ہمیشہ کہتے تھے کہ مقصد پر قربان ہونے کا جو باب بلوچ تاریخ میں شہید درویش نے اپنے لہو سے لکھا وہ ہی بلوچ سرزمین کے عشق اور دیوانہ وار محبت کی داستان ہے جو ہر عاشق سرزمین کے دل میں ایک آگ کی مانند جلتا رہتا ہے۔
جہانزیب مکمل طور پر ایک سچے بلوچ جہدکار تھے جس میں حوصلہ ایمانداری وفاداری اور دلیری کے علاوہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جس سے میں شہید کو بیان کرسکوں۔ آج تاریخ نے اُن کرداروں کو ثابت کردیا ہے جنہوں نے وطن کی پیاس اپنے لہو سے بجھائی۔
شہید جہازیب سے میری ملاقات پہلی بار 2010 میں کسی دوست کے ہمراہ تربت کے علاقے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ان وقت ہم بی ایس او میں تھے۔ میرے مہمان خانے میں لگے پوسٹر کو دیکھتے ہوئے پوچھا، سنگت اور پوسٹر ہیں؟ میں نے جواب دیا جی سنگت؟ تو کہنے لگا یار دے دو اپنے علاقے میں لگاؤں گا، تو لاپتہ سنگت ذاکر جان کے کچھ پوسٹر شہید کے حوالے کئے ساتھ میں شہید نے رابطہ نمبر بھی مانگ لیا۔
دن گزرتے رہے بلوچستان میں حالات بگڑتے رہے آئے روز بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں اور اغوا نما گرفتاریوں میں شدت کے ساتھ اضافہ ہورہا تھا۔ ایک رات مجھے ایک زونگ نمبر سے مسیج آیا ہیلو سنگت؟ میں نے پوچھا جی کون ہو؟ تو کہنے لگا وہی ہوں جو آپ سے ملنے آیا تھا دوست کا نام لیا اسکے ساتھ،اس وقت کے حالات کی وجہ سے ڈر کی کفیت تھی۔ اسی وقت کال کرکے تصدیق کی کہ واقعی شہید ہی ہے۔ تربت بازار آتا جاتا رہا کافی وقت شہید کےساتھ گزرا بلوچستان اور تربت کے حالات مزید تنگ آگئے کچھ دوست اغوا اور گفتار بھی ہوئے تو دوستوں سےمشورہ کرکے ایک کام کے سلسلے میں کوئٹہ گیا۔ وہاں ٹھہرنا پڑا کافی وقت وہاں رہا دوستوں سے رابطے بھی محدود رکھے تھے شہید سے بالکل بھی رابط نہیں تھا لیکن شہید نے زونل دوستوں سے حال احوال کرکے یہ پتہ لگایا تھا کہ میں شال ہی گیا ہوں تو دوسرے دن شہید بھی کوئیٹہ پہنچ گئے۔
اگلی صبح ہم ماما قدیر کو ملنے لاپتہ افراد کے کیمپ چلے گئے۔ مجھے یاد ہے ہم رکشے میں سوار سبزی منڈی کی کسی گلی میں گزر رہے تھے تو اچانک شہید نے رکشے والے سے کہا رک جاؤ اور مجھ سے کہا شاید کیمپ میں بچے بچیاں ہونگی ہم خالی ہاتھ جارہے ہیں کچھ فروٹ بھی لےجائینگے۔
جبری اغواء کے شکارافراد کی بازیابی کےلئےلگائے کیمپ گئے۔ شہید نے ماما سے کافی سیاسی گفتگو بھی کی ہم دو گھنٹےبیھٹنے کے بعد کسی اور دوست سے ملاقات کرنے کیلئے بی ایم سی ہاسٹل گئے چونکہ دوپہر کا وقت تھا ہم نے بی ایم سی کے باجو میں مشہور لاشاری ہوٹل میں کھانا کھایا۔ کافی گفتگو کے بعد سریاب میں اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔
شہید جہانزیب نے اپنی ابتدائی جدوجہد بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے شروع کی اور بلوچ لیڈر حیربیار مری اور بی ایل اے سے کافی متاثر تھے لیکن چونکہ اُن علاقوں میں بی آر اے اور بی ایل ایف کا ہولڈ تھا شہید نے بی آر اے کے پلیٹ سےمسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ جب بلوچ تحریک میں اختلافات شروع ہوئے تو شہید کے باقی ساتھیوں نے بی آر اے کو خیرآباد کرکے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی جوکہ آج بھی میدان جنگ میں کمر بستہ ہیں۔ عنقریب شہید جہانزیب اور عقیل جان بھی بی ایل اے میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے لیکن اس سے پہلے ہی 23 فروری 2014 کو وطن کی سربلندی کیلئے تربت کے علاقے چاہسر میں دشمن ریاست کی قبضہ گیر فوج کے ساتھ دوبد دو لڑائی میں جام شہید نوش کرگئے۔
شہید جہانزیب وطن کا ایک سچا اور ایماندار عاشق تھا جسکو وطن کے فرد فرد سے لگاؤ تھا حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ وطن ہی کیلئے پیدا ہوتے ہیں اور وطن ہی پر قربان ہوتے ہیں ان کو خوبصورت جملوں میں خراج تحسین و عقیدت پیش کرنے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ تمام شہدا کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے کیلئے دن رات کو ایک کرنا چاہئے۔















