حافظ ممتاز ۲۲ سالہ ایک ایسا نوجوان تھا جو آزادی کے پروانوں کی نسل سے تعلق رکھتا تھا وہ اپنی جوانی کے آغاز ہی سے ایمان اخلاص شجاعت اور ایک منفرد روح کے ساتھ پہچانا جاتا تھا وہ صرف ایک سرمچار ہی نہیں بلکہ حافظِ قرآن بھی تھا ایسا حافظ جس کے سینے میں خدا کے کلام کا خزانہ محفوظ تھا اور جس کی زندگی کے ہر اندھیرے میں قرآن کی ہر آیت چراغِ راہ بن جاتی تھی ممتاز عبادت گزار اور تقویٰ شعار تھا اسی پرہیزگاری کی برکت سے جو بھی اس کے قریب آتا اپنے دل میں ایک خاص سکون محسوس کرتا۔
جہاں بھی وہ گیا چاہے آگ اُگلتے پہاڑوں والے بولان کی سرزمین ہو یا خاموش و ویران دشت واشک یا پنجگور کے پرہنگامہ میدان وہاں کے ساتھیوں نے اُسے صرف ایک جنگجو کے طور پر نہیں بلکہ اخلاق اور ایمان کا معلم پایا وہ ہمیشہ یاد دلاتا کہ جدوجہد بغیر روحانیت کے بے بنیاد اور بے ثمر ہے۔
مجھے پہلی بار اُس سے ملاقات بولان میں ہوئی ہم سخت سفر کے بعد بمبور سے واپس آئے تھے ابھی گرد و غبار لباسوں پر جمی ہی تھی کہ حافظ ممتاز مجمع میں داخل ہوا اگرچہ وہ نیا تھا لیکن اس کی گرمجوشی اور سادہ مسکراہٹ ایسی تھی جیسے برسوں سے ہمارے ساتھ ہو دیکھتے ہی دیکھتے سب کے دل جیت لیے اور ایسا مانوس ہوا کہ کوئی اُسے اجنبی نہ سمجھ سکا۔
ایسے دن بھی آتے جب تھکن اور دل شکستگی ہمارے دلوں پر بوجھ ڈال دیتی، جب جلاوطنی اور سختیوں کا بوجھ دوش پر محسوس ہوتا اُن لمحوں میں ممتاز وہ ہستی تھی جو ہمیں پتھروں کے سائے اور چٹانوں کے دامن میں بٹھا کر بلوچستان اس کے لوگوں اور ایک روشن مستقبل کے بارے میں باتیں کرتا اس کے الفاظ زخموں پر مرہم کا کام کرتے اور تھکن کو مٹا دیتے وہ قرآن کی آیات کے ذریعے دلوں کو مضبوط کرتا اور امید کی روشنی سے جانوں کو تازہ کرتا۔
لیکن وقت آیا جب اس حافظِ قرآن کے سامنے ایک اور امتحان کھڑا ہوا ۲۰ اگست ۲۰۲۴ کو اُسی دن جب اُس کا دوست اور ساتھی زاہد جان شہید ہوا ممتاز بھی پنجگور میں اسی محاصرہ شدہ گھر میں قید ہو گیا وہ گھر جو لمحہ بھر کے لیے ساتھیوں کی پناہ گاہ تھا اچانک ایک خونریز میدانِ جنگ میں بدل گیا پاکستان کی قابض فوج نے ایک مخبر کی غداری سے اُس گھر پر یلغار کی اور گولیوں کی گھن گرج پنجگور کی گلیوں میں گونج اُٹھی۔
ممتاز مگر پیچھے نہ ہٹا جس طرح وہ قرآن کی آیات کو سینے میں محفوظ رکھتا تھا اُسی طرح اُس نے اپنے ایمان کو بھی میدانِ عمل میں زندہ رکھا وہ زاہد جان کے شانہ بشانہ آخری گولی تک لڑا اس کے دل میں کبھی خوف نہ آیا دشمن چاہتے تھے کہ اُسے زندہ گرفتار کریں مگر اُس نے قبول نہ کیا کہ حافظِ قرآن دشمن کی زنجیروں میں قید ہو۔
وہ جانتا تھا کہ اُس کا مقصد صرف آیاتِ خدا کی تلاوت نہیں بلکہ اپنی سرزمین اور اپنی قوم کی آزادی کی حفاظت بھی ہے ممتاز نے اپنی آخری گولی کے ساتھ ہمیں یہ آخری درس دیا کہ حافظِ قرآن حافظِ خاک بھی ہو سکتا ہے۔
جب آخری گولی چلائی گئی تو اُس کی زندگی کی آیات مکمل ہو گئیں لیکن اُس کا اختتام ایک سرخ سورت کی طرح خون سے تحریر ہوا وہ دنیا سے رخصت ہوا مگر دراصل جاودانی کو پا گیا۔
ممتاز اپنے ساتھیوں کے لیے صرف ایک دوست نہیں تھا بلکہ ایک ایسا نمونہ اور معلم تھا جس نے ایمان اور شجاعت کو آپس میں جوڑ دیا اُس نے ثابت کیا کہ کوئی شخص ایک ساتھ خدا کی کتاب کا حافظ بھی ہو سکتا ہے اور اپنی قوم کی آزادی و عزت کا محافظ بھی اُس کا نام تاریخِ بلوچستان میں ایک درخشاں ستارے کی طرح ہمیشہ روشن رہے گا ایک ایسا ستارہ جو کبھی غروب نہیں ہوگا۔
آج بھی حافظ ممتاز کی یاد دلوں میں زندہ ہے جب بولان کی چوٹیوں پر ہوا چلتی ہے جب پنجگور کے میدانوں میں سورج طلوع ہوتا ہے اور جب واشک کی راتیں گہری ہوتی ہیں تو اُس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے وہ رخصت ہوا لیکن اُس کا خون اب بھی یہ صدا دے رہا ہے کہ بلوچستان کے بیٹے آج بھی قرآن کو دل میں اور آزادی کو جان میں بسائے ہوئے ہیں اور اپنی آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔















