صبح خاصی ٹھنڈی تھی۔ ہم سب ایک دائرے میں بیٹھے تھے، آگ جل رہی تھی اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا۔

ایک ساتھی نے ہلکے لہجے میں پوچھا:

“کمانڈر… کیا ہم آزادی تک زندہ رہیں گے؟”

دلجان بلوچ نے آگ کی لو پر نظریں جمائے مسکرا کر کہا:

“میں نے اپنے بارے میں کبھی یہ نہیں سوچا کہ میں زندہ رہوں گا یا نہیں۔

لیکن جب تک سانس ہے، اس جنگ کو جتنا آگے لے جا سکتا ہو، لے جاؤ… اپنی آخری سانس تک۔”

ہم سب خاموش ہوگئے۔ آگ کی چنگاریاں آسمان کی طرف اٹھ رہی تھیں اور ان کے الفاظ ہمارے دلوں میں اتر رہے تھے۔

وہ ہمیشہ حوصلہ دیتے تھے، کہتے تھے:

“غلام صرف تب تک غلام رہتا ہے جب تک وہ آزادی کی سوچ نہیں رکھتا۔

جس دن وہ سوچنے لگے کہ وہ آزاد ہو سکتا ہے، اسی دن زنجیر کمزور پڑ جاتی ہے۔”

یہی وہ باتیں تھیں جو ہمیں مضبوط رکھتی تھیں۔

14 دسمبر 2024 کی صبح سبز کوہ کے پتھریلے دامن میں ہم پھر اکٹھے تھے۔ سورج ابھی پہاڑوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا۔

دلجان بلوچ میرے سامنے بیٹھے اپنے نقشے پر کچھ لکھ رہے تھے۔ ان کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ سب جانتے ہوں۔

کچھ دیر بعد ہم میں سے چند ساتھی ضروری کام کے لیے پہاڑ کی دوسری سمت گئے، اور دلجان بھی کچھ ساتھیوں کے ساتھ دوسری طرف چلے گئے۔

جاتے وقت:

“ہوسکتا ہے ہم نیٹ ورک پر چلے جائے، شام تک واپس آ جائینگے۔”

ہم سب نے ان کی طرف دیکھا، اور وہ ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

ہم ابھی اپنی سمت موجود ہی تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز گونجنے لگی پہلے چند فائر، پھر مسلسل دھماکوں کی بازگشت۔

ہم سب چونک کر کھڑے ہوئے، دل کے اندر عجیب سی بے چینی دوڑ گئی۔

ہم دوڑتے ہوئے اس سمت پہنچے جہاں سے آوازیں آرہی تھیں۔

پہاڑ کے اوپر دھواں اٹھ رہا تھا، اور جیسے جیسے ہم قریب پہنچے، فضا میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور ہیلی کاپٹروں کی گرج سنائی دینے لگی۔

ہم نے دیکھا کہ دشمن کی فوجیں اس مقام پر موجود تھیں جہاں کچھ دیر پہلے دلجان اپنے ساتھیوں کے ساتھ گئے تھے۔ دشمن کے ہیلی کاپٹر فضا میں چکر لگا رہے تھے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

ہم نے فوراً مورچہ سنبھالا اور جوابی فائرنگ شروع کر دی۔

کچھ دیر تک زبردست لڑائی جاری رہی۔ دشمن کی تعداد زیادہ تھی، مگر ہم نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔

اس دوران ایک ساتھی نے آواز دی:

“گولیاں کم ہو رہی ہیں… اب ہمیں پیچھے جانا ہوگا، ورنہ سب محاصرہ میں آجائیں گے”

دل تڑپ رہا تھا، مگر فیصلہ ضروری تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا، اور پہاڑ کے دوسرے رخ پر محفوظ سمت میں پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ دلجان بلوچ کہاں ہیں زندہ، زخمی، یا شہید۔

بس اتنا معلوم تھا کہ وہ وہیں تھے، دشمن کے عین سامنے، اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے۔

بعد میں جب دشمن پیچھے ہٹا، تب ہمیں خبر ملی کہ کمانڈر دلجان بلوچ، کمانڈر مجید بلوچ اور ذاکر جان سبز کوہ کے اسی مقام پر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

ان کے جذبے، ان کی قیادت، اور ان کے آخری الفاظ ہمارے دلوں پر نقش رہ گئے۔

کمانڈر دلجان بلوچ، جنہیں ہم جاوید بلوچ کے نام سے جانتے تھے، گرمکان پنجگور کے نڈر، باشعور اور نظریاتی سرمچار تھے۔

2012 میں انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے اپنی مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ بولان کے محاذ سے ابتدائی تربیت حاصل کی، اور پھر برسوں تک پنجگور، واشک اور مکران کے مختلف علاقوں میں تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

وہ نہ صرف ایک ماہر کمانڈر بلکہ ایک نرم گفتار، تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور رکھنے والے انسان تھے۔

ان کے الفاظ آج بھی ہمیں حوصلہ دیتے ہیں:

“آزادی کوئی خواب نہیں، یہ عہد ہے۔ جس نے اسے سمجھ لیا، وہ کبھی قید نہیں رہتا۔”

آج جب بھی سبز کوہ کے پہاڑوں سے ہوا گزرتی ہے، اس میں ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔

وہ کہہ رہے ہوتے ہیں:

“ہم گئے نہیں… ہم تو اسی مٹی میں سانس بن کر باقی ہیں۔”