شہید دوستین محض ایک 17 برس کا نوجوان تھا نوجوانی کے آغاز میں جو خوابوں اور جوانی کی امیدوں سے بھری ہو سکتی تھی لیکن ان کی روح عمر سے کہیں بڑی تھی بولان کے فلک بوس پہاڑوں کی بلندی جیسی اور بلوچستان کے بے انتہا مگر باوقار میدانوں کی وسعت جیسی کم سنی کے باوجود ان کے دل میں ایک عجیب سا سکون اور ان کی مہربانی ایک چشمے کی مانند ان کے رویوں اور باتوں میں رواں دواں تھی۔
دوستین ہمیشہ مسکراتے چہرے اور محبت بھری نگاہوں کے ساتھ ساتھیوں کے درمیان آتے جو بھی ان سے لمحہ بھر کے لیے ملتا ان کی مہر و صفا دل میں محسوس کرتا وہ صرف رفیق یا ہم سفر نہ تھے بلکہ سب کے لیے بھائی کی مانند تھے ایک ایسا میزبان جس کے پاس آ کر غربت اور تنہائی کا احساس ختم ہو جاتا ان کی مسکراہٹ اور آغوش سب کو اپنے اندر سمیٹ لیتی تھی۔
مجھے صرف چند بار ان سے ملنے کا موقع ملا لیکن وہی مختصر ملاقاتیں کافی تھیں ان کی روح کی عظمت کو سمجھنے کے لیے میری سب سے روشن یاد وہ دن ہے جب میں بلوچستان کے پہاڑوں میں اپنے پہلے مہینے میں تھا اجنبی شکوک اور ناواقفیت سے بھرا ہوا اسی لمحے دوستین مضبوط قدموں اور گرمجوش مسکراہٹ کے ساتھ میرے پاس آئے میرا ہاتھ تھاما اور کہا یہاں تمہارا گھر ہے ہمارے درمیان کوئی اجنبی نہیں پھر انہوں نے مجھے اپنا گھر راستے اور آمد و رفت کے مقامات دکھائے اور اسی مہمان نوازی کی روایت کے ساتھ جو بلوچوں کے خون میں رچی بسی ہے ایک بکری قربان کی تاکہ سب کے لیے دسترخوان بچھایا جائے اس دن غربت اور اجنبیت دلوں سے رخصت ہو گئی اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے ایک نیا خاندان پایا ہے ایک ایسا خاندان جس کا رشتہ نسب یا خون سے نہیں بلکہ ایمان اور آرمان سے جڑا تھا۔
تقریباً دو سال گزر گئے اور ایک بار پھر ایک مبارک دن عید کے دن ملاقات ہوئی پھر وہی ہمیشہ کی مسکراہٹ وہی گرم آغوش انہوں نے ہمیں اپنے گھر بلایا اور ایک سادہ مگر محبت اور صفا سے بھرا دسترخوان بچھایا نان محبت سے اور کھانے اخلاص سے بھرے تھے لیکن اصل غذا ان کی اور ان کے گھر والوں کی مہربانی تھی جو سب کے دلوں کو سیراب کر رہی تھی اس دن میں نے سیکھا کہ بلوچ مہمان نوازی میں کھانا صرف ایک بہانہ ہے دلوں کو قریب کرنے کے لیے۔
میری آخری یاد ان کے ساتھ اس دن کی ہے جب میرا جانے کا وقت آیا آگے ایک مشکل اور لمبا سفر تھا دشمن کے خطرات اور چیک پوسٹیں لیکن دوستین نے بغیر تھکن کے اپنی کم سنی کو بھلا کر میرے ساتھ قدم بہ قدم ساتھ دیا ہر قدم کے ساتھ گویا وہ کہہ رہے ہوں میں اپنے بھائی کو تنہا نہیں چھوڑوں گا یہ آخری رفاقت ان کی ایسی الوداع تھی جو ہمیشہ کے لیے میرے دل پر نقش ہو گئی اور آج بھی میرے لیے بھائی چارے اور وفاداری کا ایک عظیم سبق ہے۔
لیکن دوستین صرف ایک مہربان نوجوان نہ تھے وہ ایک ایسے خاندان کے وارث تھے جو برسوں سے قربانی دیتا آیا تھا ان کے بڑے بھائی نے استاد اسلم کے دور میں جدوجہد کے آغاز کی سختیوں میں آزادی کے قافلے میں شامل ہو کر جان قربان کی ایسا خاندان اپنے خون سے بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنی سچائی اور ایمان کا ثبوت دے گیا۔
آخرکار 12 ستمبر 2024 کو ہرنائی کا آسمان لرز اٹھا دشمن کے ڈرون بے رحمی سے پہاڑوں پر منڈلا رہے تھے اور ان کی گولیاں موت کی بارش کر رہی تھیں اس دن دوستین پانچ دلیر ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوئے وہ نوجوان جو ابھی زندگی کے آغاز میں تھا، شہادت کا انتخاب کر گیا اور اپنا نام اس سرزمین کے عظیم مردوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے لکھوا گیا۔
آج جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ دوستین صرف 17 سالہ نوجوان نہ تھے وہ ایک مکمل مرد تھے اپنی مہربانی مہمان نوازی صمیمیت اور آخرکار اپنے پاکیزہ خون سے انہوں نے ہمیں سکھایا کہ عظمت عمر سے نہیں بلکہ ایثار، غیرت اور شجاعت سے ہے یہی جذبہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ ظلم اور قبضہ کے خلاف چاہے ہتھیار سے ہو یا قلم سے میدان میں اترے۔
شہید دوستین ایک ایسے نوجوان کی علامت ہیں جنہوں نے مردانگی کا راستہ اختیار کیا اور اپنی شہادت سے بلوچستان کو یاد دلایا کہ کم عمری میں بھی ایثار اور شجاعت کی بلندیاں فتح کی جا سکتی ہیں۔















