آزادی کی اس سفر میں ہزاروں جان نثاروں نے اپنے مادر وطن اور اپنی قوم کی تاریخ کو ہمیشہ زندہ رکھنے کےلئے قربانیاں دیں جوکہ مشعل کی مانند آنے والے نسلوں کےلئے ہمیشہ مزاحمت کی نشاندہی کریں گے، وہ ہمت جذبہ اور پختہ ارادہ رکھتے تھے اور بے مثال مزاحمت کی بدولت ہمارے قومی ثقافت اور پہچان کو زندہ رکھا ہے۔ اسی طرح بلوچ قوم کے عظیم فرزندوں نے ہمیشہ اپنی وطن کی حفاظت میں اپنے پرمسرت زندگیوں کی قربانی دی، بلوچ قوم کے بہادر بیٹوں نے ہمیشہ دشمن کے خلاف بغاوت کی۔ ہر وقت ہر دور میں بلوچ نے یہ ثابت کیا کہ بلوچ قوم اپنے وطن سے محبت اور قابض دشمن سے نفرت کرتی ہے۔ اور بلوچ قوم تاریخی حوالے سے جنگجو رہے ہیں جو کہ نوری نصیر خان کی شکل ھو، خان محراب خان ھو بابو نوروز خان ھو حمل جئیند کی شکل میں ھو شہید نواب اکبر ھو شہید بالاچ مری ھو یا پھر جرنل شیرو مری ھو  جرنل استاد اسلم بلوچ ھو یا پھر سگار ء بلوچ رحمدل مری ھو۔ شہید رحمدل مری سگار جنہوں نے 2004 میں بی ایل اے کے پلیٹ فارم مین شامل ہو کر جدوجہد شروع کیا، جنہوں نے بولان کہ سنگلاخ پہاڑوں سے لیکر چلتن کی بلند چھوٹیوں تک ہر اس نوجوان کیلئے مثال ثابت ہوا جو یہ سوچ اور فکر رکھتا ہے کہ میں بھی شہید رحمدل مری سگار کی طرح اپنی مادر وطن کےلئے ایک بہادر سپاہی بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑوں اور ہر قدم پر دشمن کو شکست دے کر آگے بڑتا چلوں۔ شہید رحمدل مری سگار جو کہ  گوریلا جنگ میں بہت ماہر تھے جو کہ ہمیشہ اپنی ساتھیوں کو گوریلا وارفیئر کی ترکیب سکھاتے تھے، اور ہر مشن میں گوریلا جنگی اصولوں کے مطابق مضبوط حکمت عملی اپناتے تھے اور اپنے دوستوں کو اچھی طرح سکھاتے تھے کہ کس طرح آپ کو دشمن پر نظر رکھ کر دشمن کو نیست نابود کرنا ھوگا۔ آپ اپنے ساتھیوں کو محفوظ ٹھکانوں تک پہنچانا اچھی طرح جانتے تھے۔ شہید رحمدل مری جدید جنگی اصولوں کے ذریعے ہمیشہ اپنے قوم کو فکری بنیادوں پر بیدار کرتے تھے۔ اپنے قوم کے نوجوان کو کہتے تھے کہ جب تک ہم نے اپنے قومی ثقافت اپنی قومی پہچان اور اپنے قومی آزادی کی جنگ میں حصہ نہیں لیا تو ہم بحیثیت قوم بہت پیچھے رہ جائیں گے، اور ہماری قوم ہمیشہ غلام بن کر رہے گا۔ اس غلامی کی زنجیر کو توڑنے کےلئے ہمیں ہر وقت ہر لمحہ میں اپنی جہد کو مضبوط کرنا ھوگا، چاہے وقت و حالات کتنے سخت کیوں نہ ہوں، چاہے دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ھو، فقط ہماری مزاحمت ہی ہماری سرزمین کو آزاد ریاست کی حیثیت دلا سکتا ہںے۔ ہمارے ہاں یہ مثال دیتے ہیں ( ہراڑئے لیخ لاڑونجی ئے کریس چاہیے او لوڑئی اس مرئے او ہم نئآ تف کیک)۔ آج اس ناپاک ریاست نے بندوق کی نوک پر ہمارے وطن پر قبضہ کیا ہے لیکن ہمیں بھی اس کا جواب بندوق سے دینا ھوگا۔ یہ ظالم فوج ہر روز ہمارے بوڑھے ماں باپ اور بہنوں کو روڈوں کے اوپر گھسیٹتی ہے، عورتوں کے آنچل اُچھالتی ہے، جیلوں میں بند کرتی ہے۔ ہمارے بھائیوں کو آئے زور ماروائے عدالت قتل کرتی ہیں اور کہتی ہںے بلوچ دہشت گرد ہے، بلوچ ہندوستانی ایجنٹ ہیں، ہمیں یہ الزام بھی قبول ہںے اپنے وطن کے خاطر، اپنے ننگ و ناموس کےلئے ہمیشہ بلوچ اپنا سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دیگا۔ شہید رحمدل مری نے قومی جہد میں ہر درد کو سینے سے لگایا، آپ نے دلیر اور بہادر سرمچار بن کر دشمن سے مقابلہ کیا، آپ نے بولان کاہان چلتن زیارت کوہ ڈونگان کے محاذوں میں دشمن کو ہمیشہ کےلئے شرمندہ کیا۔ 2015 میں مچھ کے علاقے سیکنئی میں گشت پر ساتھیوں میں سے شہید آدم اور شہید زامری آپ کے ساتھ تھے اور آپ نے دشمن سے مقابلہ کیا اور آخری دم تک دشمن سے لڑتے ہوئے شہادت نوش کیا۔