طلحہ، ۲۹ سالہ نوجوان اور بمبور کے دلیر پہاڑوں کا فرزند تھا؛ وہی سرزمین جہاں صدیوں سے بلوچ شہداء کا خون بہہ کر آزادی کی روح کو ملت کی رگوں میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بمبور، جو شجاعت کا چیدگ اور مزاحمت کا گہوارہ ہے، طلحہ جیسے فرزندوں کو تاریخ کے حوالے کرتا رہا ہے؛ وہ فرزند جو ظلم کے آگے کبھی نہ جھکے اور اپنے نام کو بلوچ جدوجہد کی پیشانی پر رقم کر گئے۔ طلحہ نے بچپن ہی سے محرومی اور آوارگی میں پرورش پائی۔ غربت، جلاوطنی اور بے وطنی کے زخم بارہا چکھے، لیکن یہ رنج کبھی بھی اس کے ایمان کی آگ کو بجھا نہ سکے۔ وہ جانتا تھا کہ دشمن صرف بلوچ کی زمین اور وسائل لوٹنے نہیں آیا، بلکہ اس کی مزاحمت کی روح کو مٹانا چاہتا ہے۔ مگر طلحہ نے اپنے استوار قد سے جواب دیا: “ایمان اور آزادی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔” میدان اور زندگی کا رہبر طلحہ ایک مکمل رہبر تھا؛ صرف اس لیے نہیں کہ میدانِ جنگ میں قیادت کرتا تھا، بلکہ اس لیے کہ اپنے ساتھیوں کو روح و جان سے حوصلہ دیتا تھا۔ وہ عبادت گزار تھا، راتیں قرآن کے ساتھ گزارتا اور دن بندوق کے ساتھ وطن کا دفاع کرتا۔ اس کے ساتھی کہتے ہیں: “جب طلحہ امام بنتا، اس کی آواز ایسی گونجتی تھی جیسے خود بلوچستان کے پہاڑ سجدے میں جھک گئے ہوں۔” اس کا ایمان سطحی نہیں، بلکہ عمیق اور راسخ تھا؛ ایسا ایمان جس نے اسے ناقابلِ شکست مرد بنا دیا۔ نوجوان رہبر کی یادیں میری پہلی ملاقات اس سے بولان میں ہوئی۔ میں نیا آیا تھا، کبھی ہاتھ میں بندوق نہ لی تھی۔ اسی دن طلحہ کو چھٹی پر گھر جانا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی؛ اس نے وہ بندوق مجھے دی اور کہا: “یہ ہتھیار اب تمہارا ہے، آج سے تم بھی آزادی کے سپاہی ہو۔” پھر وہ پرسکون دل کے ساتھ گھر روانہ ہوگیا۔ اس لمحے ہی میں سمجھ گیا کہ وہ ایک عظیم انسان ہے؛ ایسا رہبر جو ذمہ داری بانٹتا ہے اور ساتھیوں پر اعتماد کرتا ہے۔ ایک سال گزرا۔ شہید بابر کے یومِ شہادت پر دوبارہ اس سے ملاقات ہوئی۔ وہ لمحہ غم و خوشی کا امتزاج تھا؛ دوبارہ ملاقات کی خوشی اور بابر کی شہادت کا غم۔ جب طلحہ نے دیکھا کہ وہی بندوق اب بھی میرے ہاتھ میں ہے، تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔ وہ مسکراہٹ یہی کہہ رہی تھی: “راہ زندہ ہے، پرچم کبھی زمین پر نہیں گرے گا۔” انہی غمگین دنوں میں طلحہ اور شہید شادی خان نے سب کو حوصلہ دیا، ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا: “یاس دشمن کا ہتھیار ہے، ہمیں مزید مضبوط ہونا ہے۔” طلحہ ذمہ داری کی بہترین مثال تھا۔ وہ چھٹیوں پر تھا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ سکتا تھا، اپنی شادی کے بارے میں سوچ سکتا تھا جس میں صرف چند ہفتے باقی تھے۔ مگر جب ہم نے فیصلہ کیا کہ سیاه کوه کاہان جائیں گے، اس نے بلا تردد کہا: “میں کیسے پرسکون رہ سکتا ہوں جب میرے بھائی میدان میں ہیں؟” اور وہ ہمارے ساتھ آگیا۔ یہ سفر اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا؛ لیکن ایسا سفر جس نے بلوچ تاریخ کو امر کر دیا۔ شہادت کا پیغام ۲۶ نومبر ۲۰۲۲ کو طلحہ سیاه کوه کاہان کی محاز میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگیا۔ اس کا خون بلوچستان کی خاک میں شامل ہوگیا تاکہ ملتِ بلوچ کی محبت اور ایمان کا دائمی ثبوت بن جائے۔ اس کی شہادت ایک اختتام نہیں بلکہ مزاحمت کی نئی ابتداء تھی۔ طلحہ نے ثابت کیا کہ حقیقی رہبر وہ ہیں جو شہادت کے بعد بھی مشعلِ راہ بنے رہتے ہیں۔ اس نے آنے والی نسلوں کو سکھایا کہ قیادت قربانی ہے؛ فرد پر قوم کو ترجیح دینا ہے، خاندان پر ملت کو، اور ذاتی زندگی پر ایمان کو۔ بلوچ تاریخ میں طلحہ کی صدا آج طلحہ کا نام صرف بمبور اور سیاه کوه کاہان کی چٹانوں میں زندہ نہیں، بلکہ ہر بلوچ آزادی‌پسند کے دل میں دھڑکتا ہے۔ وہ اس نسل کا بیرکدار ہے جو آزادی کے سفر کو آگے لے کر جائے گا۔ دشمن کو جان لینا چاہیے: طلحہ، شادی خان، بابر اور ہزاروں شہداء کے خون کے بعد یہ ملت پہلے سے زیادہ ناقابلِ شکست ہوچکی ہے۔ شہداء کا خون وہ بیج ہے جو ایک دن آزادی کے تناور درخت میں بدل جائے گا۔ طلحہ شہید ہوگیا، مگر ایمان، مسکراہٹ، شجاعت اور اس کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ بلوچ قوم کی تاریخ اسے ہمیشہ بطور علامتِ ایمان، مزاحمت اور قیادت یاد رکھے گی۔ اور ہم آج بلند آواز سے کہتے ہیں: راہِ طلحہ جاری ہے؛ مزاحمت کا پرچم کبھی زمین پر نہیں گرے گا۔