شہید فدا ۲۹ سالہ جوان اور گوادر کا رہنے والا ایک ایسا نام ہے جو آج ہر لب پر جاری ہے اور ہر دل میں زندہ ہے وہ سمندر اور پہاڑ کی گہرائیوں سے جنما ہوا ایک بیٹا تھا ایک ایسا مرد جس کی رگوں میں محنت اور غیرت بہتی تھی تھکن اُس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ جہاں بھی قدم رکھتا پوری جان و دل سے کام کرتا اور اپنی مہربانی سچائی اور بہادری سے بہت جلد اپنے ساتھیوں کے دل جیت لیتا وہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے بولان کی بلندیوں میں آیا تھا لیکن لگتا تھا کہ برسوں سے ان پہاڑوں اور سنگلاخ وادیوں میں سانس لے رہا ہے جیسے بچپن سے بلوچستان کی سخت مگر باوقار زمین کی گود میں پلا بڑھا ہو
بلوچستان سے محبت اُس کی آنکھوں میں جھلکتی تھی یہی عشق اُسے پرسکون اور آرام دہ شہری زندگی سے جدا کر کے آگ اور خون کے میدانوں میں لے آیا جو بھی اُسے جانتا تھا کہتا تھا کہ فدا بہترین شہری زندگی گزار سکتا تھا گھر بنا سکتا تھا خاندان قائم کر سکتا تھا خوابوں اور سکون کا معمار بن سکتا تھا لیکن اُس نے ایک اور راستہ چُنا وہ گھروں کا معمار نہ بنا بلکہ آزادی کے راستے کا معمار بن گیا۔
شہری اور آسودہ زندگی اُس کے لیے کم تھی کیونکہ اُس کا دل بلوچستان کی وسعتوں کے لیے دھڑکتا تھا وہ بخوبی جانتا تھا کہ جب تک قوم کے ہاتھوں میں زنجیریں ہوں حقیقی خوشی اور سکون وجود نہیں رکھتا فدا کو یقین تھا کہ شہیدوں کا خون ہی آزادی کی شروعات ہے اسی لیے اُس نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس کی کوئی واپسی نہ تھی ایک راستہ جس کا مقصد آزادی اور عزتِ بلوچستان تھا۔
۱۲ ستمبر ۲۰۲۴ کو جب ہرنائی کے پہاڑوں کا آسمان قابضوں کے ڈرونوں کی گھن گرج سے چیر دیا گیا، فدا اپنے پانچ بہادر ساتھیوں کے ساتھ ڈٹ کر لڑا اور آخرکار جامِ شہادت نوش کیا اُس دن پہاڑ لرز اُٹھے پتھر خون میں رنگ گئے اور پہاڑی نسیم نے اُس کی شہادت کی خبر بلوچستان کے کونے کونے تک پہنچا دی
آج اُس کا خون سرخ سیاہی کی مانند بلوچستان کی تاریخ کے صفحات پر لکھا جا چکا ہے فدا چلا گیا مگر اُس کی یاد اُس کا نام اور اُس کا راستہ ہمیشہ پہاڑوں اور میدانوں میں چراغ کی مانند روشن رہے گا اُس نے بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنی جان دی اور یہ قربانی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی
شہید فدا بلوچستان کی اُس نوجوان نسل کی مثال ہے جس نے اپنی ذاتی آسائش اور سکون کو اجتماعی خوشبختی کے لیے قربان کیا اُس نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان آج بھی وفادار بیٹے رکھتا ہے ایسے بیٹے جو اپنی جان تک اس دھرتی پر نچھاور کرنے کو تیار ہیں
بلوچستان کی خاک نے شہید فدا کے جسم کو بوسہ دیا اور ملتِ بلوچ نے اُسے اپنے دل میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر لیا آج اور آنے والے کل میں فدا کا نام دیگر شہیدانِ آزادی کے ساتھ اُن جوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنی سرزمین کی سربلندی کے لیے میدان میں قدم رکھتے ہیں















