شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہیکہ بی ایس او پجار کے سابق مرکزی چئیرمین شہید ڈغار زبیر بلوچ کا بہیمانہ قتل ریاست کی ننگی جارحیت کا شاخسانہ ہے۔جس کے تحت بلوچ قومی حقوق کے دفاع میں بولتی ہر پرامن سیاسی آواز کو انتہائی سفاکی سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ریاست کی اس سفاکیت کا مقصد بلوچ قومی و سیاسی شعور کو بزور بندوق تاریکیوں میں دھکیل کر مفلوج کرنا ہے، اور اسی تسلسل میں آئے روز بلوچ پرامن سیاسی کارکنان کا ماورائے آئین قتل اور جبری گمشدگیاں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ شہید چئیرمین زبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی و جموری کارکن رہے ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی سیاسی و شعوری آبیاری، بلوچ طلبا حقوق اور بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے مزیدکہاہے کہ ماورائے آئین چئیرمین زبیر بلوچ کا قتل نا صرف بلوچستان میں پنپنے والی بے لگام ریاستی وحشت کا واضح اظہار ہے بلکہ ملکی جمہوری و سیاسی روایتوں پر ایک سیاہ دھبہ ہے، جس کا واضح مقصد پرامن سیاسی جمہوری آوازوں کی زبان بندی کرکے انتشار و ہیجان کو بڑھاوا دینا ہے۔
ترجمان نے آخر میں کہا ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مطالبہ کرتی ہے شہید چئیرمین زبیر بلوچ کے دردناک قتل کے واقعہ کی فوری بنیادوں پر صاف و شفاف تحقیقات کرکے قاتلوں کو قرار وقعی سزا دی جائیں ۔شہید چئیرمین زبیر بلوچ کی شہادت تنظیم سمیت بلوچستان بھر میں بسنے والے لوگوں کے لیے ایک سوگوار سانحہ ہے۔ شہید ڈغار چئیرمین زبیر بلوچ کی قربانی،عزم اور بہادری سے بھر پور مزاحمتی جدو جہد کو بلوچ سیاسی تاریخ کے ناقابل فراموش باب کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔















