اکبر خان بگٹی کی شھادت کے بعد براھمدگ بگٹی کا بلوچ جہد آزادی میں قدم رکھنے کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اس نوجوان کی تحریک میں شمیولیت سے ڈیرہ جات علاقوں میں تحریک ایک مظبوط ہاتھ میں آجائے گا اور ان 15سالوں میں ڈیرہ جات علاقوں گیس بجلی اور ٹرینوں پر حملے سے ریاست پاکستان کو کافی حد تک پریشانی کا سامنا رہا لیکن چند سالوں بعد شوق لیڈری توڑ پھوڑ اور مینگل بردران سے نزدیکی کے بعد براھمدگ زیر تنقید رہے ہیں گزشتہ ماہ اگست میں براھمدگ بگٹی کا متنازعہ انٹریو اور تحریک سے پسپائی کا عندیہ سے وہ سخت تنقید کا سامنا کررہے ہیں اور یہان تک انکے اتحادی بی ایل ایف نے بھی دبے الفاظوں میں براھمدگ بگٹی کو تھکاوٹ کا شکار قرار دیا. براھمدگ بگٹی کے انٹریو کے بعد براھمدگ اور بی آر پی کا خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ براھمدگ نے مزکرات کا خامی بھر لیا ہے لیکن فلحال دشمن ریاست کی جانب سے اسے اہمیت نہیں دی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب چند ایک لکھاری مخلتف ناموں سے براھمدگ بگٹی کا دفاع کررہے ہیں اور بدقسمتی سے انکے الفاظ انکے قلم کے ساتھ نہیں دے رہے ہیں براھمدگ بگٹی اور اسکے مشکوک کردار پر دوستوں نے تفضیل سے لکھا ہے اور وہ خدشات آج درست ثابت ہورہے ہیں گزشتہ روز کسی گہار نامی بگٹی کا ایک آرٹیکل نظروں سے گزرا جس میں میں وہ براھمدگی گلاٹی کو صلح حدبیبہ سے تشبیح دینے کی ناکام کوشش کررہا تھا اور بلوچ تحریک کے اول کو شھید اکبر بگٹی اور آخر کو براھمدگ قرار دے رہا تھا مگر بلوچ قوم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اکبر بگٹی یا اسکا براھمدگ اس تحریک میں ایک جُز اور سپاہی تھے آج براھمدگ بگٹی کی پسپائی کو صلح حدبیبہ سے تشبح دینے والے یہ دیکھ لیں کہ براھمدگ بگٹی کی یک طرفہ صلح ڈیرہ بگٹی اور صلح حدبیبہ میں زمین آسمان کا فرق ہے. اگر ہم صلح حدبیبہ پر مختصر نظر دوڈائیں تو وہ خضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی بصیرت اور ایک دوراندیش لیڈر کی کامیاب حکمت عملی تھا اور اس وقت سارے مسلمان اسکے پابند رہے اور براھمدگ کی پسپائی کو اس سے تشبح دینا احمقانہ عمل ہے کیونکہ براھمدگ کی صلح ڈیرہ بگٹی صرف ڈیرہ جات تک محدود ہے اور مکران میں اسکا اپنا جماعت صلح ڈیرہ بگٹی کا پابند نہیں ہے اصل میں جب مسلمان کمزور تھے اور ایک مرتبہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی سربراہی میں مدینہ سے مکّہ عمرے کی غرض سے جا رہے تھے تو مکّہ سے 25 کلو میٹر پہلے ” حدیبیہ ” کے مقام پر کفّار قریش نے ان کے قافلے کو روک دیا اور مکّہ میں انکا داخلہ ممنوع قرار دے دیا مسلمانوں نے اس ہی مقام پر پڑاؤ ڈال دیا اور رسول صلی الله علیہ وسلم نے اس مقام پر ببول کے ایک درخت کے نیچے صحابہ سے بعیت لی جو جو بعیت رضوان کے نام سے مشھور ہے. اور آپکی یک طرفہ مزکراتی عمل کو تاریخ بعیت پسپائی کا نام دے گا براھمدگ بگٹی کی یک طرفہ صلح ڈیرہ بگٹی میں اسے نے کس آزادی پسند جماعت تنظیم یا اپنے اتحادی سے مشورہ لیا ہے؟ شقی القلب کفّار نے مسلمانوں کو مکّہ نہیں آنے دیا اور حدیبیہ کے مقام پر مسلمانون اور کفّار مکّہ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا جسے ” صلح حدیبیہ ” کہا جاتا ہے . لیکن براھمدگ کی صلح ڈیرہ بگٹی کے بعد ایک عام بگٹی کو ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے قبر پر فاتحہ پڑھنے کی اجازت ملا ہے؟ اس معاہدہ میں بظاھر ایسا لگ رہا تھا کہ رسول الله صلی الله علیھ وسلم نے یہ معاہدہ دب کر کیا ہے کیوں کہ اس میں دو تین نکات بہت سخت تھے جسمیں مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اس مرتبہ حدیبیہ سے بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں اور اگلے سال عمرہ کرنے آئیں جس دوران انکا قیام مکّہ میں تین دن سے زیادہ نہی ہوگا معاہدہ کے ایک شق یہ تھی کہ دس سال تک مدینہ کے مسلمانوں سے مکّہ کے کفّار جنگ نہیں کریں گے لیکن براھمدگ بگٹی کے صلح حدبیبہ کے بعد بھی دشمن ڈیرہ بگٹی میں آپریشن میں مصروف ہے اور اس دوران اگر کوئی مدینہ کا شخص مسلمانوں کو چھوڑ کر مکّہ آے گا تو مکّہ کے کافر اسے واپس کرنے کے پابند نہیں ہونگے لیکن مکّہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جایے گا تو مدینہ کے مسلمان اسکو واپس کرنے کے پابند ہونگے صلح حدبیبہ کے اس طرح کے شق مستقبل میں مسلمانوں کی کامیابی بنے. یہی معاہدہ فتح مکّہ یعنی فتح مبین ثابت ہوا صلح حدبیبہ کے دوران فریقین میں معاہدہ ہوا اور دونوں طرف ہر فریق کا اپنا ایجنڈا تھا تاریخ کے کتابوں میں کہیں نہیں ملتا ہے کہ مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے لیکن براھمدگ اپنے حالیہ بی بی سی والے انٹریو میں کہتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 15سالوں میں ہزاروں بلوچ بغیر مقصد شھید ہوئے کہ اب براھمدگ ریاست سے مزکرات کرکے ایجنڈا لیں گے؟ صلح حدبیبہ کے دوران مسلمان کمزور تھے لیکن کفار کی طرف سے انکے گھر بار جلائے نہیں گے نہ کہ مسلمانوں کو شھید کیا گیا لیکن براھمدگ بگٹی صلح ڈیرہ بگٹی کے بعد بھی ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان بھر میں ریاستی مظالم جاری ہیں گھر جلاے جارہے ہیں اور مسخ شدہ لاشیں مل رہے ہیں صلح حدبیبہ دو طرفہ تھا مگر براھمدگ بگٹی کا صلح ڈیرہ بگٹی یک طرفہ ہے. گہار بگٹی لکھتے ہیں کہ براھمدگ بگٹی کا مزکراتی عمل بی آر پی بی این ایم اور بی ایس او آزاد کو پھر میدان میں لائے گا اور ہم واپس گلی کوچوں میں سیاست کرینگے. کیا براھمدگ کے پاس کوئی ایسا جادوئی چھڑی ہے کہ تم گلی کوچوں میں پاکستان مردہ باد اور آزاد بلوچستان کے نعرہ لگاو اور دشمن ریاست تمھیں کچھ نہیں کرے گا یا کہ صلح ڈیرہ بگٹی ان آزادی پسند جماعتوں جن کے ہزاروں کارکن شھید ہوئے ہیں انکو بی این پی کے طرز سیاست پر لائے گا بات سیدھا سادہ ہے بات کو ہزار جگہ سے گھما کر لاؤ رزلٹ یہی نکلے گا کہ براھمدگ تھکاوٹ کا شکار ہے. اور بلوچ کا منزل آزادی ہے لیکن براھمدگ بگٹی وہ مزکرات بھی یاد کرنے چاہیے جو ریاست پاکستان نواب نوروز اور اسکے آنکھوں کے سامنے اکبر بگٹی سے کیے. انکا نتیجہ کیا ہوا اس سے بڑھ کر صلح ڈیرہ بگٹی کا …..حشر بُرا ہوگا کیونکہ بلوچ اپنے جہد آزادی سے دستبردار نہیں ہوگا اور ریاست پاکستان بلوچ نسل کُشی سے پھر آپکا صلح حدبیبہ خون کی ندیوں میں بھ جائے گا اور تم اختر مینگل کی طرح اپنے نقاط لیے پاکستان کے عدالتوں میں بھٹک تھے رہوگے.















