لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کے تناظر میں اقوام متحدہ کا بلوچ قومی جد و جہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا پاکستان کی طرف سے بلوچ نسل کشی کو توسیع دینے کے لئیے مزید حوصلہ افزائی کے مترادف ہے، اقوام متحدہ کو یہ سمجھنا ہوگا بلوچستان میں جاری قومی مزاحمت ایران و پاکستانی ریاستوں کی جارحیت کے خلاف اپنے قومی تشخص اور وطن کی دفاع کے لیئے ہو رہی ہے۔ ‎بلوچ قومی فوج پاکستانی و ایرانی قبضہ گیر فورسز کے خلاف اپنے وطن متحدہ بلوچستان کی آزادی و خودمختار حیثیت کی بحالی کے لیئے جہدِ عمل میں مصروف ہیں، جس دن بلوچ سرزمین پر پاکستانی و ایرانی قبضے کا خاتمہ ہوجاتا ہے بلوچ قوم اپنے سرزمین کے سرحدوں کے اندر مکمل امن و امان کی ضامن ہوگی۔ ‎ترجمان نے کہا کہ ایران و پاکستان کے خلاف بلوچ جد و جہد آزادی کی تاریخ قبضے کی اول دن سے جاری و ساری ہے اور اس سے پہلے بھی پندرہویں صدی میں پرتگالیوں اور انیسویں صدی میں انگریزوں سمیت بلوچ قوم نے اپنی سرزمین پر دیگر قابض سامراجی قوتوں کے خلاف ہمیشہ سے اجتماعی طاقت سے مزاحمتی عمل کو زندہ رکھا ہے اور بلوچستان میں آج کی مزاحمتی جہد کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کو غلام بنائے رکھنے اور انکی بتدریج اور منظم نسل کشی کے خلاف اپنی قومی شناخت اور اجتماعی یگانت و آزادی کو حاصل کرنے کی دفاعی کوششوں کا حصہ ہے جو صدیوں کی تسلسل پر مشتمل ہے تمام اقوام بشمولِ بلوچ قوم کو یہ حاصل ہے کہ وہ اپنے اوپر قابض طاقتوں کے خلافت ہرمحاذ پر جد وجہد کریں دنیا کی تاریخ قابضین اور سامراجی طاقتوں کے خلاف مزاحمتی ادوار کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے آج اقوام متحدہ روس کے قبضے اور سامراجیت کے خلاف مزاحمت کے لیے یوکرین کے حق کی توثیق کرتا ہے کیا بلوچوں کا بھی یہی حق نہیں؟ مزاحمت کا یہ حق اقوام متحدہ کے قیام سے بہت پہلے پوری انسانی تاریخ میں موجود رہا ہے۔

‎بیان میں مزید کہا گیا کہ تھامس ایکویناس، نکولو میکیاویلی، فرانسسکو ڈی ویٹوریا، ہیوگو گروٹیئس، جان لاک، ژاں جیکس روسو، امینوئل کانٹ، جان اسٹورٹ مل اور کارل مارکس جیسے فلسفیوں نے اس انسانی رجحان کا تجزیہ کیا اوراپنے تحفظ، اپنی دفاع اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی اپنے تحریروں میں حمایت کی اسی طرح اقوام متحدہ کی وجود سے پہلے ویسٹ فیلیا کا معاہدہ، امریکی اعلانِ آزادی، انسان اور شہری کے حقوق کا فرانسیسی اعلامیہ، ہیگ کنونشنز، لیگ آف نیشنز کا عہد، کیلوگ برائنڈ معاہدہ سمیت اٹلانٹک چارٹر جیسے متعدد قانونی معاہدوں اور دستاویزات میں اقوام کی خود مختاری، آزادی، مزاحمت اور اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی اپنی چاٹر کے تحت پاکستان بلوچستان پر ایک قابض طاقت ہے اور پاکستان کی بلوچستان میں موجودگی اقوام متحدہ کی چاٹر کی آرٹیکل ۲ کی شق تین اور چار کی خلاف ورزی ہے۔

‎بلوچستان کو یواین کی آرٹیکل کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی آزاد بلوچستان کو برقرار رکھنے کی قرارد کو پاکستان نے ماننے سے انکار کیا اور ایک آزاد ریاست پر فوج کشی کی اقوام متحدہ کی یہ قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ تمام مسائل کی بنیاد اور پاکستان کی یواین کی اپنی چاٹر کی خلاف ورزی پر ایکشین لیتے ہوئے پاکستان کو جوابدہ کرئے اور بلوچ قومی سوال کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ‎اقوام متحدہ جیسے عالمی امن کے ضامن صف اول کے ادارے کو چاہئیے کہ وہ قابض و جابر اور مقبوض کے درمیان فرق کو سمجھتے ہوئے پاکستان و ایران کو اس امر کا پابند بناتے کے وہ بلوچ قومی نسل کشی کو بند کریں اور وہاں لوگوں کے دلوں میں موجود آزادی و خودمختاری کے امنگوں کا احترام کریں لیکن اسکے برعکس اقوام متحدہ انہی قابضین کی زبان بولتے ہوئے بلوچ جد و جہد آزادی کو سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے جوکہ بلوچ قوم کے لیئے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ‎ایف بی ایم کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بلوچ قومی جدو جہد آزادی مکمل طور پر ایک جائز اور عالمی اصول و ضوابط کے ساتھ مطابقت رکھنے والی تحریک ہے۔ جہاں دنیا کے دیگر حصوں میں قبضے اور منظم نسل کشی کے خلاف قومی مزاحمتیں جیسے فرنچ مزاحمت، پولش مزاحمت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاچکا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ کو بلوچ مزاحمت کی مذمت کرنے کی بجائے اس سمجھنا اور تسلیم کرنا چاہئے۔ ‎ترجمان نے مزید کہا کہ ایران و پاکستان نے نہ صرف بلوچستان پر قبضہ کیا ہے بلکہ وہاں پر ایک دھیمے رفتار کی بلوچ نسل کشی جاری و ساری ہے لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ اقوام متحدہ نے کبھی بھی بلوچستان کے سنگین حالات کے حوالے سے کوئی یادداشت پیش یا پاس کی ہوبلکہ اسکے برعکس اقوام متحدہ ایران کو ملینز کے حساب سے ڈالرز انسداد منشیات کے مد میں فراہم کررہا ہے تاکہ وہاں سے دیگر ممالک کو منشیات کی سپلائی کا سدباب کیا جائے یہاں اقوام متحدہ پر سوال یہی اٹھتا ہے کہ انہوں کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ایران جیسے جابر و قابض ریاست ان ملینز آف ڈالرز کو کیسے اور کہاں خرچ کررہا ہے؟ اقوام متحدہ نے ہمیشہ اس حقیقت سے آنکھیں موند لی ہیں کہ منشیات کی سدباب کے لئیے دی جانے والی بیشتر رقوم بلوچ نسل کشی کے لئیے استعمال کئیے جارہے ہیں جہاں منشیات کے روک تام کے نام پر ہزاروں کی تعداد میں بلوچ سیاسی کارکنوں کو پھانسیاں دی جاتی ہیں اور ٹرانسپورٹ اور مال برداری سے منسلک ہزارہا بلوچوں کو محض اس لئیے فائرنگ کرکے شہید کیا جاتا ہے کہ روزگار کے دگر موقع نہ ہونے کی وجہ سے تیل کی بار برداری اور اشیاء خودر نوش کی کاروبار کرتے ہیں۔ ‎ اقوام متحدہ کی طرف سے دی جانے والی رقوم باقاعدگی کے ساتھ بلوچ قوم کی منظم نسل کشی میں استعمال ہورہی ہیں لیکن ایرانی قابض ریاست سے کوئی پوچھنے والا نہیں یہ بالکل ویسے ہے جیسے دوہزار سولہ میں فلپائنی صدر نے حکم دیا تھا کہ منشیات کے سدباب کے لئیے منشیات سے وابستہ تمام افراد کو قتل کردیا جائے تو ایک سال کے اندر سات ہزار پچیس افراد کو قتل کیا گیا بعد میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تحقیقی رپورٹ سے پتہ چلا کہ اس میں ایک کثیر تعداد بے گناہ لوگوں پر مشتمل تھی جسے محض پیسے کی لالچ، زاتی عناد اور سیاسی مخالفت کی بنیادوں پر قتل کیا گیا۔

‎ بلوچستان کے اندر ایران کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی ایک بھی یاد داشت یا ریزولوشن پیش یا پاس نہیں کی گئی علاوہ ازیں آج بلوچستان کے اندر قابض ایران و پاکستان ترقی و تعمیر کے نام پر بلوچوں کی گھروں کو مسمار کررہے ہے اور جو بلوچ اپنے آبائی گھروں یا زمینوں سے انخلا کرنے کےلیئے تیار نہیں ہوتے ان تمام بلوچوں پر جبر کے پہاڑ توڑے جارہے انکو بوگس مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے اور کئیوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا جارہا ہے۔ یہ سب بلوچ کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے اور چابہار کو ایرانی ریاست کی صدر مقام بنانے اور لاکھوں کی تعداد میں غیر بلوچوں کو آباد کرنے کے لیئے ہی کیا جارہا ہے، اس لئے بلوچ قوم کے خلاف ایرانی ریاستی جارحیت عالمی برادری سمیت دنیا کے امن کے ضامن اداروں خاصکر اقوام متحدہ کے پوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ‎ایف بی ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں قریبا پانچ سے چھ ہزار بلوچ سیاسی کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں اورانسانی حقوق کے اداروں کے اندازے کے مطابق ہزاروں بلوچ پاکستان ریاستی اردارں کی زندانوں میں ہیں جن پر عقوبت خانوں کے اندر غیر انسانی اور غیر اخلاقی تشدد کیا جاتاہے اور کیئوں کو شہید کرکے لاشیں ویرانوں میں پھنک دی جاتی ہیں لیکن اقوام متحدہ کو توقیق نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان سے پوچھ لے کہ اتنی تعداد میں غائب کیئے گئے بلوچوں کا کیا حال ہے، وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی پاسداریوں کے حوالے سے موجود شقوں کی دستخط کنندہ ہے ان پر لازم ہے کہ وہ جنگی قیدیوں سمیت تمام قیدیوں اور مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی احترام کو یقینی بنائیں لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے بلوچ قوم کے خلاف قابض پاکستانی و ایرانی بیانیے کی تائید کرنے اور اس طرح کی جانبدار رویوں سے بلوچ قوم اقوام متحدہ سے جو امید رکھتے ہیں وہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتے چلے جائیں گے اور بلوچ قوم بھی اقوام متحدہ کو جابر اور قابض ریاستوں کے سنگھی ساتھی اور انہی کا ترجمان سمجھنا شروع کردے گی۔ ‎ترجمان نے کہا کہ آج بلوچ جہد آزادی کی شدت سے خائف ہوکر پاکستانی و ایرانی قابض ریاستیں بلوچ قوم کو اجتماعی سزاؤں کا نشانہ بنا رہے ہیں جس میں کئی ایسے مثالیں موجود ہیں کہ بہت سارے بلوچوں کو محض اس لئیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کے عزیز و اقارب بلوچ جد و جہد آزادی سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ قلات میں حالیہ واقعات کے بعد پاکستانی قابض فوج نے کئی عام بلوچوں کو فرضی انکاؤنٹر میں شہید کیا اسکے علاوہ بھی بلوچستان کے طول و عرض میں عام بلوچوں کو آئے روز شہید کیاجارہا ہے، یہ اجتماعی سزاوں کا عمل ویسے ہے جیسے چلی میں پنوشے کی طرف سے چلائی جانے والی بے رحم تطہیری مہم ہو یاکہ ارجنٹائن میں سیاسی بنیادوں پر ہونے والی قتل عام ہو آج بلوچستان کی سیاسی و سماجی منظرنامہ صرف ایسا نہیں بلکہ ان سے بھی بد تر ہے لیکن اقوام متحدہ اپنی زمہ دارویوں سے غافل اور قابضین کی سیاسی ایجنڈوں اور انکے بیانیے پر اکتفا کئیے ہوئے ہے۔ ‎بلوچستان میں جاری آزادی کی جد و جہد میں دو فریق ہیں ایک طرف بلوچ قوم ہے جو اپنی چھینی گئی قومی آزادی و خومختاری کی بحالی کے لئیے اور اپنے وطن کی دفاع کے لئے جد جہد کر رہی ہے اور دوسری طرف پاکستانی ریاستی فوج اور اس کے ادارے ہیں جوکہ بلوچستان پر اپنے قبضے کو دوام دینے اور بلوچ قوم کو نیست نابود کرنے کی اپنی جنگی جنون و جارحیت پر قائم ہے، اقوام متحدہ کو سمجھنا ہوگا کہ بلوچ قوم کا مقصد بلوچ متحدہ سرزمین کی آزادی ہے اور بلوچ قوم ایران و پاکستان کی طرح تشدد برائے تشدد یا توسیع پسندی پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہ ایک نہایت اہم مقصد کی خاطر جہدِ عمل میں مصروف ہے اور ہماری کوشش یہی ہے کہ بلوچ جہد آزادی کی تحریک تمام حوالوں سے متعین عالمی قوانین کے مطابق ہو اور انہی رائج عالمی قوانین میں ایک قانون حق آزادی اور اپنی وسائل پر حق اختیارکا بھی ہے. آج کی بلوچ قومی آزادی کی تحریک متحدہ بلوچستان کی آزادی و خودمختاری کی بحالی کی تحریک ہے اور اسے کوئی اور رنگ یا نام دینا کسی بھی طرح بلوچ قوم کے لیئے قابل قبول نہیں ہے۔