شال (ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر بلوچ خواتین کی جرات، استقامت اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ خواتین برسوں سے عزت، انصاف اور اجتماعی حقوق کی جدوجہد میں صف اول کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
بی وائی سی کی جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان اور اس سے باہر بھی بلوچ خواتین ایک طویل عرصے سے ایک کٹھن حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں، جس میں جبری گمشدگیاں، غیر قانونی گرفتاریاں، عسکریت پسندی کا ماحول اور انصاف کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو منظم طریقے سے دبانا شامل ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ خواتین خود بھی جبری گمشدگیوں، خاموش کرانے کی کوششوں اور ریاستی دباؤ کا نشانہ بن رہی ہیں، صرف اس لیے کہ وہ اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی مائیں اپنے بیٹوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، بہنیں ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں اور بیٹیاں مزاحمت کی صفوں میں کھڑی ہو رہی ہیں ۔ ان خواتین نے اپنے غم اور دکھ کو طاقت میں بدل دیا ہے۔ ان کی جرات نے معاشرے میں خواتین کے کردار کو نئی جہت دی ہے اور انسانی حقوق اور احتساب کے لیے جاری اجتماعی جدوجہد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، لیکن بلوچستان میں بلوچ خواتین کو ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور ان کی آواز دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، جس سے خوف اور جبر کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
بیان کے مطابق بلوچ خواتین کی جدوجہد صرف صنفی برابری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک قوم کے بنیادی حقوق، باوقار زندگی، تحفظ اور آزادی کے حق کی جدوجہد بھی ہے۔ گرفتاریوں، دباؤ اور پابندیوں کے باوجود بلوچ خواتین پرامن احتجاج منظم کر رہی ہیں، آگاہی مہمات چلا رہی ہیں اور معاشرے میں یکجہتی کو فروغ دے رہی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس موقع پر لاپتہ افراد کی ماؤں، انصاف کے لیے مارچ کرنے والی خواتین، خطرات کے باوجود آواز بلند کرنے والی طالبات اور ہر اس خاتون کو خراج تحسین پیش کیا جو ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کرتی ہے۔
بیان میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور دنیا بھر کے باشعور افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلوچ خواتین کی آواز سنیں اور ان کی پرامن جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ کمیٹی کے مطابق انصاف کے راستے کے لیے حقیقت کا اعتراف، احتساب اور انسانی وقار کا احترام ضروری ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ عالمی یومِ خواتین صرف جشن کا دن نہیں بلکہ غور و فکر اور عزم نو کا موقع بھی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچ خواتین کی قیادت، تحفظ اور سماجی و سیاسی زندگی میں ان کی بھرپور شرکت کی حمایت جاری رکھے گی۔
کمیٹی کے مطابق بلوچ خواتین ہمت اور امید کے ساتھ انصاف کی راہ کو روشن کرتی رہیں گی۔














