میرے اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ عرب معاشرے کے ماضی اور بلوچ معاشرے کے حال کے منافقین کے کر داروں کا ایک تقابلی جائزہ لیں.قریبا آج سے 1430 سال پہلے عرب معاشرے میں ظلم ، جہالت قبائلی دشمنیاں قبائلی سرداروں کی بدمستیاں اور دوسرے سماجی برائیوں کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی تھی.اس دور میں قبائلی دشمنیوں ظلم وجہالت کا عالم کچھ یوں تھا . عرب سرزمین چونکہ زیادہ تر ریگستان اور غیرآباد تھا. ان کازریعہ معاش زیادہ تر مالداری ،زراعت میں کھجورکے باغات اورکسی حد تک تجارت پر تھااوران کا عرب معاشرہ اس دور کے قیصروکسرا (روم وفارس )کے معاشروں سے بہت زیادہ پسماندہ تھا. اور خود روم اور فارس کے لوگوں کے ہاں زراعت کا شعبہ عربوں سے کافی بہتر تھا.اور وہ خوشحال زندگی گزارتے.عرب مالداری میں اونٹوں کا بہت زیادہ شوق کیا جاتا تھا،جب وہ اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے لے جاتے اس دوران اگر کسی کا اونٹ دوسرے کے اونٹ سے پہلے پانی پیتا تو دوسرا شخص اس پہلے پانی پینے والے اونٹ کے مالک کو قتل کردیتا.اور اسی طرح یہ معاملہ قبائلی جنگ کی صورت اختیار کرلیتااوروہ قبائلی لڑائی رکنے کا نام نہ لیتا.مذہبی حوالے سے پتھر سے تراشے گئے بتوں کی پوجا کرتے تھے.آفاقی مذہب کی حقانیت دور کی بات یہ عمل کسی بھی مہذب انسانی معاشرے کی تہذیب کو دیکھ کر عقل انسانی بھی پتھر کو خدا مانا خود انسانی شعور کی کھلی تذلیل تھا.شراب کثرت سے پیتے.جب کسی کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہوتا تو غیرت کے نام پر اسے زندہ درگور یاقتل کردیاجاتا.ایک عورت سے بیک وقت دس مرد نکاح کرلیتے.جب کوئی بجہ اس عورت کے ہاں پیدا ہوتا.تو وہ سب کے سب اکٹھے بیٹھ جاتے اورایک شخص کو بلایا جاتا جو اس بچے کی شکل وشباہت کو دیکھتا ان دس مردوں میں سے اس بچے کا جس سے بھی مشابہت نزدیک کاہوتا بچہ اسے دیا جاتا.اگر کوئی مرد شخص کا انتقال ہوتا تو اس کے فوتگی کو طبعی نہ سمجھ کراس کے بیوہ کو اس کا زمہ دار ٹھرایا جاتااور اسے منحوس سمجھا جاتا.اور اس بیوہ کیلئے زمین میں ایک تنور نما گڑھا کھودا جاتا اور لمبے عرصے تک اسے اس تنور نما گڑھے میں اسے رکھاجاتا اور صرف اس کا سر اوپر سے باہر نکالا جاتا وہی سے اسے کھانا پانی دیاجاتا اور وہ دن رات اسی میں گزارتااور رفع حاجات بھی وہی ہوتا.اس عورت کا جب طے کردہ مقررہ مدت پورا ہوتا تو جب اس عورت کا ان آخری دنوں میں ماہواری کے دن ہوتے تو کوئی کبوتر لاکر اس کے پروں پر اسی خون سے لگایا جاتا اور یہ سمجھا جاتا کہ اب اس عورت کی منحوسیت کے دن ختم ہوکر وہ پاک ہوگئی ہے تب جا کے بعد میں اس کی دوسری شادی اور دوبارہ اس معاشرے میں آبادکاری ممکن ہوتا۔ یہ عرب سماج کی پستی کا ایک چھوٹا سا خاکہ تھا.جب کہ پڑھے لکھے لوگ انکی اخلاقی پستی کے بارے میں زیادہ پڑھا ہوگا.کہتے ہے جب درد حد سے بڑھ جائے تو دوا بن جاتا ہے.اسی طرح اس معاشرہ میں تمام برائیاں اپنی آخری حدوں کو چھورہے تھے.حالات جب ایسے ہو تو کوئی مسیحا ،سقراط رہبرونجات دھندہ کی شکل میں منظر عام پر آہی جاتا ہے.اس بگڑتی معاشر ہ میں ایک پیغمبر حضرت محمدؐ کی شکل میں آجاتاہے.اور وہ لوگوں کو انسانیت،شرافت،حق وانصاف،بہادری،ایماندادری،سماجی بے راہ روی سے پاک معاشرہ،اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر آپس میں اتحاد ویگانت کا درس دیتا ہے.اور لوگوں کو ظلم کے خلاف اٹھنے اور لڑنے کو فرض قرار دیتاہے،اور خوداپنی انصاف ،اخلاق ،شرافت،صداقت،اور مضبوط کردار کی وجہ سے اس عرب معاشرے میں ایک انقلاب برپا کرتا ہے.اور وقت کے ظالم اپنے مفادات کو خطرے میں محسوس کرتے ہے،خود اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت پر مجبور کیاجاتاہے،ان کے خلاف لڑنے کیلئے قبائلی لشکر کو جمع کیا جاتاہے،ان کے خلاف کھلم کھلا لڑنے کیلئے ابوجہل (عمرو ابن ھشام) جیسے کافر جنگ بدرکیلئے صف بندی کرتے ہے،اور خود لڑائی میں شریک ہوتے ہے ، اب عرب معاشرے کا ایک کردار( ابوجہل عمرو ابن ھشام) تھا.جو ایک سردار تھے.جبکہ ایک دوسرا منافق کردار عبداللہ بن ابی ابن سلول جو کہ رئیس المنافقین کے نام سے جانا جاتا ہے.ایک دوسرے جنگ کی صف بندی بنی المصطق کے( رئیس سردار)حارث بن ضرار نے رسول اللہ ؐ کے خلاف جنگ کی تیاری کی،اور یہ حارث ضرار جو بعد میں مسلمان ہوئے،حضرت محمدؐ جب مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان کے مقابلہ کیلئے نکلے،اوراس جہاد کے لیئے نکلنے والے مسلمانوں کے ساتھ بہت سے منافق بھی اس طمع و لالچ میں شامل ہوئے،کہ ہمیں بھی مال غنیمت میں حصہ ملے گا،یہاں کرداروں کے تجزیہ کیلئے بہتر ہے،کہ کافر اور منافق کے لغتی معنی کو بھی بیان کیاجائے.. کافر…ظالم،بے دین، منکر خدا۔۔۔.منافق۔۔۔نفاق والا،مکار،اور دہرا کردار.ظاہر سے کچھ باطن سے کچھ اور…اب اس بنی المصلطلق کے رئیس کے ساتھ والی جنگ میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی شامل تھے.یہ جنگ جب ختم ہوئی تو مسلمانوں میں سے ایک مہاجر و انصار کا آپس میں مریسیع کے پانی پر باہم جھگڑا ہوا.اور نوبت قتل وقتال تک پہنچی .اس بات کا جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خبر ہوئی.تو وہ اس موقع کو غنیمت جان کر مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے ا ور تفرقہ ڈالنے کے لئے ان کے درمیان بہت سے جھوٹ بول کر بد گمانیاں پیدا کی.اور ان کی انھی منافقت کی بنا پر قران میں ایک سورت منافقون کے نام سے نازل ہوئی. اور ہمارے لیئے سوچنے اورسیکھنے کی بات اس میں یہ ہے.کہ اس سورت میں تین (3) گروہوں کے بارے میں کتنی آیاتوں میں ذکر آیاہے.6 آیات مسلمانوں کے صفات کے بارے صرف 2 آیات میں کافروں کے بارے اور 16 آیات منافقوں کے بارے میں.! یہاں سب سے زیادہ منافقوں کا زکر آیا ہے.یعنی ابوجہل سے زیادہ خطرناک عبداللہ بن ابی ابن سلول کا کردار ہے. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور حق وصداقت کی اس جنگ میں دیکھئے کہ عبداللہ ابن سلول کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا.اور وہ پکا مسلمان تھا. جب ایسے کردار واضح ہوئے.تو مسلمان پستی سے نکل کر اپنے ہاں ظلم کا خاتمہ کرکے روم وفارس تک کو فتح کیا.اور 40000 چالیس ہزار مربع میل پر اپنی خلافت قائم قائم کی. بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو بلوچ شہدا نے اپنے مقدس خون سے ایندھن فراہم کیا ہے.اور بلوچ کے بدترین دشمن پنجابی اس قومی بقا کی تحریک مختلف زاویہ سے ختم کرنے پر کام کررہاہے.ظاہری طور پر اس کا ناپاک فوج بڑی بے رحمی سے بلوچ قوم کی نسل کشی کررہاہے.بلوچ کے سامنے اس نے مختلف رکاوٹیں کھڑی کردی ہے.ان میں سے ایک ان کا ڈیتھ سکواڈ کے نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل جو( ابو جہل عمروابن ھشام) کا کردار ادا کر ررہاہے .اور دوسری طرف بلوچ میں سے منافقین کا ایک گروہ پنجابی نے BNP کے نام سے بنایاہے.جس کے کرتا دھرتا سردار عطااللہ مینگل اور اس کے بیٹے اختر مینگل ہے.سردارعطااللہ مینگل کا سیاست شروع سے لے کر آج تک بلوچ قوم اور اس کے جہد کو بے شمار نقصانات دیئے.ان کا سیاست بلوچ قوم کے نام پر خوداسے اوراس کے جماعت کے چند چاپلوسوں کو ہمیشہ سے فائدہ دیتا آرہا ہے.اور ان کا سیاست بلوچ قوم کو پنجابی کے دائمی غلامی میں رکھنے کی قیمت پرہوا ہیں.عرب منافق عبداللہ ابن ابی ابن سلول پھر بھی ان سے کم خطرناک ہوا کیونکہ ان کا بیٹا عبداللہ ایک نہایت اچھا اور باکردار انسان تھا.جب کہ سردار اختر مینگل تو بلوچ قوم کو ہمیشہ کیلئے نیست ونابود کرنے کیلئے اپنے باپ رئیس المنافقین سے بھی ایک قدم آگے ھے.اور اسی کے ایجنڈے کو تکمیل کی طرف لے جارہے ہے.سردار عطااللہ اینڈ کمپنی کا سیاست بلوچ قوم کو کبھی بھی فائدہ نہیں دیا ہے.ان مکاروں نے جب بھی بلوچ عوام کے سامنے گئے ہیں.صرف اور صرف اپنے سابقہ گناہوں پر پردہ ڈالنے انھیں مزید اپنے دھوکہ کے جال میں پھنسانے اور حقیقی قوم دوستوں کے خلاف قوم کو اکسانے ان کے درمیان بدگمانیاں پیدا کرنے اور بلوچ قوم کے قومی جذبہ کو ٹھنڈا کرنے اور اس کا رخ کئی اور موڑنے کیلئے کام کیئے ہے.جس کا براہ راست فائدہ ہمیشہ پنجابی کے ریاست پاکستان کو پہنچا ہے.پنجابی مکار نے جس ہنر سے پشتون قومی سوال کو ختم کرنے کیلئے خیبر پختونخواہ میں ANP کو اپنے ساتھ ملایاہے.اور بلوچستان کے ساتھ شامل اضلاح میں پشتون قومی سیاست کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پشتونخواملی عوامی پارٹی کو اپنے ساتھ ملایا ہے.اور بالکل اسی مکاری کی چال کو بلوچ قوم میں متعارف کرنے کی عملا کوشش کررہاہے.اور جس کیلئے اس نے یہ ٹاسک BNPاور NP کے زمے لگائے ہیں.اور ان کو پاکستان مکمل سپورٹ کررہا ہے.اور ہر وقت ان کو پارلیمانی اقتدار میں شراکت دار بنا کر بلوچ قومی سوچ کوقومی آزادی جیسے نعمت سے بد ظن کرکے انھیں نلکا اور نالی کے سیاست کی جانب موڑنے کی مسلسل کوشش کررہے ہے.آج بلوچ قومی آزادی کو ایک انتہائی اہم خطرہ ان پارلیمانی چیلوں سے ہیں.ان میں سردار عطااللہ اینڈ از کمپنی اور ڈاکٹر مالک و حاصل بزنجو جیسے دلالوں کی سیاست قوم کے حقیقی جہدکاروں کے سامنے ایک کھلا چیلنج ہے.! حالیہ بلوچ مزاحمتی تحریک میں شامل ڈاکٹر اللہ نظر اور براہمداغ بگٹی کی سیاسی بلادکاریوں سے قوم کے نوجوان لکھاریوں نے اچھی طریقے پردہ اٹھایا.آج وقت کی ایک اور ضرورت باقی ہے کہ بلوچ سرزمین قوم کے ان دلاروں کو بھی بے نقاب کیاجائے.ان کو وقت اور گنجائش دے کر کسی طرح بھی دانشمندی نہیں.اور ضروری ہے کہ نوجوان لکھاری اپنے قلم کا رخ آستین کے سانپوں کی طرف موڑے،ردانقلابی قوتوں کے گناہوں کو قوم کے سامنے بہتر پیش کیا گیا.آج ہم سوچیں کہ یہ پارلیمانی پنجابی کے نمک حلال اور اور بلوچ قوم کے نمک حرام ریاست کے ساتھ کیا سے کیسے سازباز کررہے ہیں.؟؟؟؟؟؟؟ قوم کے 20000 کے قریب افراد پنجابی کے ظلم کے قلی کیمپوں میں وطن کے خاطر جسمانی اور زہنی ٹارچر سے گزر رہے ہیں.2000 کے قریب قوم کے حقیقی فرزندوں کو پنجابی نے بڑی بے رحمی سے شہید کرکے قوم کو نفسیاتی طور پر ڈرانے کیلئے ان کی چہروں کو مسخ کرکے جنگل و بیابان میں لاوارث جان کر پھینک دیا.تاکہ ہر کوئی آزادی کے نام سے ہی خوفزدہ ہو.جب اس ظلم کی آواز باہر کی طاقتور دنیا کو پہنچی اور UNO کا ایک نماہندہ وفد بلوچ جبری گمشدیوں کے بارے میں حقائق جاننے یہاں پہنچا تو اس بلوچ اسیران کی مضبوط کیس کو اسی وقت کمزور کرنے کیلئے اختر مینگل فورا پنجابی کے عدالت میں حاضری دی.اور باہر کی دنیا کو اس کاایک غلط پیغام چلاگیا.بلوچ شہدا نے اپنی مقدس خون کی قربانی دے کر بلوچ اور اپنے دشمن پنجابی کے د رمیان خون سے ایک سرخ لکیر کھینچا.جسے کوئی بھی غیرت مند قوم دوست عبور کرکے پنجابی کے ساتھ مل بیٹھنے اور سیاست کا سوچ بھی نہیں سوسکتا.لیکن رئیس المنافقین سردارعطااللہ مینگل کے بیٹے اختر نے شہیدوں کے خون سے کیھنچی ہوئی لکیر کو بڑی بے حیائی سے عبور کرکے اس کے پارلیمانی الیکشن میں حصہ لے لیا.پنجابی نے پہلے 5 سال کیلئے ڈاکٹر مالک اور حاصل بزنجو کو شہدا کے خون کو بیچنے کی قیمت پر وزارتیں اور مراعات سے نوازا.اور آنے والے 5 سال کے لیئے اختر مینگل ابھی سے نمک حلالی کا ثبوت دے رہا ہے.آج کے اس بحرانی بلوچ سیاست میں پنجابی نے حقیقی آزادی پسندوں کا رابطہ عوام سے مکمل کاٹ چکا ہے.اور عوام سے براہ ر است رابطہ کرنے کیلئے پنجابی نے اپنے کرائے کے نمک حلالوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہیں.اور بلوچ وطن کے یہ نمک حرام عوام میں جاکر آزادی کے خلاف اور پاکستان پرست سیاست کا دن رات سے تبلیغ کرکے ISI کے ایجنڈے پر خوب کام رہے ہیں. بلوچ قومی جنگ برائے قومی نجات سیکولر اور سائنسی بنیادوں پر رکھی گئی ہے.اب یہاں نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی وحی کا سلسلہ جو آسمان سے ان منافقوں کے کردار اور اور ان کے نام منظر عام پر ظاہر نہیں ہوسکتے.تو آج ضرورت اس بات کی ہیں کہ ان منافقین کے قول وفعل کے تضاد کو دیکھ ان منافقت اور بے ایمانی کو قوم کے سامنے آشکار کیاجائے.منافق کی ایک آزمودہ نشانی یہ بھی ہے کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے.وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے.جیسے کہ ماضی قریب میں جب ڈیرہ بگٹی میں ایک جلسہ عام ہوا جس میں شہید اکبر خان نے شرکت کی.اسی جلسے سے اختر مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا.کہ یہاں پر فوج نے ایک گولی بھی چلائی تو اس کاجواب ہم 100 گولیوں سے دینگے.وقت کا پہیہ کیسے گھوما قوم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا. اور آج دوبارہ منافقین کا یہ ٹولہ قوم کو غلط راستے پر ڈالنے کیلئے بلوچ عوام کے سامنے جلسے جلوس کر بے دھڑک جھوٹ بول رہے ہیں.ان کی مثال کرگز جیسا ہوا. قوم کو یاد ہوگا.BLA کی دشمن کے خلاف انقلابی عمل کی سب سے پہلے BNP نے اس وقت مخالفت کی جب سرمچاروں نے خضدار میں کوشکک کے قریب آرمی کے سات 7 اہلکارہلاک کیا تھا.جس میں دشمن نے حواس باختگی میں بہت سے افراد کو گرفتار کیا تھا.جس میں سے کچھ ان کے بھی کارکن گرفتار ہوئے تھے.اور انھوں نے ہہاں تک کہا کہ سرکار ہمارے کارکنوں کو کیوں گرفتار کررہاہیں.؟ جنھوں نے یہ عمل کیا ہم خود ان کی نشاندھی کرنے کو تیارہیں.! غالبا 2004 کے دنوں کی بات ہے.کہ جب قومی آزادی کے جہدکار نوشکی میں ایف سی پر ایک کامیاب حملہ کیا جس میں قابض کے 9 کارندے ہلاک ہوگئے تھے.اور حادثاتی طور پر ایک مقامی شخص بھی مارا گیا تھا.لیکن بی این پی نے اپنے آقا کی بدنیتی کی پیروی کرتے ہوئے اس کے خلاف ایک ریلی تک نکالا تھا. حقیقی قوم دوستوں نے جب بلوچ لبریشن چارٹر کو بنایا اور قوم میں چند شخصیات اور کچھ سیاسی اداکاروں کو اس کی ایک ایک کاپی دے دی .تاکہ کل کو کوئی یہ بہانہ نہ کرے.کہ انھوں نے تو ہم پر اعتماد نہیں کیا تھا. جب انھیں اس کی کاپی دی گئی تو اختر مینگل نے یہ گمراہ کن بیان میڈیا میں جاری کیاکہ ہم اسے قبول نہیں کرسکتے.حیربیار کے نزدیک کے جو دوست جن کا معاشرہ میں کوئی مقام نہیں انھوں نے ہمیں حیربیار کے کہنے پر جو کچھ کہا ہے،اس کا وہ خود معافی مانگے.ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہم لبریشن چارٹر کو قبول نہیں کرسکتے،اور برائے راست انھوں قومی معاملات میں بلیک میلنگ پر اتر آئے.لبریشن چارٹر کو عوام میں لے جانے اور انھیں شعوری آگاہی دینے کی بجائے انھوں نے اسے متنازعہ بنانے پر اتر آئے.اور آگے انھوں نے ایسا ہی کیا.ڈاکٹر نظر کو راہ راست سے ہٹا کر گمراہ کرنے میں اختر کا بہت بڑا کردار ہے.براہمداغ بگٹی کو پہلے مرحلے میں شہسواروں کے قافلے سے علیحدہ کیااور کچھ ہی عرصے بعد قوم نے دیکھا کہ اسے شاہی سواری سے اتار کرگدھے پر بھٹانے میں انکاکردار اہم رہا،اختر مینگل پنجابی کیلئے نمک حلالی مزید نمک حلالی اس طرح سے کرئے گاکہ براہمداغ کو گدھے پر بھٹا کر پنجابی پارلیمنٹ میں پہنچائے گاپھر وزارتیں ہونگی نواب مہران سردار براہمداغ بگٹی ڈاکٹر اللہ نظر تک پہنچنے میں جاوید مینگل کا کردار اہم رہا اور یہی سے انھوں نے اپنے بھائی اختر مینگل کا رابطہ ان سے کروایاجو کہ آئی ایس آئی کا ایک موثر کارڈ ہے.سب سے پہلے انھوں نے سنگت حیربیار کو سیاسی میدان میں تنہا کردیا.اور اس پنجابی ایجنڈے میں رئیس المنافقین خود اور اس کے تمام بیٹوں نے مشترکہ ایجنڈے پر مل کر کام کیا.رئیس المنافق سردار عطااللہ مینگل نے جو میڈیا میں سب سے پہلے وہ اسیٹمنٹ دیا جس کا شفیق مینگل سوچ بھی نہیں سکتا.الغرض آنے والے پنجابی الیکشن میں اختر مینگل کا وزیر اعلی ہونا یقینی ہے.اگر الیکشن ہوئے. تو ہم سمجھتے ہے کہ ابوجہل عمروابن ھشام کے کردار سے عبداللہ ابن ابی ابن سلول کا کردار کئی زیادہ خطرناک رہا۔۔۔ موجودہ عالمی اور علاقائی سیاست کو دیکھ کر ہر کوئی وطن دوست اس بات کا بخوبی شعور رکھتا ھے.کہ طاقتور کھلاڑی شطرنج کے مہرے کس طرح سے ترتیب دی ہوئی ہے.اور یہی کھلاڑی افغانستان میں اس کا ایک بہت بڑا قیمت ادا کرچکے ہیں.بلوچ کے آس پاس جتنی بھی ریاستیں ہیں.ماسوائے افغانستان کے باقی کا رویہ بلوچ دشمنی کا رہا ہے. ماسوائے افغان قوم کا ! تاریخی حوالے سے بلوچ کو ہر مشکل حالات میں اس نے ہمیں تعاون کیاہے. حال ہی افغانستان میں بلوچ اورافغانیوں کا ایک مشترکہ میٹنگ ہوا تھا.جس میں افغان گورنمنٹ نے سرکاری سطح پر شرکت کی.جو کہ بلوچ قوم کی سیاسی سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی ہے. اس میں خوشی اس بات کی بھی کہ اس میں بلوچ قوم کی نمائندگی حقیقی آزادی پسندوں نے کی.بلوچ افغان کایہ دیرینہ رشتہ پنجابی کو کسی قیمت پر قبول نہیں. جس کو خراب کرنے کیلئے انھوں نے نادانوں سے سانحہ مستونگ کی کاروائی سرانجام دلوایا.جسے سوشل میڈیا پر حقیق قوم دوستوں نے بہت بہتر انداز میں ان سازشی کرداروں کو واضح کیا.اب پنجابی نے دو اور پرانے مورچوں کا انتخاب کیا ہیں.جس میں بلوچ قوم کی طرف سے سرکاری پارٹی بی این پی اور پشتون قوم کی طرف سے سرکاری پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی پنجابی ایجنڈے کو پایہ تکمیل کی طرف لے جارہے ہیں.اس گیم میں ان تینوں کرداروں کا فائدہ ہی فائدہ ہوگا.نقصان عام پشتون اور غریب بلوچ کا ہوگا.اور حقیقی آزادی پسندوں کیلئے پنجابی نے ایک اور محاز کھول دیا.جس سے پنجابی کو فاہدہ ہی فاہدہ ہوگا.اگر خدانخواستہ ان کرگزوں کو اپنے خونی ٹاسک میں شامل کرداروں کو قوموں کے سامنے بہتر انداز میں واضع نہ کیا گیا.! افغان مہاجرین جن میں ترکمن،تاجک،ازبک،اور پشتون شامل ہے.یہاں وہ پشتون زیر بحث نہیں جو پاکستان پرست ہے.ان افغانیوں کو مہاجر پاکستان نے ہی بنایا جب 1979 کے عشرے میں روس اور امریکہ کی جنگ میں اس نے کرایہ کا جو کردار ادا کیا.ان افغان مہاجرین میں سے آج تک ہم نے کسی ازبک یا تاجک کو نہیں دیکھا جو کمشنر یا سیکرٹری کے پوسٹ پر تعینات ہو.! بلوچ کا استحصال اور اس پر ظلم کے پہاڑ تو پنجابی ڈھارہاہے.نہ کہ کوئی افغانی! افغان مہاجرین تو اسلام آباد گلکت،کراچی، چترال،پشاور حیات آباد میں بھی بہت بڑے تعداد میں ہیں.وہاں پاکستان خود سے انھیں کیوں نہیں نکال رہا.؟ بلوچستان میں تو صرف ان کے دو کیمپ ایک کوئٹہ کے قریب پنچپائی اور دوسرا ضلع چاغی میں گردی جنگل میں.ان مہاجریں میں سے بعض کو پاکستانی شناختی کارڈ NADRA کی جانب سے جاری ہوئے ہے.اب نادرا کا مطلب تو پاکستان ہی ہوا.اور زمہ دار کون؟ پاکستان کے پاس ایک فوج ہے پولیس ہے.FIA کاادارہ ہے.وہ خود سے ریاستی سطح پر انھیں کیوں نہیں نکال رہا.؟ جب ریاست اپنے مفاد اور خطرات کو دیکھ کر جنوبی وزیرستان،شمالی وزیرستان،سوات وغیرہ میں پشتونوں کی نسل کشی فوج کے زریعے کرتا ھے.تو کیا وہ آپریشن بھی فوج نے BNP کے کہنے پر کیایا خود سے.؟؟؟ اس کا جواب یقیناًیہی ہوگا کہ اس نے خود سے کیا .جب ریاست پاکستان یہ سب کچھ خود سے کرسکتا ہے.تو بلوچستان سے ان خونی کرگزوں BNPاور پشتونخواملی عوامی پارٹی کو کیا ضرورت کہ وہ پنجابی ریاست کی نمک حلالی میں اپنے ووٹ بینک کو بنانے ایشوز کی سیاست کرنے اور دو محکوم قوموں کے درمیان اتنی نفرت بڑھائے.؟اور بلوچ کے قومی بقاء کے اس جنگ آزادی میں ان کے ایک دوست ، برادر،اور ہمسایہ قوم کو کیوں دشمن بنانے پر تلے ہوئے ہے اور نفرت کا ایک دیوار دو قوموں کے درمیان کیوں بنارہے ہے..؟؟؟ عطااللہ مینگل اور محمود خان اچکزئی کے درمیان افغان مہاجرین کے مسئلہ پر اگر اتنے اختلافات اور دوریاں ہیں.تو وہ پونم کے پلیٹ فارم سے بلوچ اور پشتون علاقوں میں مشترکہ جلسے کیوں منعقد کروائے.؟ ایک ساتھ پارلیمانی اقتدار میں شامل منافقت یہ رنگ کیسا.؟؟؟ اس منافقت کے لیئے انھیں کوئی بھی حقیقی بلوچ دوست اور افغان قوم دوست اجازت نہیں دے سکتا.بلوچستان سے اگر ان رئیس المنافقین کو یہ خدشہ ہے کہ افغان مہاجرین کی آبادکاری کی وجہ سے بلوچ اقلیت میں بدل جائینگے.تو وہ غلامی کے 67 سالوں سے بلوچستان میں ریاستی کمک کیوجہ سے پنجابیوں کے آبادکاری پر کیوں خاموش رہاہیں.؟؟؟؟؟ بی این پی اگر قوم کے ساتھ اتنی مخلص ہے.تو وہ آزادی کے شہیدوں قمبر چاکر،ڈاکٹر خالد،شہید مجید، شہید صبادشتیاری،شہید درویش بلوچ اور 13 نومبر کے دن کو کیوں نہیں مناتا.؟ 27 مارچ یوم قبضہ گیریت پر کیوں خاموش ہے.؟اور پارلیمانی سیاست کے دلدادہ حبیب جالب کے دن پر تعزیتی پروگراموں کا انعقاد کر سکتا ہیلیکن شہید بالاچ اور شہید شیہک سلیمان بلوچ کے لیئے سانپ کو سونگھ جاتا ہیں! اسے ہم کیا سمجھے.؟؟؟ پنجابیوں کی آبادکاری پر کیوں آواز نہیں اٹھارہا؟؟؟ اب تو پنجابی نے بلوچ کو ہمیشہ کے لیئے نیست و نابود کرنے اور قومی فناء کو پہنچانے کیلئے چین سے مل کر گوادر جو کہ بلوچ قوم کی شہ رگ ہے،جہاں خدانخواستہ پنجابی اپنے ایجنڈے میں کامیاب ہوا تو بلوچ دوست نوجوان دانشور شبیر کے تجزیہ اور ادراک کے مطابق آنے والے دس سے پندرہ سال میں بلوچ اگر کامیاب ہوتے ہے.تو قومی آزادی .خاکم بدھن اگر ہم ناکام ہوتے ہیں تو قومی بربادی کے اس سیلاب کو آنے والے دنوں میں کوئی نہیں روک سکتا.لہذا وقت یہی ہے کہ قوم کے اندر شعور پھیلا کر پنجابی ریاست کے مختلف النوع قسم کے ایجنڈوں اور ایجنٹوں کو ناکام بنایا جائے. ایک اہم کام قوم کے اندر ان رئیس المنافقیین سردار عطااللہ مینگل اینڈ ازکمپنی ڈاکٹر مالک اور حاصل بزنجو کی منافقت کو قوم کے سامنے واضع کیاجائے.کیونکہ اتنے عرصے کی پنجابی وار کو باریک بینی سے دیکھاجائے تو یہ کہا جاسکتا ہے.کہ بلوچ قوم کو سردار عطااللہ نے نصیر مینگل سے زیادہ اور اختر مینگل نے شفیق مینگل سے زیادہ نقصان دیاہے..زرا سوچئے غیر جانبداری اور ٹھنڈے دماغ سے نہ کہ جذباتی ہو کے کیوں کہ یہ جنگ اور وقت بلوچ قوم کی قومی، بقاء آزادی،اور قومی شناخت کی جنگ اور جہد ہے،اس میں کوئی بھی فرد تنقید سے مبراء نہیں ماسوائے بلوچ شہدء کے جو کہ ہر سخت امتحان سے کامیاب ہوکر گزرے.اور باقی سب کے ایمان کا آزمائش باقی ہیں.